کشمیر تصادم میں جیت کس کی ہے!


\"edit\"مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان پوری قوت سے اس مسئلہ کو اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ 18 ستمبر کو علی الصبح مقبوضہ کشمیر میں اوڑی کے مقام پر بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گرد حملہ میں 18 فوجی ہلاک ہو گئے۔ بھارت نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے غور و خوض کے بعد مناسب کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ ’’جو بھی اس حملہ کا ذمہ دار ہے، اسے بہرصورت اس کی سزا دی جائے گی‘‘۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ایک ٹوئٹ پیغام میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا میں پاکستان کو تنہا کیا جائے۔ اس قدر جارحانہ اور سخت الفاظ کا استعمال بھارتی سیاسی قیادت کی کشمیر میں ناکامی اور دنیا میں بڑھتی ہوئی تنہائی کا آئینہ دار ہے۔ پاکستان کی طرف سے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن پر اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ الزام قبل از وقت اور بے بنیاد ہے۔ اگر بھارت کے پاس کوئی قابل قبول انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں تو انہیں فراہم کیا جائے۔ اس سے پہلے اس سال کے شروع میں پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملہ کے بعد بھی الزام تراشی کا ایسا ہی سلسلہ شروع کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ اعتراف بھی سامنے آیا کہ اس میں پاکستان ملوث نہیں بلکہ یہ بھارتی عناصر ہی کا کام تھا۔

بھارت کی طرف سے پاکستان کو بالواسطہ سنگین نتائج کی دھمکیوں کی صورتحال پر آج راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس میں غور کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ پاک فوج براہ راست یا بالواسطہ ہر قسم کے خطرہ سے نمٹنے کےلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صورتحال اور دشمن کے عزائم سے باخبر ہیں اور عوام کی تائید و حمایت کے ساتھ دشمن کے ارادوں کو ناکام بنا دیں گے۔ اس دوران نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اوڑی حملہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد بھارت کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی کے سنگھ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ان حالات میں کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے پوری منصوبہ بندی سے اس حملہ کا جواب دے گا۔ تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا کہ اس حوالے سے بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پرسکیورٹی کی صورتحال اور کمزوریوں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ حملہ کیسے ممکن ہوا اور بڑے نقصان سے پہلے اسے پسپا کیوں نہ کیا جا سکا۔ اس بیان سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کو بدنام کرنے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کےلئے خواہ کسی قسم کے اوچھے اور غیر سفارتی بیانات جاری کریں لیکن انہیں خود بھی اس بات کا احساس ہے کہ یہ حملہ بھارتی فوج کی کمزوری ہی کا نتیجہ ہے۔ ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کرنے کی بجائے اگر بھارت اپنی کمزوریوں پر غور کرے تو بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ ستر روز سے زائد مدت سے کشمیری عوام نے جس طرح آزادی کی پرامن مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور تشدد سے گریز کرتے ہوئے بھارتی مظالم کو برداشت کیا ہے، اس سے ہر لمحہ بھارت کی سفارتی اور سیاسی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے ناجائز استعمال کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ چکی ہے اور 12 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔ بھارتی گولیوں کا نشانہ بننے والوں میں دس گیارہ برس کے بچے بھی شامل ہیں۔ گیارہ سالہ ناصر شفیع کو جمعہ کے روز ہی سپرد خاک کیا گیا ہے۔ وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے چھروں والی گولیاں لگنے سے زخمی ہوا تھا ور جانبر نہ ہو سکا۔ اسی طرح مرچوں بھرے بم پھینک کر بھارتی فوج اور پولیس صرف مظاہرین کو ہی منتشر نہیں کرتی بلکہ گھروں میں بند لوگوں کو بھی اذیت پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔ ان حالات میں نئی دہلی کی حکومت یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے کہ جس قدر ظلم اور استبداد میں اضافہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔ کشمیر میں بھارت کے خلاف نفرت اور مزاحمت بھی بڑھے گی۔

ان حالات میں بھارت اپنی عالمی سفارتی مہارت اور معاشی و عددی قوت کے باوجود دنیا کے اکثر فورمز پر تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کے دارالحکومتوں میں خواہ پاکستان کےلئے ہمدردی موجود نہ ہو لیکن مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی لئے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستانی سفیر تہمینہ جنجوعہ نے جب بھارت کے موقف کو چیلنج کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ بھارت کس طرح تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے تو بھارتی نمائندے کو جواب نہیں بن پایا تھا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر سفیر کی سطح تک کے نمائندے مقبوضہ کشمیر میں تحریک کے بارے میں پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کےلئے بلوچستان کا مسئلہ عالمی ایجنڈے پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق بھارت نیویارک میں بلوچ عناصر کو وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے دوران اقوام متحدہ کے باہر مظاہرہ کرنے پر آمادہ کر رہا ہے۔ بھارت کے پاس مقبوضہ کشمیر میں اپنی حکمت عملی کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے، اس لئے اس کے لیڈر پاکستان پر حملے کرنے اور اس کی اندرونی صورتحال کو دلیل بنا کر اسے لاجواب کرنے کی پالیسی پرعمل کرتے رہے ہیں۔

ان حالات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر جان لیوا دہشت گرد حملہ پاکستان یا کشمیریوں کا کوئی دوست نہیں کر سکتا۔ اس حملہ کا فائدہ بھارت کو پہنچے گا اور سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کی پرامن تحریک کو ہو گا۔ اسی لئے پاکستان کے قوم پرست حلقے جو ہر سانحہ کے بعد سازشی نظریئے کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک بے ڈھنگی مگر خود کو مطمئن کرنے والی تصویر تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ دہشت گرد حملہ دراصل بھارت نے خود ہی کروایا ہے۔ تا کہ کشمیر کے سوال پر پاکستان کی طرف سے جارحانہ حکمت عملی کا جواب دے سکے اور دنیا کو بتائے کہ یہ ملک تو بھارت میں دہشت گرد حملے کروانے میں ملوث ہے۔ اس حوالے سے بھارتی وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے بیانات اور حکومت کی بدحواسی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ 17 ستمبر کو روس کے دورہ پر روانہ ہونے والے تھے لیکن انہوں نے قبل از وقت ہی دورہ منسوخ کر دیا۔ کیا انہیں معلوم تھا کہ 18 ستمبر کی صبح کو کیا ہونے والا ہے؟ بعد میں میڈیا کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ بھارتی فوج پر حملہ کے بعد وزیر داخلہ نے بیرونی ممالک کا دورہ ملتوی کیا ہے۔ اس کے علاوہ راج ناتھ سنگھ کے سخت بیانات کے حوالے سے بھارت کے ماضی کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ کس طرح ہر موقع پر کسی ثبوت و شواہد کے بغیر پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے۔ 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ کروانے کے بعد، پاکستان پر اس کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی طرح جنوری میں پٹھان کوٹ ائربیس پر حملہ کے حوالے سے بھی بعد میں بھارتی اہلکاورں نے تسلیم کیا کہ اس میں پاکستان ملوث نہیں ہے۔ ان مثالوں کو سامنے لا کر پاکستان میں بھارت کی ایک قبیح اور قابل نفرت تصویربنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ کا بیان کہ دہشت گردوں سے پاکستانی اسلحہ ملا ہے، بھارتی الزامات اور دعوؤں کی حقیقت کا پول کھولتا ہے۔ کوئی بھی دشمن دوسرے ملک میں دہشت گرد بھیجتے ہوئے انہیں اپنے ہی ملک کا اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔

بھارت کی قیادت خود بھی ان حقائق سے آگاہ ہے لیکن کشمیر کے مسئلہ پر عالمی سطح پر اسے جس بدحواسی کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر بھارتی فوج پر دہشت گرد حملہ کو پاکستان کو بدنام کرنے کےلئے استعمال کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی لیڈروں کا خیال ہے کہ وہ اس حوالے سے پاکستان کو جتنا دبائیں گے، اتنا ہی انہیں دنیا کے ملکوں کو خاموش کروانے اور بھارتی عوام کو خوش کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ امید بھی کر رہے ہیں کہ اس طرح کشمیر کی صورتحال نہ صرف یہ کہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گی بلکہ اس کی سکیورٹی فورسز دہشت گرد حملہ کے بعد پیدا کئے جانے والے شور شرابے میں لوگوں کے احتجاج کو دبانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گی۔ بھارت کی انتہا پسند حکومت اس حملہ کو بہانہ بنا کر بھارت میں کشمیر کے مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنے کی آوازوں کو بھی بے اعتبار کرنا چاہتی ہے۔ بھارت کا قوم پرست میڈیا اس وقت بھارتی حکومت اور قوم پرست عناصر کا پوری طرح آلہ کار بنا ہوا ہے اور اوڑی حملہ کو پاکستان کی کارستانی قرار دے کر قومی جذبات ابھارنے کی ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

کچھ دن میں سیاسی الزام تراشی کی یہ دھول بیٹھ جائے گی۔ اگرچہ عام لوگوں کو کبھی حقائق کا علم نہیں ہو سکے گا۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے علاوہ امریکہ اور دوسرے اہم ملکوں کو یہ خبر ہو جائے گی کہ اصل واقعہ کیا تھا اور اوڑی میں درحقیقت کیا ہوا تھا۔ تاہم اس ایک سانحہ کی بنیاد پر دو ملکوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے اور تصادم کی صورتحال قائم کرنے کے سبب علاقائی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی تو موجود ہے ہی، اب اسے مزید گہرا کر دیا جائے گا۔ اس کا نقصان صرف پاکستان یا بھارت کے لیڈروں کو نہیں ہو گا بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مفادات اس سے متاثر ہوں گے۔ کشمیر میں حق خود اختیاری کی تحریک کو اگر وقتی طور پر دبا بھی لیا جائے تو بھی وہاں کے لوگوں کے دلوں میں آزادی کا جذبہ فزوں تر ہوجائے گا۔ بھارت اور پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تصادم کی اس کیفیت سے کسی ایک ملک کا فائدہ نہیں ہو سکتا۔ مسائل کو مل جل کر باہمی افہام سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن فی الوقت الزام تراشیوں اور اشتعال انگیز کہانیاں سنا کر خیر سگالی کی فضا کو خراب کیا جا رہا ہے۔

ایٹمی طاقت کے حامل برصغیر کے دونوں ملکوں کو خبر ہے کہ وہ اب جنگ کے ذریعے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ تو انہیں غور کرنا ہو گا کہ پھر وہ نفرتوں کو کیوں پروان چڑھا رہے ہیں۔ کیوں علاقے کی ضرورتوں اور عوام کی خواہشات کے مطابق اختلافات حل کرنے کےلئے بات چیت کا آغاز نہیں کر سکتے!

 

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali