اسلامی جمیعت (پنجاب یونیورسٹی) کی طرف سے ردعمل


\"ijt\"

یہ مضمون جناب احتشام خالق وسیر صاحب کے حکم پر ہٹا لیا گیا ہے۔ وہ اسے سکندر اعظم کاکڑ صاحب کے نام سے شائع کروانا چاہتے تھے۔ مزید یہ کہ وہ مضمون کا عنوان بھی تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ اس پر انہیں مندرجہ ذیل جواب دیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے مضمون ہٹانے کا حکم دیا۔


جناب ہم نے یہ تاثر لیا تھا کہ آپ اپنی تحریر سکندر اعظم کاکڑ کے قلمی نام سے پبلش کرنا چاہتے ہیں، اور کیونکہ آپ کی ایمیل اور عہدے سے یہ مترشح تھا کہ یہ اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے ایک فارمل جواب ہے، تو اسے آپ کے اصل نام سے لگانا مناسب سمجھا گیا۔

ادارہ ”ہم سب“ کی پالیسی ہے کہ صرف مصنف کی طرف سے بھیجی گئی تحریر کو ہی پبلش کیا جاتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی طرف سے بھیجی گئی تحریر کو پبلش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو اس تحریر کو ویب سائٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ سکندر اعظم کاکڑ صاحب کوئی حقیقی شخص ہیں یا فرضی، اور ان کا اسلامی جمعیت طلبہ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، اور وہ اس حیثیت میں ہیں کہ تنظیم کی طرف سے آفیشل جواب دے سکیں یا نہیں۔ مزید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نام کا کوئی شخص واقعی وجود رکھتا ہو، اور اس کے نام سے تحریر شائع کرنے کے بعد ہمیں اس کی طرف سے احتجاج موصول ہو کہ یہ اس کی تحریر نہیں ہے اور محض اسے بدنام کرنے کی خاطر اس کے نام سے شائع کی گئی ہے۔

جہاں تک عنوان بدلنے، حتی کہ تحریر کے جملے تک تبدیل کرنے یا حذف کرنے کی بات ہے، تو یہ مدیر کا اختیار ہوتا ہے۔ آپ کو اسلامی جمعیت طلبہ کے سوشل میڈیا کا انچارج ہونے کی حیثیت سے پبلشنگ اور نیوز انڈسٹری کے متعلق اس بنیادی بات کا علم ہونا چاہیے۔ کوئی بھی ادارہ کسی مصنف کی تحریر کو بعینہ شائع کرنے سے انکار کر سکتا ہے کیونکہ یہ ادارے کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ تحریر کو درست کرے یا ادارتی پالیسی کے خلاف جملوں کو حذف کر دے یا تبدیل کر دے۔

اس ادارتی اختیار کے باوجود بھی آپ کی تحریر کو بعینہ شائع کیا گیا ہے اور اس کی غلطیاں تک درست نہیں کی گئی ہے۔ صرف آپ کے ایمیل میں درج عہدے کی مناسبت سے  عنوان میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ پڑھنے والے کو علم ہو سکے کہ یہ کسی غیر متعلقہ شخص کا ریسپانس نہیں ہے بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ کا اس کے سوشل میڈیا انچارج کی جانب سے بھیجا گیا آفیشل جواب ہے۔

آپ ان باتوں سے متفق نہیں ہیں تو اس تحریر کو ویب سائٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

نعمان فرید

ہم سب ادارتی ٹیم

 

Facebook Comments HS

2 thoughts on “اسلامی جمیعت (پنجاب یونیورسٹی) کی طرف سے ردعمل

  • 20/09/2016 at 9:25 صبح
    Permalink

    Afghanistan k difaa ki jang ka maatam to hamari qom aaj tak manaa rahi hai….aur jamiat k "be-daagh” kirdaar k haamil nojwanon ko to hum apni student life say ….agarcha butt hein jamaat ki aastinon mein…dekhtay aa rahay hein

  • 20/09/2016 at 10:45 صبح
    Permalink

    Os likhari ki tarha es likhari ne b one sided hony ka muzahira kia he yani en ki b os likhari ki tarha bohat si batein jhot ki bonyad pr hein.

Comments are closed.