سینٹ الیکشن کے ضمیر فروش اور کٹھ پتلیوں کا جشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی گئی تو 64 سینیٹرز نے کھڑے ہو کر قرداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں سے 9 سینیٹرز نے خفیہ رائے شماری میں قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 5 ووٹ مشکوک حالات کے سبب مسترد کر دیے گئے جس سے قرارداد ناکام ہو گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کو ووٹ دینے والے اپوزیشن کے ارکان نے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے چند لمحے قبل ان کا ضمیر کہاں تھا جب وہ قرارداد کے حق میں کھڑے تھے۔

اگر یہ اراکین قرارداد پیش کیے جانے کے وقت بھی اس کی مخالفت میں بیٹھے رہتے تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ واقعی وہ اپنے ضمیر کی آواز پر اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے حالات کا سامنا کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے برعکس ان کی اس حرکت کو سیاست میں رائج لوٹا کلچر کا حصہ ہی قرار دیا جائے گا۔

دوسری طرف اپوزیشن کا الزام ہے کہ ان لوگوں کو ”امیر ترین“ کے پیسے اور جرنیلی ”ڈنڈے“ سے قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس سے دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں اول یہ کہ ماضی میں ہارس ٹریڈنگ پر لعنت بھیجنے والے عمران خان اپنے دیگر دعوؤں کی طرح وزیراعظم بن کر اپنے اس موقف پر بھی یوٹرن لے چکے ہیں کہ ووٹوں کی خریدو فروخت نہیں ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے تذبذب کی کیفیت سے باہر آ جانا چاہیے۔ اگر انہوں نے ریاستی مشینری پر پوری طرح قابض قوتوں کو شکست دینی ہے تو اس کے لئے اپنی کمزوریوں پر قابو پانا بھی ضروری ہے۔

اس سلسلے میں قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں کی نشاندہی کرکے ان کا محاسبہ ضروری ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اپوزیشن اس ووٹنگ کے عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سینٹ سے مشترکہ طور پر استعفی دے کر احتجاج کا راستہ اختیار کرے۔ اس کے علاوہ اگلے چھ ماہ میں اپنا ”ہاؤس ان آرڈر“ کرکے عدم اعتماد کی قرارداد دوبارہ بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ بقول شخصے سومنات کا مندر فتح کرنے کے لیے بھی 17 حملے کرنے پڑے تھے تو ”ووٹ کو عزت دو“ کی جنگ اتنی جلدی کیسے جیتی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر فوج کے ترجمان میجر جنرل غفور کی طرف سے میر حاصل بزنجو سے متعلق ٹویٹ کا بھی چرچا ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو میر حاصل بزنجو کے الزام کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فوج کے ترجمان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جس طرح وہ یا ان کا ادارہ ایوب خان، یحیی خان، ضیاء الحق، مشرف اور راحیل شریف کی سیاست میں مداخلت کا دفاع نہیں کر سکتا اسی طرح کچھ عرصہ گزرنے کے بعد موجودہ فوجی قیادت کی سیاسی مداخلت کے ثبوت بھی طشت از بام ہو جائیں گے۔ ان کی یہ افتاد طبع اس وقت خود ان کے اور فوج کے لئے بھی شرمندگی کا باعث بنے گی۔ اس کا ایک ثبوت تو ان کے اسی ٹویٹ کے نیچے لوگوں کی طرف سے دیے گئے جوابات ہیں کہ کس طرح وہ خود ہی اپنے ادارے کو متنازع بنانے میں ملوث ہیں۔ اس حوالے سے دلائل اور حقائق کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ ہی لوگ اس سے ناآشنا ہیں اس لئے تھوڑے لکھے کو زیادہ جاننا چاہیے۔

اس الیکشن سے متعلق حکومت کا جشن بھی قابل تفہیم ہیں کیونکہ انہیں ان قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہے جو اس ملک پر گزشتہ 40 سال سے بالواسطہ طور پر اور 37 سال تک آمریت کی شکل میں بلا واسطہ قابض رہی ہیں۔ تاہم یہ حمایت حکومت کو تب تک حاصل ریے گی جب تک وہ کٹھ پتلی بن کر اپنے آقاؤں کے دکھائے گئے راستے پر چلتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت عوامی ردعمل سے بے خوف ہو کر گزشتہ ایک سال میں ڈالر 160 روپے تک لے جا چکی ہے۔

اس کے علاوہ پٹرول 118 روپے لیٹر ہو گیا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 200 سے 400 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ بجلی 40 فیصد، گیس 200 فیصد، روٹی 50 فیصد اور چینی بھی 50 فیصد مہنگی ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تمام صورتحال کا اصل نقصان عام آدمی کو ہو رہا ہے کیونکہ اس طرز حکومت میں اس کا کردار مقدس گائے کے لئے چارہ بنے رہنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ان حالات میں اپوزیشن کو عوامی مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ اپوزیشن ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ حکمت عملی حکومت کے اس پروپیگنڈے کا بھی توڑ ثابت ہو گی جو ہر مسئلے کو گزشتہ حکومتوں کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عوام کو یہ سمجھانے کی بھی ضرورت ہے کہ جب تک سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ختم نہیں کی جاتی تب تک ریاست کے پاس عام آدمی کی صحت، تعلیم اور ترقی کے لئے وسائل دستیاب نہیں ہوں گے اور ہم یونہی کشکول لیے دنیا میں بے توقیر ہوتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعیم احمد

نعیم احمد ماس کمیونکیشن میں ایم ایس سی کر چکے ہیں۔ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔

naeem-ahmad has 5 posts and counting.See all posts by naeem-ahmad