جمعیت ۔ رشتے کرانے والی مائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مستقل پٹواری سابق سٹوڈنٹ لیڈر کی جمعیت سے مثالی دشمنی تھی۔ یہ پٹواری صاحب گھر سے ہی بری نیت رکھ کے اعلی تعلیم حاصل کرنے شہر پہنچے تھے۔ نیت ان کی یہ تھی کہ جس کالج میں بھی پڑھنا ہے اس کالج سے جمعیت کا نام نشان مٹانا ہے۔ یہ کالج پہنچے پھر اپنے ڈیل ڈول کی وجہ سے جلد ہی ایم ایس ایف کے لیڈر بن گئے۔

پنڈ میں چودھری تھے۔ تھانے کچہری ڈانگ سوٹے کی تربیت گھر سے ہی پائی تھی۔ جلد ہی جان گئے کہ ان کے ساتھی لڑائی بھڑائی میں ہلکے ہیں۔ انہیں جمعیت جیسی جنگجو تنظیم سے لڑانے کے لئے تربیت دینی ہوگی۔ جمعیت کو جنگجو انہوں نے قرار دیا تھا۔ ہم ایسا نہیں کہہ رہے۔ چودھری صاحب مختلف طریقوں سے اپنے ساتھیوں کی گوریلا تربیت کرتے رہے۔ ساتھیوں نے پکے قول قرار کیے قسمیں کھائیں۔ سب نے کہا کہ اپنے کالج سے ہم جمعیت والوں کو مار بھگائیں گے۔

جمعیت سے جنگ چھیڑنے سے پہلے چوھدری صاحب نےساتھیوں کا امتحان لینے کا سوچا۔ انہوں نے چائینہ والے پٹاخے خریدے۔ چوھدری صاحب کے تیار کردہ گوریلے کلاس روم کے سامنے چمن میں سو رہے تھے۔ چودھری صاحب نے ایک ستون کی آڑ میں کھڑے ہو کر پٹاخوں کو تیلی لگائی۔ کلاشنکوف چلنے جیسی آواز آئی ۔ ساتھ ہی چوھدری صاحب نے نعرہ لگایا زندہ ہے جمعیت زندہ ہے۔ چوھدری صاحب کے سارے گوریلوں نے نعرہ سنتے ہی دوڑ لگا دی۔ کمبختوں نے اپنے چودھری صاحب کی تربیت کا بھی حیا نہ کیا۔

قدرت بھی چودھری صاحب کے ساتھ مزاق کے موڈ میں ہی تھی۔ چودھری کے لگائے نعرے سن کر ان کے ساتھی تو دوڑ گئے تھے لیکن جمعیت والے پہنچ گئے۔ آگے تاریخ ہے پھر ہمارے چودھری نے مردانہ وار کٹ کھائی ہے۔ جمعیت والوں سے جتنا ممکن تھا انہوں نے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی کی۔ مرغا شرغا بنایا ڈنڈ بیٹھکیں لگوائیں۔ ان کی ہڈیوں کو اچھی طرح سینک پہنچایا۔ کئی ہفتے وہ سر پر ایک بڑی پٹی باندھ کر پھرتے رہے۔ آج تک مسلم لیگ نون میں ہیں۔ درجہ اول کے پٹواری ہیں۔

یہ قصہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق ناظم، اپنے دوست جو اب صحافی ہیں کو سناتا رہتا ہوں۔

انسان آخر کب تک اک ہی بات پر ہنس یا رو سکتا ہے۔ ایک دن ناظم صاحب بھی عاجز آ گئے۔ پوری طرح تپ گئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں لڑکیوں کی حفاظت کا فرض ہم نے ادا کیا۔ ہم ہی تھے جو وہاں لوفروں کے لئے عذاب تھے۔ پھر انہوں نے ہم سب کی ایک \’محبوب شخصیت\’ کا قصہ سنایا۔ جنہیں جمعیت والوں نے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ جب وہ چھت پر بیٹھے ایک حسینہ کو گانے سنا رہے تھے۔

موصوف کو پکڑنے کے بعد حماقت یہ کی کہ منصورے فون کر دیا۔ وہاں جو ستم ظریف بزرگ بیٹھے تھے انہوں نے حکم دیا کہ لڑکی کو گھر بھجوا دیا جائے۔ لڑکے کو بھی چھوڑ دیا جائے شیرانی صاحب والی ہلکی پھلکی ٹہل سیوا کے بعد۔ مزید ستم ان بزرگ نے یہ کیا کہ اس جوڑے کی شادی کروا کر بس کی۔

آپ لوگ اب نام جاننا چاہتے ہوں گے۔ تو عرض ہے کہ شیکسپئر اصل میں کشمیری شیخ تھا اس کی سپئیر پارٹس کی دکان تھی۔ شیخ سپئیر صاحب کا فرمانا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ پٹھے کام کرنا فرض ہے جو کرتے رہنا چاہئے۔

خیر ہم نے اپنے ناظم صاحب سے پوچھا تو آپ ہمارے اینکر صاحب کی شادی کرانے کی زمہ داری قبول کر رہے ہیں۔ ناظم صاحب نے بہت عاجزی انکساری اور محبت سے فرمایا کہ جی بالکل۔

ناظم صاحب نے اپنی بات جاری رکھی اور مزید ارشاد کیا۔ آپ کو نہیں معلوم کہ لوگ اپنے بچوں کا رشتہ کرانے سے پہلے ہم سے رابطہ کرتے تھے۔ ہماری رپورٹ پر وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کا رشتہ طے کرتے تھے۔ کتنے رشتے ہیں جن کے ہونے کی واحد وجہ صرف ہم جمعیت والے ہی ہیں۔

اس بے تکی تحریر کا سے کوئی بھی مطلب نکالنے سے پرہیز کریں۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ لبرل فاشسٹ حضرات کی باتوں میں نہ آ جایا کریں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اصل میں رشتے کراتی تھی۔ اس پر یقین اس لئے بھی کر لیں کہ بحرحال صالحین کی تیاری اور انکی تعداد میں اضافہ ہی ان مومنین کا مستقل مشن ہے۔ شادی خانہ آبادی، کاکوں کی ولادت با سعادت کے علاوہ کس طرح ایک صالح معاشرے کا قیام ممکن ہے۔

آپ جمعیت کو بھلے رشتے کرانے والی مائی کہہ لیں اس پر تشدد کا الزام نہ لگائیں۔
Sep 21, 2016

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 375 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “جمعیت ۔ رشتے کرانے والی مائی

  • 21/09/2016 at 11:30 am
    Permalink

    What a crap….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *