نوٹ اور بوٹ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینٹ میں اپوزیشن کی تحریک عدم ا عتماد نے سیاسی طاقت کے تمام راز افشاء کردیئے ہیں۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے پرامید تھی اور اس کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے اپنے 64 ووٹرز کو کھڑ ے کرکے ان کے سر بھی گنیں گئے لیکن جب خفیہ رائے شماری کا وقت آیا تو 14 سر غائب پائے گئے۔ اپوزیشن کے لئے گزشتہ ایک سال سے صدمات اور مسائل کا سیلاب آیا ہوا ہے۔

متحدہ اپوزیشن ٹکراتی تحریک انصاف کی حکومت سے ہے اور الزام لگاتی ہے کہ ہمارا مقابلہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ اپوزیشن کے اگر اس الزام کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر اپوزیشن کی عقل اور سوجھ بوجھ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ سیاست میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کے رموز و اسرار سے حکومت کی نسبت متحدہ اپوزیشن کو زیادہ علم ہے۔ اگر اپوزیشن کو علم تھا کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے جارہے ہیں جو کہ ایک ایسی چٹان ہے جس سے ٹکرا کر ماضی میں بھی کئی لوگ پاش پاش ہوئے اور حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کے حالات اس سارے افسانے کے گواہ ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں گزشتہ چالیس سال سے نوٹوں اور بوٹوں کا بہت زیادہ عمل دخل رہا ہے۔ پہلے یہ دونوں قوتیں مسلم لیگ (ن) کے ماتھے کا جھومر ہوا کرتی تھیں لیکن اب اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ دونوں طاقتیں تحریک انصاف کے پاس منتقل ہوچکی ہیں۔ جمہوریت میں تحریک عدم اعتماد اہم ہوتی ہے لیکن تحریک عدم اعتماد کی ناکامی بہت ہی اہم ہوتی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور اقتدار میں تحریک عدم اعتماد کے اس کھیل میں بیک وقت نوٹوں اور بوٹوں کو شکست دے کر اپنا لوہا منوایا تھا اور اس بار ایک آزاد سینیٹر نے چیئرمین سینٹ کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے البتہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ کامیابی پراسرار قوت کے ذریعے حاصل کی گئی۔

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی بلوچستان میں آزاد امیدوار کے طور پر آصف علی زرداری کی چھو منتری سیاست کے ذریعے سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے تھے اور بعد ازاں اس آزاد منش سینیٹر نے پہلے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کی اور پھر آصف علی زرداری نے بھی ان کے پلڑے میں وزن ڈال کر انہیں چیئرمین سینٹ کے عہدے پر بٹھا دیا تھا۔ صادق سنجرانی کا ماضی میں پیپلز پارٹی سے تعلق رہا ہے اس لئے انہیں پیپلز پارٹی کا ہی چیئرمین سینٹ خیال کیا جاتا تھا۔

شروع شروع میں صادق سنجرانی بھی ایوان بالا کے ”بزدار“ ہی معلوم ہوتے تھے لیکن پھر انہوں نے پراسرار گلیوں کی سیاست اور سازشوں کو بڑی تیزی سے سیکھا اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صادق سنجرانی کے بغیر قومی سیاست ادھوری ہے۔ گزشتہ روز کی کامیابی کے بعد کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہاتھ کیا ہے اور بیچ چوراہے انہیں رسوائی سے دو چار کردیا۔ مگر بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے چودہ میں سے 9 سینیٹر کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے جبکہ 3 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ متحدہ اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانے میں آصف علی زرداری سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کے باغی دھڑے نے زیادہ کام دکھایا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے اندر اب تینوں سطح پر بغاوت صاف دکھائی دے رہی ہے قومی اسمبلی کے اراکین پہلے ہی بنی گالہ جا کر ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں موقف اختیار کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ صوبائی سطح پر ایم پی ایز تحریک انصاف سے رابطے میں ہیں اور سینٹ میں بھی 9 اراکین نے اپنی لائن بالکل واضح کردی ہے۔

چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی سے اگرچہ اپوزیشن ناکام ہوگئی ہے مگر اس بات کا فی الحال کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے بغاوت کرنے والے اراکین آئندہ کسی بھی اہم نوعیت کی قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دیں گے چیئرمین سینٹ اگرچہ اب مکمل طور پر حکومتی ہوگا لیکن سینٹ میں اکثریت اب بھی اپوزیشن کی ہوگی۔ البتہ حکومت جب بھی کوئی بل لے کر سینٹ میں جائے گی تو اپوزیشن ممبران کے ضمیر کا پھر سے امتحان شروع ہوجائے گا اور متحدہ اپوزیشن کی قیادت پھر سے گھبرائی ہوئی دکھائی دے گی۔

اس ناکامی کے بعد اپوزیشن اب دائمی بیماری میں مبتلا نظر آئے گی اور یہ بیماری آہستہ آہستہ اس کو مکمل مفلوج کرسکتی ہے گزشتہ روز کی ناکامی بھی اپوزیشن کے لئے فالج سے کم نہیں ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ ایک طرف مولانا فضل الرحمان حکومت گرانے کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان کرتے پھر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے دو اراکین ان سے باغی دیکھے گئے۔ اس لئے مولانا فضل الرحمن کو ملین مارچ سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں ان کے سینیٹرز ”ذاتی ملین مارچ“ تو نہیں کرگئے۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی کا کردار بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی سرکاری ہی دکھائی دیا ہے کیونکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے حاصل بزنجو بار بار سراج الحق کو فون کرتے رہے مگر انہیں ”حاصل“ کچھ نہیں ہوا۔

چیئرمین سینیٹ سنجرانی پہلے پیپلز پارٹی کے احسانات تلے دبے ہوئے دکھائی دیتے تھے لیکن اب وہ اس بوجھ سے آزاد ہوگئے ہیں مگر اب ان پر پہلے سے زیادہ بوجھ ہوگا اور انہیں عدم اکثریت کے ایوان میں اپنے جوہر دکھانا ہوں گے۔ متحدہ اپوزیشن اور میر حاصل بزنجو کو انداز ہوگیا ہے کہ انہیں اس مہم جوئی میں رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ہے تحریک انصاف کو مزید قوت حاصل ہوئی ہے۔ ماضی میں نوٹوں اوربوٹوں کی سیاست پر تکیہ کرکے زندہ رہنے والوں کو اب اس طرز سیاست پر اعتراض زیب نہیں دیتا اور یہ دونوں کردار قومی سیاست سے شاید ہی کبھی ختم ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 59 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat