قربانی کے جانوروں پر ٹیکس کی ایک نئی تجویز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں وٹس ایپ سے خبر اڑی کہ ایف بی آر نے چالیس ہزار سے زیادہ قیمت والے قربانی کے ایسے تمام جانوروں کی خریداری کے لئے لازم کر دیا ہے کہ ان کی خریداری چیک یا بینک کے ذریعے ہو۔ جو نان فائلر ایک لاکھ سے زیادہ قیمت کا جانور لیں گے ان سے آمدنی کا ثبوت مانگا جائے گا اور چار فیصد ایڈوانس ٹیکس لیا جائے گا۔ چار سے زیادہ جانور خریدنے والوں سے دو فیصد عیاشی کا ٹیکس لیا جائے گا۔ بے نامی جانور ضبط کر لئے جائیں گے اور انہیں قربان کر کے غربا میں بانٹ دیا جائے گا۔ اس خبر پر بلاول بھٹو نے ایک تقریر بھی کر ڈالی اور وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر کو اس خبر کی تردید کرنی پڑی کہ کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔

ہماری رائے میں حکومت کو نہ صرف قربانی کے جانوروں پر ٹیکس لینا چاہیے بلکہ اس طبقے کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جو ٹیکس سے بچنے کے لئے قربانی نہیں کرتا مگر عید پر گوشت کھا کھا کر خوب عیاشی کرتا ہے۔ لوگ اب قربانی کو بھی ہر سال حج کرنے اور رمضان حجاز مقدس میں گزارنے کی طرح سٹیٹس سمبل بنا چکے ہیں۔ پانچ دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ قیمت کا جانور خرید کر کروفر دکھاتے ہیں کہ ہم بہت امیر ہیں۔ ان پر ٹیکس لگانا لازم ہے۔

قومی خزانہ مزید بھرنے کے لئے ایک طریقہ تو ہے یہ کہ ہر جانور خریدنے کے علاوہ ہر بوٹی کھانے پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے۔ ہر بوٹی کھانے پر پانچ روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی جاتی ہے۔ لیکن یہ خیال رکھا جائے کہ لوگ ٹیکس چوری کے عجیب و غریب طریقے نکال لیتے ہیں۔ اس لئے کوئی اگر داستان امیر حمزہ کے عادی پہلوان کی طرح سالم بکرا ایک نوالے میں کھانے کا عادی ہو تو اس کا توڑ بھی کرنا ہو گا۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی پر ٹیکس والے بٹھا دیے جائیں۔ جو شخص بھی زیادہ بوٹیاں کھائے گا اور ہسپتال پہنچے گا اسے پکڑ کر اس سے بوٹی ٹیکس نچوڑ لیں۔

بہرحال ہمیں حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے۔ یہ منصوبہ ویسے تو بہت اچھا ہے لیکن بدقسمتی سے معاملہ کچھ یوں ہے کہ قربانی کے جانور پر اگر روپے پیسے کا ٹیکس لگا دیا جائے تو قوم برداشت نہیں کرے گی اور اگر بوٹی پر ٹیکس لگا دیا جائے تو قوم کے جذبات مشتعل ہو جائیں گے۔ اس لئے رفع شر کے لئے ہمارے پاس پلان بی بھی تیار ہے۔

ایسا کیا جائے کہ کوئی شخص کسی قربانی کے جانور کے ساتھ دکھائی دے تو اسے وہیں دھر لیا جائے۔ اس سے جانور رجسٹر کروایا جائے اور مطالبہ کیا جائے کہ بطور ٹیکس وہ بڑے جانور کا گوبر تول کر اور چھوٹے جانور کی مینگنیاں گن کر حکومت کو بطور ٹیکس جمع کروائے۔ جانور قربان کرنے تک مالک روز اپنی دیوار پر گوبر کی پاتھِیاں بنا کر لگائے اور بھیڑ بکری کی مینگنیاں بالٹی میں جمع کرے۔ عید کے بعد پاتھیوں اور مینگنیوں کے گوشوارے محکمہ مال میں جمع کروائے جائیں اور ٹیکس اہلکار گوشواروں سے میچ کر کے پاتھیاں دیوار سے اتار کر قومی خزانے میں جمع کریں۔

اگر آپ زراعت سے منسلک ہیں تو آپ جانتے ہوں گے کہ زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لئے گوبر کی بنی ہوئی قدرتی کھاد کتنی اہم ہوتی ہے۔ بلکہ کسان تو پولٹری فارم سے مرغیوں کی بیٹوں کی ٹرالیاں بھر بھر کر اپنے کھیتوں میں ڈلواتے ہیں۔ ایسے میں حکومت انہیں یہ ٹیکس میں جمع کردہ گوبر بیچ بیچ کر اچھی بڑی رقم جمع کر سکتی ہے۔

گوبر سے بنائی گئی پاتھیاں تیل سے بہتر جلتی ہیں۔ آپ نے اگر لوہاروں کو کام کرتے دیکھا ہو تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ وہ گیس یا لکڑی وغیرہ کی آگ میں لوہا گرم نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے پاتھیاں جلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاتھیوں کی آگ زیادہ گرم ہوتی ہے۔

تو اگر ہم ہزاروں سال سے آزمودہ اس تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بجلی گھر اور بھٹیاں بھی پاتھیوں پر شفٹ کر دیں تو وطن عزیز کو تیل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بلکہ ہمارے ملک میں تو ایسے جوہر قابل موجود ہیں جو پانی تک سے گاڑی چلا سکتے ہیں۔ اگر انہیں معقول گرانٹ دی جائے تو وہ گوبر سے چلنے والی گاڑی بھی بنا دیں گے۔

لوگوں کو اس بات پر بھی قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ قربانی کی کھالیں بھی حکومت کو دیں۔ انہیں معقول انداز میں سمجھایا جائے کہ قربانی کی کھال غریبوں کو دینی چاہیے اور پاکستان میں ہماری حکومت سے زیادہ کوئی بھی غریب نہیں ہے۔ اس پر کھربوں روپے کے قرضے چڑھے ہوئے ہیں اور صدقات، خیرات اور قربانی کی کھالوں کی سب سے زیادہ مستحق حکومت ہی ہے۔ حکومت میں اب تو نہایت تجربہ کار افراد بھی شامل ہیں جن کا کھالیں اکٹھی کرنے کا بہت زیادہ تجربہ ہے۔ وہ لوگوں سے راضی خوشی کھالیں لے سکتے ہیں۔ جو لوگ نہ دیں ان کی کھال کھِینچنے کے لئے بھی حکومت میں اچھے تجربہ کار افراد شامل ہیں جو زور زبردستی سے وصولی کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔

آپ اپنی چشم تصور کو گول گول گھمائیں اور خود سوچیں کہ حکومت اگر ٹیکس کو گوبر کی شکل میں وصول کرنے لگے تو ہمارے کتنے قومی مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، حکومت انرجی سیکٹر میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے۔ اور یہ سب کچھ قوم سے اضافی روپیہ پیسہ وصول کیے بغیر ہو جائے گا۔ لوگوں کو گوبر دیتے ہوئے ویسی تکلیف بھی نہیں ہو گی جیسی پیسے دیتے ہوئے ہوتی ہے۔ حکومت ہماری تجویز پر عمل کر لے تو پاکستان میں خوشحالی کا انقلاب آ جائے گا اور سب اس گوبرمنٹ کے گن گائیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1159 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar