جمہوریت صبر طلب، فوج بے تاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذکورہ بالا عنوان ٹائٹل تھا پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کی سوانح عمری کا جو 2006ء میں شائع ہوئی۔

سنہ 1973 کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد جو پہلی قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی تھی، صاحبزادہ فاروق علی خان اس کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

سنہ 1977 میں جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں فوج کی طرف سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے تک وہ بھٹو صاحب کے قریبی رفقا میں شامل تھے۔ اس حوالے سے وہ بھٹو دور حکومت اور اس دوران ہونے والی ریشہ دوانیوں کے ایک چشم دید گواہ ہیں۔ کتاب کے پیش لفظ میں وہ لکھتے ہیں کہ ملک پر مارشل لاء کے بار بار نفاذ نے اعلیٰ سیاسی، جمہوری اور اخلاقی قدریں یکسر ختم کر دی ہیں اور ملک میں ایک ایسا معاشرہ جنم پا گیا ہے جس میں بدعنوانی، بددیانتی، بے ایمانی، دھوکہ اور فریب کا چلن عام ہے۔

’مارشل لائی حکمران پہلے اپنی پسند کے سیاستدانوں کو ملکی سیاسی منظر پر ابھارتے ہیں اور بعد ازاں انہی کو بدعنوان اور نا اہل قرار دے کر ایوان اقتدار سے نکال باہر کرتے ہیں۔۔۔۔ وہ پہلے مٹی کے کھلونے بناتے ہیں اور پھر انہیں سیاستدان کا نام دیتے ہیں۔ پھر کچھ مدت بعد انہیں توڑ کر نئے سیاستدان تیار کر لیتے ہیں۔۔۔۔ منتخب سیاسی راہنماؤں کی حیثیت ان کے سامنے رعایا کی سی ہے۔‘

صاحبزادہ فاروق کا انداز تحریر انتہائی سادہ ہے اور کتاب پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بزرگ بچوں کو کوئی رزمیہ داستان عام فہم انداز میں مزے مزے لے لے کر سنا رہا ہے۔ مثلاً جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان کی برخاستگی سے ایک ہفتہ پہلے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’مجھے ایک اہم ذریعے سے اطلاع ملی کہ جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان بھٹو کی حکومت کا تختہ کسی بھی وقت الٹ سکتے ہیں۔ میں نے فوراً بھٹو صاحب کو ہنگامی ٹیلی فون کال کے ذریعے اس بارے مطلع کیا تو وہ مجھ پر برس پڑے کہ تم غیر ذمہ دارانہ اور جھوٹی باتیں کرتے ہو، تم جیسوں کا محاسبہ ہونا چاہیے، تمھاری حیثیت کیا ہے، اپنی حیثیت میں رہا کرو، تمہیں پتہ ہے گل حسن اور رحیم خان میرے عظیم ترین محسن ہیں۔۔۔۔ مجھے ان کے اس طرح کے جواب پر سخت ندامت اور تشویش ہوئی اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔

’بعد میں جب یہ دونوں جرنیل اپنے عہدوں سے علیحدہ کر دیئے گئے تو ایک ملاقات میں بھٹو صاحب نے اپنے درشت لہجے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ فوج فون پر ان کی ساری گفتگو ٹیپ کرتی ہے چنانچہ اگر وہ اس روز نہ جھاڑتے تو جنرل سمجھ جاتے کہ ان کا منصوبہ قبل از وقت منکشف ہوگیا ہے۔‘

آگے جا کر لکھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں فوجی آپریشن کی مخالفت نہ کرکے فوجی اقدامات کو ایک ’سیاسی کور‘ فراہم کیا، لیکن فوج کے مختلف سیل اور ایجنسیاں سن بہتر سے لیکر سن ستتر، ان کی حکومت کے خاتمے، تک مسلسل ان کے خلاف مصروف عمل رہیں۔

فوج اور بھٹو کے تعلقات پر مزید لکھتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ بھٹو نے زرعی اصلاحات کا نفاذ کیا تو فوج سے متعلقہ عہدیداروں کو اس سے مستثنیٰ رکھا۔ اس امتیازی سلوک کے بارے میں بھٹو صاحب سے بات کی تو برہمی کے عالم میں جواب دیا ’فاروق! تم مجھے حکومت کرنے دو گے یا نہیں ۔۔۔۔ تم نہیں جانتے میں کن حالات میں گھرا ہوا ہوں۔‘

صاحبزادہ فاروق کہتے ہیں ان کا موقف تھا کہ ان (فوجیوں) کی منصبی کارکردگی سخت ناقابل اطمینان ہے۔ انہوں نے کشمیر، جونا گڑھ، حیدرآباد اور مشرقی پاکستان کھویا ہے۔ یہ حضرات سندھ میں میں ہزاروں مربعوں کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ بعض جرنیل سو سو مربع زمین کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ہزاروں (فوجیوں) کو زمینیں انعام کے طور پر دی گئی ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کس فتح کی خوشی میں دیا گیا ہے؟

بھٹو صاحب کا جواب تھا: ’صاحبزادہ! ایسی بک بک خدا کے لیئے نہ کیا کرو‘۔ ان کے اس لب و لہجہ سے صاف عیاں تھا کہ ان پر جی ایچ کیو کا پورا پورا غلبہ ہے۔

’ایک بار ڈاکٹر مبشر حسن نے بھی صاف کہہ دیا تھا کہ بھٹو صاحب! جب تک آپ کی حکومت جی ایچ کیو سے منتخب ایوان میں تبدیل نہیں ہوتی، فوج آپ کی اہمیت کا احترام قطعاً نہیں کرے گی۔ جناب بھٹو نے اس پر بھی ناراضگی کا اظھار کیا تھا۔‘

صاحبزادہ فاروق لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس وقت بھٹو سےکھلا اختلاف کیا جب پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں ہونے والے جماعتی اجلاسوں میں انہوں نے جرنیلوں کو مدعو کرنا شروع کر دیا۔ جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں مختلف کور کمانڈروں نے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کا سلسلہ شروع کیا تو اس پر ان کے اعتراض کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا: ’یہ لوگ تو ہمیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور آپ ان کی آمد پر معترض ہورہے ہیں۔‘

’جناب بھٹو اپنی مضبوط ترین سیاسی حیثیت اور بھرپور ایوانی تائید کے باوجود فوج کی خود سری کے سامنے بے بس تھے۔۔۔۔ ان میں انکار کا یارا ہی نہ تھا۔ اگرچہ ابتدا میں جرنیل ان سے خوف کھاتے تھے لیکن بعد میں وہ انتہائی حد تک خود سر ہوگئے تھے۔ وہ بظاہر حکومت میں شامل نہیں تھے، مگر وہ اپنا حصہ برابر وصول کر رہے تھے۔‘

صاحبزادہ فاروق کا خیال ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سے سن ستتر تک، جناب بھٹو فوج کا مورال بلند کرنے کے لیئے اس کی ضروریات کو پورا کرکے جرنیلوں کو اپنی وفا شعاری کا عملی ثبوت فراہم کرتے رہے لیکن ان (جرنیلوں) کی لغت میں ’وفا کا مفہوم جفا تھا‘۔

کتاب میں عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’ہماری قومی سیاسی تاریخ کا ایک روح فرسا پہلو یہ ہے کہ ہماری عدلیہ نے سیاسی زندگی میں صریحاً بے جا دخل دیا، ہر غیرآئینی اور ناجائز کارروائی کی توثیق کی اور آئین کی پامالی اور مارشل لاء کے نفاذ کی تائید کی۔ اس عظیم ترین المیہ نے ہماری معاشرتی و تہذیبی زندگی میں ایک ایسا زہر گھول دیا ہے جس کا تریاق دکھائی نہیں دیتا۔‘

89 سالہ صاحبزادہ فاروق کئی عشرے قبل عملی سیاست سے دستبردار ہو گئے تھے لیکن ملتان میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ایک معروف اور متحرک وکیل کے طور پر سرگرم رہے۔

ان کی سوانح عمری کا مکمل ٹائٹل غالب کے اس شعر ’عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب، دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک‘ کی پیروڈی میں کچھ اس طرح ہے ’جمہوریت صبر طلب فوج بے تاب، قوم کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک‘۔

کتاب کے آغاز میں ’حرف چند‘ کے عنوان کے تحت بابائے جمہوریت کے نام سے پہچانے جانے والے مرحوم نوابزداہ نصراللہ خان کی ایک تحریر بھی شامل ہے۔ نوابزادہ نے مصنف کے بارے کہا کہ ہے وہ آج بھی اپنے مافی الضمیر کو بلاخوف اور پوری قوت کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، ’لیکن بے شمار ایسے واقعات بھی ہیں جو ان کے ذاتی علم میں ہیں اور میں بھی باخبر ہو مگر ان موضاعات پر انہوں نے بات کرنے سے احتراز کیا ہے‘۔ ساتھ ہی نوابزدہ نے اس شعر کا حوالہ بھی دیا ہے:

افسوس بے شمار سخن ہائےگفتنی

خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے

کتاب کی تدوین سینیئر صحافی شیخ حق نواز نے انجام دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ندیم سعید کی دیگر تحریریں
ندیم سعید کی دیگر تحریریں