”پاٹے خاں“ سے اک مکالمہ

میرا اک دوست ہے جس کی بہت ساری خصوصیات میں سے چند خصوصیات یہ ہیں کہ وہ کسی بھی موضوع پر بنا تعطل اور بغیر سوچے سمجھے خطاب فرما سکتا ہے۔ وہ کسی بھی شے کا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور تحقیق کرنے کے عمل کو گناہ سمجھتا ہے۔ اور وہ…

Read more

صلاح الدین نے کس کا منہ چڑایا؟

یہاں ظلم اور نا انصافی کے ثبوت کے لیے اک لاش کی گواہی درکار ہے۔ اک ایسی لاش جو اخبار کے سینے پہ سجے۔ وہ لاش نہیں جو امرِ ربی کے ڈر سے چپ چاپ اپنی قبر میں اتر جائے۔ اک لاوارث لاش جو کوڑے کے ڈھیر سے ملے۔ اک ایسی لاش جسے خونخوار بھیڑیوں…

Read more

جارج آرویل نے ہمارا کوئی ذکر نہیں کیا

لارڈ ایکٹن کا شہرہ آفاق مقولہ ہے Power tends to corrupt, absolute power corrupts absolutely جیسے ہی یہ مقولہ یاد آتا ہے تو George Orwell کا ایک ناول Animal Farm فرشِ ذہن پر ورق ورق ہو جاتا ہے۔ یقیناً آپ نے پڑھ رکھا ہو گا۔ آپ کی یادداشت کے پنوں سے وقت کی گرد ہٹانے…

Read more

یہ تبدیلی بھی آپ کو مبارک ہو!

ایک وقت تھا جب زُباں بندی کی گہری گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ ابلاغ اور اظہار کے ذرائع بھی بہت محدود تھے۔ مگر اِیسے حبس زدہ ماحول میں بھی اختلاف رائے کا وجود کسی حد تک مثُبت اور نتیجہ خیز مُباحثوں کو جَنم دیتا تھا۔ آدابِ گفُتگو کوخاطر میں لاتے ہوئے لوگ اپنے اپنے مُؤقف کے…

Read more

آؤ اعتراف کریں

ان دنوں ہر طرف کرپشن کا واویلا ہے۔ پوری قوم کرپشن کے خلاف متحد دکھائی دیتی ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کرپشن کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ایک پیج پر ہیں۔ چائے خانوں اور قہوہ خانوں سے لے کر عدل کے ایوانوں اور پارلیمان کے بینچوں تک کرپشن کے خاتمے کا شورشورا ہے۔ ایسا…

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور میں پنجابی کی تدریس

زبان ثقافتی تسلسل کا اھم ترین جزو ہے۔ کسی بھی خطہ میں بولی جانے والی زبان اس خطہ کے لوگوں کی شناخت کی ضامن ہوتی ہے۔ اس خطہ کے لوگ چاہے مختلف مذاہب ’رنگوں اور نسلوں میں تقسیم ہوں لیکن زبان کی یکانگت ان سب لوگوں میں نہ صرف ہم آہنگی پیدا کرتی ہے بلکہ نیشنلزم کو سائنسی بنیادیں بھی فراہم کرتی ہے۔ بات ہو اگر پنجاب کی تو بدقسمتی سے پچھلی صدی کے اوائل سے زبان جیسے سائنسی علم و عمل کو منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے عمومی طور پر مذہب کے تناطر میں دیکھا گیا۔

Read more

جیسنڈا ہم شرمندہ ہیں

کرائسٹ چرچ حملے پر نیوزی لینڈ حکومت اور قوم کے ردعمل نے پوری دنیا کی سماجی، فکری اور شعوری ترویج پر مثبت اخلاقی اور تعمیری اثرات مرتب کیے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت بالخصوص وزیراعظم جیسنڈا نے جس انداز میں سانحہ کی مذمت کی اور جس طرح لواحقین کی غمگساری کی وہ پوری دنیا کے لئے مشعل راہ ہے۔ جیسنڈا نے یہ ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی کہ دوسرے مذاہب کا عزت و احترام کسی کے ایمان کے لیے خطرہ نہیں ہوتا۔ پوری دنیا اور ہمارے ملک کے ہر طبقے نے جیسنڈا کے ردعمل کو سراہا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کو خوب پذیرائی ملی۔ وطن عزیز کے قلمکاروں نے بھی اپنی اپنی قوت تحریر کو بروئے کار لاتے ہوئے عقیدتوں کے پھول نچھاور کیے۔

Read more