رخشی کیوں روتی تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاید رخشی اب روزانہ خواب دیکھنے لگی تھی۔ کیوں کہ وہ جب ناشتے کے لیے آتی تھی تو سہمی سہمی سی لگتی تھی بعد میں ٹھیک ہو جاتی تھی۔ مہوش کو اس کی آنکھوں میں نامعلوم خوف کے سائے نظر آتے تھے۔ اس نے کئی بار پوچھنے کی کوشش کی مگر حیرت انگیز طور پر اب وہ کچھ نہیں بتاتی تھی۔ ہر بار کہتی تھی کہ کوئی بات نہیں۔ ایک دو لڑکیوں نے مہوش کو بتایا کہ رخشی چھپ چھپ کر روتی ہے۔ مہوش بے حد حیران تھی کہ اب کیا ہوا ہے۔ اب تو بورڈنگ میں اس کا دل بھی لگ گیا تھا۔ کئی لڑکیاں اس کی دوست بن چکی تھیں۔ بورڈنگ میں قیام کے پہلے ہفتے کے بعد سے وہ خوش رہا کرتی تھی، گر اب وہی پہلے والی حالت لوٹ آئی تھی۔ وہ کیوں روتی ہے یہ سوال مہوش کو پریشان کر رہا تھا۔

رات کے ساڑھے گیارہ بجے مہوش نائٹ راؤنڈ کے لیے ڈورمز میں آئی تھی۔ بورڈنگ ہاؤس میں سناٹا طاری تھا۔ سب لڑکیاں سو رہی تھی۔ مہوش دبے پاؤں چل رہی تھی تا کہ کسی لڑکی کی نیند خراب نہ ہو۔ جب وہ رخشی کی ڈورم میں داخل ہوئی تو اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اسے ایک عجیب سا احساس ہو رہا تھا۔ رخشی کمبل اوڑھے لیٹی تھی مگر مہوش کو لگ رہا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے۔

وہ آگے بڑھی اور دھیرے سے رخشی کو پکارا۔ رخشی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس کے باوجود اس نے کمبل ذرا سا کھینچا۔ اس کا اندازہ درست تھا۔ رخشی کا چہرہ اور تکیہ آنسوؤں سے تر تھا۔ وہ نہ جانے کب سے رو رہی تھی۔ مہوش نے بے اختیار اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کی کمر تھپکنے لگی۔ رخشی سسک رہی تھی۔ اس کے آنسو مہوش کے گریبان کو بھگو رہے تھے۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ دوسری لڑکیوں کو پتا چلے۔

وہ اسے باہر لے آئی۔ باہر لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ کر اس نے رخشی کے آنسو پونچھے اسے تسلی دی۔ رخشی چپ ہو گئی۔
”پیاری بیٹی تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟ “ مہوش نے بڑے پیار سے پوچھا۔

”کچھ نہیں مس! میں ٹھیک ہوں“ رخشی نے کمزور سی آواز میں کہا۔
”نہیں بیٹی تم ٹھیک نہیں ہو، آخر ایسا کیا غم ہے جو تم اتنا روتی ہو، مجھے بتاؤ شاید میں تمہاری مدد کر سکوں“
”مس میں نے ایک خواب دیکھا ہے؟ “

”اف! تمہارے یہ خواب۔ دیکھو حقیقت کی دنیا خوابوں کی دنیا سے بڑی مختلف ہوتی ہے۔ خوابوں کو اتنا سیریس نہیں لیتے۔ میں تمہارے دادا جی سے بات کروں گی۔ انہوں نے اس ویک اینڈ پر آنا ہے اور میں ان سے یہ بھی کہوں گی کہ تمہیں گھمانے لے جائیں، تمہارا دل بہل جائے گا۔ بس اب خوش ہو جاؤ“۔ مہوش کا خیال تھا کہ اس کی بات سن کر رخشی کھل اٹھے گی مگر اسے تاثرات میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا۔

”مس! دادا جی اس ویک اینڈ پر نہیں آئیں گے“ رخشی نے آہستہ سے کہا۔
”کیا مطلب؟ کیا تمہاری ان سے فون پر بات ہوئی تھی“

”نہیں مس! میری ان سے بات نہیں ہوئی“
”تو پھر؟ تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟ میری تو ان سے بات ہوئی تھی وہ آئیں گے“
”مس وہ نہیں آئیں گے“ رخشی کی آواز رندھ گئی۔

”وہ اب کبھی نہیں آئیں گے۔ وہ مر چکے ہیں۔ میں نے خواب میں سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ مس میں اکثر سچے خواب دیکھتی ہوں۔ مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کون سا خواب سچا ہے۔ میرے دادا جی۔ “ رخشی کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔

”رخشی ایسی باتیں مت کرو۔ میں ابھی فون پر دادا جی سے تمہاری بات کرواتی ہوں“ مہوش جھنجھلا اٹھی شاید اسی لیے اس کی آواز بلند ہو گئی تھی۔ اس کی آواز سے آیا باجی کی آنکھ کھل گئی تھی اور وہ باہر آ گئی تھی۔

”آیا باجی رخشی کو ڈورم میں لے جاؤ، اسے نیند نہیں آ رہی تھی“ مہوش نے اس سے کہا۔
مہوش اپنے کمرے میں آ گئی۔ پتہ نہیں اس لڑکی کا کیا مسئلہ ہے۔ وہ یہی سوچتے سوچتے سو گئی۔ صبح پرنسپل صاحبہ نے مہوش کو آفس میں بلا لیا۔ مہوش وہاں پہنچی تو پرنسپل کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔

”مس مہوش رخشی کا بہت خیال رکھنا ہو گا۔ کل میری فون پر اس کی ماں سے بات ہوئی تھی۔ ان کے خاندان میں جائیداد کے جھگڑے ہیں۔ مجھے انہوں نے بتایا ہے کہ رخشی کے دادا نے اپنے دوسرے بیٹے کو عاق کیا ہوا ہے کہ وہ کچھ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھا“

پرنسپل صاحبہ کی بات ابھی جاری تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ انہوں نے فون اٹھایا پھر دوسری طرف کی بات سنتے ہی ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔

”مس مہوش ایک بری خبر ہے۔ رخشی کے دادا جی کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔ اس کی ماں کا فون تھا اور اس نے کہا ہے کہ رخشی کو اس بات کا ہرگز پتا نہ چلے۔ اب وہ دسمبر کی چھٹیوں سے پہلے اسے لینے نہیں آئیں گی۔ تب تک اسے یہ پتہ نہ چلے“
مہوش ایک گہری سانس لے کر رہ گئی۔ رخشی سے کچھ چھپانے کی ضرورت تھی نہ بتانے کی، وہ تو سب کچھ جان چکی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •