مالی بحران اور بد انتظامی مادر علمی جامعہ پشاور کو نگل رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے پاکستان کے اعلی تعلیمی پالیسی اور بجٹ میں کٹوتی کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں اور جامعات دیوالیہ پن کے ڈگر پر چل نکلی ہے۔ حکومت کی جانب سے اعلی تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کی پہلی شکار مادر علمی جامعہ پشاور ہے۔ جامعہ پشاور کی معاشی حالات اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس کے پاس اگلے مہینے یعنی اگست کے مہینے کے ملازمین اور اساتذہ کرام کے تنخواہوں کے لئے ایک پائی فنڈ بھی نہیں۔ جامعہ پشاور کے مالی بحران کی وجوہات کیا ہے اس سلسلے میں بات کرتے ہیں

جامعہ پشاور میں چھ فیکلٹیز جن میں 40 سے زائد ڈیپارٹمنٹس ہیں، کے علاوہ تین کالجز جناح کالج فار وومن، یونیورسٹی کالج فار بوائز اور کالج آف ہوم اکنامکس اور دو سکولز یونیورسٹی پبلک سکول، یونیورسٹی ماڈل سکول ہے۔ یہی متصل کالز اور سکو لز مسلسل خسارے میں ہیں اور ان اداروں کا جامعہ پشاور کی مالی بحران میں بڑا کردار ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کی غلط پالیسیاں بھی خسارے کا باعث بن رہی ہے۔ اول جامعہ پشاور کی انتظامیہ ہاسٹلز کے کارڈز طلبہ کو جاری کرنے سے گریزاں ہے اور موجودہ سیشن میں پورے کے پورے ہاسٹلز پر کارڈز کی الاٹمنٹ نہیں ہوسکی ہے جامعہ کے ہاسٹل سی بلاک جس میں 80 سے زائد کمرے ہے میں کسی بھی کمرے پر کارڈز کی الاٹمنٹ نہ ہوسکی۔

علاوہ ہاسٹلز نمبر ون میں 132 سے زائد کمروں پر الاٹمنٹ نہ ہوسکی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کو ایک کروڑ سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا اور طلبہ بھی باہر پرائیوٹ ہاسٹلز میں داخلہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ دوم جامعہ پشاور کی انتظامیہ نے کیمپس پولیس کی 473 پولیس اہلکاروں اور 173 خیبر فورس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود 50 سے زائد پرائیوٹ سیکیورٹی اہلکار بھرتی کررکھے ہیں جن پر سالانہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد فنڈز خرچ ہوتے ہیں اور یوں ریسرچ کے فنڈز غیر ضروری اخراجات کی نذر ہوجاتے ہیں۔

سوم جامعہ پشاور کی انتظامیہ نے کیمپس میں کمانڈنٹ کیمپس پولیس جوکہ ایس ایس پی رینک، ڈپٹی کمانڈنٹ کیمپس پولیس جوکہ ڈی ایس پی رینک ہوتا ہے اور ایس ایچ او کی موجودگی کے باوجود چیف سیکیورٹی افسر کے نام پر ایک ریٹائرڈ کرنل کی خدمات حاصل کررکھی ہے جن کی تنخواہ اور مراعات پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جامعہ پشاور کی مالی بحران کی ایک اور بڑی وجہ دوسرے متصل جامعات کے پنشن ملازمین ہے۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی جوکہ پہلے صرف ایک کالج کا درجہ رکھتی تھی کے ڈھائی سو سے زائد ملازمین کے پنشن اب بھی جامعہ پشاور ادا کرتی ہے۔

حال ہی میں طلبہ تشدد اور فیسوں میں اضافہ کی تحقیقات کے لئے تشکیل کردہ صوبائی پارلیمانی کمیٹی نے جامعہ پشاور کے ایک ارب روپے مالی خسارے کی چھان بین کے لئے ایک صوبائی انسفکشن ٹیم تشکیل دی ہے جو تحقیقات کرہی ہے لیکن صوبائی انسپکشن ٹیم کی تحقیقات کو سبوثاژ کرنے اور اور لاڈلوں کو بچانے کے لئے پرسوں وائس چانسلر جامعہ پشاور نے بحران کی تحقیقات کے لئے الگ تین کمیٹیاں تشکیل دی۔ جامعہ پشاور کی انتظامیہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹیوں کی تشکیل بد دیانتی پر مبنی ہے۔

اگر جامعہ پشاور کی انتظامیہ مالی خسارے کے خاتمہ بارے سنجیدہ ہوتی تو 2017 میں طلبہ کے دھرنے کے مطالبات پر عمل درآمد کرتی۔ دو سال پہلے تمام سیاسی تنظیموں پر مشتمل متحدہ طلبہ محاذ نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک طویل دھرنا دیا تھا۔ فیسوں میں کمی اور دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ طلبہ نے مالی خسارے جو اس وقت 75 کروڑتھا کے خاتمے کے لئے قابل عمل تجاویز دی تھی جن میں جامعہ کے ساتھ متصل کالجز اور سکولز کو با اختیار ادارے بنانے کی تجویز شامل تھی۔

ساتھ ہی ساتھ طلبہ نے صوبائی حکومت سے انڈومنٹ فنڈ کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ لیکن جامعہ پشاور کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور حکومتی سردمہری کی وجہ اس منصوبے پر عمل نہ کیا جاسکا اور آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جامعہ پشاور کے پاس ملازمیں اور اساتذہ کرام کی تنخواہوں کو ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں۔ اب جامعہ کی مالی خسارے سے نکلنے کی ایک ہی سبیل موجود ہے کہ حکومت ایک ارب انڈومنٹ فنڈز کا اعلان کرے۔ ساتھ ہی ساتھ طلبہ نے گذشتہ ایک سال سے مطالبہ کررہے ہیں کہ صوبائی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں غیر ضروری تعینات آفسران اور سیکورٹی اہلکاروں کو برطرف کیا جائے گا۔ اس سے دو فوائد ہوں گے ایک جامعہ پر مالی بوجھ کم ہوگا دوسرا طلبہ بغیر کسی خوف کے ہاسٹلز میں داخلہ لیں سکیں گے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •