ریاستِ جموں کشمیر ۔ جنت نظیر یا جہنم پذیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج انڈین پارلیمنٹ نے کشمیریوں سے وہ امید چھیننے کی کوشش کی ھے جو برسوں سے ان کے دلوں میں روشن تھی، ان کی آزاد ریاستی حیثیت ! رام رام جپنا۔ پرایا مال اپنا، کی جو کریہہ مثال اج انڈیا نے پیش کی ہے اس پے کشمیریوں کا شدید ردِ عمل متوقع ہے۔ ارٹیکل 370 کو بھارتی حکومت ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، اقوامِ متحدہ نے جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ خطہ قرار دیا تھا۔ ستر سال سے کشمیری اس رائے دہی کے منتظر ہیں جو اقوامِ متحدہ کے فیصلے کا نچوڑ ہے۔ لیکن اج ان کو وہ حق تو کیا ملتا۔ ان سے ان کا قومی پرچم بھی چھین لیا گیا۔ یعنی اب جموں کشمیر ریاست کو ایک ایسا علاقہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کی اپنی کوئی شناخت ہی نہیں ہو گی۔

اس سال دونوں ملک انڈیا اور پاکستان بہترواں یومِ آزادی منائیں گے۔ ملکوں کی تاریخ میں ستر سال بہت ہوتے ہیں۔ چین اور ملائشیا سی مثالیں موجود ہیں کہ ترقی، استحکام اور اقوامِ عالم میں سربلندی کے لئے انہوں نے ان سالوں میں کیسی انتھک محنت کی۔ قومیں محنت سے جی نہیں چراتیں بس انہیں حکومتی سطح پہ باحوصلہ، ذھین اور وژنری پالیسی میکرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان دونوں ملکوں (انڈیا اور پاکستان) نے اپنی ترقی کو بار بار جنگ کی آگ میں جھونک کے عوام کو غربت کی چکی میں پسنے کے لیے چھوڑ دیا۔
تازہ صورت حال ایک نئی جنگ کی تیاری ہے!

ہم دونوں جانب اسکول سے یونیورسٹی تک نئی نسل کو تاریخِ ہند و پاک کے نام پہ ایک دیومالائی داستان سناتے ہیں۔ اپنی ذاتی دلچسپی اور استعداد پہ چند ہی ہوں گے جنھوں نے قیامِ پاکستان و بھارت سے اج تک ہونے والے سیاسی مد و جزر کا مطالعہ کیا یا جاننے کی کوشش کی کہ مسئلہ کشمیر کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیوں انڈیا اسے ”اٹوٹ آنگ“ اور پاکستان اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے جبکہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جس کا اپنا وزیر اعظم اور کابینہ ہے۔ جس روز دونوں جانب کے کشمیری ایک ساتھ اپنا حقِ رائے دھی استعمال کریں گے تو عین ممکن ہے کہ وہ کسی بھی ملک سے الحاق نہ چاہیں اور تقسیمِ ہند سے پہلے جس طرح آزاد تھے، وہی راہ اختیار کریں۔

پاکستان اور ہندوستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد ہندوستان نے تو بالجبر و بروقت ( اپنے مفاد کے لحاظ سے ) بالخصوص ان آزاد ریاستوں اور رجواڑوں پہ فوج کشی کر کے قبضہ کیا جن کے حکمران مسلمان تھے گو بخشا دیگر کو بھی نہیں جن میں کیرالہ، کرناٹک اور مہاراشٹرا اور ایک طویل فہرست شامل ہے۔ لیکن جو مسلم ریاستیں پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہاں تھیں ان میں ریاستِ حیدرآباد دکن، ریاستِ بھوپال، ریاستِ جونا گڑھ، ریاستِ رام پور، ٹونک اور جنجیرہ شامل ہیں۔ ان تمام کو نئے ہندوستان میں ضم کر لیا گیا۔ ریاستِ محمود آباد کیس کا فیصلہ، دو ہزار پانچ میں راجہ صاحب محمود آباد کے خاندان کے حق میں ہوا لیکن انڈین حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر کے انڈین سپریم کورٹ کے اس فیصلے پہ عمل درآمد کو کٹھائی میں ڈال دیا۔
ایمرجنسی لگا کر عوام کو ان کا حق نہ دینا، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا طرۂ امتیاز ہے۔

کشمیری ان ستر سالوں میں تین نسلیں اس حق کے حصول پہ وار چکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے ہی نہیں کہ وہ پاکستان سے ملحق ہوں گے یا نہیں۔ اولین مطالبہ یہ ہے کہ انہیں آزاد حقِ رائے دھی کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ کشمیر دونوں ملکوں کے لئے سرچشمۂ حیات ہے۔ ہندوؤں کے مقدس ترین تیرتھ استھان ویشنو دیوی اور امر ناتھ ہی ہندوستان کے اس دعوے اور خواہش کی واحد وجہ نہیں ہے کہ کشمیر پہ ان کا تسلط قائم رہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کو پانی جیسی انمول قدرتی نعمت کشمیر میں پھوٹتے دریائی منبہ کی رہینِ منت ہے۔ مسئلہ مذہب سے زیادہ کروڑوں انسانوں کے سروائیول کا ہے لیکن پاکستان اور ہندوستان کی پیاس بجھانے کے لئے کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔

بہتر سالوں سے آزاد اور مقبوضہ کشمیر میں آلام و بدترین جبر کی داستانیں اسی خون سے رقم کی جا رہی ہیں۔ اس وقت دونوں جانب کی حکومتوں کو ہتھیاروں کے بجائے امن کے لئے مذاکر ات کی میز پر اَنا ہی ہوگا اور ان مذاکر ات میں کشمیر کی سیاسی نمائندگی کشمیریوں کو کرنے کا موقع دینا لازم ہے ورنہ آگ اور خون کی یہ ہولی دیکھتے ہوئے، کشمیر کی نئی باشعور نسل اج اس شامِ غریباں کو گزار کے آزادی کی نئی صبح لانے کو تیار کھڑی ہے۔
لگتا اس بار شاید یہ مظلوم قوم اپنے خون سے اک نئی کربلا رقم کرنے جا رہی ہے۔

جھگڑا کشمیر کا نہیں جھگڑا پانی کا ہے اور مقدمہ کشمیری عوام کا! جو بارہہ اقوامِ متحدہ اور اقوامِ عالم کو مدد کے لئے پکار چکے ہیں۔ بر بریت اور جبر کا نئے سرے سے جو اطلاق اج کل ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز سے وہ اَوازِ استغاثہ بلند کر رہے ہیں۔ اور اس آگ میں جلتی پہ تیل کا کام، اج انڈین پارلیمنٹ میں ہونے والی یہ قرارداد ہے۔ اگر اب بھی کسی کے کان پہ جوں نہ رینگی تو یہ چلّو بھر پانی میں ڈوبنے کا مقام ہو گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •