کیا پاکستان میں جمہوریت ناکام ہوگئی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ میں واضح اکثریت کے باوجود اپوزیشن، چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ا س عہدے سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں کو اگرچہ سینیٹ میں صرف ایک تہائی نشستیں حاصل ہیں لیکن اس نے حاصل بزنجو کو نیا چئیر مین بنانے اور صادق سنجرانی کو ہٹانے کی تحریک کو کامیابی سے ناکام بنایا ہے۔ دیگر سوالوں کے علاوہ اس صورت حال میں یہ پوچھاجارہا ہے کہ کیا ملک میں جمہوریت ناکام ہو چکی ہے؟

دو روز پہلے سینیٹ میں ہونے والی خفیہ رائے شماری میں جس طرح 14 سینیٹرز نے اپنے اعلان کے باوجود پارٹی فیصلے کے خلاف ووٹ دیا یا تحریک کو ناکام بنانے کے لئے ووٹ ضائع کیا، اس سے ملک کے سیاست دانوں کی دیانت اور اس نظام کی اصابت کے بارے میں سوال سامنے آنا فطری بات ہے۔ حکومت کے ترجمانوں نے سینیٹ کے ووٹ کے بعد خاموش رہنے کی بجائے اسے جمہوریت اور عمران خان کی ذہانت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اپوزیشن اپنی ہی صفوں میں چھپے ’غداروں‘ کو تلاش کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ مبصرین اور صحافی اس صورت حال پر دور کی کوڑیاں لانے اور یہ سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا ’کارنامہ‘ کس نے کیسے سرانجام دیا۔

اپوزیشن کے متفقہ امیدوار میر حاصل بزنجو نے تو ووٹ کے فوری بعد ایک صحافی کے سوال کے جواب میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل فیض حمید پر بالواسطہ الزام عائد کیا اور آئی ایس پی آر نے اس کی تردید کرکے اور اس قسم کی الزام تراشی کوجمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی قرار دیا۔ بعض لوگ تحریک انصاف کے نا اہل لیڈر جہانگیر ترین کی پھرتیوں اور ہوائی جہاز کی اڑانوں کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ کچھ تبصرہ نگاروں کی رائے میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو اس تحریک عدم اعتماد سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی جبکہ اسی حوالے سے سامنے آنے والے بعض دوسرے تبصروں یا ’تحقیقاتی رپورٹنگ‘ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دراصل نیب کی حراست میں مقید آصف علی زرادری نے اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے کیوں کہ انہیں یہ پیغام پہنچایا گیا تھا کہ اگر اپوزیشن سینیٹ کے اس ووٹ میں کامیاب ہو گئی تو سندھ اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنوا کر وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

یہ افواہ نما خبریں اور تبصرے سامنے لانے والے بتاتے ہیں کہ ا س طرح ایک قوم پرست بلوچ لیڈر ملک کے ایک اہم عہدے پر فائز ہوجاتا جو ’طاقت ور حلقوں‘ کو قابل قبول نہیں تھا۔ دوسرے طاقت کے انہی مراکز کا یہ خیال بھی تھا کہ سینیٹ میں کامیابی کے بعد اپوزیشن قومی اسمبلی یا پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش کرتی۔ سینیٹ کی کامیابی سے ایک طرف اپوزیشن کو مزید جارحانہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا حوصلہ ملتا تو دوسری طرف ہمہ وقت بے یقینی کا شکار سیاسی اداکار بھی اپوزیشن پارٹیوں کو مستقبل کی حکمران پارٹیاں سمجھ کر اس کی طرف رجوع کرتے۔ اس طرح سیاسی نقشہ بنانے کی طاقت کسی حد تک سیاسی قیادت کے ہاتھ میں چلی جاتی اور سیاسی جوڑ توڑ کرنے والی قوتوں کو پسپا ہونا پڑتا۔

کہا جارہا ہے کہ اسی اندیشے کی وجہ سے بعض خفیہ ہاتھوں کو متحرک ہونا پڑا۔ اس پس منظر اور صادق سنجرانی کے عہدے کو بچانے کے لئے ہونے والی سرگرمی پر نگاہ ڈالی جائے تو عام تاثر یہی ہے کہ یہ صرف حکمران تحریک انصاف کا منصوبہ نہیں تھا بلکہ ملکی سیاست اور اس کے ذریعے ملکی نظم کو اپنا دست نگر رکھنے والی طاقتوں کو بھی اس چیلنج سے نمٹنے کی ضرورت تھی۔ کیوں کہ یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ اس موقع پر سیاسی قوتوں کو ’من مانی‘ کرنے کا موقع مل گیا تو پھر جمہوری طاقت کے رتھ کو قابو میں کرنا مشکل ہوجائے گا۔

مباحث میں ان درپردہ قوتوں کے لئے متعدد نام استعمالکیے جاتے ہیں۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے انہیں ’محکمہ زراعت اور خلائی مخلوق‘ کا نام دیا گیا۔ کوئی انہیں ’فرشتے‘ کہتا ہے اور بعض لوگ طاقت کے اصل محور کہہ کر ہی کام چلا لیتے ہیں۔ ملکی جمہوری سیاست کا المیہ البتہ یہ رہا ہے کہ عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہونے والے لیڈروں نے عام طور سے ان طاقتوں کو لگام دینے یا سیاسی فیصلوں میں مداخلت کی حدود مقرر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ ایسی کوشش کرنے والوں کو متعدد مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ڈان لیکس اور پھر پاناما پیپرز مقدمہ کو کسی حد تک منتخب نمائندوں اور طاقت کے ان مراکز کے درمیان ’تصادم‘ کا شاخسانہ ہی قرار دیا جاتا ہے۔

اسی تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو سیاسی لیڈر آج سیاسی نقشہ گری کی خفیہ منصوبہ بندی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، وہ خود کسی نہ کسی وقت میں خود اسی نقشہ گری کے نتیجہ میں منصہ شہود پر آئے تھے۔ یہ الزام مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے علاوہ پیپلز پارٹی پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی قوتوں کی جمہوری کمٹمنٹ کے بارے میں بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں میمو گیٹ اسکینڈل میں نواز شریف آصف زرداری کی جمہوری طاقت کے خلاف انہی عناصر کے آلہ کار بنے تھے جن کی مدد سے آصف زرداری نے 2017 میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ کے خلاف ’بغاوت‘ اور پھر سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ کو نیچا دکھانے کے لئے منصوبہ سازی کی تھی۔ صادق سنجرانی کو چئیرمین سینیٹ منتخب کروانا بھی اسی منصوبہ کا حصہ تھا۔

اس لئے یہ بحث تو بے معنی ہے کہ اس ملک میں کون بڑا جمہوریت پسند ہے اور کس پر یہ اعتبار کیا جا سکتا ہے کہ جمہوری ادارے مستحکم ہوں اور فیصلے بھی انہی لوگوں کے توسط سےکیے جائیں جو عوام کے ووٹوں منتخب ہو کر آتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے جمہوری قوتوں کا اس ایک اصول پر اتفاق کرنا ضروری ہے کہ وہ ذاتی فائدے اور سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے کوئی درپردہ مفاہمت نہیں کریں گی۔ جب اپوزیشن پارٹیاں عمران خان کو نامزد قرار دے کر ان کی جمہوری سند کو چیلنج کرتی ہیں تو بھی یہ شبہ تو موجود رہتا ہے کہ ایک نامزد کو ہٹانے کے لئے یہ سیاسی لیڈر انہی طاقتوں سے سودے بازی نہ کر رہی ہوں جن کی سرپرستی کی وجہ سے اس وقت تحریک انصاف معمولی اکثریت کے باوجود حکومت کررہی ہے یا سینیٹ میں اقلیت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس الجھن کی وجہ سے ہی جمہوریت کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں اور یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جب سب سیاسی لیڈر کسی نہ کسی سطح پر ’اداروں کی طاقت‘ کو تسلیم کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو پھر ان کے جمہوری منشور پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1284 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali