محبت کرنے والے بڑے حوصلوں کے مالک ہوتے ہیں

کامران یونیورسٹی میں میری ہی طرح کا خود پسند نوجوان تھا توہین کی حد تک جاکر لڑکیوں کے پروپوز کو ریجیکٹ کر دینے والا۔ اسی طرح میں بھی کئی مفت خوروں کو جھاڑ پلا چکی تھی ایک دن کامی بھی اس کی زد میں آگیا وہ مجھے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے لان میں ملا اور اپنا رعب جمانے لگ گیا۔ وہاں ایک اچھی خاصی جھڑپ ہو گی جو کئی دن تک یونیورسٹی میں دلچپ موضوع رہی لیکن یہ ہمارے نئے تعلق کی ابتدا بھی تھی۔ یہ بہانہ آہستہ آہستہ ہمارے تعلق کی بنیاد بن گیا۔

Read more

ہماری درس گاہوں سے جنم لیتے ہابیل قابیل

استاد جس کو والدین کا رتبہ دیا جاتا ہے۔ جس کے بارے کہا گیا کہ وہ ہمیں زمین سے آسماں کی بلندیوں تک رسائی دیتا ہے۔ استاد جو ہمارے معاشرے اور دین میں روحانی والدین کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے سکھائے علم ہنر اور انداز سے ہم زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کرنے میں…

Read more

کچھ ذکر سر سجاد کی سُریلی بانسری کا

اُردو ادب سے وابستگی میرے کیریئر کا ایک اہم فیصلہ تھا ورنہ شاید مجھے برسوں پتہ نہ چلتا کہ انسانی سماج میں ادب، لوک ادب، کتھا کہانی اور اساطیر کا کیا کردار ہے۔ انگریزی میڈیم بے شک مجھے اِس معاشرے میں زیادہ اہم بنادیتا لیکن میں اپنی مٹی اور اس میں گندھی ماضی کی خوشبو سے محروم رہتی مجھے ان کتابوں کے خشک اور غیر رومانوی موضوعات نے اپنی اصل کی طرف پلٹنے اور زندگی کو ایک اور زاویہ سے دیکھنے کا موقع دیا۔ میں اپنے والدین اساتذہ اور دوستوں کی ممنون ہوں اور یہ شکر مجھ پہ واجب ہے۔

Read more

ہوا کے ہاتھ پہ لکھی کہانی

وہ اتنی معصوم تھی، یا وقت کے اپنے بے رحم تھپیڑوں نے اس سے جذبوں کا اظہار اور رد و قبول کا سلیقہ چھین لیا تھا، لیکن اس کی ہر ادا ساحرانہ اور ہر انداز قاتلانہ تھا، معصوم سی مسکراہٹ، بے نیازی کا سا انداز، میک اپ سے عاری سانولی سی رنگت کے پر کشش خدو خال، سلیقے سے ترشے ناخن اور فیشن کے تقاضوں سے بے نیاز اکثر قمیض پاجامہ، اس پہ ستم اس کا بولنے کا رنگ ڈھنگ، پوری یونیورسٹی رشک و حسد میں چلی گئی، لڑکوں کی آپس کی رقابتیں اور لڑکیوں کے حاسدانہ جملوں سے بے پروا وہ اپنے کام سے کام رکھے اور اپنی تعلیم سے وابستہ آگے بڑھ رہی تھی۔

Read more

محبت کی ایک کہانی، بڑی پرانی

امی کے گھر میں قدم دھرتے ہی رانی تیزی سے ان کی طرف لپکی۔ امی لان کے کپڑے اور ایمان کی ضرورت کی چیزیں خریدنے مارکیٹ گئی ہوئی تھیں۔ ”ارے لڑکی! یہ کیا بے صبرا پن ہے؛ دم تو لینے دو۔ گھر میں داخل ہوئی نہیں اور محترمہ ہیں آ پہنچیں، چیل کی طرح جھٹپا…

Read more

”منزلیں گرد کی مانند“ (خلیق ابراہیم خلیق) اک نظر میں

اردو زبان و ادب آج کل اپنی نومولودیت کے تقریباً تمام مراحل سے گزر چکا ہے۔ اس زبان کا اگر ساختی نظام دیکھا جائے تو محققین نے اس کا مادہ کئی زبانیں جیسے عربی، فارسی، ترکی اور پنجابی وغیرہ کو بتایا ہے۔ اردو کے الفاظ تقریباً انھی زبانوں سے مستعار ہیں۔ داستان تقریباً عربی و…

Read more

چیخ

مما، مما آخر کب بنے گا میرا نیا یونیفارم؟ کتنے ماہ ہو گئے میں ہر روز یہی سنتی ہوں کہ بس بیٹا تیار ہونے والا ہے میری ساری سہیلیوں نے نیا یونیفارم بنوا لیا ہے ایک میں ہوں جو ابھی تک پھٹے پرانے یونیفارم میں جاتی ہوں۔

ماں اپنی آٹھ سالہ ننھی بچی کی معصوم سی خواہش پر روتے ہوئے دیکھ کر تڑپ اٹھتی اور جلدی سے بشریٰ کو گلے لگا کر کہا بیٹا میں ابھی معلوم کرتی ہوں کہ میری شہزادی کی یونیفارم کو بننے میں اتنی دیر کیوں لگ گئی؟ اور بشریٰ کے دل کو بہلانے کے لیے کہا کہ آخر شہزادی کا یونیفارم تھا کوئی عام بات تھوڑی ہے!

Read more

”عصمت چغتائی، احتجاج اور بغاوت کے آرٹ کی بانی“، ایک جائزہ

باب اول میں عصمت کے حالات زندگی و شخصیت کا ذکر ہے۔

عصمت خانم، منی بیگم، بغیر اطلاع کے پیدا ہوجانے اور بہن بھائیوں کے مہترانی کے نال کاٹنے ہر بھنگن کی لونڈیا کی داستان خود عصمت کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ ہلاکو کے بھائی چغتائی خان سے نسبی تعلق رکھنے والا یہ خاندان ادب سے ہمیشہ آشنا رہا اس باب میں عصمت کے خاندانی حالات اور بچپن کے واقعات کا زیاد تر مواد عصمت کی خود نوشت، ”کاغذی ہے پیراہن“ سے لیا گیا ہے۔ عصمت کی علمی تربیت اس کے بھائی عظیم بیگ چغتائی نے کی جس کا حوالہ اس باب میں موجود ہے۔ بچپن سے ہی عصمت میں سوال اُٹھانے کی جراءت اور اپنی نسائی حثیت کا احساس دلانے بل کہ احتجاج کرنے کا رجحان تھا۔

Read more