آزادی کے ”یوم“ کی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم بحیثیت پاکستانی ”14 اگست“ کے دن پر ایمان لاتے ہوئے اسے اپنی آزادی کے ”یوم“ کے طور پر مناتے ہیں۔ پچھلے ستر سال سے چند تاریخی چیزیں ”معمہ“ بنی ہوئی ہیں جن پر ہر سال بحث کی جاتی ہے مگر حل ندارد، جیسا کہ قائد اعظم اسلام پسند تھے یا سیکولر، مُلا حضرات پاکستان کے حامی تھے یا مخالف، قرار دادِ پاکستان کا ڈرافٹ کس نے لکھا؟ ”میری جیب میں چند کھوٹے سکے ہیں“ یہ فرمان قائد اعظم کا ہے یا نہیں؟ بالکل اسی طرح ابھی بھی علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث پائی جاتی ہے کہ پاکستان کب قائم ہوا؟ 14 یا 15 اگست کو؟ جس رات پاکستان قائم ہوا کیا وہ لیلۃ القدر کی رات تھی یا نہیں؟

3جون کو تقسیم ہند اور انتقالِ اقتدار کا اعلان کرتے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی نشری تقریر میں صرف اتنا کہا تھا کہ آئندہ چند ماہ میں ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی۔ اسی حوالے سے ما ؤنٹ بیٹن نے 4 جون 1947 کو پریس کانفرنس کی جس میں تین سو سے زائد ملکی و غیر ملکی پریس کے نمائندے شریک ہوئے۔

پریس کانفرنس کے آخر میں سوالات کا دور شروع ہوا، ایک ہندوستانی نمائندے نے آخری سوال پوچھا: ”سر! ٹرانسفر آف پاور کے لیے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے، مجھے یقین ہے کہ آپ کے ذہن میں اس کے لیے کوئی تاریخ بھی ہو گی؟ “ ماؤنٹ بیٹن خود اعتمادی کے گھوڑے پر سوار تھا، جواب دیا ”ہاں“، اخباری نمائندے نے پوچھا ”سر! کون سی تاریخ؟ “ ماؤنٹ بیٹن نے فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین کو بتایا کہ ”میں انتقالِ اقتدار کی تاریخ کے بارے میں واضح نہیں تھا“ مگر اخباری نمائندے کے سوال پر وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتا تھا کہ اس کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں۔

چنانچہ تاریخ کے بارے میں سوچا، ماؤنٹ بیٹن جنگ عظیم دوئم میں ساؤتھ ایسٹ ایشیاء کا کمانڈر تھا۔ یورپ میں جنگ مئی 1945 میں ختم ہو گئی تھی مگر جاپان کی فوجوں نے جنگ جاری رکھی، جاپان نے 14 اگست 1945 کو شکست تسلیم کی چنانچہ جنگ عظیم دوئم سرکاری طور پر 15/14۔ اگست 1945 کی نصف شب ختم ہوئی۔ یہ تاریخ ماؤنٹ بیٹن کے ذہن پر کندہ تھی، چنانچہ اس نے جواب دیا:

”ہندوستان کو انتقالِ اقتدار 15 اگست کو کر دیا جائے گا“۔ ( ”پاکستان میری محبت“ از ڈاکٹر صفدر محمود)

پاکستان 15/14۔ اگست کی نصف شب معرض ِوجود میں آیا اور جب ریڈیو پر مصطفی علی ہمدانی نے اعلان کیا کہ ”یہ ریڈیو پاکستان ہے“ تو اس وقت 12 بجکر ایک منٹ ہو چکا تھا۔ پاکستان کا پہلا یوم آزادی بھی 15 اگست 1947 کو منایا گیا۔ قائد اعظم نے بھی 15 اگست صبح دس بجے گورنر جنرل ہاؤس کراچی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

پاکستان کی دستو ر ساز اسمبلی نے 11 اگست 1947 کو پاکستانی پرچم کی منظوری دی تھی۔ چنانچہ قائد اعظم کی خواہش پر 14 اگست کو کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرانے کی رسم سر انجام دی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 1947 میں پاکستان پوسٹ آفس نے پاکستان کا جو یاد گاری ٹکٹ جاری کیا اس پر بھی یوم آزادی 15 اگست 1947 درج ہے اور یہ ٹکٹ پوسٹ آفس کے میوزیم میں اب بھی موجود ہے۔

بھارت کا یوم آزادی بھی 15 اگست تھا تو اس سے الگ رکھنے کے لیے 14 اگست کو یوم آزادی منانے کی تجویز وزیر اعظم لیاقت علی خان نے دی تھی۔ اس کا سرکاری سطح پر اعلان کرنے کے لیے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی منظوری لی گئی۔ بات کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ 14 اگست کو یوم آزادی نہ منایا جائے، مقصد صرف عوام کو ”حقیقی تاریخ“ سے روشناس کروانا ہے کیونکہ بقول حسن نثار ”جو تاریخ بھول جاتے ہیں، تاریخ انہیں بھول جاتی ہے“۔

دوسری بحث کہ 15/14۔ کی شب لیلتہ القدر تھی یا نہیں۔ اس حوالے سے نہایت معتبر کتاب ”پاکستان کرونیکل“ مرتبہ عقیل عباس جعفری، صفحہ 1 کے مطابق ”15/14۔ کی درمیانی شب مطابق 27 رمضان المبارک 1366 ہجری کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار مملکت کا اضافہ ہوا جس کا نام پاکستان ہے“۔

ان تاریخی لمحات کے عینی شاہد سید انصار نا صری صاحب نے اپنی کتاب ”پاکستان زندہ باد“ کے صفحہ 198 پر لکھا کہ 15 اگست کو 27 رمضان المبارک تھی تو اس لحا ظ سے 15/14۔ کی درمیانی شب جب پاکستان وجود میں آیا لیلتہ القدر کی رات تھی، کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت 27 ویں رمضان کو ہی لیلتہ القدر مانتے ہیں۔

جبکہ معروف محقق و تاریخ دان منیر احمد منیر صاحب اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 27 واں روزہ 14 اگست کو تھا اس لیے لیلتہ القدر ہوئی 13۔ 14 اگست کی درمیانی شب۔ ان کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کی رات لیلتہ القدر نہیں تھی مگر اکثر محقق و تاریخ دان منیر احمد منیر کی بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

اسی سلسلے میں روزنامہ ”ڈان“ کراچی کے پہلے پرچے مورخہ 15 اگست 1947 اور روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ پر بھی واضح طور پر ”15 اگست 1947، 27 رمضان المبارک“ کی تاریخ درج ہے، یہ دونوں تراشے ”پاکستان کرونیکل“ کے صفحہ نمبر 3,2 پر دیکھے جا سکتے ہیں، جس سے ”حقیقی تاریخ“ واضح ہو جاتی ہے۔

اختتام پروفیسر مرزا محمد منور مرحوم کی کتاب ”حصار پاکستان“ کے ایک اقتباس سے جو صفحہ نمبر 194 پر درج ہے :

”لاکھ لاکھ شکر اس خدائے مہربان کا جس نے اولادِ آدم کی دائمی ہدایت کے لیے قرآن ماہ رمضان کی آخری متبرک راتوں میں سے ایک میں نازل کرنا شروع کیا، اسی طرح لاکھ لاکھ شکر خدائے رحمان کا جس نے رمضان ہی کے ماہ مبارک کی آخری مقدس راتوں میں سے ایک میں امت مسلمہ کو پاکستان کی عظیم الشان نعمت غیر مترضبہ سے نوازا“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •