زانی جمہوریت کی طوائف سینٹ ایک بار پھر بک گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینٹ چیئرمین کے خلاف تحریل عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تو بھاگم بھاگ وہاں پہنچی۔ پریس گیلری میں صحافیوں کا رش لگا ہوا تھا۔ سبھی اس اہم کارروائی کو دیکھنا چاہتے تھے۔ میں بھی جگہ بناتی ہوئی فرنٹ رو تک پھلانگ پھلونگ کر پہنچ گئی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود پر نظر پڑگئی جو عین میرے پیچھے والی رو میں بیٹھے تھے۔ سلام دعا اور مزاج پرسی کے بعد ارد گرد نظر دوڑائی۔ خوب گہما گہمی تھی۔ اجلاس شروع ہونے میں کچھ وقت تھا اس لیے میں نے ذرا سا آگے ہوکر نیچے جھانکا تو تقریبا سبھی ارکان سینٹ ہاؤس میں نظر آئے۔

سامنے گیسٹ گیلری میں بلاول بھٹو زرداری، راجہ پرویز اشرف، جام کمال اور افتخار حسین شاہ بیٹھے نظر آئے۔

اجلاس شروع ہوا تو ایک بار پھر پریس گیلری پر نظر دوڑائی۔ اب پیچھے بہت سے صحافی کھڑے نظر آئے جن میں حامد میر اور اعزاز سید بھی شامل تھے۔ دوسری طرف عاصمہ شیرازی کو بیٹھنے کی جگہ مل چکی تھی۔ سیڑھیوں پر بھی صحافی بیٹھ گئے اور سب نے ہاؤس میں موجود ارکان کی نقل وحرکت سے باڈی لینگویج تک سبھی ضروری غیر ضروری باتیں شروع کردیں۔

میں نے سینیٹرز کی لسٹ ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی۔ اب کارروائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ جن لوگوں کو سینٹ کی کارروائی سے متعلق معلومات نہیں ان کی آسانی کے لئے بتا دوں کہ چئرمین سینٹ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لئے کل ارکان کی تعداد جو 104 ہے میں سے کم از کم 53 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ یعنی 52 / 52 تو برابر ہے ایک بھی نمبر اوپر جائے گا بازی پلٹ جائے گی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 64 ووٹ ہیں جو ان کے اپنے ہیں اور اسی لئے حکومتی بنچوں پر موجود ارکان سینیٹر فیصل جاوید، اعظم سواتی، شبلی فراز اور خود چئیرمین صادق سنجرانی کے چہرے پر پریشانی کے آثار واضح طور پر دیکھے جاسکتے تھے۔

اجلاس شروع ہوا تو اس کی صدارت سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کی جنہیں وزیراعظم کی طرف سے اس اجلاس کے لئے قائم مقام چئیرمین نامزد کیا گیا تھا۔
اپوزیشن کی جانب سے قائد حزبِ اختلاف راجہ ظفر الحق نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی اس کی حمایت اپوزیشن کے 64 ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر کی۔

اس کے بعد خالی بیلٹ بکس ایوان کو دکھایا گیا۔ اپوزیشن اور حکومت سے ایک ایک ممبر کو کارروائی کی مانیٹرنگ کے لئے نامزد کیا گیا۔ 64 ووٹ سے یہ تحریک کامیاب نظر آرہی تھی کیونکہ حکومت کے پاس اپنے صرف 36 ووٹ تھے۔ البتہ خفیہ رائے شماری سے معاملہ الٹ ہوگیا۔

ارکان کو باری باری ان کے ناموں سے پکارا جاتا رہا اور انگریزی حرؤف تہجی کے ذریعے نمبر وار بلایا گیا۔ سب سے پہلے عبدالکریم نام پکارا گیا جبکہ عبدالغفور حیدری کا نام حرؤف تہجی کے حساب سے پہلا نام بنتا تھا۔ اس پر گیلری میں موجود حضرات چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ شاید اس میں بھی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔

جب متنازع چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی ووٹ ڈالنے کی باری آئی تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا ساتھ دیا۔ میرے ساتھ سہیل چوہدری ایڈیٹر ڈیلی پاکستان بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ صادق سنجرانی اس وقت خاصے دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔ دیکھیے گا یہ اپنے ووٹ پر غلط جگہ مہر لگا کر آئیں گے۔ چند منٹوں بعد صادق سنجرانی واپس آئے اور ووٹ کے لئے دوسری پرچی مانگی کیونکہ انہوں نے مہر غلط لگادی تھی۔ اس پر سب ہنسنے لگے اور سہیل چوہدری نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتا چلا کہ یہ ہونے والا ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ سادہ سی بات ہے کہ اس وقت ایوان میں سب سے زیادہ دباؤ صادق سنجرانی پر ہے، ووٹ کاسٹ میں غلطی کا امکان دیگر کی با نسبت زیادہ ہے۔

اس کے بعد انہیں دوسری پرچی دے دی گئی اور پھر سے بوتھ میں جاکر مہر لگائی اور ووٹ کاسٹ کیا۔ اس دوران ایوان میں شور شرابہ اور ارکان کی چہل قدمی بھی دیکھنے میں آتی رہی۔

تمام ووٹ ڈالنے کے بعد غیر حاضر اراکین کے نام پھر پکارے گئے۔ جماعت اسلامی کے دو سینیٹرز سراج الحق اور مشتاق احمد جبکہ مسلم لیگ ن کے چوہدری تنویر اجلاس ووٹنگ کے عمل میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ اسحاق ڈار نے سرے سے حلف ہی نہیں اٹھایا اور غیر حاضر بلکہ مفرور رہے۔

اس طرح ووٹنگ میں کل 100 ارکان نے حصہ لیا۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا اور گنتی شروع کی گئی۔ پانچ ووٹ غلط مہر کے سبب ریجکٹ ہوئے۔ اپوزیشن کو 53 ووٹ درکار تھے اس تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروانے کے لئے جبکہ ہدف پورا نہ ہوسکا اور 50 ووٹ اس تحریک کے حق میں نکلے۔ اس طرح تین ووٹ کم تھے۔ چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔ اپوزیشن کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ فضل الرحمن کی دھمکیاں کاری گر ثابت نہ ہوئیں۔

اس کے بعد ایوان بالا میں صادق سنجرانی کے حق میں نعرے اتنے بلند ہوئے کہ سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے ارکان کو دھمکی لگائی کہ وہ ایسے ارکان کو باہر بھجوادیں گے جو ایوان کا وقار مجروح کررہے ہیں۔

ہمیں تین گھنٹے گزر چکے تھے یہ سب دیکھتے ہوئے۔ اب اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کا ووٹ کاسٹ ہونا تھا۔ نیچے موجود ارکان کے تاثرات کا جائزہ لینے کے لئے میں اپنی جگہ سے اٹھی اور نیچے ہاؤس میں جھانکا۔ اب اپوزیشن اراکین کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ سلیم مانڈوی والا اب خاصے پریشان نظر آرہے تھے۔ ن لیگ کے سینیٹرز آپس میں چہ مگوئیاں کررہے تھے کہ آج وہ خود اس گڑھے میں گر گئے جسے لوگ چھانگامانگا کے نام سے جانتے ہیں۔ راجہ ظفر الحق اور سینیٹر مشاہد اللہ آپس میں سر جوڑے اس سبکی سے بچنے کی تدبیریں کررہے تھے۔ سینیٹرز کے نام پکارے جارہے تھے لیکن اب اپوزیشن کے ارکان ووٹ کاسٹ نہیں کررہے تھے۔

میں نے ایک نظر گیلری میں موجود صحافیوں پر ڈالی تو اب وہاں رش کم تھا۔ بہت سارے ساتھی چئیرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی پر اپنے اپنے ادارے کو رپورٹ پہنچانے میں مصرؤف ہوگئے۔ آگے بڑھی تو رؤف کلاسرا نظر آئے۔ ان کے ساتھ ضمیر حیدر بھی کھڑے تھے۔ سلام دعا کرکے ضمیر حیدر شو کی تیاری کے لئے چلے گئے۔ ان کا شو 8 بجے تھا جبکہ اب 5 بج چکے تھے۔ میں اور کلاسرا صاحب سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی دیکھنے بیٹھ گئے جو ناکام رہی کیونکہ اس کی حمایت میں 32 ووٹ آئے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ رؤف کلاسرا مجھے یہی نمبر ووٹنگ کے آغاز میں بتا چکے تھے۔ میں نے دیکھا وہ انگلیوں پر کچھ حساب کررہے ہیں اور پھر کہنے لگے : حکومت کی سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک ناکام ہوجائے گی کیونکہ ان کے پاس ووٹ صرف 32 ہیں۔ مجھے کچھ حیرت ہوئی کہ بھلا کیسے؟ پھر انہوں نے سمجھایا کہ اس وقت اپوزیشن اراکین ووٹ کاسٹ کرنے نہیں جارہے اس کا مطلب ہے کہ جنہوں نے وفاداریاں بدلیں وہ بھی اب ووٹ کاسٹ نہیں کرسکیں گے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا نام پتا چل جائے گا۔

میرے لئے یہ پہلا تجربہ تھا اس لیے رؤف کلاسرا کی طرح جمع تفریق نہیں آتی تھی۔ دوسری بات جو تجربہ رؤف کلاسرا کا ہے وہ میرے قد سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے جھٹ سے رزلٹ بتا دیا جو بالکل درست تھا۔

سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوچکی تھی۔ ایک جمہوری عمل اختتام پذیر ہوا لیکن انتہائی شرمناک اور افسوس ناک مثال قائم کرنے کے بعد۔

مارچ 2018 میں جب سینٹ الیکشن ہوا تھا تو اراکین کے ووٹ خریدے گئے۔ جس ایوان کو ایوان بالا کہہ کر عزت دی گئی۔ جہاں سب سے معتبر ارکین کو منتخب کرکے بٹھایا جاتا ہے۔ وہاں جمہوریت کے نام پر کاروبار ہوا۔ پتا چلا کہ پیسہ سب خرید سکتا ہے حتی کہ وفاداری اور ضمیر بھی۔ عزت نفس اور کردار بھی۔

اس روز اتنا دکھ ہوا کہ ”زانی جمہوریت کی طوائف سینٹ“ کے نام سے ایک تحریر لکھی تھی۔ پیسے کے حصول کی خاطر اپنی وہ خدمات پیش کرنے کو جو مقدس سمجھی جاتی ہیں، اور کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ پاکباز جمہوریت جب پیسے کے لئے بکنے لگے تو طوائف میں اور اس میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ یا ممکن ہے کہ کوئی دوسری مجبوریاں ہوں جو مقدس عہدے پر فائز چودہ سینیٹرز کو اس بازار میں لے آئی ہوں اور ان کی وجہ سے بقیہ عفت مآب سینیٹرز پر بھی یہ دھبہ لگ گیا ہو۔

آج پھر وہی عمل دہرایا گیا۔ 64 اراکین نے کھڑے ہوکر تحریک کے حق میں ووٹ کیا لیکن خفیہ رائے شماری میں 14 اراکین نے ووٹ مخالفین کو ڈالا۔ بعض نے غلط مہر لگائی تو بعض نے حکومت کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔ بار بار کہتی ہوں کہ اس گندے نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس کے تحت چلنے والی جمہوریت کا کوئی کردار نہیں یہ بک جاتی ہے بار بار بک جاتی ہے۔ یہ جمہوریت وفادار نہیں۔ اس کے بطن سے جنم لینے والی سینٹ بھی وفا شعار نہیں۔ کب تک اس قوم کے غریب ٹیکس ادا کرتے رہیں اور منسٹرز اور سینٹرز تنخواہوں کے ساتھ ساتھ حرام مال بھی بناتے رہیں؟ ایسا بدبو دار نظام بدلے بنا گزارا نہیں۔ سوچنا ہوگا کہ ہمیں اپنے مسقبل کے فیصلوں کے لئے ان جمہوریت کے ٹھیکیداروں پر مزید کتنا انحصار کرنا ہے۔

میرا دل اداس تھا۔ سارا دن جس اجلاس کی کارروائی کو مقدس ایوان کی کارروائی سمجھ کر دیکھتے رہے وہاں مقدس تو کچھ بھی نہ تھا۔ بس نتیجہ وہی نکلا جو سوا سال پہلے سینٹ الیکشن کا تھا۔ وہی زانی جمہوریت کی طوائف سینٹ جو ایک بار پھر بک گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •