سکھوں اور کشمیریوں کے خوابوں کی ٹرین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقسیم ِہند کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کی وجہ سے حالات متنازعہ ہوئے اور جنگ چھڑ گئی تب اقوامِ متحدہ نے ثالثی کر کے اس تنازعے یعنی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظورکرائیں جن میں کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ یہ تجویز بھی دی گئی کہ ان کو رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔

ایک تاریخی وعدہ نہرو نے کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے زیر ِانتظام کشمیر میں استصواب ِرائے کرانے کے عہد پر کاربند رہیں گے اور اس علاقے میں امن و امان بحال ہوتے ہی اس پر عمل درآمد کر لیا جائے گا۔ 70 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا نہرو کا وعدہ وفا نہ ہوا۔ 5 اگست 2019 ء کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے نریندر مودی کی حکومت نے بھی ایک فیصلہ کیا ہے۔ مودی نے کشمیر میں وہی آرٹیکل اور معاہدہ ( 370 ) ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی بنیاد پر ہی کشمیر کی ریاست بھارت کے ساتھ شامل ہوئی تھی۔

مودی نے کشمیری قوم سے خطاب کیا کہ آرٹیکل 370 کے بعد جموں و کشمیر تیز رفتاری سے ترقی کرے گا، کشمیر میں ایئرپورٹ، ریل، اور سڑکوں کے نیٹ ورک جدید بنائے جائیں گے۔ کشمیری جوانوں کو نوکریاں دی جائیں گی۔ مودی کے یہ سہانے وعدے سوشل میڈیا کی جنگ لڑنے کے لئے بی جے پی کی ڈیجیٹل آرمی اور گودی میڈیا کے لئے توکافی ہوں گے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ کیونکہ مودی جن کشمیریوں کو یہ سبز باغ دکھا رہا تھا ان کے لیے بیتے کئی دنوں سے ٹی وی کی نشریات، نیٹ، فون اورسوشل میڈیا سمیت تمام مواصلاتی ذرائع اس کی اپنی سرکار معطل کر چکی ہے۔

بھارت نے تقسیمِ ہند کے وقت سکھوں اور کشمیریوں سے کچھ وعدے کیے اور کچھ شرائط پر رضا مند بھی ہوا۔ جس کے بعد پنجاب اور کشمیر کے رہنما بھارت کے ساتھ شامل ہو گئے۔ پنجاب کے سکھوں نے 1947 ء کے فوری بعد ہی اپنے خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھ لیا۔ ساٹھ کی دہائی میں سکھوں کو اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ نہرو کے ساتھ جس ٹرین میں بیٹھے تھے وہ ٹرین ان کی خوابوں کی بستی کی طرف نہیں جارہی تھی۔ بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کی مذہبی اور سماجی شناخت تبدیل کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔

حالانکہ جب بھارتی حکمران دیگر ممالک کے سامنے خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کشکول اٹھا چکے تھے تب پنجاب کے محنت کش سکھ کسانوں نے بھارت کے لئے غلے اور اناج کے ڈھیر لگا دیے۔ بد قسمتی سے خوشحال پنجاب کو مقروض پنجاب تک پہنچانے کے سفر میں بھارتی حکومتوں کی سازشوں کے ساتھ چند مفاد پرست سکھ لیڈر بھی شامل رہے۔ براہمنوں کے دلوں میں سکھوں کے خلاف مذہبی نفرت ہمیشہ سے پلتی رہی انہوں نے سکھ قوم کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے پنجاب کے دریائی پانیوں کو ہمسایہ ریاستوں جیسا کہ جموں، دلی، ہریانہ، ہماچل پردیش اور راجستھان میں بانٹ دیا۔

پنجاب کو تین حصوں میں بانٹ کر بہت سارے پنجابی بولنے والے علاقے ہماچل پردیش اور ہریانہ میں شامل کر دیے گئے، جس سے پنجاب کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کر کے پنجاب کی اہمیت کو کم کر دیا گیا۔ پنجاب کے ہزاروں گاؤں اجاڑ کے چندی گڑھ آباد کیا گیا۔ پنجاب کے ساتھ ہوتے اس کھلواڑ کو دیکھ کر سکھوں نے احتجاج شروع کیا اور اس بھرپور احتجاج کی گونج دلی کے ایوانوں میں سنائی دینے لگی۔ یوں بھارتی راج نیتی نے ایک خطرناک کھیل کھیلا۔

پر امن سکھ مظاہرین پر گولیاں چلائیں گئیں۔ اور اس کے بعد جب سکھ نوجوانوں نے کھل کر اس وقت کی بھارتی حکومت کی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دہشت گرد کہا گیا۔ بھارتی حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر سکھ تحریک کو کچلنے کی ایک چال چلی اور آخر کار جون 1984ء میں سکھوں کے سب سے مقدس مقام سری دربار صاحب امرتسر پر حملہ کر دیا۔ بھارتی فوج کی اس بہیمانہ کارروائی میں ہزاروں معصوم مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے۔ یہ داغ بھارتی جمہوریت اور سیکولرزم کے ماتھے سے کبھی نہیں دھل سکا۔

سکھوں کی طرح کشمیریوں کے ساتھ بھی براہمن اپنے وعدوں اور شرائط سے پھر گیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کشمیریوں کو ستر سال آئین کی شق 370 اور 35 A کا لولی پاپ تھمائی رکھا۔ جبکہ کشمیریوں کی ایک بہت بڑی گنتی ہمیشہ سے بھارتی جبر اور ظلم کے خلاف بر سرِپیکار رہی ہے سوائے چند مفاد پرست سیاسی ٹولوں کے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ یہ آرٹیکل کشمیر کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھاجبکہ عالمی معاشی ماہرین کے مطابق کشمیر کی، ان ابتر حالات میں بھی، معاشی صورتِ حال بھارتی ریاست گجرات سے کہیں بہتر ہے۔

کیا صرف معاشی ترقی کو کشمیریوں کے مصائب، دکھوں اور آزادی کی خواہش کا مداوا اور نعم البدل سمجھ لیا گیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ پچھلے ستر سالوں سے اگر کشمیر کا مسئلہ صرف معاشی ہی ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فوج کشمیر کی گلیوں اور بازاروں میں کیوں تعینات ہے؟ اور ہر سال اس فوجی تعداد میں کیوں اضافہ کیا جا رہا ہے؟ پچھلے ستر سالوں سے کشمیر میں چنار کے درخت نفرت کی آگ میں کیوں جل رہے ہیں؟ وادیاں خون میں کیوں لت پت ہیں؟ ڈل جھیل میں کم عمر کشمیری نوجوانوں کی لاشیں کیوں تیرتی ہیں؟ اب تک ہزاروں کشمیری عورتیں زیادتی کا نشانہ کیوں بن رہی ہیں؟ پیلٹ گنز سے سینکڑوں کشمیری بچے اور نوجوان کیوں اندھے ہو چکے ہیں؟ اب تو عالمی ہیومن رائٹس کے نمائندگان بھی کشمیر میں ہورہے اس ظلم پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔

کشمیری قوم کی امنگوں کو اس بار بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فوجی بوٹوں کے تلے کچلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا کشمیر کی ریاست کو جزیرہ انڈیمان اور پانڈی چری کے اسٹیٹس کے برابر لا کر بھارتی حکومت کشمیری قوم کو غلام بنا لے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ جذبے کچلے نہیں جا سکتے، آوازیں دبائی نہیں جا سکتیں اور قدم روکے نہیں جا سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •