لاہور کی چیلسی کا ڈاکٹر

جو لمحے وقت کے درختوں سے گِر جاتے ہیں پھر وہاں وہ لمحے نہیں بلکہ ان لوگوں کی داستانیں ملتی ہیں جن کی زیست کے شجر سے وہ لمحے گِرتے ہیں۔ ان پتوں کے گِرنے سے پہلے وہاں مکمل سکوت ہوتا ہے مگر جیسے ہی ان گِرے ہوئے پتوں پہ کسی کا پاؤں آتا ہے…

Read more

بیٹیوں کا نام رکھتے ہوئے کچھ تو سوچیں!

اللہ میاں جی! یوں تو ہم ہر وقت تجھ سے گلے شکوے کرتے ہی رہتے ہیں ذرا سی تکلیف ہوئی تو رونا شروع ہوگیا ہمارا۔ لیکن اب تو حد ہی ہوگئی۔ یا اللہ! تُو نے عورت کیوں پیدا کی اور پھر خوب صورت ننھی فرشتوں جیسی فرشتہ بچیاں کیوں بنائیں؟ کیا تجھے معلوم نہ تھا یہ بھیڑیوں کا جنگل ہے، جنگل جہاں رستہ بھٹکتا نہیں بھٹکایا جاتا ہے۔ ہائے ربّا! تُو نے کومل کلیاں روندنے کو تو نہ بنائی تھیں۔ دنیا میں ہر چیز کا متضاد ہے دن کا رات، روشنی کا اندھیرا، خوشی کا غم اور فرشتے کا شیطان ہاں وہ کوئی شیطان ہی ہوگا انسان تو ہو نہیں سکتا۔

Read more

ایک خط محرموں کے نام

بابا یہ خط ہر اس بیٹی کے دل کی آواز ہے جو اس دھرتی پہ جنم لیتی ہے۔ پتہ ہے اس کی زندگی کا محورو مرکز اس کا باپ اور بھائی ہوتا ہے۔ زندگی کی کڑی دھوپ میں یقینا وہ شجر سایہ دار کی طرح ہیں۔ بیٹی اپنے ان توانا رشتوں کی اوٹ میں محبتیں ڈھونڈتی رہتی ہے اور وہ اسے محبت کی بجائے صرف عزت کے ترازو میں تولتے رہتے ہیں۔ بیٹی کی روح ہمہ وقت محبت کی متلاشی رہتی ہے۔ باپ اور بھائیو ں کے ہوتے اسے کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔

لیکن جب یہی رشتے اسے بیچتے ہیں تو کتنی کم مائیگی کا احساس دل میں گھر کر جاتا ہے۔ یوں توصدیوں سے عورت کا استحصال ہوتا آیا لیکن آج ٹیکنالوجی کے اس دورِ جدید میں اس طرح کے واقعات کا وقوع پذیر ہونا نہایت ظلم اورجہالت کی بات ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے چینی لڑکوں اور پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں اور ان کا سمگل ہونا بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ پہلے تو یہ بے چاری اپنوں کے ہاتھوں رسوا ہوتی رہی اور اب غیروں کے ہاتھوں بے دریغ اسے بیچا جارہا ہے۔

Read more

روبوٹ چوہے، میڈیا اور عوام

ایک نجی ٹی وی چینل میں پی پی پی کے سابقہ ایم۔ پی۔ اے جناب سردار نبیل گبول صاحب فرما رہے تھے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے پارلیمنٹ لاجز میں، مختلف ارکانِ اسمبلی کے کمروں میں روبوٹ چوہے چھوڑرکھے ہیں تاکہ اُنھیں اپوزیشن کے خفیہ منصوبوں یا ارادوں کے بارے میں تازہ ترین خبریں…

Read more

سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے

ہم لوگ بھی عجیب ہیں اگر بدقسمتی سے کوئی ذیابیطس یا بلند فشارِ خون یا دل کے عارضے میں مُبتلا ہو تو اپنے معالج کی تحریر کردہ دوائیں لینے کی بجائے لوگوں کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں۔ ایک کہتا ہے زیادہ دوا مت کھانا معدہ خراب ہوجائے گا۔ دوسرا کہتا ہے وہ دوا مت…

Read more

بیساکھی کا میلہ یادوں کے جھروکے سے

 سُنو مَیں روز دیکھتا ہوں کہ پچھلے گاؤں سے دُھواں اُٹھتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا یہ دُھواں کس چیز کا ہے؟ بُوڑھے آم کا درخت پوپلر کے درخت سے کہہ رہا تھا۔ یہ دُھواں کھانا پکانے کا نہیں کیونکہ ایک تو یہ صبح تقریباً 9 بجے کے قریب اُٹھتا ہے اور اس میں سے عجیب سی سڑن والی بدبو سی اُٹھتی ہے۔ آخر یہ ہوکیا رہا ہے؟ چلو کل پنچھیوں سے پوچھیں گے۔ اگلے دن آم کے درخت نے اپنی شاخ پہ بیٹھی کوئل سے پوچھا: ”بی کوئل!سُنو تمہارے بارے میں کہاوت ہے کہ تم دوسروں کے پیغام لے کر آتی ہوتو بتاؤ تو سہی کہ برابر والے گاؤں سے آخر یہ روز ایک مخصوص وقت میں اتنا تیز اور بدبو دار دُھواں سا کیوں اُٹھتا ہے؟ ارے مت پوچھو! وہاں آبادی سے باہر ایک گڑھے میں کچھ جلایا جاتا ہے۔

Read more

چھوٹی چھوٹی قیامتیں

 یوں توقیامت کا ایک دن مقرر ہے لیکن ان چھوٹی چھوٹی قیامتوں کا کیا کریں جو آئے دن بنی نوع انسانوں پہ ٹوٹتی رہتی ہیں۔ کبھی دہشت گردی کی صورت میں، کبھی خود کش حملوں کی شکل میں اور کبھی قدرتی آفات کی طرح برس جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں نیوزی لینڈ میں بھی ایک ناگہانی قیامت گزر گئی۔ عنبرین رشید، نعیم رشید کی اہلیہ کی ویڈیو تو سب ہی نے دیکھی کس قدر صبراورہونٹوں پہ پُرسکون مسکراہٹ جمائے یہ عورت کس طرح اپنے اندر اُٹھتے جوالا مکھی کو سنبھالے ہوئے بردباردکھائی دیتی ہے۔نعیم رشید وہ انسان ہے جس نے اووروں کو بچاتے ہوئے اپنی جان دی بلکہ اس عظیم شخص کے جوان بیٹے نے بھی باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ میری نعیم رشید کی بڑی بھابی جو ان کی کزن بھی ہیں سے بات ہوئی تو بتانے لگیں کہ نعیم بچپن ہی سے اپنے نام کے ساتھ گریٹ لکھا کرتا تھا۔ ہم ہنستے تھے اور کبھی کبھار تو مذاق اُڑا یا کرتے تھے لیکن اب سمجھ میں آیا وہ کیوں گریٹ کا لفظ اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتاتھا۔

Read more

عورتو، صبح ہی صبح تمھیں کیا ہوگیا؟

آج بہت دنوں بعد ددّا صبح ہی آگئی تھیں۔ مَیں نے پوچھا ددّا خیریت تو ہے اتنے دنوں بعد کیسے آنا ہوا؟ بس یہ پوچھنا تھا کہ لگیں اپنے سر کو پیٹنے۔ مَیں نہ کہتی تھی بیٹا کہ اس کے مرنے کے بعد دیکھ لینا سب مشکل میں آجائیں گے، زندگی اجیرن ہوجائے گی، اب اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کیا ہوا؟ کون مر گیا۔ خیریت تو ہے۔ کس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ ارے یاد نہیں بیٹا میں کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ دوپٹہ مرگیا دیکھ لو کتنی مشکل ہوگئی۔

ارے نہیں ددّا! آپ دیکھتی نہیں ابھی اکثریت کے کندھوں پہ دوپٹے جھول رہے ہیں۔ ارے چھوڑو! تم کیا باتیں کرتی ہو بیٹا اب کندھوں پہ پڑے دوپٹوں کو چھوڑویہاں توپورا منظر ہی دُھواں دُھواں ہورہا ہے۔ جانتی نہیں تم جو کچھ یہ مُوئی عورتوں نے 8 مارچ کو آزادی کے نام پہ کیا؟ جانتی ہو مارچ کا بنیادی مطلب تو ہے کہ باوقار انداز سے قدم سے قدم ملا کر چلنا لیکن اس روز تو ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا۔ ہاں ددّا! میں بھی سوچ رہی ہوں ایک زمانہ تھا جب امرتا پریتم نے عورت کے استحصال پہ خون کی ندیاں بہہ جانے پہ کُرلا کُرلا کر وارث شاہ کو آواز دی تھی۔

Read more

ایک درویش سے ملاقات

 ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات میری کتابی رُخ یا کتابی چہرہ سہیلی رابعہ الربا نے کروائی۔ پہلے تو آپ سوچ رہے ہوں کتابی رُخ کاکیا مطلب ہے؟ تو بھئی facebookکی اُردو میرے ذہن میں تو یہی آئی۔ باقی آپ بتا دیجیے۔ کچھ لوگوں سے تعلق اتنا عجیب ہوتا ہے کہ اسے الفاظ کا جامہ نہیں…

Read more

ماما! بابا! ڈر لگ رہا ہے

ماما! رُکو ذرا میرے جوتے رہ گئے پیک ہی نہیں کیے وہ اُٹھا لوں۔ ارے ہاں دیکھو تو یہ ہری چُوڑیاں اس دَھانی دوپٹے کے ساتھ کتنی اچھی لگیں گی ناں ماما! مَیں ڈھولک پہ گانے بھی گاؤں گی، روکنا نہیں آخر کو میرے چاچا کی شادی ہے۔ کچھ ایسے ہی الہڑ، اٹکھیلے مدھر جذبات…

Read more
––>