سُلگتا کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر پہ ایک صدی سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی سکھوں اور ڈوگروں کی غلامی میں ہر طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی رہی۔ اُسی زمانے میں مہاراجہ ہری سنگھ 1925 میں ریاست کشمیر پہ گدی نشین ہو کر عیش و نشاط کی بدمستیوں میں غرق ہو گیا۔ ہری سنگھ کا زیادہ تر وقت بمبئی، کلکتہ، لندن اور پیرس کی رنگین گلیوں میں گزرتا۔ پیچھے میدان خالی دیکھ کر ریاست کے ہندو اہل کاروں کی چیرہ دستیاں کچھ یوں بڑھیں کہ مسلمانوں کی عزت و ناموس اور ایمان پر بھی ہاتھ ڈالنے لگے۔

ریاست میں 1931 میں پہلے تو مسلمانوں کی ایک مسجد شہید کر دی گئی پھر کوٹلی میں زبردستی جمعے کی نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ ان واقعات سے مسلمانوں کی دل شکنی ہوئی اور جگہ جگہ احتجاجی جلوس اور جلسے نکلنا شروع ہو گئے۔ 1929 میں سرینگر میں شیخ عبداللہ نے ”ریڈنگ روم پارٹی“ کے نام سے تنظیم بنائی تب مسلمان کشمیریوں کو بیداراورمنظم ہوتے دیکھ کر انتہا پسند ہندوؤں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگے اور انہوں نے ڈوگرہ حکام سے مل کر ہندوستان سے ایک جارحانہ ہندو تحریک RSS، را شٹریہ سیوم سیوک سنگھ کو دعوت دی کہ وہ جموں و کشمیر میں اپنے اڈے قائم کرنا شروع کر دے۔ RSS نے سرینگر، جموں، میر پور، کوٹلی، کٹھوعہ، سانبہ اور ادھم پور میں ہندو انتہا پسند اقلیت کو جنگی تربیت دینا شروع کر دی۔ ریاست جموں و کشمیر کی 80 فی صد آبادی مسلمانوں کی تھی۔ کشمیر کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گزرتی تھی اور ڈاک کا نظام مغربی پاکستان کے ساتھ بھی قائم تھا۔ کشمیر کی تمام درآمدات اور برآمدات کا رستہ بھی پاکستان سے جڑا ہوا تھا۔

کانگریس کے لیڈروں نے مہاراجہ ہری سنگھ اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے مل کر سازشوں کا ایسا جال بُنا کہ مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ باشندے آج بھی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ مہاراجہ کشمیر نے پاکستان بنتے ہی پاکستان کی حکومت سے ایک standstill agreement کیا جس کے مطابق ریاست کے ساتھ ڈاک اور تجارتی نظام پاکستان کے ساتھ بدستورقائم رہے گا۔ لیکن یہ محض دھوکا ہی تھا اس معاہدے کے طے ہوتے ہی مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا۔

RSSنے مسلمانوں پہ قتل و غارت، لوٹ مار اور خواتین کی بے حرمتی کی آڑ میں قیامت برپا کر دی۔ تب بھی بے شمار مسلمانوں کو سیالکوٹ میں پناہ دینے کا جھانسہ دے کر انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ افسوس صد افسوس! کہ آج بھی یہ گھناؤنا کھیل جاری ہے۔ آج بھی محبت اور رنگوں سے گُندھی اس وادی میں مظلوم و مغموم کشمیریوں کے قدم سبزے کی بجائے خون پر پڑتے ہیں۔

مانو جیسے چاند کی چاندنی سے خون رسنے لگا ہے۔ عمر کے چاک پہ رکھا زندگی کی مٹی کا چاک ایک ہی دفعہ گھُومتا ہے۔ کشمیریوں کی زندگی آزادی کے لیے بھمبیری کی طرح چکر کاٹ رہی ہے۔ کب سے سُنتے آرہے ہیں کہ سرحدوں پر کشیدگی ہے۔ کتنی نسلیں برباد ہو گئیں کتنے لوگوں کے سروں میں چاندی اُتر آئی لیکن کشمیر کا معاملہ کبھی کسی نے حل کرانے کی کوشش ہی نہ کی۔ کشمیر میں صنوبر اور چنار جلتے رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک ڈرامہ سٹیج ہو رہا تھاجس کا ڈراپ سین بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے کر دیا ہے۔

افسوس صرف اس بات کا ہے اس کے کلائمیکس میں صرف مظلوم کشمیری جو اپنی آزادی کی بات کرتے ہیں مارے جاتے ہیں۔ بھارت مارٹر گولوں کے بعد کلسٹر بم پھینکنے کی بد ترین سطح تک گیا لیکن جب اس سے بھی اس کی وحشیانہ آگ نہ بُھجی تو اب آزاد کشمیر پر LOCپہ بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی اور وہاں بھی لوگوں کی زندگیوں میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی وادی پہ پچھلے چار پانچ دنوں سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کرفیو ہٹ جانے کے بعد وہ لوگ احتجاج نہیں کریں گے؟ جس مکاری، سازش اور فریب کے ذریعے بھارت نے کشمیر پہ اپنا قبضہ کیا تھا یہ ساری دنیا پہ واضح تھا اور ہے۔ کشمیری پنڈت جواہر لال نہرو نے بین الاقوامی سطح پر ببانگِ دُہل یہ جھوٹ بولنا شروع کیا کہ انڈیا کے ساتھ کشمیر کا یہ الحاق محض وقتی ہے الحاق کا حتمی فیصلہ جموں و کشمیر کے باشندوں کی آزادانہ plebiscite کے ذریعے کروایا جائے گا۔ جواہر لال نہرو کے اعلانات میں سے ایک اعلان پیش کیا جا رہے ہے۔

”Kashmir should decide question of accession by plebiscite or referendum under international auspices such as those of United Nations۔ “
Pandit Jawarharlal Nehru
Letter dated Nov، 21، 1947
Prime Minister of Pakistan

یہ سب وعدے اس وقت بھی جھوٹ کاپلندہ تھے اور آج بھی اقوامِ عالم کی نظروں میں بس دُھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ ایک طرف تو سلامتی کونسل کی بنیادی قرار داد کے مطابق کشمیر سے فریقین کی مسلّح افواج کے انخلا کے بعد الحاق کا مسئلہ ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے طے ہونا تھا لیکن بھارت نے ان تمام قراردادوں پر عمل کرنے کی راہ میں روڑے اٹکانا شروع کر دیے۔ 1949 میں یو این او نے پاکستانی اور بھارتی افواج کو کشمیر سے واپس بلانے کا پروگرام طے کیا جس میں پاکستان نے اپنا پروگرام پیش کر دیا بھارت وہاں بھی ٹال مٹول کرکے فوجیں باہر نکالنے سے مُکر گیا۔

اسے کہتے ہیں۔ ”بغل میں چُھری منہ میں رام رام“ جواہر لال نہرو کی وعدہ خلافیوں کا سلسلہ آج سفاک مودی کی آرٹیکل 370 کو ختم کر کے بربریت کی شکل واضح کر دی ہے۔ اگر کشمیری شروع ہی سے آزادی کا بانس بجا لینے میں کامیاب ہو جاتے تو وہاں اتنے بڑے پیمانے پر قتل ِ عام نہ ہوتا۔ مسئلہ کشمیر یو این او کی قدیم ترین قرار دادوں میں مقفل پڑا ہے۔ پھر 1966 میں اسے معاہدۂ تاشقند کی بھینٹ چڑھا دیا گیا پھر چھے برس بعد اسے شملہ معاہدے میں ٹھونک دیا گیا اور اب آرٹیکل 35 A ختم کر کے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا ہے جسے ہر پاکستانی مسترد کرتا ہے۔

کشمیریوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔ پچھلے پانچ دنوں سے وہاں کرفیو لگا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ ٹی وی اور ہر طرح کا مواصلاتی نظام کاٹ دیا گیا ہے۔ مسلم امہ کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے صرف ترکی اور ملائیشیا کی طرف سے مذمتی بیانات آئے ہیں۔ پاکستان سلامتی کونسل میں اپنا مدعا لے کر جا رہا ہے لیکن اس سے کیا ہوگا؟ کیا بھارت خون ریزی روک دے گا؟ کہیں ہمارے ساتھ ہاتھ تو نہیں ہو گیا؟ کہیں ٹرمپ نے ثالثی کے کردار میں ہمیں ماموں تو نہیں بنا دیا؟

آخر میں دُکھی دل اور نم آنکھوں سے یہ لائنیں لکھ رہی ہوں کہ میرے عظیم بابا قائدِ اعظمؒ جب نومبر کے مہینے میں لاہور میں ماؤنٹ بیٹن کو ملے تو جناح صاحب کے چہرے پہ آزردگی چھائی تھی اور کشمیر میں پیدا کردہ کشیدہ حالات کے بارے میں وہ برابر یہ کہتے رہے کہ انہوں نے جس ملک کی بنیاد رکھی ہندوستان وحشیانہ طور پر اسے ختم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ شدید بیماری میں جب انہیں زیارت سے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا تو وہ نڈھال تھے لیکن پھر بھی اکثر عالمِ خواب میں ان کی زبان سے کشمیر، مہاجرین، آئین اور پاکستان کے الفاظ سنائی دیتے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •