وزیر خارجہ قریشی۔ باتیں لاکھ کی، کرنی خاک کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ تجربہ کار اور ماہر سیاست دان محترم شاہ محمود قریشی ہیں۔ نسل در نسل سے محلات کی غلام گردشوں میں پنپنے والی حکمرانی کے اسرارو رموز سے واقف حال ہیں۔ ملتاں کے قریشی خاندان سے تعلق ہے۔ یہ خاندان اہل اقتدار طبقہ کے ساتھ ہمیشہ سے شیر و شکر رہا ہے۔ پنجاب کے جاگیر داروں میں اس خاندان کا نام دنیاوی وجاہت و برتری، عزت و تکریم اور شان و شوکت کے ساتھ ساتھ مذہبی طاقت کا استعارہ بھی رہا ہے۔

ملتان کی تاریخ میں صدیوں سے کئی ہنگامے پلتے رہے اور کئی انقلابات آئے لیکن اس خاندان کے اثرو رسوخ میں کبھی کمی نہ آسکی۔ اس کی سب بڑی وجہ اس خاندان کا حالات کے مطابق ڈھل جانا ہے۔ سکھوں کے ابتدائی دور میں مخدوم شاہ محمود اس خاندان کے سربراہ تھے۔ جب رنجیت سنگھ نے ملتان فتح کیا تو انہیں ساڑھے تین ہزار مالیت کی جاگیر عطا کی گئی۔ جب اس ملک پر یونین جیک سایہ فگن ہوا تواس کو لہرانے میں خدمات پیش کرنے کے اعتراف کے طور پرانہیں ایک پورا گاؤں، جاگیر اور تا حیات پنشن سے نوازا گیا۔ اگر چہ انہوں نے سرکاری فوج میں کافی سوار اور پیادے بھینٹ چڑ ہائے لیکن کہا جاتا ہے کہ انگریز کے خلاف مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے میں ان کی ہمدردیاں اور فتاویٰ بہت مدد گار ثابت ہوے۔

ہمارے موجودہ وزیر خارجہ، شاہ محمود قریشی نے اپنی سیاست کا آغاز ضیا الحق کے دور میں کیا۔ 85 کی آزاد اسمبلی میں آنے کے بعد اس وقت کی منظور نظر پارٹی مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ نواز شریف کے اس وقت تک ساتھی رہے جب تک اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ تھی، پھر منظور وٹو کی کابینہ میں شامل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگلے الیکشن میں نواز شریف نے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا توپیپلز پارٹی میں شامل ہوکر 93 میں بینظیر بھٹو کے قریب ہو گئے۔ بہت سمجھدار سیاست دان ہیں۔ الیکشن میں دھول دھپا، پیری مریدی، دولت اور ریاست سب کی مدد لیتے ہیں۔ باتیں بنانا خوب جانتے ہیں کہتے ہیں کہ اگر چہ خاندان اور وراثت ضروری ہے لیکن بہت اہم نہیں، ہر کسی کو جیتنے اور ووٹ لینے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔

ہر دور میں ان پر الٹے سیدھے الزامات لگتے رہے ہیں اور ان کے ساتھیوں کے دل بھی ان کے بارے میں صاف نہیں رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو بھی ان کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ 2002 میں مشرف کے زیر سایہ وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھتے رہے۔ پارٹی کی حمائیت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو بہت خوبصورت الفاظ کہے، ”آج جمہوری روایات ناکام ہو گئی ہیں۔ “ پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف جب وکلاء کی تحریک چل رہی تھی، وہ اظہار یک جہتی کے لئے آئے تو ان پر غدار غدار کی آوازیں کسی گئیں۔

وکی لیکس کے مطابق 2008 کے الیکشن کے بعدپاکستان میں متعین امریکی سفیر ’این پیٹریسن‘ کے اپنی حکومت کو بھیجے گئے ایک مراسلہ میں لکھا ہے، ”پاکستان پیپلز پارٹی حکومت بنانے کے لئے اتحادی تلاش کر رہی ہے۔ لیکن اس کو اپنی پارٹی کے اند ر لیڈر شپ کے مسائل کا زیادہ سامنا ہے۔ قریشی ایک بہترین اور صاف بات کرنے والا آدمی ہے۔ وہ وزارت عظمیٰ کاخواہش مند ہے اور غیر ملکی سفارتکاروں میں مہم بھی چلا رہا ہے۔ وہ پوری ایمانداری سے اظہار کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی ا ور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ “

اسی میں ذکر ہے کہ جب ایک سال پہلے بے نظیر نے قریشی کو جو کہ پارٹی میں کافی جونئیر تھے، پنجاب پارٹی کا صدر لگایا تو یوسف رضا گیلانی سمیت کافی لوگ اس سے خوش نہیں تھے۔ گیلانی اور قریشی ایک دوسرے کے سیاسی اور روحانی مخالف ہیں۔ گیلانی نے ان کی قیادت کو ماننے سے بھی انکار کردیا تھا۔ پارٹی کی جیالے بھی ان کے مخالف تھے کیونکہ قریشی صاحب پیر ہونے کی وجہ سے ان سے علیحدہ بیٹھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ پیروں کی روایت ہے کہ وہ مریدین اور عام عوام کے برابر بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔ ان کے مخالفین نے ان پر الیکشن میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں رقوم وصول کرنے کا بھی الزام لگایا تھا۔

اسی میں امریکی سفیر لکھتی ہیں، ”زرداری نے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر طارق عزیز کو بتا یا کہ وہ قریشی کو وزیر اعظم کا امیدوار بنا نے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ عزیز نے اس پر اچھا محسوس نہ کیا اور زرداری کو بتایا کہ ان کا دوسری پارٹیوں کے ساتھ اچھا تعلق نہیں بن سکے گا۔ طارق عزیز نے مزید کہا کہ قریشی نے ہمیں بتایا ہے، اگر وہ وزیر اعظم بن گئے تو وہ زرداری کے ’یس مین‘ نہیں بنیں گے۔ “ میں اپنی پسند کے مطابق کام کرنے والا آدمی ہوں اور میں پردے کے پیچھے سے ہدایات قبول نہیں کر سکتا۔ ”

وہ وزیر اعظم ایک بار پھر نہ بن سکے اوران کو وزیر خارجہ لگا دیا گیا۔ لیکن ان کے دل میں زرداری کے خلاف ایک گرہ لگ گئی اور جب حکومت پر ریمنڈ ڈیوس کے معاملہ میں مشکل وقت آیا تو ان کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ ان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

قریشی صاحب پربہت سے الزامات لگتے ہیں لیکن کبھی بھی فلور کراسنگ یا لوٹے ہونے کا الزام نہیں لگا کیونکہ وہ حالات کا ادراک رکھتے ہیں اور پہلے ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ آج کل وہ انصاف کا ترازو ہاتھ میں اٹھائے ہوے ہیں۔ ان کا مخالف ’ترین‘ نا اہل ہو چکا ہے۔ اب پارٹی میں دو نمبر وہ ہیں۔ اور ان کی بار (covering) وزیر اعظم۔

کامیاب وزیر خارجہ ہیں۔ بیرونی دنیا کا تو پتا نہیں پاکستانی میڈیا سے مخاطب ہوں یا کسی جلسہ عام میں عوام کا لہو گرما رہے ہوں تو بات اتنی خوبصورت بناتے ہیں کہ بندہ ا ن کا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ عوام کو الفاظ کے سونامی میں بہا کر لے جاتے ہیں۔ الفاظ کے ہیر پھیر سے عقل ماؤف کر دیتے ہیں۔ جملوں کی کشش سے جان نکال لیتے ہیں اورباڈی لینگویج سے دل چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ باڈی لینگویج جس کا ترجمہ استاد محترم عرفان صدیقی (قلم ہتھکڑی والے ) نے بدن بولی کیا ہے۔

ان کی بدن بولی کمال کی ہے۔ اس کمال کی ایک وجہ ان کا خاندانی پیشہ پیری مریدی ہے۔ پیر آنکھ اٹھا کردیکھیں تو دل و دماغ روشن ہو جاتے ہیں۔ ہاتھ کے اشارے جنت کا راستہ بتاتے ہیں اور اگر کبھی وہ قدم رنجہ فرما دیں تو تقدیر اور چودہ طبق روشن ہو جاتی ہیں۔ ایک بات ان کا بھائی کہتا ہے کہ وہ پیراور گدی نشین نہیں ہیں پھر بھی ان پر نذرانے اور تحفے تحائف نچھاور ہوتے ہیں۔ اگر چہ وہ اس کے حقدار بھی نہیں۔

ان کی باتیں ہم انہماک سے سنتے ہیں کہ بیرونی دنیا سے کوئی اچھی خبر ہی لائے ہوں گے۔ ملک کا کاسہ گدائی اٹھاے در بدر پھر رہے ہیں۔ سعودیہ سے آے تو یوں لگتا تھا کہ جیسے کوئی طائر لاہوتی اڑان بھر رہا ہو۔ ساری گفتگو سنی کمال کر دیا۔ امریکہ گئے۔ ارینا ون میں ان کی تقریر دیکھنے والی تھی۔ اچھل اچھل کر دیار غیر میں اپنے گھر کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ ان کی باتوں کا پھیلاؤ، ذہنی اپھارہ لگ رہا تھا اور ان کا بدن بھی اس جیسی ہی بولی بول رہا تھا۔ امریکہ سے کشمیر فتح کرنے کی تھپکی لے کر واپس آئے تو ان کی چال دیکھنے والی تھی۔ لمبی پریس بریفنگ اور پھر پریس کی مثبت رپورٹنگ، ہم ہواؤں میں اڑ رہے تھے کہ یہ مسئلہ حل ہو جاے گا کیونکہ اب ملکی طاقتوں کے ساتھ عالمی طاقت بھی ایک پیج پرہی آگئی ہے۔

لیکن مودی شاطر تھا، وہ دھوکا دے گیا۔ ہمارے پیر صاحب تو مطمئن ہو کر اللہ کے گھر کا طواف کرنے چلے گئے تھے۔ ان کوپتا ہی نہ چلا کہ دشمن کوئی چال چل رہا ہے۔ اب امریکہ کے پاس جانا فضول تھا اس کی بات تو ہندوستاں نے ہوا میں اڑا دی تھی۔ خدا کا گھر چھوڑا اوربے خداؤں کے پاس پہنچ گئے۔ سفید شلوار قمیض اور نیلی ویسٹ کوٹ میں ملبوس فرشتہ سماں روح دیکھ کر وہ سب پریشان ہو گئے۔ حیران تو وہ پہلے ہی تھے کہ پھر امریکہ کو چھوڑ کر واپس آگئے۔

فوراً ہماری مدد کی حامی بھری اور شاہ صاحب کو عازم وطن کیا۔ اب ان کی باتیں سننے والی ہیں۔ انڈیا کشمیر میں جو بھی کر رہا ہے، جب غیر ملکی میڈیا خبر دے گا تو ہمیں بھی پتا چل جاے گا۔ ہم حفظ ماتقدم کے طور پر اس کو پہلے ہی سکیورٹی کونسل میں لے جائیں گے اور ”ایک اور“ قراد داد منظور کروانے کی کوشش کریں گے۔ قوم مطمئن رہے کشمیر میں جو ظلم کرے گا اسے آخرت میں جواب دینا پڑے گا۔ سیاسی مخالف ان کامیابیوں سے جلتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہمارے وزیر خارجہ کی چونکہ کہیں بھی بات نہیں بن رہی اس لئے وہ صرف باتیں بنا رہے ہیں، فی الحال اسی پر گزارا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •