رخشی کیوں روتی تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین چار دن تک رخشی روتی رہی۔ ذرا ذرا سی بات پر اس کے آنسو نکل آتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ لڑکیوں سے گھلنے ملنے لگی۔ وہ چوتھی جماعت میں تھی اس کی ڈورم میں چوتھی اور پانچویں جماعت کی طالبات تھیں۔ یوں تو سکول میٹرک لیول تک تھا تقریباً ہر کلاس کی لڑکیاں الگ الگ ڈورم میں تھیں مگر ظاہر ہے ایک بورڈنگ میں رہتے ہوئے ان کا آمنا سامنا تو ہوتا تھا۔ گیمز ٹائم میں سب سکول کے گراؤنڈ میں کھلیتی تھیں۔ گراؤنڈ میں جھولے بھی لگے تھے۔ چھوٹی لڑکیوں کی دلچسپی جھولوں میں ہوتی تھی جبکہ بڑی لڑکیاں مختلف کھیلوں میں مگن ہوتی تھیں جیسے باسکٹ بال، بیڈ منٹن اور کرکٹ۔

رخشی چوں کہ نئی آئی تھی اس لیے مہوش نے لڑکیوں سے کہا تھا کہ اس کا خاص خیال رکھیں۔ لگتا تھا رخشی کا دل لگ گیا ہے۔ وہ لڑکیوں کے ساتھ بہت خوش تھی۔ ویک اینڈ پر رخشی کے دادا اس سے ملنے آ گئے۔ رخشی دوڑ کر ان کے گلے سے لگ گئی۔ دادا جی نے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا اور خوب پیار کیا۔ رخشی ان سے باتیں کرنے لگی۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور وہ بورڈنگ کی باتیں مزے لے لے کر سنا رہی تھی۔ اس کے دادا جی بہے خوش تھے۔ انہوں نے پرنسپل صاحبہ سے اجازت لی اور رخشی کو باہر گھمانے لے گئے۔

مہوش یہ سارا منظر دیکھ رہی تھے۔ رخشی کے دادا پیرانہ سالی کے باوجود بڑے چاق و چوبند تھے۔ مہوش کی ان سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کسی مہلک مرض سے کوسوں دور تھے۔ بڑھاپے میں اکثر ہائی بلڈ پریشر، شوگر یا جوڑوں کا درد گھیراؤ کر لیتا ہے لیکن وہ ہمہ قسم کی بیماریوں سے بچے ہوئے تھے۔ انہوں نے جب سارے سال کی فیس ادا کی تھی تو پرنسپل صاحبہ نے کہا تھا کہ سال بھر کی فیس جمع کرانے کی کیا ضرورت ہے۔ سکول کے قواعد و ضوابط کے مطابق بائی منتھلی فیس لی جاتی تھی۔ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ میں عمر کے جس حصے میں ہوں اس میں کوئی بھی دن آخری ہو سکتا ہے۔ موت ہر دم انسان کے تعاقب میں ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پرنسپل صاحبہ کی بات نہیں مانی تھی۔

دادا جی جا چکے تھے اور رخشی اس شام بڑی اداس تھی۔ مہوش نے اس کی اداسی دیکھی تو لڑکیوں کو اشارہ کیا۔ لڑکیاں اس سے گپ شپ لگانے لگیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر ہنس کھیل رہی تھی۔ رات کو مہوش سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں دادا جی کی پریشانیاں کیا ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پچاس ایکڑ زمین کے مالک تھے۔ لاہور کے قریب ان کی زمین تھی اور وہیں ان کی چاولوں کی فیکٹری تھی۔ وہ اعلیٰ کوالٹی کے چال ایکسپورٹ بھی کرتے تھے۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ لاہور میں ان کا بہت بڑا بنگلہ تھا۔ وہ اس بنگلے میں اپنی بہو یعنی رخشی کی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔

ان کا ایک پوتا بھی تھا۔ رخشی کا بھائی۔ وہ رخشی سے چھوٹا تھا۔ اسے بھی انہوں نے کسی بورڈنگ سکول میں داخل کروا رکھا تھا۔ انہوں نے مہوش سے کہا تھا کہ رخشی سے کوئی بھی ملنے آئے تو اس کی ملاقات نہیں کروائیں گی۔ خواہ کوئی اس کا چچا ہونے کا دعویٰ کرے یا چچا زاد بھائی ہو۔ رخشی سے ملنے ہمیشہ وہ خود آئیں گے اور چھٹیوں میں خود ساتھ لے کر جائیں گے۔ ہاں اس کی ماں ضرور مل سکتی ہے لیکن وہ کبھی آئی تو ان کے ساتھ ہی آئے گی۔ انہوں نے کہا تھا رخشی کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

مہوش یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اتنی پیاری بچی سے کس کی دشمنی ہو سکتی ہے۔ دادا جی نے بہت ساری باتیں بتائی تھیں لیکن کچھ چھپائی بھی تھیں۔ رخشی کے باپ کا انتقال ہو چکا تھا لیکن کیسے ہوا تھا یہ نہیں بتایا تھا۔ سکول ٹائم دو بجے تک تھا۔ لنچ کے بعد ریسٹ ٹائم ہوتا تھا۔ اس کے بعد گیمز اور شام کو پریپ کلاس ہوتی تھی۔ دو گھنٹے کی اس کلاس میں سب لڑکیاں بورڈنگ کی ٹیچرز کی رہنمائی میں ہوم ورک کرتی تھیں اور پڑھتی تھیں، آٹھ بجے کھانا اوراس کے بعد ٹی وی کے لیے کچھ وقت مخصوص تھا۔ اس وقت مہوش لڑکیوں کے ساتھ ہوتی تھی۔ رات دس بجے لائٹ آؤٹ تک وہ ان کے ساتھ رہتی تھی۔ ان سے باتیں کرتی تھی ان کی مشکلات سنتی تھی۔

رخشی اس روٹین کو اب دوسری لڑکیوں کے ساتھ بڑی خوشی سے فالو کرتی تھی مگر مہوش کو اکثر محسوس ہوتا تھا کہ کوئی بات ایسی ہے جو اس کے دل میں ہے مگر لبوں تک نہیں آتی۔ کوئی ایسا راز ہے جو اس کی آنکھوں میں پنہاں ہے۔ ایک شام وہ اس سے باتیں کر رہی تھی۔

”رخشی! تم نے اپنے بابا کے بارے میں مجھے کبھی نہیں بتایا۔ وہ کیسے تھے؟ “

”مس! میرے بابا بہت اچھے تھے۔ بس اچانک کہیں چلے گئے۔ مجھے لگتا ہے وہ ایک دن آ جائیں گے اور مجھے اپنے ساتھ جہاز میں بٹھا کر لے جائیں گے۔ مجھے جہاز میں بیٹھ کر دور آسمان میں اڑنے کا بہت شوق ہے۔ میرے بابا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھے لے جائیں گے مگر پھر وہ چلے گئے“۔ رخشی جیسے کہیں کھو گئی تھی۔

”اور وہ کیسے دکھائی دیتے تھے؟ “ مہوش جاننا چاہتی تھی۔
”وہ بالکل میرے دادا جیسے تھے لیکن ان کے بال کالے تھے اور مونچھیں بھی کالی تھیں۔ بس یہی فرق تھا۔ اگر دادا جی اپنے بال کالے کر لیں تو بالکل بابا لگیں گے“ رخشی کی آنکھیں چمکنے لگیں۔

”اچھا تمہارے بابا کو کیا ہوا تھا؟ “
مہوش نے سوال کیا۔

”کیا مطلب مس؟
”میرا مطلب ہے ان کا۔ وہ اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں ناں تو یہ سب کیسے ہوا؟ ان کا انتقال؟ مہوش نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی بات سے رخشی کو دکھ پہنچے مگر جاننا بھی چاہتی تھی۔

”مس وہ مرے نہیں ہیں، وہ کہیں چلے گئے ہیں مگر وہ آئیں گے۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ وہ اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتے۔ وہ آئیں گے۔ “ رخشی نے سر جھکا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ مہوش کو افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے یہ ٹاپک کیوں چھیڑ دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •