بلاول بیٹا۔۔۔ اپنی ماں کو شرمندہ مت کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا جملہ بول دیا تم نے!

لڑنا ہے تو مردوں سے لڑو۔۔۔ یہی کہا نا تم نے؟

مغرب میں تعلیم پانے والے ایک مرد نے، اعلی تعلیم یافتہ اور کئی محاذوں پہ مردوں سے ہار نہ ماننے والی عورت کے اکلوتے سپوت نے!

یہ تصویر دیکھو، تمہاری ماں نے مجھے تمغہ اعزاز پہنا کر میدان عمل میں اتارا تھا۔

بے نظیر ! آپ کی محنت سب اکارت گئی اور قوم کی سب عورتیں بلاول کا لب و لہجہ سن کر بہت مایوس اور اداس ہوئیں!

ہم کیسے بھولیں اس لڑکی کو جو ڈکٹیٹر کے شب خون کے بعد نہتے ہاتھ سڑکوں پہ نکل آئی تھی۔ جو دن میں اپنے بدن پہ پولیس کی لاٹھیاں کھاتی تھی اور شام میں جیلوں کے دھکے کھاتی تھی۔ جو اس ابتلا کے دور میں بھی سب مردوں کو للکار کے بات کرتی تھی۔ جو باپ کی آئیڈیالوجی کا پرچم لیے استقامت سے کھڑی رہی۔

وہ عورت جس نے اپنی زندگی کے ابتدائی پچیس سال نازو نعم میں گزارے اور پھر وہ زندگی پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوۓ ڈٹ گئی۔ اسے ملک میں چھائی شب سیاہ قبول نہیں تھی۔ اسے اپنے باپ کی پشت پہ کیا جانے والا وار اور پھر قتل کبھی قبول نہ ہوا۔

ایک طویل جدوجہد کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی مگر پھر انہی مردوں کے ہاتھوں ڈسی گئی۔ ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ حکومت سے محروم ہوئی۔ مریم کے والد بزرگوار کی طرف سے بے شمار تہمتیں برداشت کیں، کردار کشی کو ہنس کے سہا۔

اور پھر اسی رہ آزمائش پہ جان بھی دے دی ۔

لیکن یہ کبھی نہیں کہا “ لڑنا ہے تو مردوں سے لڑو ، مجھ نہتی نے تمہارا کیا بگاڑا ہے “

بلاول کا یہ جملہ معاشرے کی اس تصویر کو واضح کرتا ہے جہاں عورت کی کارگردگی ایک مختلف درجے پہ ناپی جاتی ہے۔ جہاں یہ خود ہی سمجھ لیا جاتا ہے کہ جسمانی قوت میں سبقت رکھنے والے مردوں کو ہر میدان میں ہی فوقیت حاصل ہے۔

مجھے بہت ہنسی آتی ہے ایسی کم فہمی پہ اور معاشرے کے مردوں کی خودساختہ طور پہ پھلائی ہوئی انا پہ ۔

کسی بھی گائناکولوجسٹ سے پوچھ لیجیے، اسقاط حمل کس جنس میں زیادہ پایا جاتا ہے؟ زچگی کے دوران کونسے بچے سخت جان ہوتے ہوۓ زندگی کی بازی نہیں ہارتے۔ کون سی مخلوق شدید جذباتی استحصال برداشت کرتے ہوۓ بھی زندگی گزار جاتی ہے۔

یہ تو آپ مجھے بتائیے کہ آپ کے ارد گرد ماں، خالہ، تائی، چچی اور پھوپھی زیادہ عمر جیتی ہیں یا ابا، چچا، خالو، پھوپھا، اور تایا۔

مرد کو اگر جسمانی طور پہ مضبوط ہڈی پسلی بخشی گئی ہے تو عورت کو دو انتہائی طاقتور کروموسوم۔ مرد کے پاس موجود ایک ایکس اسے انتہائی کمزور بناتے ہوئے زندگی کے میدان سے جلدی رخصت کرتا ہے۔ جبکہ عورت کے دو ایکس اسے حیات کے دشوار راستوں سے گزرنے کی استقامت دیتے ہیں۔

عورت کو کمزور کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اس کا جواب معاشرے اور ماحول میں چھپا ہے۔ مردانہ بالا دستی ایک رویے کا نہیں بلکہ ایک استحصالی بندوبست کا نام ہے اور بدقسمتی سے اس نظام کو چلانے والوں کو اپنی بقا اور عافیت اسی میں نظر آتی ہے کہ عورت کو بچپن سے ادنی، کمزور، کم عقل، بے شعور, کم فہم اور جذباتی طور پہ کمزور پکارا جائے۔ خود عورت کو یہ باور کرا دیا جائے کہ رہ حیات میں اس کی کارکردگی دوسرے درجے کی ہے۔

پالن ہار نے ذہن، عقل, سوجھ بوجھ، اور فہم و ذکا بخشنے میں کہیں کمی نہ رکھی۔ قران میں جہاں جہاں مرد کو پکارا، عورت کو بھی آواز دی۔ علم دونوں پہ فرض کیا، گھر کی اکائی دونوں کی، بچوں کی تربیت کی ذمہ داری دونوں پر۔

مانتی ہوں کہ مرد کو جسمانی برتری دی لیکن وہیں پہ عورت کو زچگی کے مرحلے سے گزرنے کے لئے Flexibility  سے نوازا۔ بچہ رحم اور مہبل سے ہوتا ہوا دنیا میں نہیں آسکتا اگر عورت کے بدن میں مرد جیسے غیر لچک دار مردانہ مسلز موجود ہوتے۔

اسلام کی خاتون اول، سمجھ بوجھ اس درجے کی، کہ ایک بڑی تجارت کی مالک اور پیغمبر کو ملازم رکھ رہی ہیں۔ جذباتی طور پہ اتنی مضبوط کہ چالیس کی عمر میں پچیس سال کے مرد سے اپنا رشتہ طے کر رہی ہیں۔ آج اگر عورت ایسا قدم اٹھائے تو اس کی عمر پہ بڈھی گھوڑی لال لگام کی پھبتی کسنے والے کم نہیں ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ بے حیا کا لقب بھی عنایت کیا جائے گا۔

اسلام کی جنگوں نے عورت کو ہمہ وقت ہمرکاب دیکھا، چاہے وہ چوب اٹھاۓ حضرت صفیہ ہوں یا حضرت عائشہ۔ کربلا کے میدان اور پھر یزید کے دربار تک کا امتحان بی بی زینب نے بے انتہاجرات سے ہتھکڑیاں پہنے ہوئے دیا۔ امام سجاد نے یزید کو کہیں نہیں للکارا کہ رسالت کے گھر کی عورتوں کا لڑائی میں کوئی کام نہیں۔ حقیقت میں یہ بی بی زینب کے خطبوں کا ہی اثر تھا جس نے دنیاۓ اسلام میں لرزش پیدا کر دی۔

اس کے برعکس ہمارے سرکاری گیت نگاروں نے لکھا “جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی “

کسی بھی صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے مرد عورت کو ساتھ چلنا لازم ہے۔ چاہے سیاست ہو، تجارت ہو، صحت ہو، علم ہو یا دفاع کا میدان ہو۔اور جان لیجئے کہ اس راہ میں آنے والی کھٹنائیوں میں عورت کو کوئی تخصیص نہیں چاہیے۔

عورت کو سیاست دان کے روپ میں اگر الزامات کا سامنا ہے تو اس میں عورت ہونے کی رعایت کا نعرہ کیوں؟

اور سمجھیے کہ جو بھی عورت جس بھی میدان میں اترتی ہے ذہنی طور پہ ہر امتحان کے لئے تیار ہوتی ہے۔ اگر عورت الیکشن لڑ کے وزیر اعظم بن سکتی ہے تو گرفتار ہو کے جیل بھی جا سکتی ہے۔

بلاول ! لڑائی بھڑائی کرتے ہوئے غنڈے موالیوں والی بھڑکیں فلمی دنیا میں اچھی لگتی ہیں، اسمبلی میں نہیں !

برائے مہربانی اب بڑے ہو جائیے اور عورت کو کمزور سمجھنے سے پہلے اپنی ماں کو یاد کر لیجیے !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •