سیکولر رویے: بھگتی تحریک سے 11 اگست کی تقریر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اور بالعموم تیسری دنیا کے ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں نے سیکولرازم کی اصطلاح کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تیسری دنیا میں اصطلاحوں کو غلط شہرت دینا یوں بھی آسان ہے کہ اس کام کے لیے جس طور جہالت اور ذہنی پسماندگی کی زرخیزززمین در کار ہوتی ہے وہ یہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔

سیکولرزم اپنے سادہ ترین معنوں میں ایک ایسا نظام ہے جس میں ریاست لا مذہب ہوتی ہے۔ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس کے نزدیک تمام شہری رنگ نسل اور مذہب سے ماورا بس شہری ہوتے ہیں۔ ہر شہری کو مذہبی آزادی ہوتی ہے۔ اس آزادی کی حدود و قیود ہوتی ہیں۔ جہاں بھی کسی شہری کے نظریات سے دوسرے شہری کے معیار زندگی متاثر ہونے کا اندیشہ ہو وہاں یہ آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ ریاست میں ہر شہری اپنی مرض سے آزاد نہ مذہبی عقائد پر عمل پیرا ہو سکتا ہے۔

تاریخ سے سبق سیکھنے چلیں یا موجودہ دنیا میں پھیلے نقشوں سے کو درس لینا چائیں ہمیں ایک ہی بات سیکھنے کو ملتی ہے کہ جن ممالک نے یہ نظام اپنایا وہاں علم و فن کی ترقی اور امنکی جانب پیشرفت بہت تیزی سے ممکن ہوئی۔ جبکہ جہاں جہاں ریاستی نظام میں مذہب کا اثرو رسوخ ہے وہاں وہاں شدت پسند رویے نمایا ں نظر آتے ہیں یہ شدت پسند رویے جہاں مادی ترقی میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں وہی علم و فن اور فرد کی تخلیقی کاوشوں کے آگے بند باندھ دیتے ہیں۔

یورپ جب تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور جب گلیلیو اور کوپر نیکس کو سائنسی حقائق بیان کرنے کی پاداش میں موت کے پروانے یورپی فضا میں رقصاں تھے۔ اس وقت بر صغیر میں سیکولر سوچ کی ایک تحریک جنم لے رہی تھی۔ یہ تحریک ان نظریات کی بنیاد پر جنم لے رہی تھی کہ کلیسا مسجد اور مندر میں بیٹھے مذہبی پیشواوں کو ٹھیکیدار بننے کا کسی طور حق نہیں۔ ہر فرد کا اپنے خدا سے ایک ذاتی تعلق ہے۔ ریاست مذہب کی من گھڑت تعلیمات کو بنیاد بنا کر فرد کے بنیادی انسانی حقوق پر قد غن لگاتی ہے۔ فرد کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے بجائے اس کا استحصال کرتی ہے۔ پندرہویں صدی میں اس تحریک نے بہت جلد شہرت حاصل کی۔

بھگتی تحریک کے ان نظریات کے اثرات ہمیں اکبر بادشاہ کے دور حکومت میں نظر آتے ہیں۔ ہمیں جہاں اکبر بادشاہ بہت سی ایسی مسجدیں اور مندر گراتا نظر آتا ہے جہاں سے نفرت انگیز تقاریر کی جاتی ہیں وہیں اکبر بادشاہ نئی مسجدیں بھی بناتا نظر آتا ہے۔ ہماری کتابوں میں مسجدیں بنانے کے ان اقدامات کو نہیں بتایا جاتا صرف مندر گرانے پر بات ہوتی ہے۔ یہ کس قدر افسوس ناک امر ہے کہ اکبر بادشاہ کے دور کے حوالے سے یہ الزام سنائی دیتا ہے کہ اس نے کسی نئے مذہب دین الہی کی بنیاد رکھی یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ اس نظام کے خدو خال کیا تھے۔ برصغیر کی تاریخ میں دو ادوار ایسے گزرے ہیں جن کے بارے میں بلاشک و شبہ کہا جا سکتا ہے۔ کہ وہ ترقی کے حوالے سے سنہری ادوار تھے۔ ان میں ایک اشوک اعظم کا دور ہے جس میں مذہبی ہم آہنگی اور فلاحی اقدامات نمایاں ہے جبکہ دوسرا دور اکبر بادشاہ کا دور ہے۔

ان دونوں ادوار میں قدر مشترکہ سیکولر نظریات ہیں۔ اکبر بادشاہ کے بعد آنے والے بادشاہوں میں روایتی مذہبی شدت پسندی برصغیر کے زوال کا نمایاں ترین عنصر تھا۔ دوسری طرف ادب اور فلسفی کی حد تک بھگتی تحریک زندہ رہی۔ وارث شاہ، شاہ حسین، بلھے شاہ اپنے وقت کے کافر قرار دیے جانے والے دانشور، سیکولر نظریات کے حامی تھے۔

انگریزوں کے غالب آنے کے بعد برصغیر میں آزادی کے لیے نئی تحریک کا آغاز ہوا۔ ہندووٗں کی خوش قسمتی کہ ان کو گاندھی جیسا فلسفی لیڈر ملا جبکہ مسلمانوں کی خوش بختی کہ انہیں قائد اعظم جیسی قیادت میسر آئی۔ قائد اعظم اپنے نظریات میں بہت واضح تھے۔ اسمبلی میں کی گئی قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر نے گویا روشن پاکستان کا نقشہ سا کھینچ دیا۔ ایسا پاکستان جہاں مذہبی رواداری ہے جہاں پہلی اور بنیادی شناخت پاکستانی ہے۔ جہاں ہندو پاکستانی مندر میں، مسیحی پاکستانی گرجا گھر میں مسلمان پاکستانی مسجدوں میں جانے اور اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں آزاد ہے۔ ایک ایسا پاکستان جس کے نزدیک تمام شہری حقوق میں برابر ہیں۔ جہاں کسی طرح کی لسانی، مذہبی تقسیم نہیں ہے۔

ایسے حسین اور روشن پاکستان کا چہرہ، قائد اعظم کی رحلت کے ساتھ ہی مرجھا جاتا ہے۔ پاکستان کو ایک مذہبی شناخت دے دی جاتی ہے۔ ریاست اب کسی طور اپنے شہریوں کو بلا تصب دیکھنے کی صلاحیت سے عاری ہو جاتی ہے۔ اقلیتوں کو اپنی بقا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن کے بس میں تھا وہ ملک چھوڑ گئے جو بچ گئے ان میں اکثریت کھیت رہی۔ مذہبی قوانین، ذاتی دشمنیاں نمٹانے کے لیے استعمال ہونے لگے، اقلیتوں نے تعلیم حاصل کرنے میں بقا سمجھی لیکن ان کے لیے یہ بھی ایک سراب رہا۔

70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے قادیانیوں کو کافر قرار دے کر وقتی سیاسی فائدہ تو شاید حاصل کر لیا ہو لیکن پاکستان کو ایک ایسے اندھیرے راستے پر دھکیل دیا جس سے واپسی آسان نہیں رہی۔ کون اپنے آپ کو کسی مذہبی شناخت کے حوالے سے تسلیم کرتا ہے۔ اس میں کسی ریاست کا عمل دخل مبنی بر تعصب تو ہس سکتا ہے لیکن یہ بنیادی انسانی حقوق کی انتہائی خلاف ورزی ہے اور اس پر جدید دنیا کے ترقی پسند افکار میں کوئی گنجائش نہیں۔

کیا ہم قائد اعظم کے افکار پر مبنی پاکستان کا وہ حسین چہرہ تخلیق کر سکتے ہیں؟ کیا پاکستا میں بالخصوص اور بر صغیر میں بالعموم بھگتی تحریک سے بلھے شاہ اور قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر ممکن ہے؟

شاید ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا معاشرتی سائنسدانوں کے لیے ایسا نا ممکن بھی نہیں۔ ہم جس تاریک غار میں بغرض سفر گھُس گئے اس کے دوسرے سرے پر کہیں روشنی نہیں۔ واپسی کے بغیر چارہ نہیں۔ لیکن واپسی پر غار کے اندر بہت سی بلائیں بیٹھی ہیں۔ کیا عجب ہے کہ فیض کی دورس نگاہوں نے یہ سب 1952 میں ہی دیکھ لیا ہو۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد امان اللہ کی دیگر تحریریں
محمد امان اللہ کی دیگر تحریریں