آؤ اعتراف کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں ہر طرف کرپشن کا واویلا ہے۔ پوری قوم کرپشن کے خلاف متحد دکھائی دیتی ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کرپشن کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ایک پیج پر ہیں۔ چائے خانوں اور قہوہ خانوں سے لے کر عدل کے ایوانوں اور پارلیمان کے بینچوں تک کرپشن کے خاتمے کا شورشورا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کو صرف کرپشن کا ہی مرض لاحق ہے اور نیب ہی وہ واحد ادارہ ہے جو اپنے فرائض منصبی نہایت دلچسپی اور دلجمعی کے ساتھ سر انجام دے رہا ہے۔

قوم کی تمام تر توقعات نیب سے وابستہ ہیں یا یوں کہیں کہ اس وطن عزیز کی بقاء کی کنجی صرف نیب کی سرفرازی میں ہی پنہاں دکھائی دیتی ہے۔ تعلیم، صحت اور نوجوانوں کا مستقبل بھی نیب کی کارکردگی پر منحصر ہے کیونکہ قوم یہ سمجھتی ہے کہ نیب چوروں، لٹیروں اور ڈاکوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائے گی جس سے ملک میں خوشحالی آئے گی، آنے والی نسلوں کا مقدر سنور جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ قوم کو یقین محکم ہے کہ یہ نیب ہی ہے جس کی انتھک کوششوں اور محنتوں سے ہی ملکی معیشت سے لے کر سیوریج کے نظام تک میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔

اب کی بار جس طرح حکومت اور قوم کرپشن کے خلاف برسرپیکار ہے اس کی مثال تاریخ میں پہلے بھی ملتی ہے۔ اس سے قبل اسی قوم نے ماضی قریب میں عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدو جہد کر کے یہ ثابت کیا کہ یہ ایک زندہ قوم ہے۔ اور شاید یہ اسی جدو جہد کا حاصل ہے کہ آج عدلیہ اس قدر آزاد اور خودمختار ہے کہ اسے بیرونی دباؤ، تعصب اور جانبداری کا مفہوم تک یاد نہیں۔

ماضی کی طرح اب کے بار بھی قوم کو اس بات کا مکمل ادراک ہو چکا ہے کہ تمام سیاستدان کرپٹ ہیں ماسوائے ان کے جو حر کی طرح یزیدی لشکر کو خیر باد کہہ کر حسینی قافلے میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس طرح قوم چوروں اور لٹیروں کی نشاندھی کرکے اپنا ہدف مقرر کرنے میں بھی کامیاب ہو چکی ہے۔ پتا چل گیا ہے کہ منزل کہاں ہے اور سفر جاری ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب قوم کرپٹ سروں کی پکی ہوئی فصل کاٹ کر سہی معنوں میں ناپاک لوگوں سے تہی پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

قوم اور اس کے راہنما صرف مالی بددیانتی کو کرپشن گردانتے ہیں۔

جبکہ اخلاقی بددیانتی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اپنے وعدوں اور دعوؤں سے مکر جانے اور اپنے اصولوں سے پھر جانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ میٹر ریڈر کے ساتھ سازباز کرکے بجلی چوری کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مراعات کی شکل میں ہزاروں ایکڑ قومی اراضی ہتھیانہ اپنی خدمات کا صلہ مانتے ہیں۔ بیواؤں اور یتیموں کی املاک پر قبضہ کرنا، ماؤں، بہنوں کو حق وراثت سے محروم کرنا کوئی جرم نہیں سمجھتے۔ کم تولنے، اشیاء خورونوش میں ملاوٹ کرنے اور ذخیرہ اندوزی کو کرپشن نہیں سمجھتے۔ اجرت لے کر کام میں کوتاہی برتنا اپنی چالاکی سمجھتے ہیں۔ ضمیر فروشی کو نظریہءضرورت تعبیر کرتے ہیں۔ اقربا پروری، بے کسوں پر ظلم ڈھانا اور اپنے ہی بھائی کی حق تلفی کرنا گناہ نہیں سمجھتے۔ اور تو اورجنس کی بنیاد پر اپنے ہی بچوں میں تفریق کرنا جائز تصور کرتے ہیں۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ وعدہ پورا نہ کرنا، جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنا، یہ رویے ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں۔ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ اور قوم یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ کوئی نجات دہندہ آئے گا جو جادو کی چھڑی سے سب ٹھیک کر دے گا۔

جانبدار عدالتوں اور انتقامی سیاست جیسے گھناؤنے فعل کو قابلِ مذمت سمجھنے کی بجائے اس کی حمایت کرتے ہیں اور کتنے سادہ ہیں کہ پھر بھی امیدبہار رکھتے ہیں۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ کوفہ شہر کی مسجد کے مینارے سبز تو نہیں ہو سکتے نا۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرات نہیں رکھتے کیونکہ کسی نہ کسی شکل میں اس استحصالی مشینری کے پرزے بن چکے ہیں۔ اور سچائی جب مخبروں میں گھر جائے تو گفتگو علامتوں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔

لیکن جب ہم اپنے نفع و نقصان، پسند نا پسند، عقیدت، محبت اور نفرت کی مختلف عینکیں لگا کر دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنی ہی شکلیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ مفہوم کا اصل چہرہ دکھائی دینا کجا وہ قتل گاہ بھی دکھائی نہیں دیتی ”جہاں پہ لفظوں نے فراقِ حسن تمنا میں خودکشی کر لی“۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم مسخ شدہ تاریخی شعور کی انگلی تھامے ایک سیاہ دور سے گزر رہے ہیں۔ اخلاقی گراوٹ، اقدار کے ملبے اور روایات کی راکھ کے ڈھیر پر کھڑی معاشرت کے وہ نمائندے ہیں جنہیں اب بھی اک مظلوم عورت کی پکار پر لبیک کہنے والے حملہ آوروں کی دیومالائی داستانوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر حرم فروش ہمیں خلیفہء وقت دکھائی دیتا ہے۔

مگر یاد رہے، تاریخ گواہ ہے، کہ اس سے پہلے بھی یہاں شریعت کے نفاذ کی بنا پر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اور ایسے ”اہل حق“ تخت نشیں ہوئے جنہوں نے ہاتھ میں قرآن اٹھا کر اور مذہب کا جبہ پہن کر جھوٹ بولا اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے واسطے ظلم وبربریت کی ایسی داستان رقم کی جس کی پاداش میں اس دھرتی نے

”وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہ تھے“۔

لیکن اب یہ دھرتی ایسے کسی قرض کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اور اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ جب ہمیں یہ کہنا ہوگا بقول شاعر کہ

حرم فروش فقیہوں کے حوض کوثر سے
مغینہ کے لبوں کی شراب بہتر ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •