لاک ڈاؤن میں شہریوں کی اکثریت چرند پرند کی طرح اپنے سامان و مکان کی ہو کر رہ گئی۔ میں اپنے گھر جانے کی بہ جائے سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں اپنے ایک دوست کے یہاں چلا گیا۔ میری فہم کے مطابق، لاک ڈاؤن چند روز کا دورانیہ تھا۔ رتی بھر خیال نہ تھا کہ یہ فیز اس قدر طول پکڑے گا اور چاہتے، نا چاہتے ہوئے بھی بوجہ لاک ڈاؤن میں یہاں طویل مدتی قیام کروں گا۔ سنتے ہیں کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کی وبا نے یورپ میں ہر خاص و عام کو متاثر کیا تھا۔
ڈسکہ میں بلا نامی شخص سے میرا غائبانہ تعارف ہوا۔ ان کا پیدائشی نام محمد تنویر احمد ہے۔ ڈسکہ میں فلاحی کاموں کا ذکر ہو تو ہر کسی کی زبان پر جس شخص کا نام آتا ہے، وہ ”بلا“ ہے۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بیش تر افراد جب ٹیلی ویژن اسکرین پر آ کے فلاحی کاموں کی تراغیب دے رہے تھے، اس وقت تنویر بلا گھر گھر جاکر انسانیت کی فلاح کے لئے ہر ممکن جستجو میں مگن تھے۔
Read more