اپنا ٹائم آئے گا

ریحان جس کی ابھی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں۔ پندرہ سال کا غریب بچہ تھا۔ نہ تعلیم کی جانب کسی نے رغبت کرائی نہ تربیت کے لئے ماں باپ کو فکرِ معاش نے فرصت دی۔ جیسے ایسے گھر کے بچے پل جاتے ہیں اسی انداز میں ریحان بھی اس قابل ہو گیا تھا کہ قصائی کے کام میں مددگار کے طور پے دیہاڑی لگا سکے۔ دیہاڑی کے چار پیسے اس نادان عمر میں ہاتھ آتے ہوں گے تو کیا کیا نہ کرنے کو دل مچلتا ہو گا؟ تکے بوٹی پیٹ بھر کے کھا لوں، ٹھنڈی بوتل پی لوں، اپنے لئے نئی ٹی شرٹ اور جنیز لے لوں۔ ایسی ہی ایک شرٹ جس پے لکھا تھا، اپنا ٹائم آئے گا۔ اس جملے کو شہرت تو ایک مصرعے کے طور پے ملی لیکن اس ایک جملے میں کتنے خوابوں گندھے ہیں؟ کتنی امید بندھی ہے؟ یہ ہم سب جانتے ہیں۔

Read more

انٹر نیٹ کے عقلِ کُل

اک زمانہ تھا کہ ادیانِ عالم، سماجیات، سیاست، عمرانیات، تاریخِ عالم، شاعری، ادب، صحافت اور فلسفہ جیسے موضوعات پے بات کرنے سے پہلے ہم سب سامنے موجود عالم کا قد ماپتے تھے اور پھر جرات کرتے تھے کہ اپنا موقف یا حوالہ بیان کریں۔ مباحثے کی روایت عام تھی، جس کی برکت سے برادشت اور…

Read more

ریاستِ جموں کشمیر ۔ جنت نظیر یا جہنم پذیر

آج انڈین پارلیمنٹ نے کشمیریوں سے وہ امید چھیننے کی کوشش کی ھے جو برسوں سے ان کے دلوں میں روشن تھی، ان کی آزاد ریاستی حیثیت ! رام رام جپنا۔ پرایا مال اپنا، کی جو کریہہ مثال اج انڈیا نے پیش کی ہے اس پے کشمیریوں کا شدید ردِ عمل متوقع ہے۔ ارٹیکل 370…

Read more

مرد نہیں، ماں بدلو

میں نے ہنستے ہوئے اپنے دوست کو ڈپٹتے ہوئے کہا، ”تمہاری بیوی ہے، تم اس کی عزت نہیں کرتے؟ “ اس نے بہت سنجیدگی سے مجھے دیکھ کے کہا، ”میں اس کی عزت کیسے نہیں کروں گا یہی تو میری عزت ہے“۔ میں اور اس کی بیوی جو یونہی مذاقاً مجھ سے میاں کو ڈانٹ…

Read more

سریے والا وڈیرہ

سنا ہے کسی نے چنگیز خان سے پوچھا کہ کیا زندگی میں کبھی کسی پے ترس بھی آیا؟ چنگیز خان نے جواب دیا، ہاں ایک بار۔ دریا کنارے ایک ماں کو دہائی دیتے دیکھا۔ اس کا شیر خوار بچہ دریا میں گر کے بہہ رہا تھا۔ مجھے بہت ترس آیا۔ سوال کرنے والے نے مودبانہ…

Read more

انگریز راج کا پروپیگنڈا اور اصل حقیقت

جن لوگوں نے انگریزی پروپیگنڈا سے بھری تاریخِ ہند پڑھی ہے انہیں یہی لگتا ہے کہ انگریز ہندوستانی عوام کا نجات دہندہ تھا۔ کیونکہ یہاں کے حکمران عوام کو جاہل اور غریب رکھے ہوئے صرف عیاشیاں کر رہے تھے۔ ائے کاش کہ کوئی عقل اور حالات و واقعات سے سچ کشید کر سکے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندے جب انڈیا ائے تو انہوں نے ملکۂ برطانیہ کو یہاں کے بارے میں جو خط لکھا، اس میں انڈیا کو سونے کی چڑیا قرار دیا۔

Read more