ملتان میں پنجاب کلچرل ڈے

کلچر قوم کی شناخت ہوتا ہے۔ اس کی حفاظت اس کا مظاہرہ اس قوم کی بقا ہے، آج پنجاب کا ثقافتی دن ہے، جس کو پورے پنجاب میں بھرپور طریقے سے منایا گیا، عام طور پہ پنجاب میں اپنی روایات کے ساتھ گہری وابستگی ہے۔ بہت سے تہوار میلے اور عرس ہماری روایت کا حصہ ہیں لباس رہن سہن شادی بیاہ غمی خوشی اور فصلوں اور موسموں سے جڑے بہت سے تہوار اور میلے ہر سال منائے جاتے ہیں چودہ

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول: مردہ خانے میں عورت

ذوقی کے بھارت کے موجودہ شہریت کے نام سے جاری المیوں اور دیگر نسلی و مذہبی تناقصات پر لکھے ناول ”مردہ خانے میں عورت“ پر بات کی جائے تو یہ ایک سلگتے موضوع پر شاہکار ناول ہے جس میں ذوقی کے عصری شعور کا بھرپور آہنگ اور رنگ ہے۔ ناول ہمارے سماج اور رویوں کا روزنامچہ ہے جسے ادیب دلنشیں اور تخلیقی انداز میں پیش کر کے اور اہم بنا دیتا ہے۔ ابتداء میں ناول پر داستانوی رنگ غالب تھا

Read more

حکومت کا کمال، کم نمبر والے میرٹ پر اوپر

مجھے پہلی بار پاکستانی ہونے پہ شرمندگی ہو رہی ہے ہر جگہ نا انصافی۔
انٹرن شپ کے لیے سیٹس آئی تو سوچا تین کالج میں اپلائی کر لیتی ہوں۔

اب جب آج لسٹ لگی۔ تو بہت دکھ ہوا۔ آج پہلی بہت مایوس ہوں۔ اور پہلی بار مجھ پاکستانی ہونے پہ شرمندگی ہو رہی ہے۔

ایم۔ اے کی بنا پہ اپلائی کیا تھا اور میرا تینوں کالج میں میرٹ 79 بنتا تھا۔ ہر کالج میں ٹاپ پہ آتا تھا مگر دو کالج میں 16 نمبر پہ نام دیکھا تو پہلے تو حیرانی ہوئی کہ جس کے ایم اے میں 3.4 ہے اس کو 36 % اور میرے 3.65 cgp ہونے کے باوجود 32 اور ایک اور دوست کے 3.65 cgp ہیں ان کے بھی 40 جبکہ میرے 32، ۔

Read more

کرونا بنا ہمارا دوست، ہمارا دشمن۔

دوستو، آپ سے کرونا کے حوالے سے کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں، کرونا ہمارا دشمن ہے جان لیوا ہے نہیں نہیں اففف اللہ یہ کیا کہہ دیا بھائی یہ تو ہمارا دوست ہے۔ مگر دوست بھی تو نہیں کہہ سکتی سننے میں آیا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر شروع ہو چکی ہے مگر مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کرونا کوئی وائرس ہے یا جادوگر؟ کرونا پوچھ کر جاتا ہے کہ میں اس جگہ آ سکتا ہوں یا نہیں۔

میں یہ نہیں کہتی کہ کرونا نہیں لیکن دوستو۔ وائرس میں بھی سیاست اففف اب میں ان لوگوں سے کیا کہوں۔ جب سے ملتان میں جلسہ ہوا میں تو سکتہ میں ہوں کیونکہ اگر وائرس ہے تو پھر سب پڑھے لکھے جاہل ہیں کیونکہ اس جلسہ میں بڑے بڑے عظیم لوگ تھے چالیس سال سابقہ وزیراعظم۔ وا اہ میرے مولیٰ۔ تیری عظمت کو سلام۔ انسانوں کے کالے کرتوتوں کو تو صرف خدا ہی جانتا ہے جس نے ان پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے مریم نواز بی بی، ٹھیک کہا کہ جدھر پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا کرونا پوچھتا ہے کہ جاؤں یا نہیں۔

Read more

حامد سراج کا ناول آشوب گاہ: ایک مطالعہ

 آشوب گاہ حامد سراج کا اہم ناول ہے ناول کے دو مرکزی کردار، خلجی اور خدیجہ ہیں، جن کے درمیان محبت کا سلسلہ چل رہا ہے، لیکن کئی معاون کردار بھی اہم ہیں جن سے بہت سی سرگوشیوں کو سنا اور روزنوں سے جھانکا جا سکتا ہے، خاص طور پہ سامری، جو ناول کے بیانیہ کو پر اسرار بنا دیتا ہے۔ ناول کے یہ کردار مختلف جگہوں، یونیورسٹی، گاؤں، شہر گھومتے ہیں، زیادہ حصہ ایک ریلوے پلیٹ فارم پہ گزرتا

Read more

اللہ میاں تلے آ

کائنات۔ کائنات بیٹا۔ ابھی آئی امی۔ کیا کر رہی ہو؟ ہوم ورک کر رہی ہوں امی۔ کائنات جلدی سے مرغیوں کے ڈربے سے ہٹ گئی اپنے کپڑے جھاڑے اور دوڑتی ہوئی امی کے پاس آگئی جی امی جی۔ آپ نے بلایا وہ میں۔ وہ میں۔ کیا؟ اب بولیں بھی سہی۔ (کائنات کی امی نے غصہ بھرے انداز میں کائنات کو دیکھا) کائنات کچھ گڑ بڑا سی گئی کائنات تم پھر گندگی میں چلی گئی تمھیں کتنی بار بتایا ہے کہ

Read more

محمد حامد سراج کی ”میا“

محمد حامد سراج کی ”“ میا ”کا مطالعہ کرنے کے بعد دل بہت اداس ہو گیا میا کو پڑھتے وقت آنکھوں سے آنسو خود بخود حامد سراج کی تحریر کو داد دینا شروع کر دیتے ہیں لگتا ہے“ میا ”کو حامد سراج نے آنسوؤں میں ہی پرویا ہے۔ واہ کیا کہنے۔ ”تمہارے بعد یہ زندگی بے ترتیب ہو گئی ہے ریزہ ریزہ زندگی کو کیسے ترتیب دیا جائے۔ آنسوں کو کس تاگے میں پرویا جائے“ ”میا“ میں ماں جیسی ہستی

Read more

جدیدیت، مبادیات ۔۔۔ تکثیر جدیدیت

اردو ادب میں لسانیات کا سبجیکٹ بڑا بوجھ لگتا تھا لیکن جب سر پر آگئی تو بھگتنا پڑا اس موضوعِ پہ شمس الرحمان فاروقی اور گوپی چند نارنگ کا اسلوب مجھے زیادہ سزا دیتا رہا لیکن فائدہ بھی اسی سزا میں ملا۔ اسی تناظر میں جدیدیت کے مباحث بھی زیرِ مطالعہ رہے۔ جدیدیت، مابعد جدیدیت، پس مابعد جدیدیت، ساختیات و پس ساختیات پہلے تو ان اصطلاحات کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ رفتہ رفتہ تکرار کے ساتھ مطالعہ نے میرے ذہن

Read more

اقبال، احتجاجی اور مزاحمتی جمالیات کے موجد

افکارِ اقبالؒ کا نو آبادیات اور اس کے مابعد اثرات پہ ایک وقیع مطالعہ ڈاکٹر آصف بی زیڈ یو ملتان نے، اقبال اور نیا نو آبادیاتی نظام، کے نام سے کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔ کتاب اقبالیات کے ذخیرہ میں فقط اضافہ نہیں اقبال کے کلام اور پیام کی ایک نئی جہت مزاحمتی جمالیات کی بازیافت میں اھم پیش رفت ہے۔ تین ابواب پر مشتمل اس کتاب کا پہلا باب، امپیریلزم، نو آبادیاتی نظام، نیا نو آبادیاتی نظام، کے

Read more

ماں 

وہ کراچی شہر میں تھا اور ادھر سمندر کے کنارے ٹہل رہا تھا، تازہ ہوا کے جھونکے اس کے بالوں سے کھیل رہے تھے اور وہ عزہ کے خیالوں کے حصار میں گم، گزشتہ چند ماہ سے وہ اس کی زندگی کو ہر ترتیب کو ُآلٹ دینے والی لڑکی تھی، اگرچہ اس تعلق کو شادی میں تبدیل کرنے کے فیصلے میں کوئی رکاوٹ تو نہ تھی لیکن زیشو اپنی امی سے پوچھے بغیر یہ فیصلہ نہ کر سکتا تھا، جبکہ

Read more

علم اور دانش کا ایک سفر

ایک سفر بہت سارے علم، تعلق اور رابطوں کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہ سوچا تھا۔ لیکن 30 جولائی سے 6 اگست تک تھکا دینے والے ایک سفر نے اس کا عملی ثبوت فراہم کر دیا، ان ایام میں پنجاب کی مختلف یونیورسٹی سے طلبہ و طالبات کا ایک وفد کراچی اور سندھ کی مختلف یونیورسٹیوں کے دورے پہ رہا۔ ان سب سرگرمیوں کا بنیادی مقصد امن و ہم آھنگی کا فروغ تھا جس کے حصول اور اہمیت کا احساس

Read more

لیاقت علی: جھوٹے آدمی کے اعترافات

بعض دوست، مجھے کتب بینی کا قاعدہ سکھاتے ہیں، کہ کتاب کا شروع سے آخر تک، باقاعدہ مطالعہ مفید ہے، لیکن میں اس راسخ العقیدگی کی پیروی کبھی نہیں کر سکی۔ اکثر میرے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ کتاب ملی، کہیں سے بھی کھولی اور مطالعہ شروع کردیا۔ یہی سلوک میں نے لیاقت علی کے افسانوی مجموعے ”جھوٹے آدمی کے اعترافات“ کے ساتھ بھی کیا۔ کتاب کھولنے پہ صفحہ 92 کی آٹھویں لائن کے ایک شعر پہ نگاہ ٹھہر گئی:

Read more

پہلا سالانہ جنوبی پنجاب ادبی میلہ

ادب اور ادبی سرگرمیاں ہمیشہ سے امن و آشتی کے فروغ کا باعث رہی ہیں انسان کی کتھارسس ادب کا بڑا وظیفہ ہے یوں وہ اپنے جذبات کی شدتوں کو ایک راہ دے کر اپنی بقا کو ممکن بناتا رہا مجھے اس حقیقت کا احساس ہے۔ ادب کی طالبہ کی حثیت سے اس پہ بات کرنے اور لکھنے کا موقع ملتا رہا لیکن اس سب کے حصول کے لیے یہ کافی تو نہ تھا اس کے لیے اس سے کچھ زیادہ

Read more

ادب برائے ادب اور برائے زندگی

ادب برائے ادب اور برائے زندگی پرانی مباحث میں سے ہے۔ لیکں یہ طے ہے کہ ادب کرہ ارض پر انسانوں اور معاشرتی رویوں میں براہ راست دخیل ہوتا ہے اور انسانی شخصیت کے خال و خد اجالنے میں اپنا کردار ادا کرتا۔ تعمیری اوربامقصد ادب جس بھی صنف سخن میں نمو پذیر ہو وہ اپنا اثر دکھاتا ہر۔ کرہ ارض پر عالمی ابی میلوں کے ساتھ فن موسیقی مصوری مجسمہ سازی رقص و سرود آرٹ اور اس طرح کے متعدد میلے اور کنفرنسز ہوتی ہیں تا کہ انسان ایک دوسرے سے ملے تہذیب و تمدن کوجانے اور زمین پر اپنی روشنی اور خوشبو سے پھول اگائے۔

Read more

محبت کرنے والے بڑے حوصلوں کے مالک ہوتے ہیں

کامران یونیورسٹی میں میری ہی طرح کا خود پسند نوجوان تھا توہین کی حد تک جاکر لڑکیوں کے پروپوز کو ریجیکٹ کر دینے والا۔ اسی طرح میں بھی کئی مفت خوروں کو جھاڑ پلا چکی تھی ایک دن کامی بھی اس کی زد میں آگیا وہ مجھے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے لان میں ملا اور اپنا رعب جمانے لگ گیا۔ وہاں ایک اچھی خاصی جھڑپ ہو گی جو کئی دن تک یونیورسٹی میں دلچپ موضوع رہی لیکن یہ ہمارے نئے تعلق کی ابتدا بھی تھی۔ یہ بہانہ آہستہ آہستہ ہمارے تعلق کی بنیاد بن گیا۔

Read more

ہماری درس گاہوں سے جنم لیتے ہابیل قابیل

استاد جس کو والدین کا رتبہ دیا جاتا ہے۔ جس کے بارے کہا گیا کہ وہ ہمیں زمین سے آسماں کی بلندیوں تک رسائی دیتا ہے۔ استاد جو ہمارے معاشرے اور دین میں روحانی والدین کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے سکھائے علم ہنر اور انداز سے ہم زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کرنے میں آسانی پاتے ہیں۔ میں خود سٹوڈنس ہوں اور آج سب طالب علموں سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا آپ اپنے والدین کو قتل

Read more

کچھ ذکر سر سجاد کی سُریلی بانسری کا

اُردو ادب سے وابستگی میرے کیریئر کا ایک اہم فیصلہ تھا ورنہ شاید مجھے برسوں پتہ نہ چلتا کہ انسانی سماج میں ادب، لوک ادب، کتھا کہانی اور اساطیر کا کیا کردار ہے۔ انگریزی میڈیم بے شک مجھے اِس معاشرے میں زیادہ اہم بنادیتا لیکن میں اپنی مٹی اور اس میں گندھی ماضی کی خوشبو سے محروم رہتی مجھے ان کتابوں کے خشک اور غیر رومانوی موضوعات نے اپنی اصل کی طرف پلٹنے اور زندگی کو ایک اور زاویہ سے دیکھنے کا موقع دیا۔ میں اپنے والدین اساتذہ اور دوستوں کی ممنون ہوں اور یہ شکر مجھ پہ واجب ہے۔

Read more

ہوا کے ہاتھ پہ لکھی کہانی

وہ اتنی معصوم تھی، یا وقت کے اپنے بے رحم تھپیڑوں نے اس سے جذبوں کا اظہار اور رد و قبول کا سلیقہ چھین لیا تھا، لیکن اس کی ہر ادا ساحرانہ اور ہر انداز قاتلانہ تھا، معصوم سی مسکراہٹ، بے نیازی کا سا انداز، میک اپ سے عاری سانولی سی رنگت کے پر کشش خدو خال، سلیقے سے ترشے ناخن اور فیشن کے تقاضوں سے بے نیاز اکثر قمیض پاجامہ، اس پہ ستم اس کا بولنے کا رنگ ڈھنگ، پوری یونیورسٹی رشک و حسد میں چلی گئی، لڑکوں کی آپس کی رقابتیں اور لڑکیوں کے حاسدانہ جملوں سے بے پروا وہ اپنے کام سے کام رکھے اور اپنی تعلیم سے وابستہ آگے بڑھ رہی تھی۔

Read more

محبت کی ایک کہانی، بڑی پرانی

امی کے گھر میں قدم دھرتے ہی رانی تیزی سے ان کی طرف لپکی۔ امی لان کے کپڑے اور ایمان کی ضرورت کی چیزیں خریدنے مارکیٹ گئی ہوئی تھیں۔ ”ارے لڑکی! یہ کیا بے صبرا پن ہے؛ دم تو لینے دو۔ گھر میں داخل ہوئی نہیں اور محترمہ ہیں آ پہنچیں، چیل کی طرح جھٹپا مارنے کو۔ یہ بھی خیال نہیں، ماں گرمی میں تھکی ہاری آئی ہے، پہلے دو گلاس ٹھنڈا پانی ہی پلا دوں۔ “ موسم کی تپش

Read more

”منزلیں گرد کی مانند“ (خلیق ابراہیم خلیق) اک نظر میں

اردو زبان و ادب آج کل اپنی نومولودیت کے تقریباً تمام مراحل سے گزر چکا ہے۔ اس زبان کا اگر ساختی نظام دیکھا جائے تو محققین نے اس کا مادہ کئی زبانیں جیسے عربی، فارسی، ترکی اور پنجابی وغیرہ کو بتایا ہے۔ اردو کے الفاظ تقریباً انھی زبانوں سے مستعار ہیں۔ داستان تقریباً عربی و فارسی ادب سے لی گئی ہے۔ غزل بھی فارسی سے لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ناول اور افسانہ وغیرہ اور جتنی بھی نئی اصناف

Read more

چیخ

مما، مما آخر کب بنے گا میرا نیا یونیفارم؟ کتنے ماہ ہو گئے میں ہر روز یہی سنتی ہوں کہ بس بیٹا تیار ہونے والا ہے میری ساری سہیلیوں نے نیا یونیفارم بنوا لیا ہے ایک میں ہوں جو ابھی تک پھٹے پرانے یونیفارم میں جاتی ہوں۔

ماں اپنی آٹھ سالہ ننھی بچی کی معصوم سی خواہش پر روتے ہوئے دیکھ کر تڑپ اٹھتی اور جلدی سے بشریٰ کو گلے لگا کر کہا بیٹا میں ابھی معلوم کرتی ہوں کہ میری شہزادی کی یونیفارم کو بننے میں اتنی دیر کیوں لگ گئی؟ اور بشریٰ کے دل کو بہلانے کے لیے کہا کہ آخر شہزادی کا یونیفارم تھا کوئی عام بات تھوڑی ہے!

Read more

”عصمت چغتائی، احتجاج اور بغاوت کے آرٹ کی بانی“، ایک جائزہ

باب اول میں عصمت کے حالات زندگی و شخصیت کا ذکر ہے۔

عصمت خانم، منی بیگم، بغیر اطلاع کے پیدا ہوجانے اور بہن بھائیوں کے مہترانی کے نال کاٹنے ہر بھنگن کی لونڈیا کی داستان خود عصمت کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ ہلاکو کے بھائی چغتائی خان سے نسبی تعلق رکھنے والا یہ خاندان ادب سے ہمیشہ آشنا رہا اس باب میں عصمت کے خاندانی حالات اور بچپن کے واقعات کا زیاد تر مواد عصمت کی خود نوشت، ”کاغذی ہے پیراہن“ سے لیا گیا ہے۔ عصمت کی علمی تربیت اس کے بھائی عظیم بیگ چغتائی نے کی جس کا حوالہ اس باب میں موجود ہے۔ بچپن سے ہی عصمت میں سوال اُٹھانے کی جراءت اور اپنی نسائی حثیت کا احساس دلانے بل کہ احتجاج کرنے کا رجحان تھا۔

Read more