ڈاکٹر یاسمین راشد: ایک مسیحا، ایک مجاہدہ

جب بھی علم و خدمت اور مزاحمت کے امتزاج کی کوئی مثال درکار ہو، جب بھی عورت کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہو اور جب بھی استقامت ہمدردی اور پیشہ ورانہ شرافت کا نام لیا جائے تو ایک عورت کی شخصیت روشن ستارے کی مانند جگمگاتی نظر آتی ہے۔ وہ نام محض ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد ہے۔ ایک ایسا عہد جو علم، عزم اور انسانی خدمت سے لمحہ لمحہ عبارت ہے۔ 21 ستمبر 1950 کو پنجاب

Read more

جَلا وطن کی مناجات

وجاہت مسعود کو کون نہیں جانتا؟ جس کا بھی تعلق کتابوں، کالموں اور جمہور سے ہو گا وہ وجاہت مسعود سے واقف نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔ ہم بھی انہیں بہت پُرانا جانتے ہیں۔ اُن کی کی نئی کتاب صابر نذر جیسے منجھے ہوئے آرٹسٹ کے ہاتھ سے بنائے گئے سرِورق سے سجتی سجاتی ہم تک پہنچی تو ڈرتے ڈرتے قلم اُٹھایا کہ میں اپنا نا چیز سا تبصرہ اس کتاب پر کروں۔ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا اُن

Read more

ایک نیا خواب، ایک نئی ذمہ داری

  بھارت میں بلکہ پورے خطے میں نریندر مودی ایک نئی تاریخ لکھنا چاہتا ہے کہ ”میں نے گاندھی، امبیڈ کر کے دیس کو ہندو راشسٹ بنا دیا۔“ پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں رہا ہے۔ جنگ حل نہیں بلکہ اُم المسائل ہے۔ مودی کو ابھی بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ سیز فائر سے مُنکر ہو رہا ہے تو پہلے دیکھ لیتے ہیں سیز فائر ہے کیا۔ اُردو میں اسے جنگ بندی کہا جاتا  ہے۔ کسی بھی

Read more

لیک ڈسٹرکٹ کی بیٹریکس پوٹر

کرونا سے پہلے تک میں ہر سال برطانیہ جایا کرتی تھی۔ ماں باپ کے جانے کے بعد میرے بھائی جان کا گھر ہی میرا میکہ ہے۔ بچپن ہی سے انگریزی کتابیں پڑھتے ہوئے انگلینڈ کی سر زمین جیسے آشنا سی لگنے لگی خصوصاً کلاسک ناولز میں بیان کیے گئے دیہی علاقے۔ آج اپنے سٹڈی روم میں کتابیں صاف کرتے ہوئے بچوں کی Peter Rabbit اور Floppsy کی شاندار کتابیں ہاتھ لگیں تو دل نے چاہا Beatrix Potter پر لکھا جائے

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں!

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا

Read more

پاکستان کی سیاست اور جیلیں

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیشہ انتخابات کے نتیجوں میں ایسی حکومتیں آنی چاہئیں جو ملک کے عوام کی اُمیدوں، ضرورتوں اور خواہشات کو نہ صرف سمجھیں بلکہ ان سب چیزوں کا مداوا بھی کریں۔ پاکستان میں متعدد انتخابات ہوتے رہے مگر صرف مراعات یافتہ طبقے ہی کے افراد کامیابی کے زینوں پر چڑھتے رہے۔ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ ہی سے ہنگامہ خیز رہا ہے۔ پاکستان کی مختصر سی سیاسی تاریخ کو پڑھنے سے پتا چلتا ہے

Read more

پنسلوانیا کے پہلے بجلی کے شہر سکرینٹن کے تاریخی مقامات

سکرینٹن شہر سے ہماری پسندیدگی محبت میں بدلتی جا رہی تھی۔ ایک تو شاداب اور ترو تازہ سبزے سے ڈھکی ہوئی گلیاں جو پُر پیچ تو ہر گز نہ تھیں بلکہ اونچی نیچی گھاٹیوں پر مشتمل بَل کھاتی ہوئی سڑک نما گلیاں نہایت خوبصورت لگتی ہیں۔ لبِ سڑک ہر گھر کے آگے چھوٹے چھوٹے داخلی آنگن جو عموماً خوبصورت پتھروں سے بنے ہوتے ہیں اور صاحبِ خانہ کے مزاج کے مطابق سجے ہوتے ہیں۔ ان کی آرائش و زیبائش دیکھ

Read more

پنسلوانیا کا تاریخی شہر سکرینٹن

مارچ کا مہینہ بہار کا ہر کارہ ہے۔ نئی کونپلیں پُھوٹتی ہیں۔ کچھ تیز اور کچھ نرم دُھوپ جب گھاس پر پڑتی ہے تو فضا میں گھاس اور نرم نوخیز کونپلوں کی خوشبو رچ بَس جاتی ہے۔ پچھلے سال اسی مہینے کے اوائل میں ہم نے امریکہ کا رَختِ سفر باندھا کہ بیٹی ہمیں بُلا رہی تھی کہ ماں آئے اور وہ سر زمین دیکھے جہاں قسمت اسے شادی کے بعد لے گئی تھی۔ خیر ہم اکیلے بھلا کیونکر جاتے

Read more

بگ آئیز ایک سچائی!

ہر سال عورتوں کے عالمی دن پر دل چاہتا ہے کہ عورتوں کے مسائل کا رونا نہیں رونا کچھ اچھی باتیں کرنی ہے۔ مگر بُرا ہو اس تقدیر کا جو ہمیشہ تکلیف ہی پر روشنی ڈالتی ہے۔ پچھلے سال میں نے ”بگ آئیز“ کے نام سے ایک فلم دیکھی۔ بحیثیت ایک مصّورہ میں اس کو گہرائی سے دیکھتی جاتی تھی آنکھوں سے چُپ چاپ آنسو بہے جاتے تھے۔ آپ بھی سُنیے! یہ فلم ایک سچی کہانی پر مبنی ہے۔ مارگریٹ

Read more

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی آئی نہیں

فیض میلہ سج چُکا ہے بلکہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ فیض احمد فیض صاحب پر بات کرنا یا کچھ لکھنا جیسے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ فیض صاحب کی شاعری محبت، مزاحمت اور اُمیدوں کے ملے جُلے نرم جذبات کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ہے۔ فیض صاحب نے اپنے شعری اسلوب میں بہت دل کشی سے وہ سادہ باتیں کیں جن میں اتنی گہرائی ہے کہ وہ قاری کے دل میں اُتر کر لبوں

Read more

فرسودہ نظام کی اصلاح کب ہوگی؟

ہماری اقتصادی حالت صورت بہت خراب اور دیوالیہ پن کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان نے 11 جولائی 1950 میں آئی ایم ایف جوائن کیا تھا۔ ہمارے نام نہاد لیڈران نے کرپشن اور اقربا پروری کے سائے تلے تمام حکومتی ادارے اور سرکاری کمپنیوں کو نا اہل ڈائریکٹروں کی سرپرستی میں چلا رہے تھے اور آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ کہتے ہیں کہ جیسی قوم ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ مگر میرا دماغ آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ

Read more

فرانسیسی مصّور کلاڈ مَونے اور میں

جب ہم این۔ سی۔ اے میں پڑھ رہے تھے تو میڈم سلیمہ ہاشمی نے ہمیں ایک ذمے داری سونپی جو کلاس ہی کا کام تھا۔ یہ کام ہمیں امپریشنسٹ مصوروں کی پینٹنگز کو روشنی اور رنگوں کے تال میل سے ہُو بہُو ان کے انداز میں کاپی کرنا تھا۔ اس اندازِ مصوری میں چھوٹے اور تیز برش سٹروک لگا کر روشنی اور سائے کے امتزاج سے پینٹنگز بنائی جاتی تھیں۔ اس کا مقصد قدرتی مناظر اور پینٹر کے جذبات کو

Read more

ٹرمپ کارڈ چل گیا

20 جنوری 2025 کو امریکہ کے 47 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کی بحیثیتِ صدر یہ دوسری مدت ہے۔ اپنی اس افتتاحی تقریب میں وہ بار بار یہ باور کراتے رہے کہ ”امریکہ کا سنہری دور اب شروع ہو رہا ہے“ ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ”میں امریکہ میں ریڈیکل اور کرپٹ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایکشن لوں گا“ ۔ امیگریشن اور سرحدوں کے راستوں کی سیکیورٹی بڑھانے کی بات بھی کی۔ انہوں

Read more

اب جسٹن ٹروڈو سے ہی سیکھ لیں!

کینیڈین سیاست میں آئینی بادشاہت موجود ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کے تعلقات برطانوی شاہی خاندان سے ہیں۔ بادشاہ وہاں کی ریاست کا علامتی طور پر سربراہ ہے۔ کینیڈا میں گورنر جنرل بادشاہ کا نمائندہ ہوتا ہے مگر تمام تر اصل اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ وہاں کا وزیرِ اعظم اور کابینہ اہم فیصلے کر کے اپنے ملک کی سمت طے کرتے ہیں۔ کینیڈا جیسے بڑے ملک کی سیاسی روایات میں بہت تنوع ہے جس میں

Read more

سنہ 2024 کی سیاست ایک رومانوی کہانی

نئے سال میں ہلکی ہلکی سی دھوپ بادلوں میں سے جھانکتی ہوئی ماحول کو تازہ نئی روشنی دے رہی ہے۔ نیا سفر شروع کرنے سے پہلے 2024 ء میں مجموعی طور پر پاکستان کی سیاست پر ایک نظر ڈالنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاست یوں تو ہمیشہ سے ہی مگر خصوصاً 2024 ء میں سیاست ایک پیچیدہ اور پُرجوش داستان بنی رہی جس میں عوام کے جذبات، خواب، سچ اور جھوٹ کے ملے جلے امتزاج نے ہلچل مچا کے

Read more

یَا اللہ کُرسی سے بچا

میرے بچپن کی سہیلی کی مرحومہ امی جو گورنمنٹ ساہیوال گرلز کالج کی پرنسپل تھیں بتایا کرتی تھیں کہ جب ان کا تبادلہ اسلامیہ کالج کُوپر روڈ لاہور میں ہوا تو وہ باقاعدہ یہ دُعا مانگا کرتی تھیں : ”یا اللہ کُرسی سے بچا!“ کیوں کہ انہوں نے سُن رکھا تھا کہ لاہور میں کسی بھی کالج کی پرنسپل شِپ اختیار کرنا کسی بھی ایمان دار بندے کے لیے جان جوکھوں کا کام ہے۔ وہ صحیح معنوں میں ایک بے

Read more

سیاسی گیس لائٹنگ

حد درجہ دروغ گوئی کے لیے آج کل ایک نئی انگریزی کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔ اس اصطلاح کا نام gaslighting ہے۔ ایسے لوگ نفسیاتی طور پر ایک دوسرے کو سازباز سے الجھا کر معاملے کو شدید ابتری کا شکار کر دیتے ہیں۔ دروغ گوئی کرنے والا یعنی معاملے سے ناجائز فائدہ اٹھانے والا جو کہ دشنام طراز ہوتا ہے وہ اپنے ہی ظلم کا شکار ہونے والے کے اندر شکوک و شبہات کے بیج اس طرح بَو دیتا

Read more

سب اپنے ہی تھے

میاں محمد بخش نے کیا خوب کہا تھا: دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا کیا ڈی چوک پر مرنے والے دشمن تھے۔ نہیں سب اپنے ہی تھے۔ انقلاب تو نظام کی تبدیلی کا نام ہوتا ہے۔ جب تک نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی انقلاب کیسے آئے گا؟ شاید موجودہ حکومت نظام کی تبدیلی سے ہی گھبرا رہی ہو؟ ریاست کی ایک لغوی تعریف ہوتی ہے اور ایک معنوی۔ لغوی مطلب کہ ریاست ایک ایسا قانونی اور

Read more

پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی

پیارے وطن پاکستان میں جہاں بے شمار مسائل ہیں وہیں پر دہشت گردی وہ پیچیدہ اور تکلیف دہ مسئلہ ہے جو اب تک سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی جانیں نگل چکا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگ دہائیوں سے تشدد، شدت پسندی، سیاسی کش مکش، عدم استحکام اور سماجی طبقاتی جال میں ایسے پھنسے ہیں کے آج تک نکل نہیں پائے۔ دہشت گردی کے پیچھے اصل وجہ معلوم ہونے کے باوجود ہم آج تک اس کا قلع قمع

Read more

مُلازم رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کر لیں

محبتوں کے دُکھ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں تو یہ عمر بھی نہیں دیکھتے۔ میں نے چائلڈ لیبر کے خلاف بہت لکھا ہمیشہ غریبوں کا ساتھ دیا مگر اس دفعہ مجھے تصویر کا دوسرا رُخ بھی نظر آیا۔ جب تک میں نے بُرائی کے پھل کو نہیں دیکھا تھا میں سمجھتی رہی کہ لوگ غریبوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ہم اپنی نواسی کی پیدائش کے چھے ماہ بعد ہمراہ بیٹی

Read more

میری این نےخوشی کا راز کیسے پایا؟

ہر حال میں پُر امید رہنا اور تصویر کا روشن پہلو دیکھتے رہنے کا مطلب اوپٹم اِزم یعنی رجائیت پسندی ہے۔ زندگی کے تلخ معاملات میں بھی ہر دم پُر امید رہنے والا کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ مایوسی اکثر سیاہ بادلوں کی طرح لوگوں کے دلوں پر چھا جاتی ہے مگر وہ انسان جو خوش اور اُمیدانہ ہوتا ہے کبھی اندھیروں کا شکار نہیں ہو سکتا ۔ مغربی ادب میں تو اس پر بے شمار کتابیں لکھی جا

Read more

ریاست کا قومیت میں ڈھلنا ضروری ہے!

قائدِ اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد یہ ملک بیوروکریسی اور صنعت کاروں کی نذر ہو گیا۔ صنعت کار اور شاہی افسران سیاسی عہدوں پر بھی قابض ہو گئے اور قومی وسائل پر بھی۔ پچھلے کئی برسوں سے ہمارے ملک میں نام نہاد بے رحم جمہوریت کا راج ہے۔ اسی جمہوریت کے بارے میں جارج برنارڈ شا نے کہا تھا: ”جمہوریت انتخابات کا وہ متبادل ہے جو چند فاسدوں کی تقرری سے عوام کے استحصال

Read more

برین ڈرین ہونے سے بچائیے!

وطن سے محبت کہیں دلوں کے بھیتر ایسی بستی ہے جیسے پھولوں میں خوشبو۔ وطن کی محبت بارش کی لطافت سے سرخ پھولوں کو نمو بخشتی ہے۔ کبھی وطن سے دور رہنا پڑے تو طبیعت میں گرانی اور تھکاوٹ اترنے لگتی ہے۔ اپنے وطن اور اس میں بکھری ہر سہولت کو چھوڑ کر کون کافر اجنبی دیسوں میں جانا چاہے گا۔ مگر ہمارے سیاست دان بغیر سوچے سمجھے نجانے وطن اور اس کے اداروں کو کس طرف ہانکے لیے جا

Read more

Symphony of light

اگر کبھی مایوسیاں کالی گھٹاؤں کی طرح چاروں اَور چَھا جائیں، اندھیروں میں انسان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہے تو ایسے میں کہیں ایک باریک سی روشنی کی کرن بھی اُمیدوں کے دیے جلا دیتی ہے۔ روشنی اور اس سے پُھوٹتی کرنیں ہی بُھول چُکے راستوں کا تعین کرتی ہیں۔ انگریزی کی مشہور کہاوت ہے: "Every cloud has a silver lining!” ۔ سِلور لائننگ یہاں پر ایک استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے یعنی کسی بھی بے نُور اور ملول

Read more

امریکہ کی جانب پہلی اڑان!

کبھی سوچا نہیں تھا کہ امریکہ کا سفر کروں گی۔ طویل ترین فلائیٹ کا سوچ کر ہی دل بیٹھ جاتا تھا۔ پہلے تو مجھے ویزا لگوانے کے لیے اسلام آباد ایمبیسی میں جانا ہی دشوار ترین اقدام لگا تھا۔ بیٹی کے پر زور اصرار پر ہم سب نے یہ کٹھن سفر بھی طے کر لیا۔ ڈیڑھ سال کے بعد ہمارے انٹرویو کی باری آ گئی۔ شدید گرمی اور کڑکتی دھوپ میں پارکنگ لاٹ سے نکل کر ہم ٹوکن لینے کو

Read more

سرکاری خدمات کے محکمے

سول سروس میں لفظ سول کا لغوی معنی ہے ”ملکی اجتماعی شہری گروہ“ اور سروس کا مطلب ہے ”نوکری اور خدمت کرنا۔“ لہذا سول سروس دراصل اجتماعی طور پر شہریوں کی خدمت کرنے کی نوکری ہے۔ ذرا سوچیے! کتنی خوش نصیبی کی بات ہے کہ آپ نوکری بھی کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہے آپ کا گھر بار بھی چلتا ہے اور رب تعالیٰ سے خدمت کا ثواب بھی پائے چلے جا رہے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں بیورو

Read more

سرکاری خدمات کے محکمے

سول سروس میں لفظ سول کا لغوی معنی ہے ”ملکی اجتماعی شہری گروہ“ اور سروس کا مطلب ہے ”نوکری اور خدمت کرنا۔“ لہذا سول سروس دراصل اجتماعی طور پر شہریوں کی خدمت کرنے کی نوکری ہے۔ ذرا سوچیے! کتنی خوش نصیبی کی بات ہے کہ آپ نوکری بھی کر رہے ہیں جس سے ظاہر ہے آپ کا گھر بار بھی چلتا ہے اور رب تعالیٰ سے خدمت کا ثواب بھی پائے چلے جا رہے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں بیورو

Read more

عوام اب کالی دال نہیں کھائیں گے

عوام کے اقتصادی اور معاشی پریشانیوں کا فوری حل تو شاید کسی بھی حکومت کے پاس نہیں۔ سیاست دان کہہ رہے ہیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ظاہر ہے سب سے اوکھا کام مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ لوگ گیس کے بلوں سے بلبلا اٹھے ہیں۔ دو دن پہلے میں ایک نجی ہسپتال اپنے چیک اپ کے لیے گئی۔ واپسی پر اپنی کار کے انتظار میں داخلی دروازے پر میں گارڈ سے درخواست کر کے اس کی کرسی پر بیٹھی

Read more

یادوں میں بسی خوشبو کا سفر

خوشبو بھی کتنی عجیب اور دل کش چیز ہے۔ ہواؤں اور فضاؤں میں اڑتی ہوئی ایک دوسرے تک پہنچ جاتی ہے۔ آپ اداس بیٹھے ہوں یا مغموم ہوں قریب سے کوئی خوشبو سے بھرا ہوا جھونکا گزرے تو طبیعت سرشار ہو جاتی ہے۔ خوشبوؤں کے ساتھ بہت سے جذبات جڑے ہوتے ہیں۔ خوشبو کے آنچل سے یادوں کی ایک بارات نکلتی ہے۔ خوشبو وہ مسافر ہے جو محبت کی راہ پر پیدل چلتی ہے۔ خوشبو کے مختلف رنگ ہوتے ہیں

Read more

حکومت تو امانت ہے!

جمہوریت کا سفر اپنے آزاد پنکھوں پر ہوتا ہے۔ جب پرندوں کو پنجروں میں رکھا جاتا ہے تو لا شعوری طور پر وہ پنجرے دراصل دلوں میں بن جاتے ہیں۔ پنجروں کی دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر لہو رسنے لگتا ہے۔ جب قید انتہاؤں پر پہنچ جائے تو پھر ٹوٹے ہوئے کمزور پر پھڑپھڑانے لگتے ہیں۔ جب قیدی پرندوں کی ڈاریں نکلتی ہیں تو فضاؤں میں رنگ اور آزادی بکھرنے لگتی ہے۔ کچھ ایسا ہی ماحول اس دفعہ آٹھ

Read more

دم والی بوتل کا جن

کہتے ہیں فن کار کسی بھی ملک کا سفیر اور پیام بر ہوتا ہے۔ فن کار خواہ شاعر ہو، ادیب ہو، لکھاری ہو، چتر کار ہو، گلو کار ہو، موسیقار ہو یا گیت کار ہو وہ باد نسیم کی طرح فضاؤں میں اپنے فن سے معطر خوشبوئیں بکھیرتا ہے۔ فن کار ایک سماج میں بستا ہے۔ وہاں کی مٹی میں نہ صرف امن کے بیج بوتا ہے بلکہ اس کو پانی بھی دیتا ہے تاکہ بہار کے موسم میں محبت

Read more

اداسی، ٹھنڈ اور جبر سے بھرے دن!

پچھلے دو دن سے دل کچھ مغموم، اداس اور بے سمت سا ہے۔ بے نام سی اداسی سے طبیعت بوجھل ہو رہی ہے۔ کسی کام میں دل نہیں لگ رہا۔ مختلف اوقات میں بہت سی کتابیں بھی پڑھنا شروع کیں۔ مگر ذہن میں بے ہنگم سے خیالات آتے چلے گئے۔ دل موسم کی دھند، ٹھنڈ اور اداسی میں ڈوبا ہوا ہے مگر وہ دل ہی کیا جو آسانی سے مان جائے۔ لہذا ہم نے دل کی باگیں کسیں۔ کچھ سختی

Read more

انتخابات کی جانب دیکھتے ہوئے عوام!

کیمبرج کی لغت کے مطابق لیول پلیئنگ فیلڈ ایسی صورت حال کو کہتے ہیں جس کے اندر سب کو برابر فائدے اور نقصانات مہیا کیے جاتے ہیں۔ ایک ایسا موقع جو سب کھلاڑیوں کو کھیل میں حصہ لینے اور جیتنے کے لیے یکساں مہیا ہو۔ مگر ہمارے وطن عزیز میں یوں لگتا ہے جیسے یہ سب باتیں فرضی ہیں یا ایک واہمہ! ایک مشہور محاورہ ہے : ”یہ گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان“ یعنی جیسے ہی گھوڑا میدان میں

Read more

میں ہوں جہاں گرد!

”روایت شکن ہی روایت ساز ہوتا ہے۔“ یہ پہلا جملہ تھا فرخ سہیل گوئندی صاحب کا اپنی کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ کی تقریب رونمائی پر جو ہمارے تو دل میں اتر گیا۔ تقریب مکمل ہونے کے بعد ہم نے چائے پینے کے دوران انہیں کہا کہ آپ کا یہ جملہ تو میں چرا چکی ہوں۔ فرخ صاحب زور سے ہنسنے لگے۔ شاہی قلعہ میں مکاتب خانہ میں فروری 2021 کی ایک ڈھلتی ہوئی شام کو جب مدھم ہوتی ہوئی

Read more

رتی اور جناح: اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا

رتی اور جناح صاحب منزل پر پہنچ گئے تب بھی حالات بہتر نہیں ہوئے۔ رتی کو انہوں نے اپنے وقتی گھر میں ٹھہرایا اور خود جلد ہی اپنی مصروفیات میں مصروف ہو گئے۔ ادھر رتی (مریم) یہ محسوس کرتی تھیں کہ ایک قید تنہائی سے نکل کر وہ دوسری قید میں منتقل ہو گئی ہیں۔ ان کی اکلوتی بیٹی دینا کی پیدائش 14 اگست کی آدھی رات کو ہوئی جب جناح صاحب اور رتی لندن میں تھیٹر دیکھنے گئے مگر

Read more

رتی اور جناح کی محبت (1)

سروجنی نائیڈو جو شاعرہ بھی تھیں اور سماجی کارکن بھی نے رتی کو ”بمبئی کا گلاب“ یعنی Rose of Bombay قرار دیا تھا۔ رتی ایک کروڑ پتی سر ڈنشا پٹیٹ اور لیڈی دینا بائی کی پہلوٹھی کی اولاد اور اکلوتی بیٹی تھیں۔ ڈنشا پٹیٹ اتنے امیر تھے کہ ہر سال گرمیوں میں فرانس اور انگلستان جایا کرتے تھے۔ رتی کو اپنی ماں کی طرف سے منفرد اور شاہانہ ذوق زندگی ملا تھا۔ رتی کو کتب بینی، بہترین ملبوسات اور پالتو

Read more

ہم آواز الفاظ اور سیاسی نعرے

آج ذہن میں چند الفاظ جو ہم آواز بھی ہیں اچانک سے آ کر کسی کونے میں بیٹھ گئے۔ قارئین! آپ بھی پڑھیے اور لطف اٹھائیے! کہ اگر ان الفاظ کو جوڑا جائے تو موجودہ ملکی حالات کی بہترین عکاسی ہو گی۔ کیئر ٹیکر۔ چیئر میکر۔ الیکشن۔ سلیکشن۔ ووٹ۔ نوٹ۔ عوامی۔ غلامی۔ رسائی۔ رہائی۔ کھیل۔ جیل۔ ڈیل۔ ڈھیل۔ آزادی۔ بربادی۔ انسانیت۔ جمہوریت۔ سیاست۔ عداوت۔ ریاست۔ سیاست۔ رفقاء۔ وزراء۔ مذاکرات۔ مقبوضات۔ عمل۔ نمل۔ میثاق۔ اتفاق۔ سوگوار۔ ناگوار۔ بازی۔ ماضی۔ ڈور۔ شور۔

Read more

شفاف الیکشن کا انعقاد ہی حل ہے!

ایک کہاوت ہے کہ ہر گاؤں میں ایک نہ ایک بدھو ضرور ہوتا ہے۔ اگر ایک سے زیادہ بدھو ہوں تو آوے کا آوا ہی بگڑ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال لگتا ہے ہم پاکستانیوں کا ہو چکا ہے۔ جب صرف اور صرف طاقتور کو ہی اختیار ہے کمزوروں کی زباں بندی کا اور گدی سے زبان کھینچ لینے کا تو پھر ہمیں اس زبان کا کرنا ہی کیا ہے؟ کیوں نہ اسے بھون بھان کر پائے کے شوربے

Read more

جوائے آف اردو

زبانوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی لباس مگر جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو جوائے آف اردو عنوان پر اعتراض ہو مگر زبانیں خطوں کی ہوتی ہیں۔ زبانوں کا نہ تو کوئی جنم دن ہوتا ہے اور نہ ہی تہوار۔ اردو برصغیر کے خطے کی زبان ہے۔ اردو موسم بہار کی وہ چڑیا ہے جو گلشن میں کھلے پھولوں پر منڈلاتی رہتی ہے۔ دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی

Read more

جوائے آف اردو

زبانوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی لباس مگر جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو جوائے آف اردو عنوان پر اعتراض ہو مگر زبانیں خطوں کی ہوتی ہیں۔ زبانوں کا نہ تو کوئی جنم دن ہوتا ہے اور نہ ہی تہوار۔ اردو برصغیر کے خطے کی زبان ہے۔ اردو موسم بہار کی وہ چڑیا ہے جو گلشن میں کھلے پھولوں پر منڈلاتی رہتی ہے۔ دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی

Read more

ان کے ہاتھ ہمیشہ مصروف رہا کرتے تھے!

ماں کو ہمیشہ سوئیٹر بنتے ہوئے دیکھا۔ باجو کے ہاتھ تو اون سلائیوں پر کسی مشین کی طرح چلتے تھے۔ رنگا رنگ نمونہ جھٹ پٹ بن کر مفلر، سوئیٹر، کارڈیگن، دستانے، ٹوپیاں وغیرہ تیار کر لیا کرتی تھیں۔ کیا خوب صورت زمانے تھے اور کیا شاندار لوگ تھے؟ ان لوگوں کے ہاتھ ہمیشہ مصروف رہا کرتے تھے۔ کھانا پکانے اور گھر کی صفائی ستھرائی سے فارغ ہو کر دھوپ میں بید کی ٹوکریوں میں نرم گرم اون اور سلائیاں بڑی

Read more

سائبان ایک تحریک!

اگر ادیب یا شاعر کو مصور مان لیا جائے تو پھر اسے اپنے کام پر اتنا عبور تو ہونا چاہیے کہ وہ پرانے ماسٹروں کے رنگوں اور برش سٹروکس کو جانتا ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ادیب سیاح ہے تو اسے دیس دیس کی کہانیاں بھی آتی ہوں۔ مگر ساتھ ہی اس کا دل اپنے وطن کی کہانیوں میں دھڑکتا ہو۔ اگر راہ میں کٹھن دھوپ آ جائے تو وہ اپنے لیے کوئی ایسا بادل کا ٹکڑا ڈھونڈ سکے

Read more

ہم کھوکھلے انسان اور فلسطین

سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد عرب قوتوں نے سیاسی طور پر آزاد ہونے کی جو تحریک چلا رکھی تھی اس میں یہ طے پایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے عرب علاقوں کو خود مختار بنا دیا جائے گا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ صیہونیوں نے اپنی مخصوص ریاست قائم کرنے کے لیے جو مطالبہ پیش کر رکھا تھا دنیا اس کی مخالفت کرتی۔  پہلی جنگ عظیم سے قبل 2600 یہودی فلسطین میں آباد تھے مگر بعد ازاں بہت سے

Read more

ہم کھوکھلے انسان اور فلسطین

2 نومبر 1917 میں برطانوی حکومت کے سیکرٹری خارجہ آرتھر بالفور نے لارڈ روتھ چائلڈ جو برطانوی یہودی کمیونٹی کا رہنما تھا کے نام ایک مراسلہ لکھا جو 9 نومبر 1917 کو شائع کیا گیا۔ اس مراسلے میں اس نے تاج برطانیہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ”فلسطین میں یہودیوں کے لیے قومی ریاست قائم کرنے کے لیے پوری ہمدردی سے جائزہ لیا جائے گا۔“ یہ مراسلہ برٹش لائبریری میں تاریخی جز کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ آرتھر

Read more

ہم کھوکھلے انسان اور فلسطین

فلسطینوں اور صیہونیوں کے درمیان جنگ کی صورت حال سے پوری دنیا میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 1822 میں فلسطین میں جو یہودی آباد تھے ان کی تعداد چوبیس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ یہ تعداد ملک کی کل آبادی سے دس فیصد سے بھی کم تھی۔ اس وقت ظلم و بربریت کی جو داستان رقم کی جا رہی ہے اور بدلے میں عالمی طاقتوں کی بے حسی دیکھ کر ٹی۔ ایس ایلیٹ کی نظم جو بارہویں

Read more

حبا ابوندا ہم شرمندہ ہیں

”غزہ اور اسرائیل کی جنگ چھڑنے کے بعد لوگوں میں اضطراب اور تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بے چینی اور دکھ ہر مذہب کے لوگوں میں پھیل چکا ہے۔“ عباس اپنے مصری دوست کریم سے بات کر رہا تھا۔ ”یار اس اہندو ناک جارحیت کو شروع ہوئے بہت سے دن گزر گئے اور اس دوران غزہ کی محصور آبادی پر اسرائیل کی فضائی فوج کم از کم چھے ہزار سے زائد بم گرا چکی ہے۔“ اس دوران وہاں زلیخا

Read more

فلسطینی شاعرہ: یہ سر زمین میری بہن ہے

کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں چھائے کالے جنگ کے بادل فلسطین کو لہو لہو کر رہے ہیں۔ 17 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے ”طوفان الاقصیٰ“ آپریشن کے بعد ابھی تک یہ جنگ رکتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ اس پوری کی پوری جنگ میں سب سے بھاری قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ فلسطینی تو نجانے کب سے ایک بے خانماں سی قوم بن چکے ہیں۔ یہ لڑائی تو وہ اب خود ہی لڑ رہے

Read more

اقوام متحدہ کے نام فلسطینی بچے کا خط

جناب محترم انتونیو گوتریس! میں غزہ میں رہنے والا ایک 12 سالہ بچہ ہوں۔ میرا نام نجیب نصر ہے۔ میری ماں نے میرا نام مشہور فلسطینی صحافی اور ادیب کے نام پر رکھا تھا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ: سر زمین فلسطین کو انبیاء کی سر زمین کہا جاتا ہے۔ فلسطین میں لوگوں کو نہ تو صرف اپنے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ ان پر اجتماعی حملوں، من مانی نظر بندیوں اور قبضے کرنے کی

Read more

ٹاک شوز وطن سے محبت یا پیسہ کمانا

میرے خیال میں اس وقت سب سے زیادہ خوف زدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ ہم ٹاک شوز کی وجہ سے سیاسی تفریقات کا شکار ہو کر پریکٹیکلی نفرتوں کے راستے سے ہوتے ہوئے خانہ جنگی کی طرف چل پڑیں گے۔ میں ڈراموں کی بجائے نیوز اور ٹاک شوز باقاعدگی سے دیکھتی ہوں۔ بیشتر انٹرویو کرنے والے اپنی گفت گو سے نام نہاد سیاسی رہ نماؤں کو اس طرح گھیرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بچ نکلنے کی کوئی

Read more

میر کارواں کا رخت سفر

اردو کے ہمارے مشہور شاعر چچا غالب تو ہر موقع ہر یاد آتے رہتے ہیں۔ آج بھی نئے چیف جسٹس صاحب کی تعیناتی پر ان کا یہ شعر بے طرح یاد آیا دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا پاکستان کے انتیسویں چیف جسٹس آف پاکستان اپنی عدلیہ کی اعلیٰ ترین اونچی مسند پر بیٹھ چکے ہیں۔ پچھلے 76 برسوں میں 28 چیف جسٹس آئے مگر انصاف کے

Read more

خود کو قسط وار بیچیں!

بجلی کے بلوں کے خلاف عوام کا غصہ آسمانوں کو چھو رہا ہے۔ نگران وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس تو بلا لیا مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ مختلف شہروں میں بل ادا کرنے کے لیے لوگوں نے اپنی موٹر سائیکلیں، موبائل اور زیورات تک بیچ رہے ہیں۔ خواتین اور بچے بھی احتجاج میں شریک ہیں۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں مساجد میں اعلان ہوئے کہ احتجاجاً بجلی کے بل جمع نہ کروائے جائیں۔ بجلی کے بلوں نے شہریوں

Read more

تجدید وفا کا دن اور اقلیتوں کے حقوق

پاکستان میں جینے کے لیے دل پتھر کا اور بلا کی بے حسی ہونی چاہیے۔ دہائیاں لگیں اس سیاسی بحران کو کھینچ کھانچ کر معاشی بحران بنانے میں۔ اب جماعتوں پر جماعتیں بن چکی ہیں۔ وہی فرسودہ لوگ، وہی لٹیرے، وہی بچہ جمورا، وہی کھیل تماشا۔ آخر سیاست دان اور دیگر سٹیک ہولڈرز ملک کی سلامتی کے لیے کیوں نہیں ایک گول میز پر بیٹھ کر بات کرتے؟ اگر اس بات کا تصفیہ ہو جائے تو قومی سود و زیاں

Read more

جبر اور خوف کی فضا پر ٹیکس ادا کریں!

ملک کو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ سب سے بڑا تو معیشت کا مسئلہ ہے۔ اب گزشتہ دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یک دم 20 روپے کا اضافہ ہونے سے ظاہر ہے مہنگائی کا ایک اور طوفان بپھرا پڑا ہے۔ ہم پاکستانی ہر مہینے کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ اب یہ تازہ ترین خوف پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا ہے۔ صورت حال مزید خوف ناک اس لیے ہو گئی ہے کہ اب اس کے ساتھ

Read more

قرض کی مے مل ہی گئی آخر!

ایک سفید پوش گھرانے میں دن بھر کے کام نمٹانے کے بعد سب لاؤنج میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ اہل خانہ رات کا کھانا ٹی۔ وی لاؤنج میں رکھی کھانے کی میز پر اکٹھے کھاتے اور مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت ہم سب سے زیادہ کس چیز سے خوف زدہ ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں بحیثیت قوم قرضے پہ قرضہ ملا جا رہا ہے مگر کیا ہم اس کی ادائیگی کر پائیں

Read more

ہم تو روز ڈنکی مارتے ہیں!

یونان کے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں کشتی الٹ جانے سے تقریباً 300 معصوم پاکستانی ڈوب گئے۔ ظاہر ہے اس کا تمام تر ذمہ ریاست کے سر ہے۔ ایک تو چالیس دہائیوں سے لوگ غیر قانونی طریقے سے یونہی ڈنکی مار کے یورپ جا رہے ہیں۔ بلکہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی بہت سے نوجوان کشتی حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ اب دوبارہ وہی درد ناک واقعہ ہوا۔ اس دفعہ مرنے والے سینکڑوں میں تھے۔ حکومت پاکستان نے صرف ایک

Read more

پنشن ملے گی تو ٹیکس دیں گے!

” یار مجید تجھے یاد ہے کہ یہ ہمارا نیشنل بینک کب بنا تھا۔“ ”ہاں رؤف پاکستان بننے کے دو سال بعد 1949 میں پاکستان آرڈیننس کے تحت بنا تھا“ ۔ ہاں! پتہ ہے جب تک سٹیٹ بینک آف پاکستان نہیں بنا تھا یہ سینٹرل بینک کے انڈر آتا تھا۔ ”رؤف مزید کہنے لگا۔“ اس کی پہلی برانچ مغربی پاکستان میں پٹ سن بنانے والے علاقے میں کھلی تھی۔ ”مجید نے اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا:“ 1950 میں

Read more

مجھے جینے دو!

”سنو میں تمہاری ماں ہو۔ تم مسلسل مجھے تکلیف پہنچائے جا رہے ہو۔ بس بہت ہو گیا۔“ کیا کہہ رہی ہو ماں۔ میں نے آخر ایسا کیا کیا ہے۔ ”وہ بولا۔“ کیا مطلب! تمہیں لگتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا؟ اور تو اور تمہارے سب بھائیوں نے بھی میرا حشر خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ جگہ جگہ سے میرے دل کو زخموں سے چور چور کر دیا ہے۔ اب بس بہت ہو چکا۔ مجھے جینے دو۔ میرے چہرے

Read more

مسئلہ سارا اقتصادی ہے!

پاکستان کے سارے مسائل اقتصادی اور معاشی ہیں۔ اگر اقتصادی استحکام ہوتا تو یہ مشکلیں قدرے کم ہوتیں۔ ان دنوں موسم اور سیاسی گرما گرمی دونوں عروج پر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سیاسی بارش رکتی نہیں بس گھستی جا رہی ہے۔ 1935 کے زمانے میں مصطفے ٰ کمال پاشا اور رضا شاہ پہلوی ابھر رہے تھے۔ اس دور میں دونوں نے مغربی مداخلتوں کو کم کیا۔ اسی دور میں ہندوستان میں بہت سے مسلمان کانگریس کے ہمدرد تھے۔

Read more

دل سے ہوتا ہوا آنکھوں میں اترا موتیا

مجھے ہمیشہ سے ہی موتیا اور موگرا کے پھول بہت پسند ہیں۔ ان کی بھینی مہکتی خوشبو سے من اندر تک مہکنے لگتا ہے۔ ماں کو بھی موتیا بہت پسند تھے۔ ماں موتیا کے پودوں میں خود گڑائی کر کے کھاد ڈالتیں۔ صبح صبح موتیے کی کلیوں کو توڑ کر چھوٹی چنگیروں میں ڈال کر کمروں کی میزوں پر سجاتیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ موتیے سے اتنی محبت میرے دل سے ہوتی ہوئی آنکھوں میں اتر جائے گی۔ چونکہ

Read more

طوق و دار کا موسم

How do you do؟ How are you؟ Good to see you۔ Have a nice day۔ What ’s going on؟ Wish you good luck۔ یہ چند وہ کلاسیک جملے ہیں جو انگریز صدیوں سے ایک دوسرے سے ملاقاتوں میں بولتے آئے ہیں۔ انگریز سے آزادی حاصل کر لینے کے باوجود ہم ابھی تک یہ جزوی جملے کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ہماری اردو میں بھی ایسے بہت سے خوشگوار جملے گفتگو اور ملاقاتوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس بات

Read more

آ جا تینوں اکھیاں اڈیک دیاں

جناب محترم پرانے وزیر اعظم صاحب! السلام علیکم۔ امید ہے آپ لندن کی ٹھنڈی ٹھار فضاؤں میں خیریت سے ہوں گے۔ آج آپ کو اس لیے یاد کیا کہ رمضان کے پہلے سے سنتے آ رہے ہیں کہ قائد عوام آیا ہی چاہتے ہیں مگر آپ نے نہ آنا تھا اور نہ آئے۔ یہاں تک کہ چھوٹے میاں کی حکومت میں عوام آٹے کی لائنوں میں لگ لگ کے موت کے گھاٹ اتر گئے اور تو اور آپ ہی کی

Read more

انسانی حقوق جمہوری عمل سے ملتے ہیں!

دنیا کے ہر ملک میں شہریوں کے کچھ حقوق اور فرائض ہوتے ہیں۔ ان تمام حقوق و فرائض کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے مختلف ممالک پہلے سے ہی اپنی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ منصوبہ بندی کا ایک مطلب یہ ہے کہ پیداوار کے عوامل کی بہترین تنظیم سازی کی جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے جو پیداوار مطلوب ہے وہ کتنی ہو گی اور کس طرح سے تقسیم ہو گی۔ یہ تمام تر فیصلے قبل از وقت ہونے چاہئیں کیونکہ یہی چیز اس کو سالانہ بجٹ سے ممیز کرتی ہے۔

Read more

وہ چلے گئے ہیں جو پار سا نہ تھے

جس طرح کالم نگار کے خیالات اور اس سے مشروط اعصابی کارکردگی ہوتی ہے۔ اسی طرح سے خبروں سے جڑیں تمام اچھی بری چیزیں اس کے دل و ذہن کو کچھ اس طرح متاثر کرتی ہیں کہ وہ بکھرنے لگتا ہے۔ خیالات کے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں ہمیشہ ایک ہجوم سا برپا رہتا ہے۔ مگر خریدار نہیں ملتا۔ بھلا خریدار کیونکر ملے گا؟ لوگوں کے پاس تو اپنی دال روٹی پوری کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ حالانکہ ہم تو احساس مفت

Read more

میں نہ مانوں

مریم نواز نے سماء ٹی وی کے منصور علی خان کو انٹر ویو دیتے ہوئے ہر مشکل سوال کا جواب اپنی ہی مرضی کے مطابق دیا۔ ایسے تمام پروگرام پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں۔ کم از کم میں نے اپنی دو سالہ چینل 5 کے کالم نگار کے پروگرام میں یہی دیکھا۔ یقیناً اب عوام ان ٹوپی ڈراموں سے تھک چکے ہیں۔ کیونکہ سیاسی شعور نے اس عوام کو آزاد فضاؤں میں اڑنے کے لیے ننھے ننھے سے پنکھ

Read more

اوپر ایک خدا بھی ہے!

محفوظ کیا گیا فیصلہ آخر کار سنا دیا گیا اور اس فیصلے سے بلا شبہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گیا۔ ناخداؤں کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے یہ فیصلہ سن کر۔ وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم تین رکنی بینچ کو نہیں مانتے آپ فیصلہ مانیں یا نا مانیں فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہو گا ورنہ توہین عدالت ہوگی۔ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے عدالت عالیہ کے خلاف سخت الفاظ

Read more

سو باتوں کی ایک بات

جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا جو کھو گیا میں اس کو بھلاتا چلا گیا غور کر نے پر پتہ چلتا ہے یہ گانا شاید ہماری عوام کے لیے لکھا گیا تھا۔ وطن ان دنوں جس معاشی، سیاسی اور اخلاقی المیوں سے گزر رہا ہے مداری لوگ اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی کے اپنے اپنے گروہ ہیں اور ہمیشہ اقتدار کے حصول کے لیے باریاں مقرر کرتے ہوئے یہ سب گروہ اکٹھے

Read more

پبلک سب جانتی ہے

کسی کی بھی حب الوطنی پر شک کرنا کسی کی بھی نیت کے دام لگانا بھلا کہاں کی دانشمندی ہے۔ موجودہ ملکی حالات میں خیال آتا ہے کیا یہ پی ڈی ایم خصوصاً نون لیگ کی آزمائش ہے؟ کیا یہ پی ٹی آئی کی آزمائش ہے؟ کیا یہ عوام کی آزمائش ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ عوام کو بھی اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔ غور کریں کہ ناپ تول سے لے کر ذخیرہ اندوزی تک ہم آپس میں

Read more

حاکم وقت سے منصف کا یارانہ نکلا

رات کی سیاہ چادر ہولے ہولے اپنا سفر پورا کر کے دھندلکے میں داخل ہوتی ہے تو فجر کا وقت ہونے لگتا ہے۔ عین اسی وقت ایک دیوانہ، پروانہ اور خان کا عاشق مستانہ آوازیں لگانے لگتا۔ ”خان صاحب آئی لو یو۔“ خان صاحب آئی لو یو۔ ”وہ ایک سادہ لوح انسان تھا۔ سرتاپا محبت اور سچائی کی کنکھاتی مٹی سے بنا ہوا۔ ایک مجذوب جو عشق کی آگ میں جل رہا تھا۔ نیک دل معصومیت سے بھر پور ذہن

Read more

برنک مین شپ اور سیاسی بحران

Brimkmanship ایک اصطلاح ہے جس کے اردو میں معنی ہیں تباہی کے دہانے پر خطرناک صورت حاصل کو آگے بڑھانے کی پالیسی اپنانا۔ جہاں پہلے ہی مصیبتوں کے پہاڑ لگے ہوں وہاں مقابلے بازی میں دوسری پارٹیاں ایک دوسرے پر زہر اگلنے کی حد تک الزامات لگاتی ہوں۔ ایک اور تعریف برنک مین شپ کی یہ ہے کہ نا معقول حد تک تبادلانہ خیالات میں محض اپنی کامیابی ڈھونڈنا۔ ان دنوں ہمارے ملک میں یہ ہی صورت حال پنپ رہی

Read more

فیض میلے کا جاوید اختر

تو کیا کلبھوشن یادیو جرمنی سے آیا تھا؟ تو کیا ابھینندن ناروے سے آیا تھا؟ تو کیا سمجھوتہ ایکسپریس کا واقعہ مصر میں پیش آیا تھا؟ جاوید اختر بھارتی گیت کار اپنے کام کی وجہ سے اس خطے میں جانے جاتے ہیں۔ فیض میلے میں جاوید اختر صاحب کو بلایا گیا۔ ہم تو دل والے لوگ ہیں۔ ہم سمجھے کہ وہ اپنی پوٹلی میں محبت اور امن کے پھول لائے ہوں گے۔ مگر یہ کیا ان کی پٹاری میں سے

Read more

حیرت بھری آنکھ میں چین

کتابیں پڑھنے کی چاٹ تو بہت بچپن ہی سے تھی۔ 80 کی دہائی کے اوائل میں سلمیٰ اعوان کا یہ میرا بلتستان اور میرا گلگت و ہنزہ پڑھا۔ دل میں انگڑائیاں اٹھتی رہیں کہ اڑ کر ہنزہ وادی چلی جاؤں۔ ایک دن کسی دکان سے ”تنہا“ خرید لائی بس اسے پڑھتے ہوئے خواہش پیدا ہوئی کہ رائٹر سے ملنا ہے۔ اس تمنا کو پورے ہونے میں بھی دس سال لگے۔ برسوں بعد دوبارہ ”تنہا“ پڑھنا شروع کیا تو اندر کے

Read more

آئیے مہرباں شوق سے لیجیے جی صبر کے امتحاں

اب کیا کریں؟ کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ ارے چھوڑو بھی اب بھلا کس کو مورد الزام ٹھہرانا۔ ہم خود ہی اپنے قاتل ہیں اور دلدار ہم نے سیاست بازوں کو بنایا ہوا ہے۔ اب دیکھیے ناں مریم نواز نئے عہدے کو بغل میں دابے سنگھا سن کے خواب لیے واپس وطن پہنچیں۔ ہمارے نام نہاد سیاست دان ہمیشہ مشکل وقت میں عوام کو تنہا چھوڑ کر برطانیہ کی ہواؤں میں مست ہو کر اڑتے پھرتے ہیں۔ سونے پر

Read more

پوٹھوہار خطۂ دلربا! ایک رومانس!

ماضی کی بیتی ہوئی پگڈنڈیوں سے گزرتے ہوئے ہم جن گزرے لمحوں کو واپس لانا چاہتے ہیں وہ دراصل بیت کر ابدی ہو چکے ہوتے ہیں۔ اپنی یادوں کے ذریعے ہم اپنی بسری داستانیں سناتے ہیں۔ مجھے بچپن کے آسمان پر جھلملاتے اور ٹمٹماتے ستارے اور جنگلوں میں دمکتے جگنوؤں کے جھنڈ میں سے گزرتی ہوئی ریل کی چھک چھک یاد ہے۔ ہم لاہور کے ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 سے خطۂ پوٹھوہار میں واقع جہلم یا دینہ

Read more

جیسنڈا آرڈن سے سیکھیے!

ہم جیسے اللے تللے ترقی پذیر ممالک کے باشندے ہمیشہ ترقی یافتہ ممالک اور وہاں کے حکمرانوں کو لالچ بھری نگاہوں سے تکتے رہتے ہیں۔ دل میں ہوک اٹھتی ہے۔ کاش! ہمارا وطن اور اس کے باسی بھی کسی دلفریب وادی میں بیٹھ کر سکھ چین کی بانسری بجا سکیں۔ اب نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے سے ملک کو ہی دیکھ لیجیے۔ نیوزی لینڈ پیسیفک اوشین میں واقع جنوب مغربی جزیرہ نما ملک ہے۔ یہ دو بڑے شمالی اور جنوبی جزیروں

Read more

پاکستان میں طلاق کی بڑھتی شرح تشویشناک

رانیہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی پر ایک مشہور سیریل دیکھ رہی تھی۔ اس کے والدین کے کمرے سے جھگڑے کی آوازیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں۔ سیریل میں موجود کرداروں میں بھی شدید جھگڑے کی سی کیفیت تھی۔ رانیہ نے غیر ارادی طور پر ٹی وی کا والیم بڑھا دیا۔ جی میں آیا کہ چینل بدل دے مگر اس کی اندرونی و بیرونی کیفیات دونوں نے اسے ایسا کرنے سے روکا۔ اس کے والدین کے مابین کئی سالوں

Read more

قومی امیدوں کو نیا پیراہن کیوں نہیں پہناتے؟

کہا جاتا ہے ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے“ ۔ لیکن دیکھا جائے تو انسان ہر جگہ ہر رشتے میں زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ انسان اگر اپنی ضرورتوں سے آزاد ہو جائے تو یقیناً سب انسان برابری کی سطح پر آ سکتے ہیں۔ نا ہمواری اور غربت نے ہمیں ایک دوسرے کے تابع بنا رکھا ہے۔ اس رنجور دنیا میں انسانوں نے انسانوں کے لیے ہی خوش حالی اور آسودہ زندگی دشوار بنا دی ہے۔ امیر حکم چلاتا ہے۔ غریب

Read more

کون کتنا گناہ گار ہے؟

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں : ” جناب وزیر اعظم شہباز شریف نے بیان دیا ہے کہ عوام غم نہ کریں ہم دہشت گردی کا ناسور کچل دیں گے۔ مزید کہا کہ گھڑی چور نے ملک کو بد نام کیا۔ معیشت کا بیڑہ غرق کیا۔ دوست ممالک سے تعلقات خراب کیے۔ سوچنے کی بات ہے ملک میں دوبارہ سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ بنوں اور بلوچستان

Read more

زنگ آلود نظام

بہت سے دن گزر گئے اور میں نہ کالم لکھ پائی نہ ڈھنگ سے کچھ پڑھ سکی۔ یہ تمام دن انتہائی خوشی بھری مصروفیت کے تھے۔ ہمارے سب سے چھوٹے بیٹے کی شادی تھی۔ بحیثیت ماں ہر چیز ہمیں کو دیکھنا تھی۔ خیر جسے کتابیں پڑھنے اور لکھنے کی جنون کی حد تک چاٹ لگی ہو اسے بے چینیاں ستاتی رہتی ہیں۔ اتنے ڈھیروں دنوں میں سیاست کے افق پر طرح طرح کے نئے پرندے اڑانیں بھرتے رہے۔ کوئی اسمبلیاں

Read more

گلستان سعدی کی حکایتیں

آج میں اپنی سٹڈی میں اپنی کتابوں کی شیلفوں کی صفائی اور ترتیب درست کر رہی تھی کہ شیخ سعدی کی ”گلستان“ ہاتھ لگ گئی۔ یونہی ہاتھ میں لے اس کی ورق گردانی کی دل کیا کیوں نہ اس پر ہی کچھ بات کی جائے۔ شیخ سعدی کی حکایتوں میں زندگی کی حقیقتیں پنہاں ہیں۔ سیکھنے سکھانے اور داستان گوئی کا ہنر بھی شاید انہیں کتابوں سے پروان چڑھا۔ آج کی تیز ترین دنیا میں ہر کوئی اپنے اندر ایک

Read more

آخر یہ طوفان کب تھمے گا؟

انسان ذہن میں کوئی بھی چیز ڈالنا در حقیقت باہر سے کسی بھی چیز کا اس میں ڈالنا نہیں ہے بلکہ اس کے ذہن کے سوتوں کو کھولنا ہے آج کل ہمارے سیاست باز اپنی خالی خولی باتوں میں تو جمہوریت اور عوامی مسائل کی بہت ڈینگیں مارتے ہیں۔ بھاری بھر کم لباس برانڈڈ جوتے مگر اصلیت ڈھونڈو تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تکبر و غرور میں لپٹے ہوئے لہجے میں ہر پارٹی اپنے آپ کو بے مثال ثابت کرنے

Read more

ہیں کچھ نظر آتے ہیں کچھ

پاکستانی سیاست میں ہر وقت بھونچال آتے رہتے ہیں۔ سیاست کے گہرے سمندر میں جھوٹ، بدلے اور الزامات کی فیکٹری میں تیار ہونے والے دروغ گوئی کے زہر آلود کیمیائی مادے اس کی موجوں میں اتھل پتھل مچاتے رہتے ہیں۔ کئی مرتبہ سوچا کہ آج سیاست نہیں بلکہ بکھرتے سماج کے بہت نازک پہلوؤں پر لکھا جائے۔ مگر کیا کیا جائے اس سیاسی طوفان کا جس کی شوریدہ لہروں کا شور کچھ اور لکھنے ہی نہیں دیتا۔ اب یہ ڈیلی

Read more

کھوکھلے انسان یا سیاسی ناخدا

آج ٹی۔ ایس ایلیٹ کی نظم The Hollow men یاد آ رہی ہے جس کا ترجمہ میں نے چند برس پہلے کیا تھا۔ وہ ترجمہ کچھ یوں تھا: ہم ہیں کھوکھلے انسان بھس بھرے ہوئے انسان سیکھتے ہیں اک دوجے سے ہم مگر افسوس! سروں میں ہے بھوسہ بھرا ہوا آوازیں بھی ہوتی ہیں بے اثر جب آپس میں کرتے ہیں سرگوشیاں جو ہوتی ہیں مسکین اور بے اثر جیسے خشک گھاس میں ہوا کی سرسراہٹ یا چوہوں کے پاؤں

Read more

انتقامی سیاست اور توشہ خانہ

مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلا سرٹیفائیڈ، جھوٹا اور سند یافتہ چور ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ نااہل ہوا ہے۔ مزید کہا کہ اس کی سزا صرف نا اہلی پر ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کو گرفتار کر کے قانون کے سامنے پیش کر کے لوٹا پیسہ واپس لینا چاہیے۔ کچھ دن پہلے مریم نواز نے یہی کہا تھا کہ نواز شریف معصوم تھا جو سزائیں نواز شریف نے بھگتیں،

Read more

گلابی اکتوبر اور پنک ربن

اکتوبر کا گلابی مہینہ آسمان پر بدلتے ہوئے رنگوں کی قوس قزح کی خوب صورتی کا مہکتا مہینہ ہے۔ اکتوبر جاڑے کے موسم کا ہر کارہ ہے اکتوبر میں درخت کہیں اپنے پیراہن کے رنگ بدلنے لگتے ہیں اکتوبر کی شامیں خوش گوار ہونے لگتی ہیں۔ پہاڑوں پر آسمان کے رنگ کہیں سرمئی، مٹیالے، کاسنی اور کہیں نرم گلابی نظر آتے ہیں۔ عشاق کے دلوں میں تمنائیں کروٹیں لینے لگتی ہیں۔ تخلیق کاروں کا دل چاہتا ہے اپنی چھوٹی سی تصوراتی دنیا میں بیٹھ کر بس گنگناتے رہیں۔

پچھلے ہفتے میں بھی اپنی نظموں کو کھڈی پر چڑھائے خیالات کے مختلف دھاگوں کی بنت میں غرق تھی کہ کنٹرولر نیوز پنجاب ریڈیو کے سینئر براڈ کاسٹر سجاد پرویز صاحب کا فون آ گیا۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے اکتوبر پوری دنیا میں خواتین میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے سجاد پرویز صاحب نے ”لاہور انسائیٹ“ میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے خصوصی شو کا انعقاد کیا جس کی میزبانی کے فرائض معروف مصنفہ، ناول نگار اور کالم نگار آمنہ مفتی نے سر انجام دیے۔

Read more

قومی یک جہتی اور خوش حالی

تاریخ کے پنے اس ایک لفظ اور اس کی تعریفوں، فلسفوں اور تفصیلات سے بھرے پڑے ہیں۔ سیاست میں بھی دنیا کے بیشتر ماہرین کسی بھی ملک کی خوش حال کو اس کی قومی یک جہتی سے جوڑتے ہیں۔ قوموں کی سالمیت ہی کا مطلب قومی یک جہتی ہے۔ ہمیں بچپن سے ہی یک جہتی، اتفاق میں برکت ہے، لالچ بری بلا ہے، وغیرہ وغیرہ کہانیاں نصابی کتابوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ مگر ان سب رٹ چکی کہانیوں کے باوجود

Read more

تو چل میں آیا!

ہمارے بچپن میں پہیلیاں بوجھنے اور بیت بازی کھیلنے کا بہت رواج تھا۔ آج ایک پہیلی یاد آ رہی ہے۔ ”تو چل میں آیا“ ۔ اس کا جواب ہوتا تھا ”دروازہ“ ۔ چونکہ دروازہ کے دو پٹ ہوتے ہیں۔ پہلے ایک پٹ بند ہوتا ہے پھر دوسرا۔ یاد رکھیے دروازہ ہمیشہ اندر سے کھلتا ہے۔ چاہے محبت کا ہو یا عداوت کا۔ ایک گرما گرم خبر ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب بالآخر کمر درد سے نجات پانے

Read more

خط بنام نیرہ نور

پیاری نیرہ نور جی! آپ سے دل اور روح کا تعلق ہے۔ پھولوں جیسی نرم فطرت والی پروقار سی شخصیت تھیں آپ۔ سنجیدگی آپ کے حسن کا انمٹ حصہ تھی۔ شاید آپ جنم سے ہی ایسی ہوں گی۔ آپ سے ملاقات کی تمنا ہمیشہ دل کی گہرائیوں میں موجزن رہی۔ مگر بے درد زمانے کی وجہ سے ایک لکیر جو عام آدمی اور فنکار کے درمیان کھنچی رہتی ہے کبھی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔ سوچا بھی نہیں تھا کہ

Read more

جمہوریت، حق اور آزادی کی زندہ تصویر

یزید امیر معاویہ کی طرح بڑا سیاست دان تو نہ تھا لیکن شیطان کی طرح جلدی میں رہتا تھا۔ اپنی مخالفت کا ایک لمحہ بھی اسے برداشت نہیں تھا۔ اس لیے باپ کی وفات کے بعد حاکم مدینہ کو فوراً حکم دیا کہ اُن لوگوں سے زبردستی بیعت لی جائے خصوصاً امام حسین ؑ سے۔ اگر یہ لوگ آسانی سے نہ مانیں تو اُن کے سر کاٹ کے پیش کیے جائیں۔ واقعہ کربلا تاریخ کا اہندوناک واقعہ ہے۔ حسین ؑ

Read more

پانی پہ تیرتی محبوب لاشیں

بارش اور آندھی جب طوفان کی شکل اختیار کر لے تو وہ قدرت کی ان طاقت ور اشیا میں شامل ہوجاتی ہیں جو چیزوں کو ادھر سے ادھر منتقل کرتی رہتی ہیں۔ پانی حد سے بڑھ جائے تو سب کچھ غارت اور برباد کر دیتا ہے۔ پانی مختلف تہیں کھولتا ہے اور زمینی خداؤں کو للکارتا ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات ان دنوں پاکستان میں بھی ہیں۔ بارش کے سیلابی ریلوں کے پانیوں نے تو سب حدیں ہی مٹا دیں۔

Read more

مٹی پاؤ جی!

ایک زمانے میں چوہدری شجاعت حسین صاحب کا ایک فقرہ بہت مقبول ہوا کرتا تھا۔ میں نے آج اپنے کالم کا عنوان اسی پر رکھا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے 22 جولائی کو ووٹ ڈالنے والوں کی پوری کارروائی مکمل ہونے کے بعد خط نکالا اور آناً فاناً اپنا فیصلہ سنایا کہ چوہدری شجاعت حسین کے مطابق ق لیگ کے دس ووٹ شمار نہیں کیے جا سکتے لہٰذا حمزہ شہباز ہی دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں

Read more

ضمنی انتخابات میں دھاندلی اور عوام کی طاقت

ایک ہوتی ہے دھاندلی ایک ہوتی ہے منظم دھاندلی۔ یعنی آپ کے حلقے سے آپ کے ووٹ اٹھا کر کسی ایسے پولنگ سٹیشن پر پھینک دیے جائیں جو آپ کے حلقے میں تو آتا ہو لیکن اس پولنگ سٹیشن پہ ووٹنگ نہ ہو رہی ہو۔ کمال نہیں ہو گیا صاحب! اتوار کے روز سبھی سست سے رہتے ہیں۔ چھٹی والے موڈ mode میں مشکل سے صوفہ آپ کی جان چھوڑتا ہے۔ بلکہ آپ خود کو گھسیٹ کر صوفے سے اٹھاتے

Read more

مہنگائی اور غریب کے سینے کی بے اطمینانی

جون کی چلچلاتی گرمی کا مہینہ ہے۔ اسی گرم مہینے میں گرما گرم اگلے مالی سال کا مالیاتی تخمینہ بھی جاری ہوتا ہے۔ ہمیں خیال آیا کیوں نہ غریبوں کے مسائل پہ لکھا جائے۔ جب لکھنے بیٹھی تو وقت تھوڑا پیچھے چل پڑا۔ دل نے کہا وقت کا موازنہ کر لیا جائے تو چلیے تحریر حاضر ہے : ماضی کا قصہ: گرمی ہو یا سردی ہر روز کیرج اور لوکو ورکشاپ کا سائرن صبح سویرے ہی بج اٹھتا۔ ورکشاپ کے

Read more

اظہار کا دن ساتواں دن

29 – 02 – 2022 آج کالم میں آپ کو ایک پرانی کہانی سناتی ہوں۔ کہیں ایک چھوٹی سی لڑکی تھی۔ سکول کے ایک ڈرامے کے لیے اس کا آڈیشن لیا گیا مگر اسے کاسٹ نہیں کیا گیا۔ بجائے اس کے کہ وہ پریشان ہوتی اس نے اپنی امی سے کہا ”میں اپنی سکول کے ساتھیوں کی ستائش کو تالیاں بجانے کے لیے منتخب ہوئی ہوں“ ۔ اس ننھی بچی کے یہ الفاظ قابل تعریف ہیں۔ ہم کچھ بھی ہوں۔

Read more

لتا منگیشکر: سر ودیا کی دیوی

کیا سہانی روح تھی۔ لہروں کی دوش پر دنیا کے ہر خطے میں دل نادان کی وہ آواز عجیب داستانیں سناتی رہی۔ کبھی وہ آواز برہا کی سلی سلی راتوں میں جلتی رہی۔ تنہائی میں پریتم جہاں چلتا ہے اس سریلی آواز کا سایہ ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ اس مدھر آواز میں کئی زندگیوں نے جینے کی تمنا کی اور مرنے کا ارادہ بھی کیا۔ سنگیت اور سر بلا شبہ رب کی دین ہے۔ خدا نے بہت سخاوت سے لتا

Read more

مری کا رومان اور انتظامیہ کی نا اہلی

کوئی بھی موسم ہو مری کا رومان اور جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ موسم گرما میں فضا میں رچی چناروں اور چیڑ کی خوشبو دل موہ لیا کرتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں مری کے آسمان کے رنگوں کی چھب ہی نرالی ہوتی ہے۔ سرمئی، ارغوانی، بنفشی، فاختئی، پیازی سبھی رنگ امڈ امڈ کر اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ یکا یک بادلوں کے چھا جانے سے آسمانی رنگ لاجوردی اور گلابی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ

Read more

سہیلیاں نال اٹکھیلیاں

12 دسمبر 2021 ء ”یاراں نال بہاراں“ ایک ایسا محاورہ ہے جس سے ایک مردانہ خوشبو آتی ہے۔ ہم نے سوچا کیوں نہ ہم عورتیں بھی اپنا ایک محاورہ بنائیں۔ عورت چونکہ تخلیق کرنا جانتی ہے سو ہم نے جھٹ پٹ ”سہیلیاں نال اٹکھیاں“ کی اصلاح تخلیق کر لی۔ دوستی ذوق ہے۔ دوستی شوق ہے۔ دوستی زیست کی الجھی سلجھی راہوں میں جینے کا مزہ دیتی ہے۔ بہت دن گزرے ہم سب سہیلیاں جن کا تعلق لکھنے لکھانے سے ہے

Read more

ڈینگی بخار اور بچاؤ کی تدابیر

آج کل ملک بھر میں ڈینگی مچھر کے حملے شد و مد سے جاری ہیں۔ میں نے سوچا اس پہ تحقیق کر کے اپنے ہم وطنوں کو چند معلومات بہم پہنچائیں جائیں تاکہ قومی سطح پر اس کا تدارک ہو سکے۔ ڈینگی بخار ایک وبائی مرض ہے جو مچھر سے منتقل ہوتا ہے اس کو ہڈی توڑ بخار بھی کہتے ہیں کیوں کہ یہ جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈینگی مادہ ایڈسAdes مچھر سے

Read more

کثرت آبادی کا دباؤ

دنیا کی آبادی 7 ارب سے زیادہ ہے اور اس میں ابھی بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گزشتہ چالیس سالوں میں تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔ اب ہمیں کثرت آبادی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اتنی زیادہ آبادی کے ساتھ وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ایسے حالات جاری رہے تو مستقبل میں ہمیں بڑے مسائل کا سامنا کرنا ہو گا۔ اسی لیے ملکوں کو اپنی پھیلتی ہوئی آبادی کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل کی حکمت عملی

Read more

پاکستانی اور سمندر پار پاکستانی

2 اکتوبر 2021ء کو ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر فرما رہے ہیں کہ جب ڈالر اوپر جاتا ہے تو سمندر پار پاکستانیوں کو فائدہ ہوتا ہے اور جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں انہیں نقصان ہوتا ہے۔ واہ صاحب واہ! لگتا ہے آپ ثوابِ دارین کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ثواب بھی وہ جو آپ کے بڑوں سے ملتے ہیں۔ اے سمندر پار پاکستانیو! سب کے سب کھڑے ہو جاؤ اور اپنے

Read more

22 لوگوں کی بیاض

بہت دن گزرے ہم کرونا وبا سے نمٹنے کے بعد اس کے بعد از مضر اثرات سے خوفناک جنگ لڑ رہے تھے۔ کرونا اور اس کے بعد کی پیچیدگیوں نے چھاپ تلک، سدھ بدھ سب چھین لی۔ بس یاد تھا تو اتنا کہ ہم زندہ ہیں، سانس لیتے ہیں۔ وہ سانس جو ICUمیں ادھار پر تھی۔ نقاہت کے مارے بات کرنی مجھے مشکل تھی۔ اسی طرح ایک روز ہم اپنے کمرے میں اداس سے بیٹھے تھے کہ ہمارے چوکیدار نے لا کر ایک بھاری بھر کم پیکٹ تھمایا۔ ہم سے وہ اٹھایا ہی نہ گیا۔

Read more