نصف نہیں پورا ایمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی زیدی نے پاکستان نامی کنویں میں پہلی بوند ڈال دی ہے اس سے پہلے کہ یہ بوند خُشک ہو اپنے قطرے قطرے سے اس کنویں کو بھردیں۔ صفائی مہم اور ”گو گرین“ جیسے پروجیکٹ قومی سطح پر مفاد کے لئے نہیں بلکہ حیات کے لئے ہیں۔ آپ کی بقا اور نسل نو کے لئے ہے۔ دنیا بھر میں ایسے کئی اقدامات اٹھائے گئے جس پر انفرادی طور پر قدم بڑھائے گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت گھر گھر گلی گلی کو سرسبز کیا گیا اور کچرے سے پاک کردیا گیا۔

پاکستان میں ایسے اقدامات جس شور سے اُٹھتے ہیں اسی طرح گونگے بھی ہوجاتے ہیں اس کی وجہ لاشعوری ہے، بے پروائی ہے، دور اندیشی کا تصور نہیں ہے۔ جو ہے آج ہے کا پروپیگنڈہ ہے۔

غور کریں کہ آپ اس مُلک کی حیات کے لئے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں یا نہیں؟ آپ آنے والے دنوں کے لئے کیا ارادہ رکھے ہوئے ہیں؟ آپ نے اب تک وائلڈلائف کے لئے کیا کیا؟ آپ نے ان سب کو کتنا فائدہ پہنچایا جو روز اول سے آپ کے آباواجداد کو فائدہ پہنچاتے رہے؟ اب یہ سوچیں کہ آپ نے نقصان کتنا کیا؟ آپ دانت صاف کرنے کے لئے پانی کھولنے سے لے کر سڑک پر گاڑی چلانے تک فقط قدرت کا نقصان ہی کررہے ہیں۔ یہ سب نقصانات جس میں ہم سب شامل ہیں ایک کاغذ پر لکھیں تو لمبی فہرست بنے گی۔

یہ مہم ہم کو ذاتی طور پر چلانی ہوگی۔ ایک تجربہ کرلیتے ہیں تاکہ کسی کو آگاہی کے لئے ہی انسپائیر کرسکیں۔ پڑوسی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور بولئے کہ میں آپ کا لان صاف کرنا چاہتا ہوں۔ یا کوڑا دان دیجئے وہ خالی کیے دیتا ہوں۔ نتائج کی پروا مت کریں۔ بس تجربہ کریں۔ اسلام آباد میں کچنار نامی پارک میری آنکھوں کے سامنے اُجاڑ سے سبز و شاداب بنادیا گیا۔ کچھ نوجوانوں نے فیسبک پر اس مہم کا آغاز کیا اور اس کو ہر طرح سے پروموٹ کیا۔

میں لگاتار ان کے پیج پر نظر رکھے ہوئے تھا کیونکہ کئی لوگ نیچے منفی رائے دے رہے تھے۔ تین ماہ میں اس پارک کے قریبی لوگ باقاعدہ اس پارک میں آنا شروع ہوگئے اور اپنے مطابق اس قدر خوبصورت پارک بنادیا کہ اب وہ بہترین تفریحی مقام ہے۔ باقاعدہ سوسائٹی کے لوگ بروز اتوار وہاں کھانا تک کھاتے ہیں جیسے کوئی پکنک ہے۔

کسی بھی اچھے اختتام کے لئے آواز اٹھانا ضروری ہے۔ پھر اس میں سب سے زیادہ آواز مین سٹریم میڈیا کو اٹھانی چاہیے۔ اخبار، نیوز چینل، سوشل پیجز ہر جگہ اس مہم کے لئے باہم آواز اٹھانا لازم ہے۔

حکومت پاکستان کو اس مہم کے عوض بس اتنی عرض کرنا چاہوں گا کہ سرکاری و نیم سرکاری سطح پر اس مہم کے لئے تین روز کی چھٹیاں دے۔ جس میں کوئی کاروبار، دکان یا ریڑھی نہ ہو۔ فقط ہر فرد نصف ایمان کی بجائے اس کو پورا ایمان سمجھے۔ ایک بار صاف ستھرا مُلک دیکھنا بہت ضروری ہے پھر اس کمی کو روز پورا کیا جائے گا۔ عالمی سطح پر صفائی کا دن گذشتہ برس ستمبر میں منایا گیا۔ بے شمار لوگ سڑکوں، پارکوں، گلی بازاروں پر نکلے اور ایک ہی دن میں انسان بن کر دکھایا۔

میرے عزیز دوست حسن کرتار جو اسلام آباد کے رہائشی ہیں انہوں نے ذاتی طور پر شاپر کا استعمال بند کردیا ہے۔ دو بیگ رکھے ہیں جو وافر سامان ہونے پر ہی استعمال کرتے ہیں ورنہ کئی دفعہ ان کو دودھ کا ڈبہ ہاتھ میں پکڑے گھر جاتے دیکھا ہے۔ یہ شخص معمولی سفر سائیکل پر کرتا ہے اور اس قدر خوبصورت مالی ہے کہ گھر باغ سا معلوم ہوتا ہے۔

اس فعل کی پریکٹس سماجی طور پر ہونی چاہیے۔ گھر سے گلی، گلی سے محلہ، محلے سے شہر اور شہر سے ملک۔ ممکن ہوا تو ملک سے پوری دنیا۔

یہ کوئی آٹھ گھنٹے کی مزدوری نہیں ہے۔ حکومت پاکستان کروڑوں کی لاگت سے بھی اس پر قابو نہیں پاسکی جبکہ بائیس کروڑ عوام کم و بیش کچھ گھنٹوں میں تاریخ رقم کراسکتی ہے۔ ”گوگرین“ اور صفائی مہم کے لئے کوشاں ہوں۔ پڑھئے نہیں کچھ کرئیے۔ اقلیت کب تک مُلک صاف کرے گی۔ اکثریت کا کچرا اکثریت ہی صاف کرسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •