جب مجھے کوئی پاکستانی کہتا ہے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے: سلمیٰ آغا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئےـ” جیسے نغمے سے شہرت پانے والی اداکارہ سلمیٰ آغا کا کہنا ہے کہ جب مجھے کوئی پاکستانی کہتا ہے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔

اداکارہ سلمیٰ آغا نے یہ بیان مئو ضلع میں اس وقت دیا جب وہ اپنی بیٹی ساشا آغا کے ساتھ اسپتال شاردا نارائن میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی سنٹر کا افتتاح کرنے آئی تھیں ۔ وہاں پر موجود کچھ لوگوں نے سلمیٰ آغا کو پاکستانی کہہ کر بلایا، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ اب پاکستان سے تعلق نہیں رکھتیں ۔ سلمیٰ آغا نے کہا کہ میں یہ اس لئے نہیں کہہ رہی ہو ں کہ اگر کوئی مجھے پاکستان یا کسی دیگر ملک سے منسوب کرے، تو اس میں کوئی خرابی ہے۔ بلکہ میں آج کی تاریخ میں ہندوستانی ہوں اور مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ ہم یہ کیوں چاہیں گے ہمیں اپنے ملک کی شناخت موجود ہونے کے باوجود کسی دوسرے ملک سے منسوب کیا جائے۔

سلمیٰ آغا نے مزید کہا کہ ان کی گزشتہ تین پشتیں ہندوستانی ہیں یا ہندوستان میں مقیم رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کےسارے متعلقین آج بھی ہندوستان میں موجود ہیں۔ ان کےماموں ابھی حال ہی میں انڈین آرمی سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ سلمیٰ آغا نے کہا کہ ان کے والد کا گھرلوکھنڈ والا میں ہے ۔ ان کا سارا بچپن ماتنگا میں گزرا۔ ان کے سارے رشتہ دار وہاں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے نانا کا نام جگل کشور مہرا تھا، جو راج کپور کے ماموں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ راج کپور کی نانی اور ان کے نانا سگے بھائی بہن تھے۔ سلمیٰ آغا کے مطابق گزشتہ چار پشتوں سے ہندوستان سے انہیں اس قدر محبت ملی ہے کہ ہندوستان کے لئے ان کی اور ان کے بچوں کی جان بھی حاضر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات سے تکلیف ہوتی ہے جب کوئی انہیں پاکستانی کہ کر بلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان نے انہیں بہت نوازا ہے اور بہت محبت دی ہے۔ سلمیٰ آغا نے ہندوستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •