عید کے دو چاند اور ایک حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”عید کب کرنی ہے حکومت کے ساتھ یا مسجد قاسم علی خان کے ساتھ“

جی ہاں آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے کہ یہ دکھڑا پشاور کے ایک ایسے رہائشی کا ہے جو مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق عمل کرتا ہے۔ یہ کوئی اچھوتا یا انہونا واقعہ نہیں ہے پشاور کے رہائشیوں کے ہر سال کی کہانی ہے۔ میرا آدھا خاندان اسلام آباد میں مقیم ہے اور آدھا پشاور میں اور ہر عید یہی سوچتے گزر جاتی ہے کہ کون کب عید کرے گا کس کو مبارکباد کب دینی مناسب ہوگی۔ اس سال کا سب سے اہم جزو رمضان میں صوبائی حکومت کا عید کا اعلان ہے اگرچہ یہ بھی پہلی دفعہ نہیں ہے کہ صوبائی حکومت نے اس معاملے میں دخل اندازی کرتے ہوئے پہلے سے ہی پیچیدہ صورتحال کو گھمبیر ترکرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہو۔ یہ سلسلہ محض عبادات اور معاشرت تک محدود نہیں ہے بلکہ قومی وحدت پر بھی بدنما داغ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ کس کی عید صحیح ہے اور کس کی غلط، ہر دو صورتوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان روزہ اور قربانی ضائع کر رہے ہیں۔

اس سال چھوٹی عید پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی جناب فواد چودہری صاحب نے اس معاملے کے حل میں دلچسپی لی اور اپنے تئیں اس مسئلہ کے حل کی خاطر ایک قمری کلینڈر بنا کرحل کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں وزیر محترم نے ملیشیا اور ترکی کی مثال بھی دی۔ یہ قمری کلینڈر ایک اچھی کوشش تھی مگر اس کی ناکامی کے اسباب اس کے آغاذ سے ہی طے ہوچکے تھے۔ بجائے اس بات کہ کے وزیر محترم دونوں فریقین کو ساتھ بٹھا کر افہام و تفہیم سے اس معاملے کو شریعت اور سائنس کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرتے، انہوں نے امام احمد بن حنبلؒ اور امام شافیؒ کے فتاوی کو بنیاد بنا کر یہ کلینڈر بنایا مگر وہ یہ بات شایدبھول گئے کے پاکستان کی اکثریت نہ تو امام حنبلؒ کی پیروی کرتی ہے اور نہ ہی امام شافیؒ کی۔

اہل تشیع اس معاملے میں کلی طور پر مرکزی حکومت کے فیصلوں اور اعلانات پر عمل کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو کبھی دو عاشورہ نہیں ملیں گے جبکہ اہل سنت والجماعت (سنیوں ) کے پاکستان میں دونوں بڑے فرقے دیوبندی اور بریلوی امام ابو حنیفہ ؒ کے مسلک کے پیروکار ہیں اور امام ابو حنیفہ ؒ رویتِ ہلال کی بات کرتے ہیں۔

ایک اچھی کوشش غلط تکنیکی بنیاد پر ناکام ہوئی، تاہم اب بھی کچھ بگڑا نہیں ہے۔

اس ضمن میں مسئلہ کی اصل جڑ رویتِ ہلال کی شہادت کی سچائی اور قبولیت کا معیار ہے۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی، مسجد قاسم علی خان کو موصول ہونے والی شہادتوں کو تکنیکی بنیاد پر ناقابلِ اعتبار سمجھتی ہے کیوں کہ اکثر یہ شہادتیں ایسے مقامات اور اوقات میں دی جاتی ہیں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حساب سے رویت ممکن ہی نہیں ہوتی۔ اور اسی چیز کا اظہار جناب فواد چودہری صاحب نے اپنے ٹویٹ میں بھی کیا جب انھوں نے غلط شہادت دینے والوں پر مقدمہ دائر کرنے کی بات کی۔

میرے خیال میں وزیر ِ سائنس اور ٹیکنالوجی جناب فواد چودہری صاحب کو اس بار اس شہادت والے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے انھیں ایک ایسا نظام وضع کرنا چاہیے جو کہ ہلال کی رویت کو زیادہ بہتر طریقے سے ڈاکومنٹ کر سکے۔ ایک ایسا پورٹل یا ایپ بنائی جانی چاہیے جو کہ رویت کو ناصرف تصویری شکل میں ریکارڈ کر سکے مگر ساتھ ساتھ اس متعلق دیگر چیزوں کو جیسے کے چاند دیکھنے کا وقت، جگہ کے صحیح کوارڈینیٹس (عرضبند طولبند) ، چاند کی عمر اور اس کا ذاویہ وغیرہ بھی ریکارڈ کرے۔

یہ ایپ اینڈرائڈ اور دیگر ایپ سٹورز پر میسر ہو اور حکومت آئندہ سے رویت کے لئے صرف اس پورٹل یا ایپ کے ذریعے سے ہی دی گئی شہادت کو معتبر مانے۔ مطلقہ ماہرین کی مدد سے اس ایپ یا پورٹل میں اس چیز کا خیال رکھا جا سکتا ہے کہ جن علاقوں میں جس وقت تک رویت کے قابل نا ہو وہاں کی شہادتیں نشان زد (مارک یا فلیگڈ) کردی جائیں اور ان کا زیادہ غور و تفصیل سے جائزہ لیا جائے۔ ایسی شہادتوں کا جائزہ سائنسی بنیاد پر لیا جانا چاہیے کیونکہ سائنس کبھی خود کو حرفِ آخر نہیں مانتا اور ہمہ وقت اپنے نظام اور طریقہ کار کے اندر موجود غلطیوں کی نشاندہی اور اس کی تصحیح میں مصروف عمل رہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان شہادتوں کے تفصیلی تجزئے کی بنیاد پر پاکستانی ماہرین پوری اسلامی دنیا کے لئے زیادہ بہتر نظام فراہم کر سکیں۔

اس ناچیز کی رائے میں یہ نظام نا صرف لاکھوں لوگوں کی روزے اور قربانی جیسی اہم عبادت کو ضائع ہونے سے بچا سکتا ہے اور ایک ایسی مثال بھی بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جو کہ دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی کا سبب ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ابراہیم راشد شیرکوٹی کی دیگر تحریریں
ابراہیم راشد شیرکوٹی کی دیگر تحریریں