مسئلہ کشمیر: حکومت کے بڑے فیصلے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مودی سرکار نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 Aکو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی صوبہ بہار اور پنجاب جیسی حیثیت میں تبدیل کر دیا ہے اور کشمیری مسلمانوں کو فلسطین کی طرح بے وطن و بے یارومدد گار کرنے کے لئے بھارت نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ بھارت کے اس اقدام کو اٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر میں غیر مسلموں کو آباد کیا جائے تاکہ کشمیریوں کی جائیدادوں ’وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں اور کشمیری مسلمانوں کو دربدر کر دیا جائے۔

بھارت کشمیر میں بین الا اقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے کشمیر کا مسئلہ آج بھی بین الا اقوامی سطح پر ایک متنازع ہے اور اسی کے باعث دو جوہری ممالک کی طاقتوں کے درمیان فوجی تناؤ کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو نیو کلئر فلیش پوائنٹ (Nuclear Flash Point) بھی کہا جاتا ہے۔ 1947 ء کو جب پاک ’بھارت کی تقسیم ہوئی تھی تب مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقوں پر بھارت کی بنیاد رکھی گئی تھی مقبوضہ کشمیر کی ریاست کا بڑا علاقہ مسلم اکثریت پر مشتمل تھا اور اس پر ہندو راجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی تقسیم ہند کے صرف دو ماہ تک راجہ ہری سنگھ اس ریاست کو آزاد اور خودمختار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس ریاست کے مستقبل کے فیصلے کے لئے راجہ ہری سنگھ نے پاکستان اور بھارت کے سامنے ایک معاہدہ بھی پیش کیا تاکہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔

کشمیر میں صورتحال اس وقت تیزی کے ساتھ تبدیل ہونا شروع ہوئی جب وہاں بھارت سے علیحدگی کی تحریک نے سر ابھارا اور اس صورتحال کے پیش نظر راجہ ہری سنگھ نے بھارتی حکومت سے فوجی امداد طلب کر لی 27 اکتوبر 1947 ء کو بھارت نے کشمیر میں اٹھنے والی اس تحریک کو دبانے کے لئے وہاں فوج اتار دی اور پاکستان نے بھی اپنی فوج کو کشمیر میں اتار دیا کشمیری حریت پسندوں کی یہ تحریک آزادی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا باعث بنی۔

اسی جنگ کے دوران اس وقت بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کی رائے جاننے کے لئے ریفرنڈم کروائیں گے تقریبا دو ماہ بعد بھارت کشمیر کے معاملہ کو اقوام متحدہ لے گیا 13 اگست 1948 ء کو اقوام متحدہ میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی افواج کو کشمیر سے واپس بلائیں تاکہ ریفرنڈم کروایا جا سکے لیکن اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ریفرنڈم نہ ہو سکا۔

یکم جنوری 1949 ء کو جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی تو کشمیر ایک متنازع علاقہ بن چکا تھا جنگ بندی کے لئے جو زمین پر لائن لگائی گئی اس سے کشمیر دو علاقوں میں تقسیم ہو گیا اور بھارت آج کشمیر کے دوتہائی حصہ کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ 1965 ء کی جنگ کے تناظر میں دیکھ لیں جب دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر شب خون مارنے کی ناکام کوشش کی تو اس جنگ کی بنیاد بھی مسئلہ کشمیر ہی تھا۔ 1972 ء میں جب شملہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین طے پایا تو جنگ بندی کی لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا 90 کی دہائی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت سے علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی یہ وہی وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دنیا میں اپنے آپ کو جوہری طاقت منوا چکے تھے۔

1999 ء میں پاکستان اور بھارت کی فوجیں ایکبار پھر آمنے سامنے آئیں جب پاکستانی فوج نے مقبوضہ کشمیر سے ملحقہ علاقے میں بھارت کی فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور اس قبضہ کو چھڑوانے میں بھارت کی زمینی اور فضائی فورسز نے بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور یہ لڑائی کارگل کی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ کشمیر میں مسلمانوں کی جدوجہد آزادی 72 برس مکمل کر چکی ہے 2016 ء میں جب کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت نے اس تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی تب سے کشمری نوجوان جوق در جوق کشمیر کی تحریک حق خودارادیت میں شامل ہو رہے ہیں اور کشمیر کی تحریک میں تیزی آنے کے باعث بھارت کی سات لاکھ افواج ان نہتے کشمیریوں کے سامنے بے بس و لاچار نظر آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار کشمیر کی اس تحریک کو ختم کرنے کی سفاکانہ کوشش کی ناکامی کے بعد شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی اور یہ توقع کی جا رہی تھی کہ مودی سرکار اپنی اس ناکامی پر ضرور کوئی مہلک قدم اٹھائے گی جس سے آزادی کی اس تحریک ظلم و بربریت کے تحت سفاکانہ طریقے سے کچلا جا سکے۔

کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت انتہاؤں کو چھو رہی ہے بھارت بے دریغ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ کشمیر پر اس آرٹیکل کے خاتمے سے بھارت نے اپنے غاصبانہ قبضے کو آئینی اور قانونی جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے جب کہ بین الا اقوامی قوانین آج بھی کشمیر کو ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ بھارت شاید بھول گیا جب تک کشمیر کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے حل نہیں کیا جاتا اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتابھارت کے اس اقدام نے سیکورٹی کونسل اور اقوام متحدہ کے دائرہ کار کو چیلنج کیا ہے جس سے پوری دنیا بھارت کے اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو ماننے سے انکار کر رہی ہے۔

اور بھارت کے اندر بھی اپوزیشن سمیت طاقتور آوازیں مودی سرکار کے اس اقدام کو بھارت کی تقسیم کے آغاز سے تشبہہ دے رہی ہیں جو بھارت کی بقا اور سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بروقت اور بر محل بھارت کے خلاف بڑے فیصلے لے کر بھارت سمیت دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کشمیری مسلمانوں کی اخلاقی ’سیاسی اور سفارتی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا پاکستان نے بھارتی سفیر کی بیدخلی‘ سفارتی تعلقات محدود ’تجارت معطل‘ واہگہ بارڈر بند ’چودہ اگست کو یوم یکجہتی کشمیر منانے‘ بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منانے ’پاکستانی سفیر کو دہلی نہ بھیجنے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاک افواج کو الرٹ رہنے اور بھارت کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کے معاملے کو سلامتی کونسل لیجانے جیسے فیصلے کر کے ایک زندہ قوم کے طور پر بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کا دندان شکن جواب دیا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو بھی یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ کی تحریک کا حصہ بنانے کے لئے کمیٹی تشکیل دے تاکہ غاصب ’مکار اور ازلی دشمن کو یہ پیغام زناٹے دار تھپڑ کے طور پرپہنچ سکے۔ بھارت پاکستان کی جانب سے اتنے سخت ردعمل کی امید نہیں رکھتا تھا ان ناگفتہ بہ حالات کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر بھارت میں ہی اپوزیشن اور کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے اپنی ہی ریاستی اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے خلاف سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان حالات کی سنگینی اس بات کی غماز ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کی تباہی و بربادی کی بنیاد بن چکا ہے اگر عالمی قوتوں نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے کردار ادا نہ کیا تو پاک ’بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ غزوۂ ہند میں تبدیل ہو جائے گی جس کی بنیاد بھارت کشمیر میں اٹھائے جانے والے غیر آئینی اقدام سے رکھ چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
غلام مصطفیٰ کی دیگر تحریریں
غلام مصطفیٰ کی دیگر تحریریں