مودی کا ’ہندو ریاست‘ بنانے کا مشن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ آئینی طور پر جو گھناؤنا کھیل کھیلا، اس کا شاید انہیں اندازہ نہیں ہے کہ انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کی سلگتی آگ میں تیل ڈال کر شعلوں کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ مودی سرکار کا یہ قدم کوئی ایک دو دن یا ہفتوں کی غور وفکر کا نتیجہ نہیں لگ رہا کہ اچانک بھارتی لوک سبھا میں بغیر بحث کیے ایک ترمیم یک یکا منظور ہوجاتی ہے اور ایوان کو اعتماد میں لئے بغیر قلمی جارحیت سے کشمیر کی جغرافیائی نوعیت کو تبدیل کردیا جاتا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے اس بات کی نشان دہی یقیناً لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان کے دوست ممالک کی جانب سے بھارتی اقدام پر محتاط رویہ اپنایا گیا اور جس قسم کے سفارتی ردعمل کی توقع تھی، دوست ممالک کی جانب سے فوری دیکھنے کو نہیں ملی۔ بھارت نے پاکستان میں سیاسی بحران و اکھاڑ بچھاڑ کی سیاست کو گرما گرمی دیکھتے ہوئے مودی سرکار نے موقع غنیمت جانا۔

دماغ اس بات پر یقین بھی کرنے کو تیار نہیں کہ بھارت نے امریکا کو اپنے اس انتہائی اقدام سے آگاہ نہیں کیا اور امریکا نے پاکستا ن کا نکتہ نظر نہ جانا ہوگا۔ افغانستان امن تنازع حل میں بھارتی کردار نہ ہونے کے باوجود صدر ٹرمپ کے خصوصی معاون برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی بار بار بھارت یاترا کے مقاصد پوشیدہ نہیں رہے ہیں۔ امریکا، افغانستا ن میں بھارت کو عسکری کردار ادا کرنے کے لئے بھاری مراعات دیتا آرہا ہے، امریکی دفاع کے اعلیٰ حکام بھارت کو جدید ہتھیاروں سے لیس و خود کفیل بنانے کی پُر کشش لالچ و ترغیبات دے چکے ہیں۔ امریکا کی زبان وہی بولتی رہی ہے جو بھارت کہتا رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اندازہ نہیں تھا کہ بھارت کشمیر میں فوج میں اضافہ کیوں کررہا ہے۔ امر ناتھ یاترا کیوں روک دی گئی۔ کرفیو پاس کیوں جاری کیے جا رہے تھے، مہینوں کا راشن رکھنے کا کیوں کہا جارہا ہے۔ سب اندازے لگاتے رہے اور مودی گھناؤنی چال اس طرح چل گیا کہ بھارتی اپوزیشن بھی ہکا بکا رہ گئی۔ نسلی جمہوریت کا تصور اسرائیل کے پولیٹیکل سائنٹسٹ سیمی سمووا نے 2002 ء میں پیش کیا تھا۔ اسی تصور کے تحت مئی 2019 میں بھارتی وزیرِاعظم نے فتح کا جشن منانے کے لیے منعقد کی گئی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مستقبل کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر اشارے دیے تھے۔

مودی کا کہنا تھاکہ ”کارکنوں نے صرف ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے کا جذبہ لے کر انتخابی مہم چلائی۔ دنیا کو چاہیے کہ اب وہ بھارت کو سپر پاور تسلیم کرلے“۔ بی جے پی کی فتح کے بعد بھارت و جموں کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کو ہندو شدت پسندی کے بڑھتے اُبال سے شدید تحفظات تھے۔ انہی خدشات کو دیکھتے ہوئے لوک سبھا الیکشن ( 2019 ) کے نتائج پر انگریزی کے معروف لبرل صحافی پرونو رائے، اپنے ٹی وی شو (این ڈی ٹی وی) میں موجود تمام پینلسٹ (جس میں بی جے پی کے ترجمان بھی شامل تھے ) سے مخاطب ہوکر یہ تبصرہ کرنے لگے کہ ”ملک کا 185 ملین مسلمان ڈرا ہوا ہے۔ وہ خوف اور اضطراب کا شکار ہے ”۔ پرونو رائے کے اس تبصرہ پر حامی بھرتے ہوئے، ان کی ساتھی اینکر ندھی رازدان نے اسے سوال کی شکل میں بی جے پی کے ترجمان نیلین کوہلی کے سامنے پیش کیا تھا۔ خلاصہ بحث یہ تھا کہ ”گر بات ڈرنے کی ہے اور ڈر اس لئے ہے کہ مودی حکومت کے دوبارہ اقتدارمیں آ جانے سے فسطائی طاقتیں مزید مضبوط ہو جائیں گی، یاآئین سے چھیڑ چھاڑ کی کوششیں ہوں گی، یا ہندوستان پوری طرح سے میجوریٹیرین ڈیمو کریسی میں تبدیل ہو جائے گا، یا ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دیا جائے گا (یہ الگ بات ہے کہ بھارت غیر رسمی طورپر ہندو راشٹر بن چکا ہے ) ، یا فرقہ پرستی آسمان چھونے لگے گی، یا سیکولرزم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی جائے گی، یا مسلمانوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا جائے گا، یا انہیں گھس پیٹھیا/باہری قرار دیا جائے گا، یا پھر مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری قرار دیا جائے گا، تب تو پھرہر ہندوستانی کو ڈر جا نا چاہیے۔ صرف مسلمان ہی کیوں ڈریں؟“ اور ہمیں یقین کر لینا چاہیے کہ سب کو خوف زدہ اورڈرانے کی شروعات ہوچکی ہیں۔

اس لئے اس بات کو اگر کوئی مانتا ہے کہ امریکا، بھارتی اقدام سے بے خبر تھا راقم سمجھتا ہے کہ وہ خود کو دھوکا دے رہا ہے۔ کیا ہم من و عن تسلیم کرلیں کہ امریکا، چین کو معاشی سپر پاور بننے کے لئے راستے سے ہٹ گیا ہے۔ امریکا اور بھارت کے درمیان کچھ ’نورا کشتی‘ تو ضرور ہوئی تاکہ پاکستان کو افغان طالبان کے مسئلے میں مزید الجھا کر کابل انتظامیہ سے مذاکرات کرانے کا ٹاسک دیا جاسکے۔ امریکا نے پاکستان سے یہی مطالبہ رکھا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان ہر صورت میں کابل انتظامیہ سے مذاکرات کے لئے راضی کرے یعنی پاکستان بچاؤ یا کشمیر۔

پاکستان افغانستان کی چالیس برس سے جاری جنگ کو صدق دل سے سلجھانا چاہتا ہے لیکن اس کا رسوخ ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہوچکا ہے۔ 71 برسوں سے خطے کے سب سے حساس مسئلے کو حل کرانے کے لئے عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار قابل افسوس ہے۔ افغانستان جیسے بڑے ملک میں ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب جارح افواج تھی۔ جو اب قریباً 14 ہزار ہیں اور ساڑھے تین لاکھ افغان سیکورٹی فورسزہیں، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ 30 ہزار جارح بھارتی فوج قابض ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے ساتھ کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو بھی سلجھایا جاتا۔

جرمنی، ترکی، چین، روس، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت عالمی برداری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم پر بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی برداری سمجھتی ہے کہ کابل امن حل کا معاہدہ چند مہینوں میں ہوجائے گا اور خطے میں امن آجائے گا تو شاید یہ خواب رہے، کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف کشمیری عوام اُسی طرح مزاحمت کرتے نظر آسکتے ہیں جس طرح افغان طالبان۔

کیونکہ جب جہاد کا جذبہ جارح افواج کے خلاف اٹھتا ہے تو مادر وطن کی حفاظت کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت مسلح جدوجہد و تحریکیں زور پکڑتی ہیں اور پھر اس کا انجام افغانستان کی طرح ہوتا ہے۔ کشمیر بھارتی فوجیوں کا قبرستان بنے گا۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ امریکا، چین کے مزید نزدیک ہونے کے لئے مقبوضہ جموں کشمیر کو اپنا فوجی بیس کیمپ بنانے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •