انٹر نیٹ کے عقلِ کُل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اک زمانہ تھا کہ ادیانِ عالم، سماجیات، سیاست، عمرانیات، تاریخِ عالم، شاعری، ادب، صحافت اور فلسفہ جیسے موضوعات پے بات کرنے سے پہلے ہم سب سامنے موجود عالم کا قد ماپتے تھے اور پھر جرات کرتے تھے کہ اپنا موقف یا حوالہ بیان کریں۔ مباحثے کی روایت عام تھی، جس کی برکت سے برادشت اور مخالف کی رائے کے احترام کا بھی رواج تھا۔

تنقید کا مطلب، آستینیں چڑھا کے منہ سے کف اڑانا ہرگز نہیں تھا۔

دانشور تو ایک جانب ہم جیسے طالبِ علم بھی گھنٹوں اِن موضوعات پے بات کرتے یا سنتے تھے۔ نئے اور نسبتاً کم علم ایسی محفل میں زبان دانتوں میں داب، کان کھلے اور ذہن چوکس کئیے بیٹھے رہتے۔ جن کتابوں کے نام بطور حوالہ سنتے ان کو پڑھنا فرض سمجھتے۔ ان سے کچھ سمجھ نہ پاتے تو اسے صریحاً رد نہیں کیا جاتا تھا بلکہ کسی بہتر یا قسمت ہوئی تو صاحبِ علم سے سمجھانے کی استدعا کی جاتی۔

نصاب سے کتاب تک ایک رشتہ تھا جو بعدہُ اخبار سے بھی لازم ہو گیا۔ عالمی اور ملکی سیاست پے رائے دھی سے پہلے تاریخ اور عالمی سیاست کو مکمل کھنگالا جاتا تاکہ بولنے سے پہلے یہ سمجھا جا سکے کہ کہنا ہے کیا؟

میں نے ہوش سنبھالتے ہی زندگی کتاب کے ساتھ گزاری اور مجھ جیسے کروڑوں ہوں گے۔ لیکن بائیس چوبیس سال کی عمر تک ہماری مجال نہیں تھی کہ ہم خود کو خود رائے سمجھیں۔ لگتا تھا کہ ابھی جانا کیا ہے؟ ابھی تو بہت کچھ باقی ہے، کچھ اور پڑھ لیا جائے، سمجھ لیا جائے، پوچھ لیا جائے، جان لیا جائے تو اپنی رائے کو مستند جان کے لب کشائی ہو۔

ہم نے اپنے سئنیرز کو بھی یہی کرتے دیکھا۔ سیاسی یا مذہبی دو انتہائی مخالف نظریات کے حامی دانشور بھی مباحث میں خندہ زن ہیں، دلیل اور ریفرنس نہلے پے دہلا آرہا ہے لیکن دونوں جانب ایک عالمانہ فراخ دلی اور تحمل برقرار ہے۔ عموماً یہ مباحث ”کسی اور وقت بیٹھیں گے“ جیسے جملے پے اختتام پذیر ہوا کرتے تھے کیونکہ ان کا اس سے بہتر انجام ممکن ہی نہیں۔

وقت آگے بڑھا اور ٹیکنالوجی نے جدید انسانی تاریخ کا وہ معرکہ طے کر لیا کہ ای میل سے شروع ہونے والا آسان پیغام رسانی کا سلسلہ پہلے ایم ایس این میسنجر بن کے دنیا کو ایک اسکرین تک لے آیا اور اج تو شاید ہی کوئی ہو جس کا واٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر کا اکاؤنٹ نہ ہو۔

دنیا کے دیگر اربوں افراد کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں ڈگری یافتہ افراد ان ایپلیکشنز کا استعمال کر رہے ہیں۔ کسی اہم خبر یا واقعے کی اطلاع اب اخبار یا نیوز چینل سے کہیں پہلے کسی کے فیس بک اسٹیٹس یا ٹوئٹ سے مل جاتی ہے۔

اس تیز رسانی نے جہاں دنیا کو جوڑ دیا۔ وہاں ایک ابتری جو پیدا ہوئی وہ یہ کہ سب کچھ جاننے کے لئے محض گوگل کو استاد مان لیا گیا۔ استاد اور دانشور سے جو انسانی ربط تھا اس کی جگہ اسکرین کے لمس نے لے لی۔ گوگل نہ اپ کو اچھی رائے پے داد دے سکتا ہے نہ کم عقلی کی بات پے تصحیح کر سکتا ہے۔ گوگل محض معلومات ہے۔ وہ نہ اپ کے شعری ذوق پے مسکرا کے جھومے گا، نہ اپ کے کسی بات پے جھنجھلا اٹھنے پے ادابِ محفل کا پاس رکھنے کو کہے گا۔

یعنی علم کی جگہ محض معلومات نے لے لی جس میں تربیت کا عنصر کم سے کم ہوتا چلا گیا۔ محض بیس سال میں بنی نوع انسان اپنے فون میں مقید ہو چکا ہے۔ رابطے اسی سے استوار ہیں، خاندان کے واٹس ایپ گروپس ہیں، سلام دعا، خیر خیریت اور شکوے شکایات تمام اسی سے مربوط و منقطع ہو رہے ہیں۔ فلاں نے فلاں کی بات پے گروپ چھوڑ دیا، فیس بک پے بلاک کر دیا، ٹویٹر پے ان فالو ہو گیا۔

انکھ سے انکھ کی مروت، دل سے دل کا جوڑ، ادبی محفل یا خاندان کی تقریب میں روایت کا پاس، بزرگوں اور رشتوں کا لحاظ اور علم شناس کی توقیر بتدریج معدوم ہو رہی ہے۔

ھر شخص اب بزعمِ خود عقلِ کُل ہے۔ مقبولیت کو معقولیت سمجھا جانے لگا ہے۔ فیس بک، انسٹا اور ٹوئٹر پے زیادہ سے زیادہ فالورز ہونا، زیادہ سے زیادہ لائکس اور کمینٹس کا انا، سماج میں کامیابی کی دلیل بن گیا ہے۔ اب ہر ایک اپنے تئیں دانشور ہے۔ صبر، تحمل اور مخالف کے سامنے بردباری جو مباحث کا جُز تھی۔ اب خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ نیم حکیم اب حکیم جالینوس اور مطلقِ کُل خود کو خضر کے مماثل جان کے مطمئن ہیں۔

ضرورت ہے کہ ایک بار پھر اس ادبی ماحول کو انسانی سطح پے مربوط کیا جائے۔ وہ چائے خانے جہاں علمی محافل سجا کرتی تھیں پھر آباد ہوں۔ رویوں کی تیزی کو علم دوستی میں تبدیل کیا جائے۔ اگر اپنی کہی جائے تو آوروں کی سننے کا حوصلہ اور دلیل کو عقل کی بنیاد پے پرکھ کے مانا یا رد کیا جائے۔ عقل کا منبہ انسانی ذہن ہے مشینی گوگل یا سماجی رابطے کی سائٹس نہیں ہیں۔ یہ حقیقت جتنی جلد تسلیم کی جائے گی انٹر نیٹ کا معقول استعمال تبھی ممکن ہے ورنہ رفتہ رفتہ انسانوں سے انسانیت اٹھتی جائے گی اور محض ایک سانس لیتا روبوٹ رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •