جذبہ دوستی کے کچھ پہلو

  زندگی کے اداس لمحوں میں بے وفا دوست یاد آتے ہیں کون ہے جسے عدم کا یہ شعر پسند نہ ہو؟ حتیٰ کہ ایسے اصحاب جن میں سرے سے ذوق شعریت کا فقدان ہے، وہ بھی اس کے جادو کے منکر نہیں ہیں۔ اس کی وجہ بذات خود شعر نہیں بلکہ وہ تاثر ہے جسے پیدا کرنے میں یہ شعر ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔ یہ شعر سن کر ہر کسی کو کوئی نا کوئی اپنا بے وفا

Read more

سالِ نو مبارک

گزشتہ سال بہت سے پیارے، عزیز و اقارب، دوست، رشتہ دار ہم سے ناگہانی طور پر جدا ہو گئے۔ آپ کے جاننے والے نہیں، مگر ان کے جاننے والے اس دنیا سے چل بسے۔ ہم زندہ ہیں۔ ہم بچ گئے۔ ہم  نے مل کر سال نو میں قدم رکھا اور اپنی اپنی حریت کی جنگ میں پھر سے محو ہونے والے ہیں۔ اپنے آس پاس لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ وہ آپ کے ساتھ زندہ ہیں۔ اکیلا ہونا ایک

Read more

ایدھی بعد از ایدھی

لاک ڈاؤن میں شہریوں کی اکثریت چرند پرند کی طرح اپنے سامان و مکان کی ہو کر رہ گئی۔ میں اپنے گھر جانے کی بہ جائے سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں اپنے ایک دوست کے یہاں چلا گیا۔ میری فہم کے مطابق، لاک ڈاؤن چند روز کا دورانیہ تھا۔ رتی بھر خیال نہ تھا کہ یہ فیز اس قدر طول پکڑے گا اور چاہتے، نا چاہتے ہوئے بھی بوجہ لاک ڈاؤن میں یہاں طویل مدتی قیام کروں گا۔ سنتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کی وبا نے یورپ میں ہر خاص و عام کو متاثر کیا تھا۔

ڈسکہ میں بلا نامی شخص سے میرا غائبانہ تعارف ہوا۔ ان کا پیدائشی نام محمد تنویر احمد ہے۔ ڈسکہ میں فلاحی کاموں کا ذکر ہو تو ہر کسی کی زبان پر جس شخص کا نام آتا ہے، وہ ”بلا“ ہے۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بیش تر افراد جب ٹیلی ویژن اسکرین پر آ کے فلاحی کاموں کی تراغیب دے رہے تھے، اس وقت تنویر بلا گھر گھر جاکر انسانیت کی فلاح کے لئے ہر ممکن جستجو میں مگن تھے۔

Read more

کرب کا قاری

تم میں سے بیشتر ان اوہام میں مبتلا ہیں کہ یہاں سے کچھ دیر آگے ان کو زندگی کی وہ اکائی ملنے والی ہے جو مفہوم حیات کو سمجھنے میں معاون ہے۔ کچھ محو سفر اس گمان میں ہلکان ہوئے چلتے جا رہے ہیں کہ یہ سڑک کچھ دیر میں ایک تنگ گلی بنتے بنتے ایک دیوار پر ختم ہو جائے گی جس کا سہارا لے کر سکون سے آرام فرما سکیں۔ تمہارے بچے تمہاری بوسیدہ شکل دیکھتے اور کرخت

Read more

ضیا کے نظریات کی قربانی کب ہو گی؟

ہماری الہامی کتاب میں جہاں خدائے ذولجلال نے اپنی امت کے لئے دنبے کو اتارا، تو وہیں ہماری آزمائش کے لئے ایک شیطان کو بھی ہم پر مسلط کر دیا۔ ہم سینکڑوں سالوں سے روایتی عید کے تابع ہوکر آسمان تک چوپایوں کی صدائیں بلند کر رہے ہیں اور سال کے ایک روز کفارہ ادا کرکے باقی ایام ایک غائبانہ اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس سکے کا دوسرا رخ دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکر ہمارے ہاتھوں میں بندوق

Read more

ہم صرف قبرستانوں میں ہی متحرک ہوں گے

اس خطے میں جبر کی مرقع کشی کی جائے تو ناممکن ہے کیونکہ ہمارے محافظ ہماری خیالی وسعت سے زیادہ ہمارے وجود پر ظلم مسلط کرچکے ہیں۔ ہماری مائیں بہنیں اسی لئے دوپٹہ اتارنا زیادہ پسند کرتی ہیں گویا پہنا ہوا دوپٹہ کسی بھی ناکے پر جفاکشی سے اتار لیا جاتا ہے۔ وردی پر لگے ستاروں کی تیز چمک سے مسافروں کی آنکھیں دھندلی ہوتی چلی جا رہی ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ ہر آنے جانے والے اندھا کر گزرے گی۔ بہ جائے حیرت کے اب تو جبر و ستم کے واقعات سننا اور دیکھنا عادت بن گیا ہے۔ دن بہ دن بے حسی ہمارے سروں کا تاج بنتی جا رہی ہے اور اب تو بصارت بھی بنجر ہوتی جا رہی ہے کہ سامنے سڑک پر کسی بشر کی خون کی دھار بھی دیکھو تو گاڑی کی رفتار تیز کیے دیتے ہیں البتہ کہ ہم جانتے ہیں گر اس بندے کو ہسپتال پہنچا بھی دیا تو باوردی افراد اپنے ہی گریبان تک آن پہنچتے ہیں۔ بہ قول شخصے

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے
اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

Read more

معاف کر دینے میں بڑی قوت ہے

صاحبو، غالب کے ہاں تو ”غیب سے آتے تھے مضامیں خیال میں“ ۔ ہم ٹھہرے غریب آدمی۔ لکھنے کو ادھر ادھر سے خیالات کشید کرتے ہیں۔ اور آج کل ادھر ادھر فقط انتشار ہے، اور بے شمار ہے۔ ورق از خود تلخی سے سیاہ ہو جاتا ہے۔ مگر گزشتہ دنوں، کچھ تو امید سے لبریز کتابوں اور کچھ صوفی منش دوستوں کی صحبت کے زیر اثر، سکون کے متلاشیوں پر قلم اٹھایا، تو حلقۂ یاراں اس ماہیت قلب پر بڑا خوش ہوا۔ کچھ خیرخواہوں نے تو پرنم آنکھوں کے ساتھ مبارک باد دے ڈالی۔ کہا شکر ہے میاں، قلم تمھارا یاسیت، قنوطیت سے نکلا۔ ذرا رجائیت پسند بنو، زندگی کا روشن پہلو پیش نظر رکھو۔ تحریک بھی دی کہ اب اسی مدعا پر کچھ اور لکھو۔

ہمیں ترغیب دینے والوں میں کچھ ایسے، جو ہمیں بے حد عزیز۔ چند کے ہم مقروض۔ تو مناسب جانا کہ جو وہ کہتے ہیں، کر گزریں۔ بھلائی اسی میں ہے۔

Read more

تجسس امید دیتا ہے اور پھر ناامید کر دیتا ہے

مجھے اول نشست پر بیٹھنے کا تجسس تھا، ممکن ہے مجھے یہ گمان تھا کہ پہلی نشست میں بیٹھنے والا ہی اساتذہ کے فہم کے مطابق لائق و قابل شاگرد ہوتا ہے۔ سو جونہی گھر اس بات کا علم ہوا تو پرنسپل نے اگلی ہی صبح مجھے پہلی سیٹ پر بٹھا دیا۔ ہمارا اسکول اسلامی تھا اس لیے ہم چار بہن بھائی ہی وہاں کرسچن تھے اسی لئے پرنسپل صاحب کسی فرمائش کو رد کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن پہلی نشست پر بیٹھتے ہی وہ تجسس ختم ہوا اور مجھے اپنے کیے پر پچھتاوا ہونے لگا اور جیسے تیسے میں پھر اپنے دوستوں کے ساتھ آخری رو میں معمول کے مطابق بیٹھنے لگ گیا۔

Read more

عورت مارچ

ماہ مارچ کا آغاز ہونے کو ہے اور یہ وہ ماہ ہے جب ایلیٹ کلاس کے عورتوں کے اندر کی عورت اور مڈل کلاس عورتوں کے لئے دل میں ان کے لئے ہمدردی پیدا شروع ہوجاتی ہے جبکہ بیشتر مرد حضرات کے اندر کا بھی فیمنسٹ بھی جاگ جاتا ہے جو کہ سارا سال اپنے ہی گھر میں حقوق نسواں کا استحصال کرتے ہیں۔ فیمنزم تحریک کا آغاز بیسویں صدی میں مغرب سے ہوا جس کا مقصد عورت کو اس

Read more

مار نہیں پیار

بھارت لگاتار مختلف ٹِیبوز اور سوشل مسائل پر فلم سازی کررہا ہے پھر چاہے وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔ ابھی ایک فلم جو جسمانی نقصان پہنچانے پر بنائی گئی جو انتہائی خوبصورتی سے عوام کو اس مسئلے پر نفسیاتی، معاشرتی و قانونی طور پر شعور مہیا کررہی ہے۔ پاکستان میں کچھ سال قبل ہر سرکاری و غیر سرکاری سکول کے باہر ایک تختی نمایاں کی گئی جس پر لکھا ہوتا ہے ”مار نہیں پیار“ یہ سلوگن بچوں پر بڑھتا خوف،

Read more

تخلیق کار کون ہے؟

اکثر دوست و احباب کا یہ سوال رہتا ہے کہ کیا کوئی بھی فن پیدائشی ہوتا ہے، معاشرے میں رہ کر سیکھا جاتا ہے، ماں باپ کی بدولت یعنی رواثتی ہوتا ہے یا پھر کسی کی زیرپرستی رہ کر حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بحث خاصی طویل اور لاتعداد دلائل پر مبنی ہے کیونکہ کئی مشہور و معروف فنکار اعلی مقام پر پہنچ کر توجہ پانے یا کسی کو قائل کرنے کے لئے من گھڑک قصہ سنا دیتے ہیں جیسے

Read more

سیکس کہاں کریں؟

مشرق میں بناوٹی تو کیا ہماری فطری آزادی تک کو قید کردیا گیا ہے۔ یہاں شوہر بیوی کے پاس دو منٹ بیٹھ جائے تو شوہر کو رن مرید اور بیوی کو چغل خور کا اعزاز دے دیا جاتا ہے۔ سیکس وقت کا نہیں کیفیت کا محتاج ہے۔ یہ کیفیت آپ پر علی الصبح بھی طاری ہوسکتی ہے، جاب پر جاتے ہوئے بھی طاری ہوسکتی ہے، دوران جاب بھی طاری ہوسکتی ہے، کھانے کھاتے نیز جب آپ پر حاوی ہو۔

Read more

نصف نہیں پورا ایمان

علی زیدی نے پاکستان نامی کنویں میں پہلی بوند ڈال دی ہے اس سے پہلے کہ یہ بوند خُشک ہو اپنے قطرے قطرے سے اس کنویں کو بھردیں۔ صفائی مہم اور ”گو گرین“ جیسے پروجیکٹ قومی سطح پر مفاد کے لئے نہیں بلکہ حیات کے لئے ہیں۔ آپ کی بقا اور نسل نو کے لئے ہے۔ دنیا بھر میں ایسے کئی اقدامات اٹھائے گئے جس پر انفرادی طور پر قدم بڑھائے گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت گھر گھر

Read more

مغرب اور محبت

اکثر اوقات یہ سننے کو ملتا ہے کہ مغربی لوگ کے باہمی تعلقات عارضی ہوتے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، ماں بیٹی یا باپ بیٹے میں محبت کی وہ چاشنی نہیں پائی جاتی ہے جو ہمارے معاشرے میں دیکھی جاتی ہے۔ پھر بہت سے لوگوں کے رائے معلوم کریں تو اس طرح کے بے شمار عجیب و غریب خیالات سننے کو ملتے ہیں جو میڈیا پر بھی بتلائے اور دیکھے جاتے ہیں۔ پھر فلم بینی کو بھی مدنظر رکھا جاتا

Read more

خودکشی

انسانی زندگی میں کوئی مقام ایسا آتا ہوگا جب ہمیں خود لگتا ہو کہ زندگی کو تھم جانا چاہیے، کوئی ایسا حصہ یا کوئی ایسی عمر۔ کوئی تو مقام ہو جہاں دل کہے کہ یہیں تک آنا تھا، اتنا ہی سفر طے کرنا تھا اور اسی کے لیے چلے تھے۔ ہماری دنیا ایسی نہیں جہاں آپ خودکشی کے موضوع پر کسی سے دل کھول کر بات کرلیجیے، جب بھی آپ اس کا ذکر کرتے ہیں تو آپ کے عزیز ایک

Read more

غلطی کہاں ہے؟

آپ اس فعل پر غور و فکر کریں کہ پیدا ہوتے ہی بچے کو اسی نظریہ سے دیکھا جاتا ہے جو ہمارے اندر اُمڈ رہا ہے۔ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے کہ جیسے ہی بچہ ننھے قدموں پر اپنا بوجھ سنبھال کر چلنے لگتا ہے تو لڑکی ہونے پر اس کو گُڑیا، برتن جیسے کھلونے تھما دیے جاتے ہیں اور لڑکے کو گاڑی، روبورٹ، جہاز جیسے کھلونے دیے جاتے ہیں اور ایک مائینڈ سیٹ اپ بنانے کے لئے سارا خاندان

Read more

ایدھی، محسن انسانیت1928۔ 2016

مجھے حیرت ہے جب اسلام کو غیر مسلم دہشتگردی سے منسوب کرتے اور اس میں تعصب بتلاتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ یہ اسلام کے حقیقی پیروکاروں سے دور اور ٹھیکیداروں کے نزدیک ہوتے ہیں۔ یہ اسلام کا وہ چہرہ نہیں دیکھ پاتے جو مسکرارہا ہے۔ میں بذات خود یہی سنتا آیا لیکن آج پچانوے فیصد دوست اور حلقہ مسلمان ہے۔ میں ان کو پڑھتا، سنتا، ان ہی کے ساتھ کھاتا پیتا اور ان ہی کے ساتھ نوکری بھی

Read more

معذور افراد کو باعزت روزگار دینے والے میکڈونلڈز کی مثال سے سیکھیں

بڑی بہن کے ساتھ لاہور فورٹریس کے میکڈونلڈز کی برانچ میں جانا ہوا۔ بہن نے ذاتی طور پر انتظامیہ سے درخواست کرتے ہوئے کچن دکھانے کی اجازت لی اور پروڈکشن ہاؤس سے چلر روم تک وزٹ کروایا۔ کچن وزٹ کرتے ہوئے وہاں ایک شخص کو سٹاف کے لباس میں ملبوس، ایک وہیل چئیر پر کچھ دستایزات سنبھالتے دیکھا۔ خیز اس منظر کو وقتی طور پر دیکھ کر آگے گزرتے ہوئے پورے کچن کا وزٹ مکمل کیا اور واپس ہال میں آکر بیٹھتے ہی بہن سے پوچھا کہ میں بھی ریسٹورنٹ فیلڈ سے تعلق رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ معذور افراد اس فیلڈ میں کام نہیں کرسکتے یا کر نہیں پاتے یا عام طور پر کرنے نہیں دیا جاتا۔

Read more