کیا پاکستان میں جمہوریت ناکام ہوگئی ہے؟
یہ شبہ اور سیاست دانوں کی کمزوریاں بلاشبہ پاکستان میں جمہوری نظام کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کی وجہ سے سیاسی قوتوں کے بارے میں بے یقینی پیدا ہوئی ہے اور انہیں بدعنوان اور جاہ پسند قرار دے کر عوام میں بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ یہ کام کرنے میں اہم ترین کردار بھی عوام ہی کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے لیڈروں اور جماعت نے ادا کیا ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی تمام تر خرابیوں کے باوجود اگر سیاسی قوتیں کسی سطح پر یہ اتفاق کرلیں کہ سیاسی اقتدار کے لئے اداروں کو شریک نہیں بنایا جائے گا تو ملک میں جمہوری عناصر کی قوت میں بتدریج اضافہ ہوسکتا ہے اور جو ادارے اس وقت سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے منہ زور ہوچکے ہیں، انہیں بھی اپنی حدود متعین کرنا پڑیں گی۔ لیکن جمہوریت کے تماشے میں اگر مقصد اقتدار کا حصول اور اس سے چمٹے رہنا ہی ہو گا تو بنیادی جمہوری اقدار مضبوط نہیں ہوسکیں گی۔
تحریک انصاف اور حکومت سینیٹ میں اقلیت کے باوجود صادق سنجرانی کے خلاف قرار داد کی ناکامی کو اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ اس سے اپوزیشن کی سبکی ہوئی ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ اس میں جمہوریت ناکام ہوئی ہے۔ اکثریت رکھنے والی پارٹیوں کی ناکامی تحریک انصاف کی کامیابی کی بجائے ان طاقتوں کی کامیابی ہے جو ملک کی سیاست کو میز پر سجائے نقشے کی طرح دیکھتی ہیں اور ایک خاص نقطہ نظر اور موقع کی مناسبت سے اس میں میں رد وبدل کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔
حاصل بزنجو نے ایک بات کھل کر کہہ دی اور آئی ایس پی آر کو اس کی تردید کرنا پڑی۔ دیکھا جائے تو حکومت کے نمائندے اپنی کامیابی کا جشن مناتے اور پارٹیوں سے غداری کرکے صادق سنجرانی کی حمایت کرنے والوں کو ’خفیہ ہیرو‘ کا درجہ دیتے ہوئے دراصل وہی بات کہہ رہے ہیں۔ یعنی بعض غیر جمہوری قوتیں ملک کے سب سے بڑے جمہوری ادارے میں بھی اپنا کرشمہ دکھا سکتی ہیں۔ شہباز شریف یا آصف زرداری پر قرار داد کی ناکامی کی ’سازش‘ کا حصہ بننے کے الزام لگانے والے تبصرے اور رپورٹیں بھی دراصل انہی ان دیکھے ہاتھوں کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں جو بہرحال جمہوری نہیں ہیں اور جنہیں ملک کا آئین سیاسی جوڑ توڑ کا حق نہیں دیتا۔ پھر صرف حاصل بزنجو کے تبصرے پر میجر جنرل آصف غفور کا لیکچر کیوں؟ اور اشاروں کنایوں میں ہونے والی باتوں کو جمہوریت کی صفت سمجھنا چہ معنی دارد؟
یہ بات واضح ہو چکی کہ ملک کے جمہوری عناصر میں مفاد پرست عناصر کا حصہ بہت زیادہ ہے اور وہ اقتدار میں رہنے کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہی عناصر دراصل عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور سیاسی کلچر کو آلودہ کرتے ہیں۔ اگر سیاست کو ان عناصر اور بہر صورت اقتدار حاصل کرنے کے رویہ سے پاک کیا جا سکے تو سیاست میں اداروں کی مداخلت کو کم کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ تاہم اس کے لئے دو کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک سیاسی پارٹیوں کے ڈھانچوں کو جمہوری بنایا جائے۔ دوئم سیاسی قوتیں غیر سیاسی طاقتوں کے ساتھ مل کر ساز باز کرنے سے انکار کریں۔
یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ملک کے ادارے اتنے طاقت ور ہوچکے ہیں کہ کوئی سیاسی تبدیلی ان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ ادارے سیاسی قوتوں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے مؤثر ہوئے ہیں۔ اگر سیاست دان اختلاف و اتفاق کے لئے کوئی دوسرا پلیٹ فارم استعمال کرنا شروع کر دیں تو اداروں یا ’فرشتوں‘ کی مداخلت اور اثر و نفوذ بھی ختم ہوجائے گا۔ اسی طرح جمہوریت توانا ہو سکتی ہے۔
ملک میں جمہوریت کے سوا کسی نظام کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر یہ بات درست نہ ہوتی تو گزشتہ ستر برس میں نصف مدت کے دوران اقتدار سنبھالنے والی فوجی حکوتیں کامیاب ہوتیں یا فوج ایک بار پھر اقتدار سنبھالنے کی خواہش کا اظہار کرتی۔ فوج کی طرف سے مسلسل جمہوریت کی حمایت کی جاتی ہے لیکن جمہوریت کے بیج سے پھلنے پھولنے والے عناصر انتخاب جیت کر ذاتی حرص اور اقتدار کے لئے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طریقہ کو تبدیلکیے بغیر اداروں کو الزام دینے سے معاملات درست نہیں ہوسکتے۔ اداروں کو سیاست دانوں کی حرص اور کمزوری کی وجہ سے طاقت ملتی ہے۔ یہ بندوق کی طاقت نہیں ہے۔ بندوق سے تو اب میدان جنگ میں بھی بازی نہیں جیتی جاسکتی۔
میر حاصل بزنجو کی یہ بات درست ہے کہ دو روز پہلے سینیٹ میں جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا تھا۔ لیکن یہ جاننا چاہیے کہ اس کھیل میں صرف بازی چلنے والا ہی قصور وار ہے یا مہروں کی طرح تھرکنے والے سیاست دانوں پر بھی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

