گم شدہ راجہ، زندہ درگور رانی اور قبل از وقت بوڑھے بچوں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راجا جی بڑے محب وطن تھے۔ حاکمیت اللہ کی، استعمال عوام کرے، نظریے کے قائل تھے اور اس معدوم ہوتے نظریے کو ببانگ‏‎‌‍ دہل کہنے کے عادی تھے، جو غیر جمہوری حلقوں میں ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے، اور اس کے نتا‍‍‌‍‌‏‏ئج بڑے بھیانک ہوتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ راجا جی ایک تہائی شب کے گزرنے تک، وا پس نہ آئے تو بوسیدہ ممتاز محل کی رانی کو تجسس ہونے لگا۔ کیوں کہ پہلے تو راجا جی شام کی سرخی پھوٹنے تک گھر آ جایا کرتے تھے۔

بڑھتے ہوئے اندھیرے کے ساتھ رانی کا تجسس خوف میں بدلنے لگا۔ بچوں نے ممتاز محل کی رانی سے اپنے والد کی تاخیر پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ رانی ماں نے تسلی دی، جو بچوں کو مطمئن نہ کرسکی۔ وہ ممتاز محل کے راجا کی تاخیر کو موضوع بنا کر، دادا کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ عمر کے لحاظ سے ضعیف تھے لیکن حالات حاضرہ کے نشیب و فراز کے فہم میں توانا تھے۔ دادا نے بچوں کو دلاسا دیا اور تاخیر کو مصروفیت کے گلے ڈال دیا۔

رانی نے راجا کے بھائی کو مطلع کیا اور ٹیلیفون پر رابطہ کرنے کو کہا، نمبر ملانے پر معلوم ہوا کہ فون بند ہے۔ راجا کے بھائی کو یہ کہہ کر کہ جب رابطہ ہو، ہم کو بتانا اپنے گھر کی راہ لی۔ طویل انتظار کے بعد بچے سو گئے اور سسر نے بہو کو تسلی کے دو بول کہے اور اپنے کمرے کی راہ لی۔ ساری رات نیند رانی سے روٹھی رہی۔ وہ اس رات جتنا برا سوچ سکتی تھی، سوچا۔ بوسیدہ ممتاز محل کے لوگ آج تک راجا کا انتظار کر رہے ہیں۔

اس انتظار کے دوران میں چند واقعات رونما ہوئے، جن میں غم کے لحاظ سے سب سے خفیف دادا کی ابدی نیند سونا تھا۔ رانی نے اپنی جوانی دیواروں کے سائے میں گزار دی اور بچوں نے تاخیر کا سوال پھر کبھی نہ اٹھایا۔ بس امید بھری نگاہوں سے گھر کے دریچوں سے رستے کو دیکھتے تھے۔ یہ کہانی ہر اس رانی، بچوں اور بوسیدہ ممتاز محل کی ہے، جن کا راجا جبری طور پر اٹھایا گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہ آ سکا۔ مملکت خداداد پاکستان کا کوئی گوشہ ایسی کہانی سے محفوظ نہیں ہے اور کچھ علاقوں میں تو گورکن کی روزی روٹی بھی بند ہو گئی تھی، کیوں کہ ان علاقوں میں مرنے کے لیے کوئی مرد بچا ہی نہیں تھا۔

ایک عرصہ تک بلوچستان جبری گمشدگیوں (Enforced Disappearances) کے حوالے سے سرفہرست رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ یہ اول پوزیشن کے  پی کے نے چھین لی اور اب مختلف سروے رپورٹس بتاتی ہیں، کہ اس پوزیشن پر پنجاب کا تسلط قائم ہے۔ انکوائری کمیشن برائے جبری گمشدگیوں Commission) of Inquiry on Enforced Disappearances) کے قیام سے لے کر اب تک 5290 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ کے پی کے 2019 کیسز کے ساتھ پہلے نمبر پر، سندھ 1367 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر، پنجاب 1099 کے ساتھ تیسرے نمبر پر اور بلوچستان 356 کیسز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ رپورٹ صرف رجسٹرڈ کیسز کی ہے جو انکوائری کمیشن کو موصول ہوئے ہیں اور یہ رجسٹر کیسز غیر رجسٹرڈ کیسز کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سن 2015 میں 649، سن 2016 میں 728، سن 2017 میں 868 اور سن 2018 میں 899 افراد لا پتا ہوئے ہیں۔

غیر سرکاری اعداد و شمار کی بات کریں تو نو منتخب قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے اپنی تقریر کے دوران میں بلوچستان سے لا پتا افراد کی فہرست پیش کی اور دعویٰ کیا کہ بلوچستان سے 5128 لوگ افراد لا پتا ہیں، جن میں بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد دس سالوں سے لا پتا ہیں۔ وہ خود اس درد سے گزر چکے ہیں اور گزشتہ 40 سالوں سے اپنے لا پتا بھائی کی لاش تلاش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سردار اختر مینگل کے بڑے بھائی اور سردار عطا اللہ مینگل کے بڑے بیٹے اسد مینگل 1976ء میں لا پتا ہو گئے تھے۔ اس کو پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت جبری گمشدگیاں کو متعدد معاہدوں میں سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور اگر ایسا وسیع پیمانے اور منظم طریقے سے کیا جائے تو اس کا شمار انسانیت کے خلاف جرم میں ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ آزادی اور زندگی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ابھی تک پاکستان نے جبری گمشدگیاں کے بارے میں سب سے زیادہ فعال معاہدے جبری گمشدگیوں سے تحفظ کا بین الاقوامی کنونشن (International Convention for the Protection of All Persons from Enforced Disappearance) پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

یہ جبری گمشدگیوں سے تحفظ کا بین الاقوامی کنونشن اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ یہ بین الاقوامی معاہدہ جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے، ان کے خاتمے پر نہ صرف زور دیتا ہے بلکہ لائحہ عمل بھی دیتا ہے۔ اس کنونشن کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20 دسمبر 2006 کو اپنایا تھا، 6 فروری 2007 کو دستخط کے لئے کھول دیا گیا تھا اور 23 دسمبر 2010 کو نافذ ہوا تھا۔ ابھی تک 98 ریاستوں نے اس کنونشن پر دستخط کیے ہیں اور 59 نے اس کی توثیق کی ہے۔

اس بین الاقوامی معاہدے کی رو سے حالات چاہے جیسے بھی ہوں، جنگ کا خطرہ ہو، جنگ زدہ ریاست ہو، ملک میں اندرونی و سیاسی عدم استحکام ہو یا پبلک ایمرجنسی ہو۔ ان تمام حالات کو جبری گمشدگیوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ کنونشن ان سرکاری حکام بشمول فوجی جنرلوں کو، جو براہ راست شہریوں کے اغوا میں شامل ہوں یا یہ بد عمل ان کے حکم کے تحت انجام پذیر ہوتا ہو، کے خلاف بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلانے کو کہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ایڈووکیٹ غلام رسول کی دیگر تحریریں
ایڈووکیٹ غلام رسول کی دیگر تحریریں