سانجھی


گاؤں کے لوگوں کو لگا جیسے کسی نے ان کی عزت پر حملہ کردیا۔ وہ سبھی گرودوارے کی حفاظت اپنی ذمہ داری محسوس کرتے تھے۔
شمی اور مسرت سنگھ موٹر سائیکل پر آگے آگے جارہے تھے اور ماسٹر اپنی سائیکل پر جبکہ مولوی صاحب اپنے موٹر سائیکل پر تھے اور ساتھ مندر سنگھ کو بٹھا رکھا تھا۔

گرودوارے کا گنبد نظر آرہا تھا اور گاؤں والوں کے جذبات بھڑکناشروع ہوگئے۔
قریب پہنچے تو دیکھا کہ گردوارہ میں رکھے پرساد والے سانچے ( برتن) لکڑی کی کاٹھیاں اور دیگر سامان ادھر ادھر بکھرا پڑا ہے۔

مولوی صاحب کو فکر ہوئی تو پہلے گرنتھی ( مذہبی پیشوا/ مقدس گرنتھ کا محافظ ) کی تلاش کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں پتا چلا کہ جب چوہدریوں نے حملہ کیا تو گرنتھی اپنے ساتھ گرنتھ صاحب اٹھا کر گاؤں کی مسجد میں پناہ گزین ہوگیا تھا کیونکہ چوہدریوں کا ہدف اس بار گرنتھ صاحب ہی تھا۔

گرنتھ صاحب محض سکھوں کے لئے ایک مقدس کتاب ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کے لئے جیتے جاگتے گرو کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے یہ ناصرف مقدس ہوتی ہے بلکہ اس سے سکھ رہنمائی بھی لیتے ہیں۔ سکھوں کے لئے اس پر اور دس گرووں کی تعلیمات پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ پانچ نشانیاں جنہیں پانچ ککے کہا جاتا ہے، بھی ایک سکھ کے لئے ساتھ رکھنا لازم ہوا کرتی تھیں اور کسی ایک بھی کاف کو مسترد کرنے والا سکھ مت سے خارج کر دیا جاتا تھا۔ گو کہ اب ان شرائط میں نرمی کردی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ان پر عمل کروایا جاتا ہے۔

پانچ ککے یا پانچ کاف سے مراد کیس رکھنا ( داڑھی مونچھیں اور بال ) کرپان ( وہ چھوٹا سا تلوار نما خنجر جو سکھوں نے سائیڈ پر لٹکایا ہوتا ہے ) کنگھا، کچھا اور کڑا۔ یہ پانچ کاف ان کے ہاں پانچ ککے کہلاتے ہیں۔

سکھ پنجابی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم سیکھنے والے کے ہیں۔ شاید جب بابا گرو نانک سرکار سکھ مت سکھاتے تھے تبھی سکھوں کو سکھ کہا گیا۔ سکھ مت کے ماننے والوں کو بابا گرو نانک کی تعلیمات پر عمل کرنا لازم ہے اور بابا گرو نانک سرکار نے اپنے پیروکاروں کو سچ بولنے، نیک اعمال کرنے اور عاجزی جیسے درس دیے۔

سکھ مت میں خدا کی واحدانیت پر ایمان اور جیسے ہمارے یہاں تقوی افضلیت کہ بنیاد ہوتا ہے اسی طرح ان کے ہاں بھی جو گرو نانک کی تعلیمات پر زیادہ کاربند رکھے خود کو وہی معتبر کہلاتا ہے۔

مولوی صاحب نے شمی کو دوڑایا کہ گرنتھی صاحب کی خبر لے اور خود آگے بڑھ کر گرودوارے میں توڑ پھوڑ کا جائزہ لینے لگے۔
مسرت سنگھ نے گرودوارے کے حالات دیکھے تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ گاؤں والے آگے بڑھے اور اسے تسلی دینے لگے۔ کچھ غصے سے چوہدری اور اس کے بیٹے کو گالیاں دینے لگے۔

مولوی صاحب نے چند لوگوں کے ساتھ مل کر گھنٹہ بھر میں گرودوارے کو غسل دیا۔ شری گرنتھ کے لئے نئی چوکی منگوا کر رکھی۔ پرساد کے برتن منگوائے اور پھر محرابوں کو سجاوٹ کروائی جیسے دلہن سجائی گئی ہو۔

مسرت سنگھ اور مندر سنگھ دیر تک گرودوارے کی دہلیز پر ماتھا ٹکائے روتے رہے۔ گاؤں والے بھی افسردہ تھے۔

کچھ ہی دیر میں پولیس کی نفری بھی آ پہنچی۔ مولوی صاحب نے گرنتھی صاحب کو سارا واقعہ کی رپورٹ لگوانے کا کہا۔ رپورٹ لکھوانے کے بعد میدا پہلوان آگے بڑھا اور پولیس افسر پر چوہدری کی گرفتاری کے لئے زور دینے لگا۔

پولیس نے مکمل کارروائی کی یقین دہانی کروائی لیکن شاید گاؤں والوں کو دکھ کے ساتھ ندامت بھی تھی کہ وہ اپنے اقلیتی بھائیوں کے مقدس مقام کی حفاظت نہ کرسکے اسی لئے انہوں نے فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

مولوی صاحب نے گاؤں والوں کو کہا کہ وہ سب واپس چلے جائیں پولیس کے ساتھ وہ خود میدے پہلوان کو لے کر جائیں گے اور گرفتاری کروائیں گے۔ لیکن گاؤں والے نہ مانے اور صرف چند لوگوں کو گوردوارے پہ چھوڑ کر سبھی چوہدری کے گھر کی طرف چل پڑے۔

چوہدری کے بدمعاش اسلحہ رکھتے تھے اس لیے ان کی گرفتاری آسان نہ تھی۔ جب وہ چوہدری کی کوٹھی کے پاس پہنچے تو ان پر فائرنگ کردی گئی۔ پولیس نے لوگوں کو دور ہی روک لیا اور جوابی فائرنگ کی بجائے لاوڈ سپیکر پر چوہدری کو خبردارکرنے لگے۔ کچھ دیر بعد فائرنگ تو رک گئی لیکن پولیس آگے نہ بڑھی کیونکہ خطرہ تھا کہ کہیں پھر فائرنگ نہ کی جائے۔ اس وقت سورج ڈھلنے لگا تھا۔

پولیس والوں نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ چوہدری اپنے بندوں سمیت گرفتاری دے دے ورنہ اسپیشل فورس بلوائی جائے گی جو گھر کے اندر داخل ہوجائے گی۔
بالآخر چوہدری کو گرفتاری دینا ہی پڑی۔ البتہ اس نے اپنے بیٹے کو پچھلے دروازے سے بھگا دیا۔

اگلی صبح گاؤں والے سب جمع ہوئے تو مولوی صاحب نے خوشخبری سنائی کہ چوہدری کا بیٹا بھی رات پکڑا گیا اور اس وقت دونوں باپ بیٹا اپنے ساتھیوں سمیت جیل میں ہیں۔

گاؤں والوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ مسرت سنگھ اور مندر سنگھ بھی خوشی سے رونے لگے۔ وہاں موجود دوسرے سکھوں نے بھی گاؤں والوں کا شکریہ ادا کیا تو مولوی صاحب نے کہا : آپ اور ہم دونوں ایک خدا کو ماننے والے ہیں۔ آپ کے بابا گرو نانک ہمارے لئے بھی بہت قابل احترام ہیں۔ ہمارے دین اسلام نے اقلیت کے حقوق کی پاسداری کا حکم دیا ہم تو آپ سے شرمندہ ہیں کہ ایسا واقعہ پیش ہی کیوں آیا۔

مولوی صاحب کی آواز میں لرزش آگئی تو ماسٹر نے آواز بلند کی : بھائی لوگو۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنی جان سے بڑھ کر گرودوارے کی حفاظت کریں گے آئیندہ کبھی ایسا کوئی واقعہ نہیں ہونے دیں گے۔

مولوی صاحب نے فورا کہا: یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی عبادت گاہ کی حفاظت کریں۔ آپ بے فکر ہوجائیں۔
یوں کچھ دیر یہ بیٹھک چلتی رہی اور پھر سب گھروں کو روانہ ہوگئے۔ اس گاؤں کے باسیوں نے بھائی چارے کی مثال قائم کردی اور اپنے سکھ بھائیوں کے دل جیت لئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2