علم اور دانش کا ایک سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سفر بہت سارے علم، تعلق اور رابطوں کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہ سوچا تھا۔ لیکن 30 جولائی سے 6 اگست تک تھکا دینے والے ایک سفر نے اس کا عملی ثبوت فراہم کر دیا، ان ایام میں پنجاب کی مختلف یونیورسٹی سے طلبہ و طالبات کا ایک وفد کراچی اور سندھ کی مختلف یونیورسٹیوں کے دورے پہ رہا۔ ان سب سرگرمیوں کا بنیادی مقصد امن و ہم آھنگی کا فروغ تھا جس کے حصول اور اہمیت کا احساس بھی ساتھ چلتا رہا ہمارے معاشرے کو امن اور ہم آھنگی کی شاید اتنی ضرورت کبھی نہیں رہی جتنی آج ہے اور اس کے فروغ میں بہترین کردار طلبہ ہی ادا کر سکتے ہیں۔

پنجاب کہ جامعات سے طلبہ سر مرتضی نور صاحب کی رہائی میں عازم سفر ہوئے راستہ طویل لیکن رہنما دلنوز تھا یوں سفر کی شقت کا احساس نہ ہوا کراچی میں وفد کا شیڈول طے تھا اور اسی طے شدہ شیڈول کے مطابق خود کو پابند رکھ کر چلنا پڑا اگرچہ ہم بہت سے طلبہ شاید پہلے اس کے عادی نہ تھے لیکن عادتیں تو اپنے ہاتھ میں ہوتی ہیں انسان انھیں بہتر بھی بنا سکتا ہے اور ہم سب یہ کوشش بھی کرتے رہے۔ تیسرا بین الاقوامی طلبہ کنونشن اور ایکسپو 2019 کی افتتاحی تقریب اقراء یونیورسٹی کراچی میں منعقد ہوا جس میں بہت سارے طلبہ و طالبات امن و ہم آھنگی کے فروغ کے جذبہ کے ساتھ شریک تھے اس اھم اور وقیع پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مرتضی نور صاحب نے ان مقاصد پہ روشنی ڈالی جن کے حصول کے لیے مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کیے جاتے ہیں انھوں نے کہا ہم نے سوچا کہ ہم کس طرح طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پہ لا کر امن اور ہم آھنگی کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ہم نے انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کنونشن کی بنیاد رکھی جس کے تحت پہلا کنونشن اسلام آباد، دوسرا لاہور اور اب تیسرا کراچی میں منعقد ہونے جا رہا ہے انھوں نے اس سلسلے میں بھرپور تعاون اور حوصلہ افزائی پر جامعات کے وائس چانسلرز اور نمائندگان کے لیے شکر گزاری کے جذبہ کا اظہار کیا۔ اس تقریب سے افتتاحی خطاب میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا امن کی فضا کو فروغ دینا ہماری پہلی ترجیح ہے اور اس کے حصول کے لیے طلبہ و طالبات کو ہی اپنی پالیسی کا مرکز و محور بنانا ہوگا امن و برداشت کے معاشرے کے قیام کے لیے طلبہ کی سرگرمیوں کا انعقاد ناگزیر ہے کیونکہ موجودہ دور میں صرف نصابی سرگرمیاں طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے کافی نہیں اس کے لیے ہم نصابی اور عملی تجربات سے ہی طلبہ کو بہتر شہری اور انسان بمانا ممکن ہے اس موقع پر ڈاکٹر وسیم قاضی، ڈاکٹر اختر بلوچ، ڈاکٹر خاور سعید جمالی ڈاکٹر مختار اور دیگر جامعات کے چانسلرز، نمائندگان اور مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تقریب سے اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ جامعات کا مقصد صرف کلاس روم میں پڑھانا نہیں بل کہ طلبہ کو کلاس سے باھر کی دنیا سے بھی روشناس کروانا ہوتا ہے، کوئی بھی تعلیمی ادارہ اگر صرف نصاب پر فوکس کرے گا تو اس سے معاشرے میں انحطاط یقینی ہے غیر نصابی سرگرمیاں اتنی ہی لازم ہیں جتنی نصابی آج کا طالبعلم کلاس سے باھر زیادہ سیکھتا ہے ڈگری کوئی بھی جامع دے سکتی ہے لیکن شخصیت کے اندر سے وہ جوھر آپ نے دریافت کرنا ہے جو معاشرے کو ایک کامیاب شہری دے سکتا ہے اس بات لا ادراک کرنا ہے کہ آپ معاشرے کا حصہ ہیں اور معاشرے کو قوی، توانا اور پرامن بنانے میں آپ کا کردار ہے اور آپ کا یہی کردار ملک کی معاشی اور معاشرتی ساکھ ہے بقول ارسطو انسان ایک سماجی حیوان ہے لیکن اس بحث میں ہم صرف حیوان کو یاد رکھتے ہیں اور انسان کی اہمیت بعقل جاتے ہیں ہمیں اچھے معاشرے کی تعمیر اچھے اور توانا شہری کے کردار کے لیے طلبہ کی تربیت پہ زیادہ توجہ دینا ہوگی اس افتتاحی تقریب میں کنونش کی نسبت سے ایک کیک بھی کاٹا گیا ہوں بہت ساری خوشگوار یادوں کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی اس سلسلے کی تقریبات میں وفد کے چودہ ارکان کو سرٹیفکیٹ دینے کی ایک مشست بھی منعقد ہوئی جس کی میزبانی اقرا یونیورسٹی نے کی سندھ یونیورسٹی کے وزٹ کے دوران سندھ کی ثقافت کے رنگ اور وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد کی میزبانی اور انتظام و انصرام کا سلیقہ ہمیشہ یاد رہے گا طلبہ نے اس دوران علم پروری کے سات شچر پروری کا سبق بھی یاد رکھا اور اپنے ہاتھ سے پودے لگائے۔

میرے افسانوی مجموعہ، رفتہ رفتہ، جس کی سلیکشن دوسرے انٹر نیشنل کنونشن میں ہوئی تھی اب اس کتاب کی تعارفی تقریب بھی سر مرتضیٰ نور نے کروائی۔ جو میرے لیے اعزاز اور میری یادوں کا عظیم سرمایہ ہے اس کے لیے مرتضی نور صاحب کی مہربانی، رہنمائی اور شفقت بڑا اثاثہ رہی اس باوقار انداز اور سر پرستی پر میں بینظیر شہید یونیورسٹی کی انتظامیہ طلبہ او دیگر ممبرانِ وفد کے لیے شکر گزاری کے جذبات رکھتی ہوں یہ پذیرائی آپ سب کے بڑے پن اور فروغ علم و ہنر کی دلیل ہے بہ طور خاص وائس چانسلر محترم ڈاکٹر اختر بلوچ اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز عبدالشکور اور ان کی ٹیم کی محنت، ایثار اور اخلاص ہمیشہ یاد رہے گا۔

ان سب پروگرامات کہ ایک خاص بات یہ رہی کہ اس سے طلبہ کے درمیان نئے روابط بنے انھیں ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقعہ ملا وہ ثقافتی لحاظ سے اپنے اپنے معاشروں کی اقدار اور اپنی جامعات کے کلچر کے بھی نمآئندہ تھے۔ یوں معاشرتی روابط اور تعلیمی سرگرمیوں کے نکھرنے کے مزید مواقع سامنے آئے، یہ تما م سٹوڈنٹس چونکہ اپنی اپنی جامعات کے سوسائٹیز کے ذمہ داران تھے اور اپنے اپنے شعبہ میں ایکسپرٹ اس لیے ان باھمی روابط اور مل بیٹھنے سے دوسروں کو سمجھنے میں مدد ملی اور معاشرے میں امن و ہم آھنگی کے فروغ کے زیادہ بہتر امکانات پیدا ہونے کے ساتھ قوم کو ایک بہترین لیڈر شپ بھی مہیا ہو گی اس دوران طلبہ نے اپنی سوسائٹیز کے نمائندہ کی حثیت سے بہت سارے پروجیکٹ پہ مشاورت اور تجربات بھی شیئر کیے اب تیسرا انٹر نیشل کنونشن 26 اکتوبر تا 30 اکتوبر کراچی میں منعقد ہونے جا رہا ہے ملک بھر کی تمام جامعات کے طلبہ و طلبات سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس کنونشن کا حصہ بنیں اور اپنے اندر چھپی صلاحتیوں کو اجاگر کریں۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 30 اگست ہے اس لیے جلد سے جلد اپنی رجسٹریشن کو یقینی بنائے اور پھر پلیٹ فارم پہ آئے اور کچھ کر دکھائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •