امریکہ ایران کشیدگی اور درمیان میں ہم!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران اور امریکہ کے درمایان اوباما حکومت نے ایک نیوکلئیر معاہدہ کیا تھا جس کے بعد ایران پر سے امریکی پابندیاں ختم ہوئیں اور ایران کے تعلیقات امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی سطح پر بحال ہوئے مگر جونہی ٹرمپ امریکی صدر بنے انہوں نے اس معاہدے کو یکسر نامنظور کرتے ہوئے اسے یک طرفہ طور پر ختم کردیا اور ایران پر واپس امریکی پابندیاں عائد کردیں جبکہ ایران کے حوالے سے دیگر یورپی ممالک نے امریکی پابندیوں پر خاموشی کو ترجیح دی ہے۔

ابتک کی ظاہری صورت حال میں امریکی مزاج ایران کے حوالے سے خاصا جارحانہ ہے اور اس سلسلے میں ایران امریکہ جنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ایرانی اقتصادی اور معاشی صورت حال کو امریکی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا بھی ہے مگر اگر کوئی جارحیت اس خطہ میں رونما ہوتی ہے تو اس سے عرب و عجم میں لازمی طور پر اس کے دورس اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا ہے جسے عمومی طور پر ایک کامیاب دورہ تصور کیا جارہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو اس دورے کچھ اہم خوش نوید خبریں ملی ہیں مگر ساتھ جو کام سونپا گیا ہے وہ بھی کوئی آسان کام نہیں ہے پاکستان کو ہر صورت طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور انہیں ان مذاکرات کو کامیاب کرانے کے لئے تیار بھی کرنا ہے یہ کو ئی آسان کام نہیں ہے۔ جبکہ افغانستان میں پاکستان کے طالبان کو موجودہ افغان حکومت کا حصہ بنانے کی لئے کیے جانے والے اقدامات کو کچھ زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہے۔

کیونکہ افغان ذرائع ابلاغ خاص طور وہ جو امریکہ میں موجود ہیں ان کا خیال ہے کہ پاکستان افغان عوام کو ایک مرتبہ پھر طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی سعی میں مصروف ہے اور یہ افغان عوام جو اب ایک نئی قوم بن چکے ہیں وہ کسی بھی شدت پسند حکومت کو منظور نہیں کریں گے۔ جس کا ظہار انہوں نے گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں ایک تقریب میں کیا جو پاکستان سے آئے ہوئے چند صحافی بھائیوں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔ بہرحال اب مذاکرات ان کی کامیابی اور اس سے منسلک امریکی فوج کا انخلا یہی امریکی ایجنڈا ہے اور پاکستانی حکومت نے امریکہ کے اس موقف کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ واری اٹھا لی ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ ہمیشہ اپنی ترجیحات ہی کو اہمیت دیتا ہے اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کے اقدامات بھی کرتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب اسی وائٹ ہاؤس میں صدر ریگن کے زمانے میں ایک افغانی وفد موجود تھا جو آج کے دن طالبان کے وفد کی صورت میں موجود ہے۔ امریکہ نے اس وقت انہیں اپنا قریب ترین دوست قرار دیا تھا اور جب اس وقت کا سویٹ یونین ٹوٹا تو یہی امریکہ مکھن سے بال کی طرح نکل کر الگ کھڑا ہوگیا اور افغانستان کو ایک ناں ختم ہونے والی خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔

طالبان جو اسی ( 80 ) کی دھائی تک امریکہ کے ماتھے کا جھومر تھے وہ بد ترین دشمن بن گے اور ستمبر گیارہ کے واقع نے ایک نئی دنیا کو جنم دیا افغانستان ایک جلتا ہوا انگارہ بنا رہا جس نے دینا اور خاص طور پر پاکستان اندرونی امن کو برباد کر کے رکھ دیا۔ ہزاروں بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی اہل کاروں کی جان کی قربانیاں پاکستان نے دیں ہم بد ترین معاشی بد حالی کی دلدل میں دھنستے چلے گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتے تو ہمیں اپنے خطے میں اپنی امن و اقتصادیات کی روشنی میں مستقبل کے فیصلے کرنے چاہیں نہ کہ اپنے نام نہاد آقاؤں کی خوشنودی کے۔

میری دانست میں آج حالات کا پہیہ اسی پرانی نہج پر آکر کھڑا ہوگیا ہے جیسا کہ 1985 ء میں جنیوا اکارڈ کے وقت تھا۔ آج بھی امریکہ افغانستان سے جلد باہر جانا چاہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھر رہا ہے مگر اس کے پس منظر میں وہ معاملات اور عزائم ہیں جن کی تیاری امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ملکر ایران کے خلاف کرنا چاہتا ہے۔ گو کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات کی ہے کہ ایران کے خلاف خارجیت کسی بھی حوالے سے خطے کے حق میں نہیں اور پاکستان کسی بھی ایسی ایڈونچر کا حصہ نہیں بنے گا مگر یہ بات نہایت قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جس نے برسراقتدار آتے ہی اپنی کمزور معیشت کو سہارا دینے کے جو بھی اقدامات کیے ہیں وہ سعودی عرب اور اور امارات کی نقد اور اداھاری رقوم اور تیل کی مد میں ادائیگیوں کو موخر کرنے کی صورت میں ہوئی ہیں پھر حالیہ آئی ایم ایف پیکج اور عالمی بنک بشمول ایشن بنک قرضہ جات کا اجرا سب کی پشت ہر امریکہ کا اثر کار فرما ہے۔

پاکستان کے سابق آرمی چیف متحدہ عرب فوج کے سربراہ ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ اپنے گذشتہ پاکستانی دورے میں ہمارے وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں ایران کو ایک دہشت گرد ملک اور دہشتگرد تنظیموں کا سرغنہ قرار دی چکے ہیں۔ یہ سب سامنے موجود ہے سعودی اور پیشتر عرب ممالک کا ایران مخالف ایک اتحاد کی صورت صف آرا ہونا امریکہ کا ایران کے خلاف جارحانہ رویہ اور پاکستان کی معاشی بد حالی میں سعودی اور عرب ممالک کی مدد

آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کی ہماری معاشی ناکہ بندی اور ہم۔ اس پر ہمارے اپنے داخلی معاملات اندرونی سیاسی خلفشار اور بھارت کی مسلسل مخالفانہ روش ان سب میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔

خاص طور پر موجودہ عالمی صف بندی کے تناظر میں جہاں امریکہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک ایران کے خلاف صف آرا ہیں اور ہم اقتصادی اور فوجی لحاظ سے اسی اتحاد کا حصہ بھی ہیں تو ہمارے لئے یہ کیونکر ممکن ہو گا کہ ہم اپنے آپ کو ان ایران مخالف گروپ کے مبینہ اقدامات سے دور رکھ سکیں۔ اس کام کے لئے ہمیں نہایت بردباری کے ساتھ اپنی مکمل ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔

داخلی صورت حال کو اپنے حق میں کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا اور وزیراعظم کو اپنے مشیروں کی زبان بندی کرنا ہوگی کہ ہر عیرہ غیرہ اٹھ اٹھ کر خارجہ پالیسی اور جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے امریکہ دورے کی کامیابیوں کے قصیدے نہ گائے۔ یہ دورہ اور موجودہ عالمی منظر نامے میں ہمارے لئے صورت حال کوئی ایسی خوش کن بھی نہیں ہے کہ ہم یوں بغلیں بجاتے پھریں۔

ہمارے ذمے کام ہی کام ہے اور اس کے عوض ہمارے لئے اجر بھی کوئی ایسا نہیں کہ جس پر فخر کیا جائے۔ اب اگر خطے کے حالات امریکہ بہادر کی مرضی و منشا کے مطابق چلیں تو ہمارے چین کے ساتھ سی پیک کے معاملات بھی سست روی کا شکار ہوسکتے ہیں اور سست روی اگر طوالت اختیار کر لے تو نتیجہ جمود کی صورت نمودار ہوتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت جس کے سربراہ جناب عمران خان ہیں ان کو آنے والے دنوں میں کئی ایک فیصلہ کن قدم اٹھانے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خارجہ داخلہ اور دفاعی ماہرین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور سیاسی بڑھکبازی کو فی الحال موخر کر دیں ں تاکہ ہم ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اہم اور سنجیدہ فیصلے کر سکیں۔ اب بال پاکستان کے کورٹ میں ڈال دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •