مہاراجہ جنرل ہرنام سنگھ اور مولانا کی سیاسی بصیرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ کا ذکر ہے ہرنام سنگھ ٹرین میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو سفر تھا۔ ہر نام سنگھ تھوڑا سا سرشار بھی تھا۔ اہل و عیال میں اس کی بیوی بیٹی بیٹا چھوٹا بھائی اور دو ملازم شامل۔ ہرنام سنگھ سے کچھ دور اک دوشیزہ پرنام کور بھی اپنی ماں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں تھی۔ اکیلی لڑکی ٹرین کا لمبا سفر ہرنام سنگھ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے اہل و عیال کو لے کر پرنام کور کے قریب ہو کے بیٹھ گیا۔ پرنام کور کی الہڑ جوانی مستانی آنکھیں لانبے گیسو دراز مژگاں دل پھینک ہرنام سنگھ کو بے چین کر گئی۔

سرشار ہرنام سنگھ کن اکھیوں میں پرنام کور کو دیکھتا اور مونچھوں کو ایسے تاؤ دیتا جیسے ہرنام سنگھ ، مہاراجہ جنرل ہرنام سنگھ ہے۔ دل میں ارمان مچل مچل جاتے۔ ٹرین میں جو بھی کچھ بیچنے آتا ہرنام سنگھ فورًا خرید کے اہل وعیال سمیت پرنام کور اور اس کی ماں کی نظر کرتا۔ کھائیں جی کھائیں واہ گُرو کی کرپا سے بہت کچھ ہے اپنے پاس۔ گھر، نوکر، چاکر زمیں جائیداد، موٹر کاریں۔ کسی چیز کی کمی نہیں۔ ( پرنام کور دل ہی دل میں کہتی بس جوتیوں کی کمی ہے ) ۔ واہے گُرو کی دین ہے واہ گُرو کا خالصہ واہ گُرو کی فتح۔ سرشاری میں نعرے کلکاریاں کبھی گانے گاتا کبھی اٹھ کے ایسے چلتا جیسے دھمال ڈالنے لگا ہے۔ ہرنام سنگھ پرنام کور متاثر کرنے کے لیے ہزار جتن کررہا تھا۔ ہرنام سنگھ کی بیوی سب کچھ دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی۔

ٹرین اک جگہ رکی اور اک پہلوان شمشیر سنگھ اپنے چیلوں چانٹوں کے ساتھ ڈبے میں داخل ہوا۔ پہلوان نے ہرنام سنگھ کو ٹکٹیں دکھائیں اور کہا یہ سیٹیں میری ہیں اس لیے آپ اپنی جگہ پہ چلے جائیں۔ سرشار ہرنام سنگھ اوپر سے پرنام کور کے سامنے ایسی بے عزت ہرنام سنگھ کو کیسے ہضم ہوتی۔ لگا اکڑنے پہلوان نے ہرنام سنگھ کی صحت اور سرشاری کی حالت دیکھتے ہوئے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ ہرنام نے پہلوان کو سنگین نتائج اور ہڈی پسلی توڑنے کی دھمکیاں دی۔

پہلوان نے نے ہرنام سنگھ کو پکڑا اور ٹھیک ٹھاک طبیعت صاف کردی۔ درد سے بلبلاتا ہوا ہرنام اٹھا او کہنے لگا اتنے تم پہلوان میرے بھائی کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ۔ پیشتر اس کے ہرنام سنگھ کا بھائی بیچارا جو چپ کرکے بیٹھا تھا کچھ بولتا پہلوان نے اس کی ہڈی پسلی ایک کردی۔ ہرنام سنگھ سنبھلتے ہوئے پہلوان کو کہنے لگا رہتے نہیں تم اتنے بڑے پہلوان میرے بیٹے کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ تمہاری طبیعت درست نہ کردی تو کہنا۔

پہلوان نے ہرنام سنگھ کے بیٹے کو بھی پکڑ کے دوہرا کردیا۔ ہرنام سنگھ نے پہلوان کو کہا ہوگئی تیری بس۔ اب ہمت ہے تو میرے ملازم کو مار کے دکھا۔ پہلوان نے اسی آن میں ملازم کو دھونا شروع کردیا۔ ملازم بے چارا پٹ کے بیٹھا ہی تھا کے ہرنام سنگھ پھر غرایا مرد کا بچہ ہے تو میرے دوسرے ملازم کو ہاتھ لگاؤ۔ پہلوان نے دوسرے ملازم کی بھی ٹھکائی کردی۔ پہلوان دوسرے ملازم سے فارغ ہوا تو ہرنام سنگھ نے پھر آواز دی غیرت ہے تو میری بیٹی کو ہاتھ لگا کے دکھا۔

بیٹی پہ ہاتھ اٹھانا معیوب سا تھا لیکن اب بات پہلوان کی اپنی غیرت کی تھی سو اس نے بادل نخواستہ اس کو بھی دو لگا کے ڈھیر کردیا۔ ہرنام سنگھ پھر گرجا اگر باپ کی اولاد ہے تو میری بیوی پہ ہاتھ اٹھا کے دکھا۔ پہلوان نے نہ چاہتے ہوئے اس کو بھی دو جڑ دیں۔ ہرنام سنگھ نے پہلوان کو پھر للکارا اب کی بار ہرنام کی ماں کو درد سہنا پڑا۔

پرنام کور چپ چاپ یہ سب تماشا اور ہرنام سنگھ کی دانش مندی دیکھ رہی تھی۔ پرنام کور اٹھی اور بولی ہرنام سیوں تمہارا اس پہلوان سے کیا جوڑ۔ بالفرض تمہیں جوش آبھی گیا تھا تو خود لڑ جھگڑ کے ہارتے اور نکل جاتے۔ سارے خاندان کو جوتیاں مروانے کیا تُک تھی۔ ہرنام سنگھ نے عرض کیا پرنام کورے میں مار کھا کے چپ چاپ زخم سہلاتا چلا تو جاتا لیکن میرے اہل و عیال نے گھر جا کے میرا جینا حرام کردینا تھا۔ اب جب سب کو جوتیاں پڑی ہیں تو سبھی اپنی بے عزتی اور مار کی وجہ سے چپ رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی عظمت اور سیاسی بصیرت کو دور سے سلام ہے۔ مولانا خود تو الیکشن ہار کے اسمبلیوں سے باہر تھے۔ خود تو وقت اور حالات کی مار کھا رہے تھے باہر بیٹھ کر کڑھ رہے تھے۔ مگر مولانا نے ساری اپوزیشن کو اکٹھا کرکے جس مہارت سے مار کھلائی ہے اور اک لاحاصل مشق میں بے عزت کروایا ہے یہ کام مولانا ہی کرسکے تھے۔ اسے کہتے ہیں سیاسی بصیرت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •