عرفان صدیقی صاحب کی کتاب ”جو بچھڑ گئے“

معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کے کالموں کا مجموعہ ”جو بچھڑ گئے“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تمام کالم صدیقی صاحب کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسلک لوگوں کے نام ہیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں 28 اکتوبر 2010 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا…

Read more

ایک سابق سفیر کی سرگزشت ”جو ہم پہ گزری“۔

سابق سفیر سید سبط یحییٰ نقوی کی کتاب ”جو ہم پہ گزری“ مارچ، 2020 میں شائع ہوئی اور سفیروں کی آپ بیتیوں میں ایک زبردست اضافے کا موجب ٹھہری۔ مصنف عرض داشت میں ہی رقمطراز ہیں کہ ”یہ محض اتفاق ہے کہ میری زیادہ تر تقرریاں ایسے ممالک میں ہوئیں جہاں آمرانہ حکومتیں تھیں۔ پہلی پوسٹنگ لیبیا کی تھی جہاں کرنل قذافی نے آمرانہ نظام قائم کیا تھا، اس کے بعد رومانیہ جہاں چاؤ شسکو مطلق العنان حکمران تھے۔ پرتگال میں جمہوریت آ گئی تھی لیکن پرتگال پر چالیس سال حکومت کرنے والے حکمران انتونیو سالازار کے باقیات نظر آتے تھے۔

پھر انڈونیشیا میں سوہارتو ایک ڈکٹیٹر تھے اور شام میں حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد جابر حکمران تھے۔ نیدر لینڈ میں بادشاہت تھی لیکن یہ ایک جمہوری ملک تھا۔ پاکستان میں میری نوکری کے دوران بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں تھے۔ بینظیر اور نواز شریف کے دور میں بس نام کی جمہوریت تھی۔ جنرل مشرف بھی ایک ڈکٹیٹر تھے۔ مجھے ڈکٹیٹروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ڈکٹیٹروں کو اپنی ذات کے علاوہ کسی سے دلچسپی نہیں ہوتی۔

Read more

سابق صدر غلام اسحاق خان نے کتاب کیوں نہ لکھی؟

پاکستان کی سیاسی گلی میں جس نے بھی قدم رکھا، اسے اس گلی میں چلتے چلتے آخر کار ایک بورڈ ضرور دکھائی دیا جس پر درج تھا ”آگے گلی بند ہے“ ، اس بند گلی میں کھڑے ہوکر اکثر لوگوں نے ایک لمحے میں اپنی گزری ساری زندگی کو ذہن میں دہرایا، کسی نے صرف…

Read more

علماء اور سیاست

معروف محقق و مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے ”علماء اور سیاست“ کے نام سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنی اس کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں : ہندو ستان میں جب ترکوں نے حکومت قائم کی تو انہوں نے علماء کو ریاست میں اعلی عہدے دے کر اس (ریاست) کا ایک حصہ…

Read more

ادیبوں اور شاعروں کا ذوق شراب

ایک یونانی کہاوت ہے”کوئی گیت لمبی عمر نہیں پا سکتا اور زیادہ دیر مسرت نہیں بخش سکتا اگر اسے کوئی ایسا شاعر لکھے جو پینے میں فقط پانی پیتا ہو“۔ ہمارے بعض نامور ادیب اور شاعر اس کہاوت پر باقاعدہ ”ایمان“ لائے اور اپنے اس ایمان کی تازگی کے لیے وقفے وقفے سے عملی طور…

Read more

ایجنسیوں کاسیاسی کردار اور جنرل حمید کے ”گُل“

سابق چیف آف اسٹاف ڈائریکٹر یٹ جنرل آئی ایس آئی سید احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ”Profiles of Intelligence“، جس کا اردو ایڈیشن ”حساس ادارے“ کے نام سے شائع ہوا، میں لکھتے ہیں : پاکستان میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعتوں نے اکثر خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی پارٹی کے سیاسی…

Read more

الطاف گوہر کی کتاب ”گوہر گز شت“ سے!

بقو ل ہمایوں گوہر: میرے والد الطاف گوہر مرحوم خود نوشت سوانحی انداز میں اپنی رودادِ حیات بزبان اردو لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ خود نوشت سوانح عمری خاصی دلچسپ اور معلومات افزا ہوتی کیونکہ انہوں نے بڑی بھرپور اور متنوع زندگی بسر کی…

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب ”لوگ در لوگ“ کے لوگ

جمہوری پبلیکیشنز کے روحِ رواں جناب فرخ سہیل گوئندی نے ”لوگ در لوگ“ کے نام سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے جو ان واقعات اور تجربات پر مشتمل ہے جنہیں گوئندی صاحب نے اپنی سیاسی جدو جہد اور عملی زندگی کے دوران دیکھا، بیتایا یا محسوس کیا۔ سر گودھا کا یہ سپوت اپنی سیاسی جدو…

Read more

اختر وقار عظیم کی کتاب اور کھیل کی دنیا کے واقعات

اختر وقار عظیم صاحب کی کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ ہاتھ لگی، کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک ہی نشست میں پڑھے بغیر رہا نہ گیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے اختر وقار عظیم کا واسطہ ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے پڑا، جس کا ذکر کتاب میں واقعات کے…

Read more

وقار عظیم کی کتاب اور حکمرانوں کے ”قومی خطاب“

اختر وقار عظیم نے ”پاکستان ٹیلی وژن“ میں متعدد عہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات سے مزین ایک کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ کے نام سے مرتب کر رکھی ہے۔ اُن کی کتاب پڑھ کے لگتا ہے کہ وہ جہاں بھی گئے کچھ دلچسپ واقعات ان…

Read more