یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر پاکستان عارف علوی نے جب اپنے عہدے کا حلف لیا اور جس روز ممنون حسین اپنے گھر رخصت ہورہے تھے، اس روز سوشل میڈیا میں اپنے استاد ظفر شاکر کی ایک پوسٹ دیکھی، جس میں وہ ممنون حسین کی موجودگی میں تقریب کی نظامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ شاید صدر مملکت کے آمد و رخصت کی تقریب میں بھی سرظفرشاکر نے ہی نظامت کے فرائض سرانجام دیے ہوں گے۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا تصاویر پرانی ہیں صرف موقع محل کی مناسبت سے بطور یادگار شیئر کی ہیں۔ سر ظفر شاکر اُن دنوں اسلام آباد میں ہوتے تھے اور بڑی تاکید کے ساتھ حکم دیا کہ میری موجودگی میں جب بھی اسلام آباد آنا ہواتو ملاقات ضرور کریں۔ میری سر ظفر شاکر کے ساتھ یہ آخری گفتگو تھی۔ جس کے بعد گزشتہ روز ان کی رحلت کی خبر آگئی۔ انا اللہ وانا الیہ الراجعون۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ظفرشاکر کے ساتھ میرا کوئی خاص تعلق نہیں تھا بلکہ جو تعلق میرے ساتھ تھا وہی تعلق سب کے ساتھ ہوتا تھا۔ استاد محترم سے تعلق اس وقت سے ہے جب وہ ہاشوفاؤنڈیشن گلگت میں انگریزی زبان کے مختصر کورسز کراتے تھے۔ تب سے اب تک انہوں نے کسی بھی موقع پر یہ محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ استاد ہیں اور ہم اس کے شاگرد ہیں۔ سر ظفر شاکر کی ذاتی زندگی محنت سے مزین تھی۔ انہوں نے اپنے تعلیمی کیریئر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔

نجی سکولوں میں میٹرک کے طلباء کو پڑھانے سے اپنا کیریئر شروع کرنے والے ظفر شاکر اس مقام تک پہنچ گئے تھے جہاں پر بڑی تقاریب ان کے بغیر ادھوری لگتی تھی۔ ایک ہنستا مسکراتا چہرہ، موقع محل کے مطابق اشعار کہنا مشغلہ، عمر کی تفریق کیے بغیر ہر ایک کے ساتھ جھک کر مسکرا کر ملنا ان کا مزاج تھا۔ ادب کے میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا تھا جبکہ مقامی زبانوں کے ترویج، تحفظ اور فروغ کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے۔ اس خبر کو خود خبر بناکر بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ ظفرشاکر ہم میں نہیں ہیں۔ سر ظفر شاکر کچھ دنوں سے گلگت میں علیل تھے، علاج جاری تھا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق ہسپتال کے ایام بھی بہتری کی جانب گامزن نہیں کرسکے۔ جس کی وجہ سے مختصر علالت کے بعد دارفانی سے کوچ کرگئے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے دنیور میں رتھ فاؤ انٹر کالج کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے اساتذہ سٹیج کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ ہم خود سٹیج پر بیٹھے ہیں۔ ان کلمات کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے کابینہ ارکان کو حکم دیا کہ وہ سٹیج سے نیچے چلے جائیں جس کے بعد اساتذہ سٹیج پر جلوہ افروز ہوگئے۔ یہ ایک علامتی احترام تھا جو اساتذہ کو دیا گیا جس پر اساتذہ کے چہروں پر ایک مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی جو سمٹ نہیں رہی تھی۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی کسی کو بھی زندگی میں وہ مقام نہیں دیا ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ بقول شاعر

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ اور بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

پروفیسر ظفر شاکر صاحب کو بھی ہم نے وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ گلگت بلتستان میں صدر، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف سمیت کسی بھی اعلیٰ سرکاری افسر کی تقریب پروفیسر ظفرشاکر کے بغیر ادھوری ہوتی تھی۔ لسانی امور پر مہارت کی وجہ سے مقامی زبانوں کے فروغ کے لئے بھرپور کوشاں رہتے تھے، ظفر شاکر کی صلاحیتوں کا ہم سے اعتراف شاید نہیں ہوسکا لیکن ان کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے۔ سر ظفر شاکر کی رحلت بہت بڑا سانحہ ہے، حقیقتاً ان کے رحلت سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں کے بعد بھی پورا نہیں ہوسکے گا۔

لیکن زندگی کی اٹل حقیقت موت ہے جسے کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا ہے۔ سرظفر شاکر کی رحلت فضاء کو سوگوار کرگئی ہے، اشکبار آنکھوں کے ساتھ انہیں لحد میں اتارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کے درجات کو بلند کرتے ہوئے ارفع مقام عطا کرے۔ اور اس کے پسماندگان کو صبر و جمیل عطاء کرے۔ الفاظ کو بھی ایک ہیبت سی طاری ہوگئی جو مرحوم استاد کو خراج عقیدت پیش کریں، ان کی مقناطیسی شخصیت کو کبھی بھولا نہیں جاسکتا ہے۔ تقریر، تحریر، اشعار، مسکراہٹ، دوستی، محبت اور انسانیت ان کی زندگی کا ایک حوالہ ہے۔

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •