معاشی بدحالی عمران خان کی مقبولیت کو نگل لے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات سادہ ہے۔ ملک میں موجودہ تصادم کو ختم ہونا چاہیے۔ اس انتشار، بداعتمادی اور فساد کی کیفیت کو ختمکیے بغیر نہ معاشی صورت حال بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی سیاسی حالات دھندلکے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ جمہوری انتظام میں عام طور سے حکمران جماعت اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کی کوئی صورت پیدا کرکے آگے بڑھنے کا راستہ نکالتی ہے لیکن موجودہ حکومت اور اس کے سربراہ عمران خان نے یہ راستہ اختیار کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔ اسی لئے زیادہ بے چینی اور پریشانی پیدا ہورہی ہے۔

کیا سیاسی تصادم ختم کرنے کی درخواست کرنے کا مقصد یہ لیا جائے گا کہ کرپشن کے خلاف حکومت کی کوششوں کو ترک کردیا جائے؟ حکومت بلاشبہ اور تواتر کے ساتھ یہی بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اپوزیشن لیڈر دراصل کرپشن کے مقدمات سے بچنے کے لئے تصادم کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم بار بار اعلان کرتے ہیں کہ وہ ’این آار او‘ نہیں دے سکتے کیوں کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کیے بغیر ترقی کا سفر شروع نہیں کیا جاسکتا۔

اس بات سے عمران خان کے بدترین دشمنوں کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن ایک جمہوری نظام میں بدعنوانی ہو یا کوئی دوسرا بڑا قومی مسئلہ، اسے حل کرنے کے لئے سب سیاسی قوتوں کے ساتھ ایک قومی ایجنڈا تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کے تکبر اور خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ اس نے جون میں قومی بجٹ کی منظوری کے موقع پر بھی اپوزیشن سے کسی قسم کی مفاہمت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی بجائے آرمی چیف نے ایک سیمینار میں حکومت کی مالی پالیسیوں کی تائید میں بیان دیا اور بجٹ منظور کرلیا گیا۔

اپوزیشن کو بھی بجٹ سیشن کے بعد ہی پوری طرح یہ اندازہ ہؤا ہے کہ موجودہ حکومت کسی قسم کی سیاسی مفاہمت اور قومی ایجنڈے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ صورت حال کو اگر وزیر اعظم کے بیانات کی روشنی میں پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ جاننے میں دقت نہیں ہوتی کہ موجودہ حکومت دراصل اپنے ساتھ شامل سیاسی گروہوں اور جماعتوں کے سوا کسی دوسری سیاسی قوت کو نہ تو حب الوطن سمجھتی ہے اور نہ ہی نیک نیت۔ ان سیاسی قوتوں میں ملک کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی شامل ہیں۔

گویا حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں بڑی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قومی مفادات یا علاقائی مسائل پر بات کرنے اور انہیں حل کرنے کے کسی منصوبہ کا حصہ بننے کی بجائے دراصل اسمبلیوں میں اپنی سیاسی قوت کو اپنے لیڈروں کی بدعنوانی کو چھپانے اور انہیں نیب کے چنگل سے بچانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

پیپلز پارٹی سندھ میں مؤثر اور طاقت ور جماعت ہے۔ اس وقت وہاں اسی پارٹی کی حکومت بھی ہے۔ وفاقی حکومت کے نمائیندے بارہا یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ سندھ میں کسی وقت بھی حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ لیکن باقاعدہ انتخاب کے بغیر اگر پیپلز پارٹی کی اکثریت کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش ہوتی ہے یا صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے تو حالات دگرگوں ہوں گے۔ اس سے سیاسی سطح پر پائی جانے والی بے چینی عوام کی سطح تک محسوس کی جائے گی۔ ایسی صورت میں اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے حامیوں میں یہ احساس زیادہ شدت اختیار کرے گا کہ ان کے نمائندوں کو اختیار دینے سے انکار کر کے دراصل ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔

تحریک انصاف کی خواہش اور کوشش ضرور ہوسکتی ہے کہ وہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت کا متبادل بن جائے۔ تاہم یہ پارٹی ابھی تک سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی۔ اندرون سندھ پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کو تحریک انصاف کے حامیوں میں تبدیل کرنا موجودہ حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم پیپلز پارٹی کی سیاسی مقبولیت سے چشم پوشی کا کوئی بھی دوسرا راستہ، سندھ کی صوبائی حکومت اور مرکز کے درمیان افتراق سے بڑھ کر خطرناک سیاسی بحران کی صورت اختیا ر کر لے گا۔ یہ بحران طویل مدت تک ملکی معیشت کے لئے بھی خطرناک جھٹکا ثابت ہوگا۔

پنجاب میں اگرچہ صوبے کی مقبول ترین پارٹی مسلم لیگ (ن) اقتدار میں نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے انتخابات سے پہلے حاصل ہونے والی سرپرستی اور اعانت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے ’منقولہ سیاسی اثاثوں‘ کو ضرور اپنی قوت میں اضافہ کے لئے استعمال کیا جس کے نتیجہ میں اسے پنجاب اسمبلی میں بھی قابل عمل تعداد میں نمائندگی حاصل ہو گئی۔ تاہم حکومت سازی کے لئے اسے آزاد ارکان کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کی حمایت حاصل کرنا پڑی۔ پنجاب میں حکومت بنانے کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ تحریک انصاف نے صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قوت کو توڑ دیا ہے اور اب تحریک انصاف ہی پنجاب کی اصل مقبول سیاسی پارٹی ہے۔

حقیقت احوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے میاں نواز شریف کو پارٹی کی قیادت سے دست بردار ہونے پر مجبور کرنے کے باوجود وہی اس پارٹی کے غیر متنازعہ لیڈر ہیں اور پنجاب میں ان کی مقبولیت بدستور قائم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں اپنا ایک سال مکمل کرنے والی ہے لیکن اس سال کے دوران مسلم لیگ (ن) کو توڑنے یا اس میں ہم خیال گروہ قائم کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ پارٹی کے تمام فیصلے بھی نواز شریف کی مرضی سے ہوتے ہیں اور لوگوں میں بھی ان کی مقبولیت قائم ہے۔ کرپشن کے الزامات اور نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں 7 برس کے لئے جیل بھیج کر بھی مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قوت کو کم نہیں کیا جا سکا۔ اب مریم نواز کی بے باک قیادت اور باغیانہ طرز عمل سے پارٹی کارکنوں کی مایوسی ایک نئے ولولے میں تبدیل ہو رہی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1221 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali