ملی نغموں کا تمسخر اڑانا ہرگز جشنِ آزادی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورے وطنِ عزیز میں آزادی کا جشن منانے کی لہر دوڑتی نظر آتی ہے۔ جہاں ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی عمارتوں پر قومی پرچم سج جاتے ہیں وہیں ہر چھوٹے بڑے گلیوں محلوں میں دکاندار رنگ برنگی جھنڈ یاں اور پرچم سجائے نظر آتے ہیں۔ آخر ایسا ہو بھی کیوں نا؟ بہت سی قربانیاں دینے کے بعد آخر کار انگریزوں کی غلامی سے اس ملک کو آزاد کروایا تھا۔ اسی کامیابی کی خوشی میں 14 اگست کو ملک بھر میں آزادی کا جشن منایا جاتاہے۔

ساتھ ہی ساتھ میڈیا بھی اس زمرے میں پیچھے نہیں رہتا۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اگست کے آغاز سے ہی یومِ ِ آزادی کے حوالے سے پروگرامز نشر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جن میں مختلف اور منفرد انداز سے یوم آزادی کو منایا جاتا ہے۔ پر کیا یہ بات قابلِ غور نہیں کہ ان پروگرامز میں پیش کیا جا نے والا مواد ملک کی آبرو اور عزت کی رسوائی کا باعث تو نہیں بن رہا؟ دنیا بھر کے ممالک اپنے وطن کی آبرُو کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔ پر کیا ہمارا ملک اور میڈیا بھی اپنے نشر کیے جانے والے پروگرامز پر غور کر رہا ہے؟ یہ بات کافی غور وفکر کرنے والی ہے۔

گزشتہ روز میری نظر کے سامنے سے ”آپ“ چینل پر نشر ہونے والے پروگرام ”خبرزار“ کا ایک پروموگزرا۔ یہ کہنا بہت افسوس کی بات ہو گی کہ اس پرومو میں پاکستانی ملی نغمے ”وطن تمھارا ہے ٗ ٗ کو نہایت ہی طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جن نغموں کو احترام دینا چاہیے ان کا مذاق بنا کر ان کو پیش کیا جا رہا ہے اور دنیا کے آگے اپنا کیا عکس ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کہ ہماری نظروں میں ہمارے ملک کی صرف یہی قدرو قیمت ہے۔ طنزیہ انداز میں پیش کئیے جانے والے نغمے کی چند سطو رملاحظہ فرمائیں :۔

یہ وطن تمھارا ہے، ہم ہیں خواہ مخواہ اس میں
یہ چمن تمھاراہے، ہم ہیں خواہ مخواہ اس میں
اس چمن کے چوروں پر، رنگ وآب تم سے ہے

اگرچہ 1973 کے آئین میں آرٹیکل 9 کے تحت ہر پاکستانی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے۔ اسی آرٹیکل کے تحت میڈیا کو بھی آزادی سے اپنی رائے اور خیالات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ پر دوسری طرف ایک مخصوص حد تک صرف اپنا نظریہ بیان کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آرٹیکل 9 پر کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جن کے زیرِ نظر کوئی بھی شہری اسلام کے خلاف، ریاست کے خلاف اور کسی انسان کی عزت کو ٹھیس پہنچائے بغیر ہی صرف اپنا نظریہ بیان کر سکتا ہے۔

یہ پابندیاں ہر پاکستانی شہری کو آزادیِ رائے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ اس کی مقررہ حد میں باندھ کر رکھتی ہیں۔ پر اس شو میں ملی نغمے کا تمسخر اڑانے کا ساتھ سا تھ دنیا کے سامنے میڈیا نے اپنا ایک برا عکس پیش کیا ہے۔ جو کہ ہر گز غلط ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولر اتھارٹی کے قوانین و ضوابط کے مطابق ٹی وی پر ایسے پروگرامز ہرگز پیش نہیں کئیے جا سکتے جو کہ وطنِ عزیز کی بے حرمتی کا باعث بنیں۔ میڈیا براڈ کاسٹر اور کیبل ٹی وی آپریٹر کے ضابطہ اخلاق سیکشن 21 شیڈول۔ Aمیں بھی یہ بات درج ہے کہ انپی ریا ست کے خلاف کوئی بھی ناگواربات نشر نہیں کر سکتے۔

لہذا پیمرا کو سختی سے ملی نغمے کا تمسخر اڑانے کے خلاف نوٹس لینا چاہیے۔ تاکہ آئندہ کوئی بھی چینل ایسی نشریات نشر نہ کرے۔ اور میڈیا کو بھی اس بات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ جشن ِ آزادی کو ایک جشن ہی کی طرح منایا جائے ناکہ اپنے ملک کی رسوائی کر کے۔ اگر ہم خود ہی اس قسم کے پروگرامز نشر کریں گے تو باقی ممالک کیا ہمارے ملک کی عزت کریں گے؟ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ باقی ممالک ہمارے ملک کی عزت کریں تو اس کے لئے آغاز ہمیں خود کرنا پڑے گا۔ تب ہی تمام دینا ہمیں عزت کی نگا ہوں سے دیکھے گی۔ جس ملک کو ہمارے بزرگوں نے بہت سی جدوجہد اور انِ تھک کوششوں سے حاصل کیا ہے۔ اب یہ ہر پاکستانی شہری پر فرض ہے کہ شہیدوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ اور خود بھی اس ملک کی عزت کریں تاکہ دوسرے ممالک بھی ہمیں عزت دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
انیکا عنایت کی دیگر تحریریں
انیکا عنایت کی دیگر تحریریں