غلام قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک قول ہے، کسی غلام کو آزاد کروانے کے لئے سب سے مشکل کام ہے اُس کو یقین دلوانا کہ وہ غلام نہیں ہے۔ نسل در نسل غلامی کے بعد انسانی ذہن غلامی کو اپنی زندگی کی ایک اٹل حقیقت کے طور پر قبول کر لیتا ہے اور غلامی کو کبھی مذہبی عقیدت کبھی وطنیت اور کبھی معاشرتی روایات کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔

بنی نوع انسان کی طاریخ میں تقریباً تمام جنگو ں کی بنیادی وجہ عموماًوسائل پر قبضہ کرنا ہی رہا ہے۔ وسائل کے حاصل کرنے سے مرادزمین پر قبضہ کرنا لوٹ مار کرنا اور لوگوں کو غلام بنانا رہا ہے۔ لوگوں کو غلام بنانا وسائل حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ رہا ہے، اگر لوگوں کو جسمانی یا ذہنی غلام بنا لیا جائے تو ان سے متعلقہ اور علاقے کے دوسرے وسائل خود بخود حاصل ہو جاتے تھے جو آج بھی جاری ہے۔ جس کی مثال مذہبی عقیدت اورنوآبادیاتی دور کی غلامی کا عرصہ کہا جاسکتا ہے۔

جب کوئی قوم صدیوں تک بیرونی حملہ آوروں کی غلام رہے تو وہ قوم شعوری طور پر حملہ آوروں کی حاکمیت کو تسلیم کرلیتی ہے اور نسل در نسل کی یہ غلامی اس قوم میں سے آزادی کی جدوجہد کرنے کی خواہش ختم کردیتی ہے۔ اپنی محرومیوں، نا انصافیوں اور تکلیفوں کو اپنی زندگی کا نصیب سمجھ لیتی ہے اور مقابلے کی سکت کھو دیتی ہے۔ تاریخ میں آزادی کی جنگوں کا مقصد ایک حکمران کی غلامی سے دوسرے حکمران کی غلامی میں منتقلی سے روکنا رہا ہے۔

لوگوں کو غلام رکھنے کے لئے اس دور کے آقاؤں نے مذہب اور قومیت کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور اپنے آپ کو عام لوگوں کے لئے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا۔ مذہبی عقیدت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو خلیفہ، بادشاہ یا کہیں چرچ کو نمائندے کے القابات دیے اور آسمانی خدا کا نمائندہ بن کر نجات دہندہ اور بیرونی حملہ آوروں سے بچنے کے واحد ذریعے کے طور پر پیش کیا۔

برصغیر پاک و ہند کے لوگ ہمیشہ سے بیرونی حملہ آوروں کے غلام رہے ہیں اور اپنے ادوار کے راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں کے ساتھ مل کر دوسرے حملہ آوروں سے لڑنے کا مقصد نئے آقاؤں کی غلامی سے بچنا ہوتا تھا یا قومیت کی بنیاد پر دوسری قوم کی غلامی سے بچنا ہوتا تھاجس کو اس دور میں آزادی کی جنگ کا نام دیا جاتا تھا۔ چونکہ لوگ پرانے حکمرانوں کے طرز حکمرانی اور غلامی کے عادی ہو چکے ہوتے تھے اس لئے نئے حکمرانوں کو غاصب اور دشمن سمجھتے تھے اور پرانے حکمرانوں کو اپنا نجات دہندہ قرار دیتے تھے۔

سترویں صدی سے انیسویں صدی کے درمیان ایجادات اور لوگوں کے درمیان بے بہا رابطوں اور پرنٹنگ پریس کی وجہ سے علم کی عام لوگوں میں دسترس میں آنے سے انسانی شعورکا ارتقاء بہت تیزی سے ہوا اور انسانی فطرت نے ایک خاندان، فرد یا کسی دوسرے علاقے کی حکومت اور غلامی کے خلاف جدوجہد شروع کی، اور آہستہ آہستہ یہ جدوجہد پوری دنیا کے لوگوں میں سرایت کرگئی۔ ترقی یافتہ دنیا کا کچھ عرصہ پہلے کا منظر نامہ کسی حد تک اس پرانی غلامی سے مبرا نظر آتاتھا اور اس آزادی کی معراج کچھ ترقی یافتہ ممالک میں ہر انسان کو قومیت اور مذہب سے پہلے بطور انسان اس کی قابلیت کو دیکھا جاناتھا اور اب بھی ہے۔

لیکن بہت سے ترقی پذیر ممالک میں قرون وسطیٰ کی غلامی اپنی شکل تبدیل کرکے اب بھی رائج ہے جہاں مذہب اور قومیت کو بنیاد بنا کر حکومت کی جاتی ہے اور طرز حکمرانی کی تبدیلی کو غاصبانہ قبضے اور دشمنی سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اور آج کے دور میں میڈیا کے ذریعے لوگوں کے خیالات اور جذبات کو کنٹرول کرنا نسبتاً زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور خیالی دشمن کے ڈراوے کے ذریعے اپنی حکمرانی کا جواز مہیا کیا جاتا ہے اور اسے دوام دیا جاتا ہے۔ اور بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں یہ غلامی سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے قائم ہے جہا ں انسان اس نظام کے بنائے ہوئے اصولوں پر زندگی گذارنے پر مجبور کرتی ہے۔

اور آج کا پاکستان اسی جدوجہد اور میڈیا وار کا حصہ دار بنا ہوا ہے۔ جہاں لڑائی صرف اپنی یا اپنے خاندان یا اپنے ادارے کی حکمرانی کو قائم رکھنے کی ہے اور اس کے لئے ہر کوئی مذہب، فرقہ پرستی، قومیت اور علاقائی وجوہات کو استعمال کر رہا ہے اور اپنی غلطیوں کوتاہیوں کے پکڑے جانے کو اپنی مظلومیت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ جہا ں ایک طرف چند خاندان، سیاسی پارٹیاں اور ادارے اپنی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لئے مذہب، علاقائی تعصب اور قومیت کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں اور دوسری طرف عوام تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہے ہیں اور عوام کو کہیں احتساب اور کہیں ووٹ کو عزت دو اور کہیں روٹی کپڑا اور مکان اور کہیں مذہبی عقیدت کے خوشنما نعروں کے ذریعے بہلایا جارہا ہے۔

عوام کی معاشی، معاشرتی اور شعوری پسماندگی کاملبہ دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور اپنی حکمرانی کو دوسروں کی غلامی سے آزادی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس قوم شاید یہ احساس نہیں یہ ان کے آقا بدلنے کی لڑائی ہے اور اس لڑائی میں لڑنا اس عوام نے ہے چاہے جو بھی جیتے مگرہارنا عوام نے ہے کیونکہ یہ ایک غلام قوم پر حکومت کرنے اور وسائل حاصل کرنے کی لڑائی ہے اس قوم نے اور عوام نے ہر حال میں غلام رہنا ہے جب تک اس قوم کو اپنی نجات شخصیت پرستی، مذہب، فرقے، قومیت اور علاقائی عصبیت میں نظر آتی رہے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •