وادی تیراہ سے مہمند ایجنسی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہوا تو ایک مشہور ٹیلیوژن چینل سے وابستہ نوجوان صحافی نے میرے کان میں کہا کہ سر ہم صحافیوں کی زندگی کچھ زیادہ خطروں سے دوچار نہیں ہوتی جارہی ہے؟ میں نے حیرت کے ساتھ اس کی طرف دیکھا تو اس نے شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ ہیلی کاپٹر کی حالت زار کی طرف اشارہ کیا لیکن لگ بھگ پچیس منٹ بعد یہی ”حالت زار“ ہمیں وادی تیراہ کے نواح میں پیندی چینہ کے سرسبز و شاداب پہاڑوں کے بیجوں بیج بخیر و عافیت اتار چکا، جہاں کچھ افسران اپنے سٹاف کے ساتھ گاڑیوں سمیت ہمارے منتظر تھے۔

سو دیر کیے بغیر ہم گاڑیوں کی طرف لپکے اور چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع اس خوب صورت اور وسیع و عریض تعلیمی کمپلیکس میں گیے جس کی زمین مقامی لوگوں نے عطیے کے طور پر دی اور اس پر ایک سکول کی شاندار عمارت کھڑی کی گئی۔ جس میں فی الحال دسویں جماعت تک لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے تعلیم کا سلسلہ چل پڑا ہے نو سو پینسٹھ لڑکے جبکہ ایک سو چھ لڑکیاں اس انتہائی پسماندہ لیکن خوبصورت علاقے میں علم کی روشنی کو تھام چکے ہیں۔

متعلقہ عمائدین اور سکول کے پرنسپل عمران شاہ کو میں نے کریدا تو بتایا گیا کہ یہ ذخہ خیل قوم کا علاقہ ہے اوراس کی کل آبادی تئیس ہزار ہے سو آبادی کے تناسب سے طالبعلموں کی تعداد حوصلہ افزاء ہے تاہم اس میں بھی دن بدن اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ سر سبز پہاڑوں میں گھری ہوئی اس خوبصورت عمارت میں کل چونتیس کمروں سمیت لیبارٹری اور لائبریری اپنی تمام سہولیات سمیت موجود تھی۔

چائے سے پہلے تعلیمی کمپلیکس میں گھومتے ہوئے میں نے ایک سینئر صحافی دوست سے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ بھی ہمارے جیسے حالات سے دوچار ہوئے تھے لیکن انہی حالات سے سبق سیکھ کر انھوں نے آکسفورڈ اور ہارورڈ کی بنیادیں بھی رکھ دیں اور اپنی نسلوں کے مستقبل کو سنوارا بھی۔ میرے ساتھی نے میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں کی چمک معمول سے کہیں بڑھ کر تھی۔

ہیلی کاپٹر کا پائلٹ اور متعلقہ افسران موسم کی خرابی کے اندیشے سے بار بار آگاہ کرتے اور ہمیں ڈراتے رہتے اس لئے جلدی جلدی واپسی کا راستہ لیا کیونکہ مہمند ایجنسی (اب ضلع ) کے راستے میں فی الحال موسم کی خرابی کھڑی تھی سو پشاور ائیر پورٹ کے لاؤنج میں چھوٹے بھائیوں جیسے عزیز ایک ذمہ دار افسر کے ساتھ ساتھ سینئیر صحافی دوستوں امجد عزیز ملک، آصف نثار اور سفیر اللہ کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ کر گزرے ہوئے صحافیوں اور بدلتی ہوئی صحافت پر گپ شپ لگاتے اور ایک دوسرے کو مزید پریشان کرتے رہے۔

جبکہ دوسرے کونے میں نوجوان لیکن حد درجہ مہذب صحافی ہم سے چھپ کر ایک دوسرے پر جملے کستے اور شرارتیں کرتے رہے اس دوران اعلان ہوا کہ موسم نے جانے کی اجازت دے دی ہے سو تھوڑی دیر بعد پہلے والے سفر کے برعکس بے آب و گیاہ اور چٹیل پہاڑوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے مہمند ایجنسی کے تحصیل ہسپتال مامدگٹ اترے۔

چالیس بیڈ پر مشتمل پسماندہ علاقے میں بنائے گئے اس ہسپتال کا مقابلہ یقینًا بڑے شہروں کے ہسپتالوں سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہسپتال ایجنسی سرجن کو پچھلے سال ستمبر میں عسکری ادارے نے حوالے کیا تھا، تا ہم سٹاف (ڈاکٹرز) فی الحال فوج اور سول دونوں پر مشتمل ہے جسے کچھ عرصے تک مکمل طور پر صوبائی محکمۂ صحت کو سونپ دیا جائے گا

تین دن سے کئی سپیشلسٹ ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم یہاں آئی ہوئی تھی اور لگ بھگ ساڑھے تین ہزار مریضوں کو ابھی تک ٹریٹمنٹ دے چکی تھی، گائینی، میڈکل، سرجیکل، آئی اور پیڈز (اطفال ) کے حوالے سے تقریبًا تمام سہولتیں میّسر تھیں۔

تاہم لیبارٹری کو درپیش مسائل اور فنڈز کی کمی کا رونا ڈاکٹروں نے ضرور رویا البتہ ہسپتال کی عمارت اور وہاں موجود سہولیات بلاشبہ قابل داد بھی تھے اور حوصلہ افزاء بھی۔ جس کی تائید وہاں موجود مقامی مریضوں اور ان کے لواحقین نے بھی کی۔

مہمند ایجنسی قبائلی ایجینسیوں میں سب سے غریب اور چٹیل پہاڑوں پر مشتمل ایجنسی تھی (اب ضلع ہے ) لیکن کسے معلوم تھاکہ ان خشک پہاڑوں میں قدرت نے معدنیات کے بیش بہاء خزانے چھپا کر رکھے ہیں۔ سو سائنس ان معدنیات کو تلاش کر رہی ہے اور مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ اور ریاست اس کا فائدہ سمیٹنے لگے ہیں۔ ایک صحافی دوست بتا رہے تھے کہ یہاں ایک سو اڑتیس قسم کی معدنیات دریافت ہوئی ہیں۔

تھوڑی دیر بعد ان خشک پہاڑوں اور بے آب و گیاہ زمین کے اوپر گزرتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ اس علاقے کے لوگ رزق کی خاطر ہمیشہ دوسرے خطوں کی طرف ہجرت کر جاتے لیکن اب لوگ دولت کمانے کے لئے اسی متروک زمین کا رُخ کر رہے ہیں، جس کی سطح پر کوئی سبزہ کبھی نہیں اُگا لیکن اس کی تہہ میں قدرت نے دولت کی فراوانی رکھی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •