لہو لہان کشمیر پکارے ہمارا بھٹو کہاں گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر لہو لہان ہے اور یہ کوئی آج پہلی بار نہیں ہوا کہ جنتِ نظیر کشمیر لہو لہو ہو، مگر اس بار خون میں ڈوبے کشمیر کی بات ہی الگ ہے۔ اس بار کشمیر کا مسئلہ اس ڈگر پہ آ کھڑا ہوا ہے جہاں آج سے پہلے کبھی نہیں رہا، آج انڈیا نے اپنے ہی اٹوٹ انگ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے گنگا میں بہا دیے، مودی نے اپنے انتخابی منشور کی پیروی کرتے ہوئے انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں، پاکستانیوں یہاں تک کے امن پسند جمہوریت پسند بھارتیوں کو بھی نہ صرف مشتعل کردیا بلکہ پاک بھارت امن سمیت دنیا بھر کے امن کو بھی داؤ پہ لگا دیا۔

مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں سے پاکستان بھارت کے بیچ تنازعات کی سب سے بڑی وجہ اور اختلافات کا اہم جُز رہا ہے۔ 22 ستمبر 1965 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مدبرِ عالم فخر اسلام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تاریخی تقریر دیکھنے کا موقع ملا جس میں انہوں نے کشمیریوں کے دلوں کی آواز بن کر ان کی تکالیف اور ان کے مؤقف کا ذکر اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے ضمیر کے مطابق بڑے دوٹوک، مدلل اور واشگاف الفاظ میں کیا

انہوں نے کہا ”سلامتی کونسل کے لئے آج یہ آخری موقع ہے کہ وہ اپنی تمامتر قوت، اپنی تمامتر توانائی، اپنی اخلاقی ذمے داری مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ، عادلانہ، غیرجانبدارانہ اور باعزت حل کے لئے استعمال کرے۔ تاریخ کبھی کونسلوں، تنظیموں اور اداروں کا انتظار نہیں کرتی ویسے ہی جیسے کسی فرد کا انتظار نہیں کرتی، مجھے اپنی حکومت اور عوام کی جانب سے سلامتی کونسل کو بتانا ہے کہ اگر اب اس آخری موقع کے بعد جو ہم نے آپ کو فراہم کیا ہے سلامتی کونسل نے اپنی مکمل اخلاقی ذمے داری اور بھرپور وزن جموں کشمیر کے قرینِ انصاف اور عزتدار حل کے لئے استعمال نہیں کیے پاکستان اقوام متحدہ سے نکل جائے گا اور اگر پاکستان اقوام متحدہ سے نکل گیا تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی نہیں ہوگی“

شہید بھٹو نے یہ بھی فرمایا کہ ”کشمیر ہندستان کا لازمی جز نہیں ہے اور نہ ہی کبھی تھا، بلکہ جموں کشمیر ہندستان پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ ہے متنازعہ علاقہ ہے اور یہ انڈیا سے زیادہ پاکستان کا حصہ اور انگ ہے“ شہید بھٹو نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جو کوششیں کیں جو جو اقدامات اٹھائے آج دھائیوں کے بعد جب مسئلہ کشمیر ایک ایسے دوراہے پہ آ کھڑا ہوا ہے تو ہمیں ذوالفقار علی بھٹو جیسے ایک مدبر دلیر اور باکردار قیادت کی ضرورت ہے۔

آج جب مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو انہیں اس امتحان سے کامیابی سے نکالے تو بدقسمتی سے کشمیر کا بھٹو موجود نہیں ہے اور نہ ہی بھٹو جیسی قیادت ملک کو میسر ہے۔ ملک کے وزیراعظم نے تین سال پہلے ایک کشمیری اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کشمیر کے تین حل پیش کیے تھے جن کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کو ملنا چاہیے، لداخ ہندستان لے، اور مقبوضہ اور آزاد کشمیر کو ملا کر خودمختار ریاست کا درجہ دے دیا جائے۔

آج تین سال گزرنے کے بعد ان کے بتائے ہوئے حل کے قریب ترین اقدامات مودی صاحب نے اٹھانے شروع کر دیے ہیں جبکہ لداخ پہ بھارت اور چین تنازع پہلے ہی چل رہا ہے امریکہ بھی چاہتا ہے کہ کشمیر کا ایسا حل ہو جس سے کشمیر تک اس کی باآسانی رسائی ہو سکے تاکہ کشمیر کے راستے وہ ایک ہی وقت میں چین، پاکستان اور افغانستان پہ نظر رکھ سکے۔ خان صاحب نے بھارتی انتخابات سے پہلے نریندرا مودی کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار یہ کہہ کر کیا تھا کہ ان کی کامیابی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور بہتر حل میں مددگار ثابت ہو گی۔

ہمارے وزیراعظم ایک ایسے شخص سے خیر کی توقع رکھ رہے تھے جو گجرات میں مسلمانوں کے بہیمانہ اور وحشیانہ قتلِ عام میں ملوث تھا جو مسلمانانِ ہند سمیت اپنے ملک میں بسنے والی ہر اقلیت یہاں تک کہ اپنے ہی ہم مذہب مگر چھوٹی ذات کے انسانوں کے لئے وحشیانہ سوچ، ذہنیت اور نظریات رکھتے تھے۔ خان صاحب نے جب امریکہ کا دورہ کیا تو اچانک صدر ٹرمپ نے چھکا مارا کہ وہ پاکستان ہندستان کے بیچ کشمیر معاملے پہ ثالثی کرنا چاہتے ہیں اور اس کی درخواست مودی بھی ان سے کر چکا ہے تو عمران خان صاحب اور ان کے حواریوں نے شادیانے بجانے بھنگڑے ڈالنے شروع کر دیے کہ اب امریکہ ثالث بن کر کشمیر اور کشمیریوں سے ہماری جان چھڑائے گا جبکہ نریندر مودی نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ اس نے صدر ٹرمپ سے ثالثی کروانے کے لئے کہا ہے۔

خان صاحب صلاح الدین ایوبی بن کر ملک واپس آتے ہیں اور پھر شروع ہوتا ہے کشمیر اور آزاد کشمیر پہ لائن آف کنٹرول پہ مودی کی وحشت و بربریت کا ننگا ناچ، جب معصوم و بے گناہ نہتے لوگوں پر کلسٹر بموں سے حملے شروع ہوجاتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ایک دم بھارتی فوج کی تعدادِ میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور پھر مودی صاحب پلان کے اگلے حصے یعنی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے لئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 کو معطل کرنے کا صدارتی فرمان جاری کرتے ہیں۔

مودی صاحب کے اس حکم نامے کے ساتھ بھارت مخالف اور بھارت نواز تمام کشمیری قیادت پابند سلاسل کر دی جاتی ہے اور آئینی ترامیم لوک سبھا میں پیش کردی جاتی ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ بربریت اور درندگی کا ننگا ناچ کنٹرول لائین کے دونوں اطراف بھی شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اپنے کشمیری مسلمانوں کے لئے جو محبت اور خلوص انسیت اور پیار پایا جاتا ہے وہ اس دن سے ہے جس دن کشمیر کے ڈوگرا راج نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا اور یہ پیار محبت وقت کے ساتھ جذباتی اور والہانہ وابستگی میں تبدیل ہوچکا ہے۔

شہید بھٹو پاکستان کے وہ واحد حکمران تھے جنہوں نے بڑی دلیری متانت اور ذہانت سے کشمیر کے معاملے پہ ہر محاذ پر ہندستان کے دانت کھٹے کیے، آج بھی ہمیں ایسی ہی قیادت کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس ہو رہی ہے، قوم اس نازک صورتحال میں حکومت سے یہ توقع کر رہی ہے کہ وہ بہادری، بردباری اور سمجھداری سے کشمیر کی صورتحال کو سنبھالے گی، حکومت نے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا جس سے وزیراعظم سمیت اپوزیشن کی قیادت نے خطاب کیا مگر قوم کو اسوقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیراعظم صاحب یہ کہتے سنائی دیے کہ انہیں مودی کے کشمیر مخالف منشور کا علم تھا لیکن پھر بھی انہیں مودی کی کامیابی کی خواہش تھی، قوم کا لیڈر قوم کی قیادت کرتا ہے تنقید سے بھڑک کر یہ کبھی نہیں کہتا کہ بتاؤ میں کیا کروں کیا انڈیا پہ حملہ کردوں اور اگر ناکامی ہوئی تو کیا ہوگا۔

خان صاحب کے بچگانہ غیرسیاسی غیردانشمندانہ رویوں پہ کف افسوس ملنے کے سوا کچھ۔ ہیں کیا جاسکتا، ان ہی کے دور اقتدار میں پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لئے بھارت کو ووٹ دیا، کیاسوچ کر کہ مودی کشمیر پلیٹ میں رکھ کر ان کو پیش کردے گا۔ خان صاحب نے کشمیر کی صورتحال پر ایک خصوصی کمیٹی بنائی لیکن پارلیمان کو اعتماد میں لئے بغیر اور پارلیمنٹ کے ممبران کو شامل کیے بغیر وزیر خارجہ، اٹارنی جنرل، سیکریٹری خارجہ، ڈی جی آئی ایس آئج، ڈی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر پر مشتمل کمیٹی جو کشمیر پر پاکستانی ردعمل دینے، سیاسی و سفارتی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور تجاویز مرتب کرنے کا کام کرے گی، مگر کیا یہ کمیٹی پارلیمنٹ میں تمام جماعتوں کے مشورے باہمی اعتماد اور اتحاد سے نہیں بنائی جا سکتی تھی، لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم کا نہ تو ملک میں سیاسی اعتماد سازی کو فروغ دینے کا کوئی وژن ہے نہ ہی وہ ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کو کوئی اہمیت دیتے اب تک نظر آئے ہیں، کشمیر میں ایک ہندو وزیراعظم اپنی مسلم اقلیت پہ مظالم ڈھانے میں مصروف ہے وہ انسانی حقوق سلب کرکے وحشت وبربریت کا بازار گرم کیے ہوئے ہے تو یہاں پاکستان میں بھی کم و بیش وہی حالات ہیں ماسوائے اس کے کہ یہاں قتل و غارتگری نہیں ہو رہی مگر یہاں بھی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، میڈیا پہ سینسرشپ لاگو ہے، انصاف صرف پسند اور ناپسند اور سلیکٹڈ بنیادوں پہ میسر ہے، جیسے خان صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مودی نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہوا ہے اور اس کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے تو اپوزیشن کو دیوار میں ہی چنوا دیا ہے، تو واقعی ساری اپوزیشن قیادت کو دیواروں میں چنوا نے کا عمل بڑی تیزی اور کامیابی سے جاری ہے۔

جب پاکستان کو سیاسی، معاشی سماجی استحکام کی ضرورت ہے تاکہ دنیا اور خصوصاً بھارت کو واضح اور سخت پیغام دیں کہ پاکستانی حکومت، اپوزیشن اور عسکری قیادت کشمیر کاز کے لئے ایک سوچ اور نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر خان صاحب تو انتقام میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ آج ہی مریم نواز کو ایک بار پھر گرفتار کرکے انڈیا کو پیغام دیا گیا کہ اسے جو کرنا ہے وہ کرے ہم پہلے اپنے باہمی اختلافات اور انتقامی آگ کو ٹھنڈا کریں گے پھر آپ کی طرف رخ کریں گے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت آزاد کشمیر اور دنیا بھر کے کشمیری بھٹو کے وہ الفاظ سننے کے متمنی ہیں کہ ”میں بھی انسان ہوں غلطی کر سکتا ہوں، مگر کشمیر کے معاملے پر میں خواب میں بھی غلطی نہیں کرسکتا“ آج کشمیر موجودہ پاکستانی قیادت سے بھی شہید بھٹو والا کردار چاہتی ہے، کشمیری وہ رہنما چاہتے ہیں جو بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ سکے کہ کشمیر کے لئے ہم ہزار سال تک لڑیں گے اور یہ لڑائی اپنی حفاظت کی جنگ ہوگی۔ آج کشمیری حقیقت میں لہو لہو ہوکر اپنے بھٹو کو یاد کر رہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •