میں ہوں جہاں گرد

”میں ہوں جہاں گرد“ سیاحت کی اس وقت کی داستان ہے جب ایران میں خمینی انقلاب جوبن پر تھا، ترکی میں کنعان ایورن کا مارشل لاء عروج پر تھا اور بلغاریہ میں کمیونزم جوان ہو چکا تھا۔ تین دہائیاں بیت جانے کے بعد ، اپنے مشاہدات اور واقعات کی روداد کو اپنی ڈائری پر لکھے چند ایک نوٹس اور یادداشتوں سے کرید کرید کر رقم کرنا مصنف کے لیے خاصا دشوار کام تھا۔ یہ مصنف کی کورونا کے دوران دو

Read more

امریکا کے بارے میں ارون دھتی رائے کے خیالات

ارون دھتی رائے نے امریکا کی اس تاریخ طرف توجہ دلائی ہے جو خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ وہ خون ہے جو کبھی جمہوریت قائم کرنے، انسانی حقوق کے تحفظ، دوسروں کی بہتری، دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی امن قائم کرنے کے نام پر بہایا گیا۔ ارون دھتی رائے اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں : ”چونکہ دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور ملک امریکا ہے، اس لیے قتل عام سے انکار کا سہرا بھی سب

Read more

ارون دھتی رائے کی کتابیں اور ان کے خیالات (حصہ اول)

ارون دھتی رائے The God of Small Things نامی معروف ناول کی مصنفہ ہیں۔ اس ناول پر ارون دھتی رائے کو 1997 میں بوکر پرائز بھی ملا۔ یہ ناول چالیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوا اور محض چند سالوں میں اس کی ساٹھ لاکھ جلدیں فروخت ہوئیں۔ ارون دھتی رائے نے اپنے پہلے ناول کے فوراً بعد اپنی راہ اور موضوع بدل لیا۔ 1998 میں بھارت کے جوہری تجربات کے چند ہفتے بعد ارون دھتی رائے نے ”تخیل کی

Read more

طالبان کا دورحکومت کیسا تھا؟

افغانستان میں پھر طالبان کے آنے کا شور برپا ہے اور جیسے ہی طالبان حرکت میں آئے پاکستان میں طالبان سوچ کے حامیوں نے بھی ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے دانشور قسم کے لوگ طالبان اور ان کے دور حکومت کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ کوئی بھی عش عش کر اٹھے۔ طالبان کے نقش قدم پر چلنے والے اوریا مقبول جان اپنے ایک حالیہ کالم بعنوان ”باز آ جاؤ۔ ذلت و رسوائی

Read more

پاکستان میں اقلیتوں پہ کیا گزری؟

بانی پاکستان محمد علی جناح نے ایک روشن خیال لیڈر کے طور پر اقلیتوں کے بارے میں کہا: ”اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ ان کا تعلق خواہ کسی فرقے سے ہو۔ ان کا مذہب یا دین یا عقیدہ محفوظ ہوگا۔ ان کی عبادت کی آزادی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ انہیں مذہب، عقیدے، اپنی جان اور اپنے تمدن کا تحفظ حاصل ہو گا۔ وہ بلا امتیاز ذات پات اور عقیدہ ہر اعتبار سے پاکستان کے

Read more

"سچ تو یہ ہے”: ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب پر تبصرہ

پاکستان میں تاریخ دان ”دائیں بازو“ اور ”بائیں بازو“ نامی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی کسی تاریخ دان کو ”غیر جانبدار“ قرار دے تو دل ہے کہ مانتا ہی نہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک ”بائیں بازو“ کے لوگوں کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ”دائیں بازو“ کو ہی ریاستی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ عہد حاضر میں دائیں بازو کے سرخیل تاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود ہیں۔ سیاسی نقطہ نظر رکھنے والوں میں

Read more

یوم آزادی صحافت اور پاکستانی میں لکھی گئی صحافتی تاریخ

پاکستان کی صحافتی تاریخ بھی سیاسی تاریخ کی بھی دو گروہوں کی مترب کردہ ہے۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جس کی کتابیں صحافت کے طلبا و طالبات کو پڑھائی جاتی ہیں اور ان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان میں صرف ایک ہی نقطۂ نظر بیان کیا جاتا ہے۔ اسے ”نوائے وقت“ کا مکتب فکر بھی کہا جا سکتا ہے اور یہی گروہ ریاستی سطح پر ہمیشہ سے غالب رہا ہے۔ حال ہی میں

Read more

رضا علی عابدی کی کتاب ”اخبار کی راتیں“

عابدی صاحب کی اس کتاب کے پہلے باب کا مقصد با آواز بلند یہ اقرار کرنا ہے کہ: ”ہاں! جب میں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا تومیں جنگ اخبار میں پروف ریڈر تھا“ ۔ بارہ سال کا یہ لڑکا اپنے استاد ٹھہرنے والے تین ہندو اخبار کے بارے میں کہتا ہے، ”تیج“ کی کتابت بھونڈی، ”پرتاب“ کی بھدی اور ”ملاپ“ کی معمولی تھی۔ اس لڑکے کی اپنی پہلی تحریر بچوں کے رسالے ”کھلونا“ میں لگی تو یہ مسرور

Read more

امرجلیل تو امر ہے

پرویزعلی ہود بھائی نے ”مسلمان اور سائنس“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل کے پوتے عبدالسلام نے فلسفہ میں دلچسپی ظاہر کی تو اس کے دشمنوں نے اسے برباد کر دیا۔ خانہ تلاشی کے دوران اس کے گھر سے اخوان الصفا کے رسالے، جادو، جوتش اور نجوم پر کتابیں اور سیاروں کے لئے دعاؤں کے کتابچے برآمد ہوئے۔ یہ سب عبدالسلام کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے۔

Read more

محمد مظفر میو کی کتاب ’خزاں کے بیج‘

محمد مظفر میو صاحب نے فرخ سہیل گوئندی صاحب کے اصرار پر پہلی کتاب بنام ”خزاں کے بیج“ لکھی ہے۔ یہ کتاب سوات جنگ سے متعلق ایک فکرانگیز کہانی ہے۔ اگر یہی کتاب حقیقی کرداروں کے ساتھ لکھی جاتی تو ابھی تک کتاب یا صاحب کتاب میں سے ایک یا دونوں لاپتا ضرور ہوتے۔ اس لیے کتاب ڈائیلاگ کی مدد سے ڈرامہ کی شکل میں لکھی گئی ہے جس کے تمام کردار نام سے تو فرضی ہیں مگر ان کا ”کردار“ حقیقت کے بہت قریب ہے۔

Read more

محبوب تابش کی کتاب ”اقبال:خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“۔

’’کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک مفکر یا دانشور کے افکار کو ابدی اور آفاقی بنا کر اسے تنقید سے بالاتر کر دیتے ہیں۔ عہد وسطیٰ نے ارسطو کے فلسفے کو عیسائیت میں ڈھال کر ہزار برس تک تعلیم کا حصہ بنا کر نئے خیالات کو روکے رکھا۔ جب اسے چیلنج کیا گیا تو نئے خیالات و افکار امڈ امڈ پڑے۔

پاکستان میں بھی اقبال اور ان کے افکار کو اس ذہن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ہر دور میں معاشرے کی رہنمائی کریں گے۔ اقبال کی پرستش نے نئے نظریات اور افکار کی راہیں بند کر دی ہیں۔ محبوب تابش نے بڑی جرأت کے ساتھ اقبال پر لکھی اپنی کتاب میں اقبال پرستی کو چیلنج کیا ہے اور اس سے سماج کے مختلف شعبوں پر ہونے والے اثرات پر بے لاگ بحث کی ہے۔‘‘

یہ تبصرہ ہے ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا محبوب تابش کی کتاب ”اقبال خوش گمانیاں، غلط بیانیاں“ پر جو اقبال پرستی سے پردے اٹھاتی ایک جامع کتاب ہے۔

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب: ”بکھرتا سماج“

اس طرح کے سماج میں رہنے والے کبھی ضیاء الحق اور کبھی ملا عمر کی شکل میں ”اسلام“ کے غالب آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ سماج آج کل رجب طیب اردوان میں ”صلاح الدین ایوبی“ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گوئندی صاحب کا کہنا ہے کہ میڈیا مراکز میں اہل دانش کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب میڈیا میں اہل فکراور دانشور لوگ Engage نہ کیے جا رہے ہوں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ معاشرے میں میڈیا تعمیر کی جانب گامزن ہے۔ ایک ایسی ریاست، جس کے رجحانات اس بات کی عکاسی کر رہے ہوں کہ سماج اور ریاست بکھرتے جا رہے ہیں، وہاں میڈیا کا اس قسم کا کردار دراصل بکھرنے کے عمل کو اور بھی تیز کر رہا ہے۔

Read more

بلوچ لاشوں سے خوف کی کہانی نئی نہیں

چند دن پہلے کینیڈا میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والی بلوچ رہنما کریمہ بلوچ کی میت کے ساتھ پاکستان میں جو سلوک کیا گیا اس پر شدید تنقید ہوئی۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا ریاست اب لاشوں سے بھی ڈرنا شروع ہو گئی ہے؟ بلوچوں کی لاشوں ساتھ مذاق کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اپنے اوپر لگنے والے بہت سے الزامات کا جواب دینے کے لئے ”افواہ اور حقیقت“ کے نام

Read more

ڈاکٹر اشتیاق احمد کی کتاب’پاکستان: عسکری ریاست‘ کا نیا ایڈیشن

کتاب میں اس جنگ بارے کافی سارے آرمی آفیسرز کے انٹرویو لیے گئے ہیں جو اس باب کی خوبصورتی میں اضافے کا موجب ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عروج و زوال کی داستان کے بعد اس کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ ہے۔ اس حصے میں ’مولوی ضیاء الحق‘ کے اسلام کی کہانی ہے۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے آغاز فوج سے کیا، ضیاء دور میں فوجی یونٹوں میں تعینات مولویوں کو ترقی دیتے ہوئے جونیئر کمیشنڈ افسر کا رینک دے دیا گیا۔ اسی دور میں بریگیڈئیر ایس کے ملک نے ”جنگ کا قرآنی تصور“ نامی کتاب لکھی جس کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے ضیاء الحق نے لکھا:

Read more

کیا قائد اعظم جمہوریت پسند تھے؟

محقق، صحافی اور سماجی کارکن عارف میاں صاحب نے خاصے منفرد، جیسا کہ کیا پاکستان جمہوری عمل سے بنا؟ کیا پاکستانی نیشنلزم کی کمی نہیں؟ اور کیا سیاست عقیدہ اکٹھے رہ سکتے ہیں؟ جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کتابوں میں عارف میاں صاحب نے روایتی بیانیے سے ذرا ہٹ کر بات کی ہے۔ ایسی ہی ان کی ایک کتاب ”برصغیر کیسے ٹوٹا؟“ ہے۔ یہ کتاب ملک کے معروف محققین، مورخین، دانشوروں اور صحافیوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔

Read more

پاکستان میں صحافت پہ کیا گزری؟

ضمیر نیازی آبروئے قلم بھی ہیں اور آبروئے صحافت بھی۔ ان کا سر بلند قلم کبھی سر قلم نہیں کیا جا سکا۔ وہ ہمیشہ جنوں کی حکایات خونچکاں لکھتے رہے۔ ضمیر نیازی نے اپنی زندگی کو خودی اور خودداری کے جس جوہر کے ساتھ برتا وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ جہاں اہل قلم قبیلوں میں بٹے ہوں، لفظ خریدے اور بیچے جاتے ہوں اور گفتار سے کردار کی سند چھین لی گئی ہو، وہاں ایک مرد علم

Read more

محمد بلال غوری کی کتاب ”لاپتا کالم“

پاکستان میں تواتر سے استعمال ہونے والے دو لفظوں یعنی ”لاپتا“ اور ”نا معلوم افراد“ کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کیوں کہ جب بھی کچھ لاپتا ہوتا ہے تو اس کا الزام نا معلوم افراد پر عائد کیا جاتا ہے۔ اختر مینگل حکومت کے اتحادی بنے تو مطالبات میں ”لاپتا“ کی گونج سنائی دی۔ محمد حنیف صاحب کے باوردی ”آم“ بازار میں دستیاب ہوئے تو نا معلوم افراد کی ایک لہر نے انہیں بھی لاپتا کر دیا اور پھر خاصے عرصے سے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے وکالت کرنے والے انعام صاحب اچانک لاپتا ہو گئے، وزارت دفاع سے بازیاب تو ہوئے، مگر بعد ازاں غیر ملکی ایجنٹ مشہور ہیں۔

اسی سلسلے میں بہت عرصے سے لاپتا ہونے والے کالموں پر مشتمل ایک کتاب پڑھنے کو ملی، کتاب کا نام ہی ”لاپتا کالم“رکھا گیا ہے، مصنف روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار محمد بلال غوری ہیں اور اسے ساگر پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد بہت سے کالموں کے ”لاپتا“ ہونے کے پیچھے چھپے ”نا معلوم افراد“ بھی معلوم ہونے لگتے ہیں۔ پلٹ کے، جھپٹ کے، کیسے کیسے اور کس کس ”مقدس گائے“ کے بارے میں لکھے گئے کالم لاپتا کیے گئے، ذرا احوال پڑھیے:

Read more

زاہد کاظمی صاحب کا ”کتابی تحفہ“

ہری پور سے تعلق رکھنے والے زاہد کاظمی صاحب، ایک کتاب دوست آدمی ہیں۔ ان کی طرف سے تحفے میں مجھے چند ماہ قبل کچھ کتابیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے ایک کتاب ”آغا سے آغا ناصر تک: عمر کہانی“ ہے، جو کہ آغا ناصر صاحب کی خود نوشت ہے۔ آغا ناصر صاحب نے ایک شاندار زندگی گزاری، جس کا واضح ثبوت 383 صفحات پر مشتمل ان کی دل چسپ آپ بیتی ہے۔

آغا ناصر صاحب کے حالات و واقعات زندگی پر مشتمل یہ کتاب، پورب اکادمی اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ آغا ناصر صاحب لکھتے ہیں کہ میرے بہت سے ساتھیوں کا خیال تھا کہ کتاب کا پیش لفظ یا دیباچہ، جس نام سے بھی چاہیں آپ پکار لیں، ضروری ہے کہ اس کا حصہ ہو۔ دوست یہ بھی کہتے تھے کہ ملک کے نامور قلم کار یا نثر نگار سے یہ ابتدائیہ لکھوایا جائے گا! مگر سوچ بچار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائیہ لکھنے کے لیے کسی بھی بڑے ادیب یا قلمکار کی کوئی ضرورت نہیں، تعارفی صفحہ کے لئے چند الفاظ میں خود ہی لکھ دوں گا۔

Read more

مجاہد بریلوی صاحب کی کتاب ”فسانہ رقم کریں“

معروف کالم نگار مجاہد بریلوی صاحب کی دوسری کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا، جو ”فسانہ رقم کریں“ کے عنوان سے لکھی گئی ہے اور باتوں، یادوں، ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اول حصہ سیاستدانوں کے نام، دو م صحافی و شاعر حضرات کے لئے وقف کیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کی فہرست میں شامل بینظیر بھٹو، پروفیسرغفوراحمد اور معراج محمد خان جیسی شخصیات کا تذکرہ تو اکثر مل جاتا ہے مگر اس کتاب

Read more

محترمہ فاطمہ جناح اور ان کی کتاب ”میرا بھائی“

ایک رات پہلے وہ شادی کی تقریب میں شامل ہوئیں اور اگلی صبح، حسب روایت، اخبار لینے کے لئے ان کے کمرے کا دروازہ نہ کھلا۔ جب کافی دیر تک دروازہ نہ کھلا تو لیڈی ہدایت اللہ کی موجودگی میں غسل خانہ کی کھڑکی توڑی گئی، کمرے میں جاکر معلوم ہوا کہ محترمہ فاطمہ جناح خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔ اپنی ”مادر ملت“ کے ساتھ دوران زندگی ”زندہ دل“ قوم نے جو کیا وہ تو باعث شرمندگی ہے ہی مگر 9 جولائی ( 1967 ) کو ان کی ہونے والی ”موت“ نے بھی بہت سے سوالوں کو جنم دیا:

جیسا کہ وفات سے قبل فاطمہ جناح ”قصر فاطمہ“ کے تمام دروازے بند کروا کے چابی اپنے پاس منگوا لیا کرتی تھیں اور اگلی صبح کھڑکی سے چابی نیچے پھینک دیتی تھیں۔ تو فاطمہ جناح کو یہ کس قسم کا ڈر تھا؟ محترمہ کا آخری دیدار کیوں نہ کرنے دیا گیا؟ ان کے جنازے پر لاٹھی چارج کس کے حکم پر ہوا؟ محترمہ کی وفات کے بعد قائداعظم کے بھانجے، اکبر، ایوب خان کے دور میں پاکستان آئے، انہوں نے فاطمہ جناح کے قتل کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی تو انہیں ”کورا“ جواب کیوں دیا گیا؟

Read more

جنرل کیانی اور سلیم صافی کے جانبدار کالم

صحافت کی اہم خصوصیت ”غیر جانبداری“ آہستہ آہستہ پاکستان سے نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ میدان صحافت میں آتے ہی ”ستاروں پر کمندیں“ ڈالنے کی خواہش اقبال کے شاہینوں کو ”پلٹ کے جھپٹ کے“ اعلی ہستیوں کے در پر سلامی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ انہی ستاروں پر کمند ڈالنے کے چکر میں کوئی شوکت عزیز کا تو کوئی منظور احمد وٹو کا میڈیا ایڈوائزر بن بیٹھتا ہے۔ ”ستا روں سے آگے جہاں“ کی تلاش میں کچھ باقاعدہ نگران

Read more

عرفان صدیقی صاحب کی کتاب ”جو بچھڑ گئے“

معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کے کالموں کا مجموعہ ”جو بچھڑ گئے“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تمام کالم صدیقی صاحب کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسلک لوگوں کے نام ہیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں 28 اکتوبر 2010 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا کالم ”آغا جی“ شامل کیا ہے جو ”آغا شورش کاشمیری“ کے بارے میں ہے۔ مصنف نے آغا صاحب کو عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد

Read more

ایک سابق سفیر کی سرگزشت ”جو ہم پہ گزری“۔

سابق سفیر سید سبط یحییٰ نقوی کی کتاب ”جو ہم پہ گزری“ مارچ، 2020 میں شائع ہوئی اور سفیروں کی آپ بیتیوں میں ایک زبردست اضافے کا موجب ٹھہری۔ مصنف عرض داشت میں ہی رقمطراز ہیں کہ ”یہ محض اتفاق ہے کہ میری زیادہ تر تقرریاں ایسے ممالک میں ہوئیں جہاں آمرانہ حکومتیں تھیں۔ پہلی پوسٹنگ لیبیا کی تھی جہاں کرنل قذافی نے آمرانہ نظام قائم کیا تھا، اس کے بعد رومانیہ جہاں چاؤ شسکو مطلق العنان حکمران تھے۔ پرتگال میں جمہوریت آ گئی تھی لیکن پرتگال پر چالیس سال حکومت کرنے والے حکمران انتونیو سالازار کے باقیات نظر آتے تھے۔

پھر انڈونیشیا میں سوہارتو ایک ڈکٹیٹر تھے اور شام میں حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد جابر حکمران تھے۔ نیدر لینڈ میں بادشاہت تھی لیکن یہ ایک جمہوری ملک تھا۔ پاکستان میں میری نوکری کے دوران بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں تھے۔ بینظیر اور نواز شریف کے دور میں بس نام کی جمہوریت تھی۔ جنرل مشرف بھی ایک ڈکٹیٹر تھے۔ مجھے ڈکٹیٹروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ڈکٹیٹروں کو اپنی ذات کے علاوہ کسی سے دلچسپی نہیں ہوتی۔

Read more

سابق صدر غلام اسحاق خان نے کتاب کیوں نہ لکھی؟

پاکستان کی سیاسی گلی میں جس نے بھی قدم رکھا، اسے اس گلی میں چلتے چلتے آخر کار ایک بورڈ ضرور دکھائی دیا جس پر درج تھا ”آگے گلی بند ہے“ ، اس بند گلی میں کھڑے ہوکر اکثر لوگوں نے ایک لمحے میں اپنی گزری ساری زندگی کو ذہن میں دہرایا، کسی نے صرف ذہن میں دہرانے پہ اکتفا کیا تو کسی نے ہمت کر کے اُسے کتابی شکل دے دی۔ وہ تو روزمرہ کے معاملات لکھتے رہے، اپنے

Read more

علماء اور سیاست

معروف محقق و مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے ”علماء اور سیاست“ کے نام سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنی اس کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں : ہندو ستان میں جب ترکوں نے حکومت قائم کی تو انہوں نے علماء کو ریاست میں اعلی عہدے دے کر اس (ریاست) کا ایک حصہ بنا دیا، ان عہدوں میں صد رالصدور، قاضی القضاۃاور شیخ الاسلام کے عہدے قابلِ ذکر تھے۔ سلاطین نے مسجدوں اور مدرسوں میں اساتذہ کے تقرر

Read more

ادیبوں اور شاعروں کا ذوق شراب

ایک یونانی کہاوت ہے”کوئی گیت لمبی عمر نہیں پا سکتا اور زیادہ دیر مسرت نہیں بخش سکتا اگر اسے کوئی ایسا شاعر لکھے جو پینے میں فقط پانی پیتا ہو“۔ ہمارے بعض نامور ادیب اور شاعر اس کہاوت پر باقاعدہ ”ایمان“ لائے اور اپنے اس ایمان کی تازگی کے لیے وقفے وقفے سے عملی طور پر ”مشق“ بھی فرماتے رہے۔ اسی سلسلے میں احمد ندیم قاسمی صاحب فرماتے ہیں ”ایک مرتبہ ہمارا وفد چین کے دورے پر تھا۔ اس میں

Read more

ایجنسیوں کاسیاسی کردار اور جنرل حمید کے ”گُل“

سابق چیف آف اسٹاف ڈائریکٹر یٹ جنرل آئی ایس آئی سید احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ”Profiles of Intelligence“، جس کا اردو ایڈیشن ”حساس ادارے“ کے نام سے شائع ہوا، میں لکھتے ہیں : پاکستان میں برسرِ اقتدار سیاسی جماعتوں نے اکثر خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی پارٹی کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ ماضی میں بہت سے موقعوں پر ان ایجنسیوں نے اقتدار کے دلالوں اور بادشاہ گر کا کردار ادا

Read more

الطاف گوہر کی کتاب ”گوہر گز شت“ سے!

بقو ل ہمایوں گوہر: میرے والد الطاف گوہر مرحوم خود نوشت سوانحی انداز میں اپنی رودادِ حیات بزبان اردو لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ خود نوشت سوانح عمری خاصی دلچسپ اور معلومات افزا ہوتی کیونکہ انہوں نے بڑی بھرپور اور متنوع زندگی بسر کی تھی۔ بد قسمتی سے وہ خرابی صحت کے باعث ایسا نہ کر پائے۔ انہوں نے اپنے ایامِ علالت میں صرف چند ابواب قلمبند کیے، جن

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب ”لوگ در لوگ“ کے لوگ

جمہوری پبلیکیشنز کے روحِ رواں جناب فرخ سہیل گوئندی نے ”لوگ در لوگ“ کے نام سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے جو ان واقعات اور تجربات پر مشتمل ہے جنہیں گوئندی صاحب نے اپنی سیاسی جدو جہد اور عملی زندگی کے دوران دیکھا، بیتایا یا محسوس کیا۔ سر گودھا کا یہ سپوت اپنی سیاسی جدو جہد میں بھٹو کا ”دیوانہ“ تھا، ایسا دیوانہ کہ بھٹو کو بطور وزیرِ خارجہ دیکھنا شروع کیا اور 4 اپریل 1979 تک پھانسی پر جھولتے،

Read more

اختر وقار عظیم کی کتاب اور کھیل کی دنیا کے واقعات

اختر وقار عظیم صاحب کی کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ ہاتھ لگی، کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ ایک ہی نشست میں پڑھے بغیر رہا نہ گیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے اختر وقار عظیم کا واسطہ ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے پڑا، جس کا ذکر کتاب میں واقعات کے صورت میں باطریق احسن کیا گیا ہے۔ کھیل کی دنیا سے وابستگی کے دور میں درپیش واقعات پُر لطف ہیں۔ اختر وقار عظیم لکھتے ہیں

Read more

وقار عظیم کی کتاب اور حکمرانوں کے ”قومی خطاب“

اختر وقار عظیم نے ”پاکستان ٹیلی وژن“ میں متعدد عہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات سے مزین ایک کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ کے نام سے مرتب کر رکھی ہے۔ اُن کی کتاب پڑھ کے لگتا ہے کہ وہ جہاں بھی گئے کچھ دلچسپ واقعات ان کے ارد گرد ضرور رونما ہوئے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں متعدد حکمرانوں کے ”قوم سے خطاب“ سے لے کر دیگر تقاریب کی خاطر ٹیلی

Read more

”بارِ شناسائی“ میں چھُپی ”بندہ شناسی“

سب سے پہلے ذکر ہوا ہے جنرل ضیاء الحق کا جن کے ”باب“ کو مصنف نے ”جنرل ضیاء الحق۔ مومن کہ منافق“ کا نام دے رکھا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ ”ضیاء الحق میں چھوٹوں اور اپنے سے کہیں کمزور افسروں کی بات غور سے سننے کا حوصلہ تھا، جو ان سے پہلے میں نے کسی لیڈر میں محسوس نہیں کیا تھا“۔

اگلا باب ہے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے جسے ”ذوالفقار علی بھٹو۔ اک معمہ“ کا نام دیا گیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے ”میں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسا ذہین انسان نہیں دیکھا اور میں نے اپنی زندگی میں بھٹو جیسا مغرور اور متکبر انسان بھی نہیں دیکھا“۔

Read more

اقبال کے لوحِ مزار پر درج غلط تاریخ پیدائش

علا مہ محمد اقبال کی تاریخ پیدائش ہمیشہ سے ایک متنازع مو ضو ع رہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف کتابوں میں اقبال کی تاریخ ِولادت پر ”کھلا تضاد“ موجود ہے۔ ان مضامین اور کتابوں میں اقبال کا سنِ ولادت 1870، 1872، 1873، 1875، 1876 یا 1877 بتایا گیا ہے۔ ”خمخانہ جاوید“ جلد اول، مصنف لالہ سری رام میں اقبال کا سن ولادت 1870 درج ہے۔ اس کتاب کی تحریر اور اشاعت کے دوران اقبال انگلستان میں تھے اور

Read more

حساس اداروں کے واسطے بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی کے مشورے

تیس سالہ عسکری زندگی کے دوران مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دینے والے سابق چیف آف اسٹاف ڈائر یکٹر یٹ جنرل آئی ایس آئی بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ”حساس ادارے“ (سنِ اشاعت: 2004 ) میں لکھتے ہیں : میرا مشاہدہ یہ ہے کہ یہ ادارہ (آئی ایس آئی) ایکسپرٹ افرادی قوت اور مادی وسائل کی کمی کا بری طرح شکار ہے (یاد رہے مصنف نے اپنے دور کا مشاہدہ لکھا ہے جو شاید آج کی

Read more

ڈاکٹر مبارک علی اور قا ئدِ اعظم کو مذہبی ثابت کرنے کی کوشش

پاکستان میں قا ئدِ اعظم کی شخصیت اور خیالات کی ”تاریخی حیثیت“ کو کچھ جماعتوں، گروہوں اور نام نہاد محققین نے اپنے مفادات، خیا لات اور نظریات کے مطابق بدل دیا ہے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے نظریات سے ”کھلا تضاد“ کرتا ہے تو پھر دو ہی راستے ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ اس سے مکمل اختلاف کر کے اس پر تنقید کی جائے اور دوسرا یہ کہ اپنے خیالات کے مطابق دوسرے شخص کو اپنے خاکے میں ڈھال

Read more

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

4ہجری کے ماہِ شعبان المعظم کی تین تاریخ (تا ریخ پر اختلاف مو جود ہے ) کو حضرت سیدہ فاطمہؓ کے ہاں مدینہ طیبہ میں حضرت امام حسین ؓپیدا ہوئے۔ آپ کے نا م کے حوالے سے حضرت عکرمہؓ سے روایت ہے کہ ”جب سیدہ فاطمہ ؓکے ہاں حسن بن علیؓ کی ولادت ہوئی تو وہ انہیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں لائیں، آپ نے ان کا نام حسنؓ رکھا اور جب حسینؓ کی ولادت ہوئی تو انہیں حضورﷺکی بارگاہ

Read more

6 ستمبر 1965 کی جنگ: آغازکس نے کیا؟ کون ہارا کون جیتا؟ اور معاہدۂ تا شقند

قدرت اللہ شہاب اپنیکتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں: ”صدر ایوب جنگ کا نام لیتے ہی کانوں کو ہاتھ لگایا کرتے تھے اور ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ تنازعہ کشمیر کا حل ہم نے پاکستان کے مفاد کی خاطر ڈھونڈنا ہے۔ اس حل کی تلاش میں پاکستان کو داؤ پر نہیں لگانا۔“ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے محرکات تھے جن کی بنا پر جنگ کا نام لیتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے والے ایوب خان کو بھی یہ جنگ لڑنا پڑی؟

Read more

اکبر بگٹی تجھ سے ہم شرمندہ ہیں

1922 میں بگٹی قبیلہ کے سردار محراب خان کے انگریزوں کے ساتھ تعاون کی وجہ سے اس قبیلے کو انگریزوں نے 500 ایکڑ زمین عطا کی، لیکن سردار محراب کا بیٹا عبد الرحمان خان بگٹی انگریزوں کا سخت مخالف اور آزادی کا متوالا تھا۔ انہوں نے آزادی کی خاطر قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ نواب محراب خان کے دوسرے بیٹے اکبر بگٹی 1939 میں بگٹی قبیلہ کے جانشین بنے۔ اکبر بگٹی نے بھی آزادی کے حق میں ووٹ دیا اور 1951 میں ایجنٹ ٹو گو رنر جنرل بلوچستان کے مشیر رہے۔

Read more

بھارتی وزیرِ دفاع، ضیاالحق کی کرکٹ ڈپلومیسی اور مسئلہ کشمیر

بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ نے یہ کہہ کر ایٹمی جنگ کی طرف پہلا قدم بڑھایا ہے کہ حالات دیکھ کر فیصلہ ہو گا کب ایٹم بم کا استعمال کرنا ہے۔ اس سے تین سال پہلے اس وقت کے بھارتی وزیرِ دفاع منوہر پاریکر نے بھی یہی کہا تھا مگر فوراً وضاحت کر دی گئی کہ یہ وزیر کا ذاتی بیان ہے، حکومت کی یہ پالیسی نہیں۔ دراصل بھارت سمجھتا ہے کہ ہر محاذ ایٹم بم کے استعمال سے فتح

Read more

آزادی کے ”یوم“ کی بحث

ہم بحیثیت پاکستانی ”14 اگست“ کے دن پر ایمان لاتے ہوئے اسے اپنی آزادی کے ”یوم“ کے طور پر مناتے ہیں۔ پچھلے ستر سال سے چند تاریخی چیزیں ”معمہ“ بنی ہوئی ہیں جن پر ہر سال بحث کی جاتی ہے مگر حل ندارد، جیسا کہ قائد اعظم اسلام پسند تھے یا سیکولر، مُلا حضرات پاکستان کے حامی تھے یا مخالف، قرار دادِ پاکستان کا ڈرافٹ کس نے لکھا؟ ”میری جیب میں چند کھوٹے سکے ہیں“ یہ فرمان قائد اعظم کا

Read more

صدام حسین اور اس کی وردی

وہ 16 جولائی 1979 کو عراق کا صدر بنا اور 24 برس تک مسلسل حکمران رہا۔ اس کا تکیہ کلام تھا ”میرا جوتا میرا آئین اور قانون ہے۔“ عراق میں تب چھے بڑے عہدے ہوا کرتے تھے، صدر، وزیرِ اعظم، افواج کا سپریم کمانڈر، وزیرِ دفاع، چیئر مین انقلابی کمانڈ کونسل اور پارٹی کا سیکرٹری جنرل اور یہ سبھی عہدے دار اس کے گرد طواف کیا کرتے تھے۔ وہ عراق کا مضبوط ترین آدمی تھالیکن وردی کو وہ اپنی اصل

Read more

علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی اور ان پر لگائے گئے الزامات

بڑے لوگ بڑے مقاصد کی تکمیل کی بھاگ دوڑ میں بہت سی چھوٹی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔ یہ غلطیاں ان کی ذاتی زندگی میں ایسی ناکامیاں بن کر ابھرتی ہیں کہ مخالفین کے لیے ”کردار کشی“ کی راہ ہموار کر دیتی ہیں۔ بڑے لوگوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں جھوٹ تراشنا اور ان کی ذاتی زندگی کو تماشا بنا کر لذت حاصل کرنا تو ”چھوٹے“ لوگوں کی پرانی عادت ہے۔ یوں تو قائد اعظم کی ازدواجی زندگی

Read more

قبائلی انتخابات: موروثی سیاست کامیاب ٹھہری یا ناکام؟

قبائلی اضلاع میں پہلی بار ہونے والے صوبائی انتخابات کافی حد تک پر امن طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد امید وار وں نے 6، پی ٹی آئی نے 5، جمیعت علمائے اسلام (ف) نے 3، جماعت اسلامی نے ایک اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی ایک نشست حاصل کی ہے۔ غیر حتمی و غیر سر کاری نتائج کے مطابق PK۔ 100 باجوڑ ( 1 ) سے پی ٹی آئی کے امید وار انور زیب

Read more

حکمران طبقے کا تعلیم سے ”رشتہ“ ہمارے مسائل کی جڑ ہے

پاکستان کو ”لاحق“ مسائل کی بات کی جائے تو بے روزگاری، غربت، کرپشن، لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی جیسے بڑے مسائل پر ”نظر“ جا اٹکتی ہے۔ مگر ان تمام مسائل کی جڑ اگر کسی مسئلے کو کہا جا سکتا ہے تو وہ ہے ”تعلیم کا فقدان“۔ اس تعلیمی فقدان کے ذمہ دار کسی حد تک ”سیاسی رویے“ بھی ہیں۔ روزِ اول سے ہمارے حکمرانوں کا تعلیم کے شعبے کے ساتھ وہی رشتہ رہا ہے جو ایک ”سوتیلی ماں“ کا بچے

Read more

کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ اور احوال کچھ پرانے بھارتی جاسوسوں کا

پاکستان نے مارچ 2016 میں کلبھوشن کو بلوچستان سے گرفتار کیا۔ ساتھ ہی ایک اعترافی بیان جاری ہوا جس میں کلبھوشن نے کہا کہ وہ انڈین نیوی کے حاضر سروس افسر ہیں اور بلوچستان میں ان کی آمد کا مقصد بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات تھی جنہیں بھارت امداد فراہم کرتا ہے۔ کلبھوشن نے پاسپورٹ پر اپنا نام ’حسین مبارک پٹیل‘ ظاہر کیا تھا اور وہ بلوچستان میں ایران کی سرحد سے داخل ہوئے تھے۔ یہ وہ پہلے ہندؤ ستانی

Read more

ننھے مستنصر حسین تارڑ کی سعادت حسن منٹو سے شرارتیں

لوگ ابھی راتوں کو اپنے گھروں کی چھتوں پر سوتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک بچہ بھی ہے۔ لاہور کا آسمان تما م رات کو روشن رہتا ہے اور اس آسمان پر شاہ عالمی میں جلنے والے ہندوؤں کے بھاری بھرکم بہی کھاتوں کے اوراق اُڑتے، پھڑ پھڑاتے، چھتوں پر آن اترتے ہیں۔

صبح جب لوگ جاگتے ہیں تو ان اوراق کی راکھ ان کے لباسوں اور جسموں پر ٹھہری ہوتی ہے۔ وہ لوگ ایک دوسرے کے راکھ آلودہ چہروں کو دیکھتے ہیں۔ شاید کبھی شرمندہ شرمندہ بھی ہیں، مگر شاید!

Read more

بند ”کیپیٹل ٹاک“ میں حق داد اور مشرف کی یاد

میں لاہور میں تھا جب ”جیو“ کے ڈرامے ”خان“ کی ہر آنے والی قسط کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا۔ پاکستان کی ”ڈرامائی سیاست“ کو ”وکھرے“ انداز میں دکھانے کے لیے ”شاندار“ اداکاروں کی ”جاندار“ اداکاری کا سہارا لیا گیا، ڈرامے کے مرکزی کردار کا نام ”حق داد خان“ تھا جو کہ ”نعمان اعجاز صاحب“ نے با طریقِ احسن نبھایا۔ حق داد خان کی ایک بیٹی ”نیلم خان“ نے ٹی۔ وی اینکر کا کردار نبھایا۔ آٹھویں قسط کے آغاز

Read more

سمیع ابراہیم سے چند سوال

”عید کے بعد پاکستان میں ایک سازش شروع ہو گی جس میں انڈیا، امریکہ، پاکستان کے اداروں کے چند لوگ، سیاستدان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے چند لوگ بھی شامل ہیں۔ امریکی طاقتوں کا مقصد پاکستانی فوج کو نشانہ بنانا ہو گا۔ میڈیا بھی ان لوگوں کا ساتھ دے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے جو لوگ اس سازش کا حصہ بنیں گے ان کو لیڈ کریں گے فواد چوہدری جن کا پی پی سے خفیہ رابطہ ہے“۔ یہ فرمان نیو یارک سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ”ہونہار صحافی“ سمیع ابراہیم صاحب نے جاری کیا ہے۔

Read more

پاکستان کی موروثی، خاندانی، لسانی سیاست اور ہماری ذہنی غلامی

”اب میرا بیٹا، مولانا کا بیٹا اور مریم بی بی اپوزیشن کو لیڈ کریں گے۔ اب ہم آرام کریں گے، نئی نسل کا م سنبھالے گی“۔ یہ الفاظ پچھلے دنوں احتساب عدالت سے باہر آتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے ادا کیے۔ یہ الفاظ نہیں زناٹے دار تھپڑ ہیں، شعور سے عاری، ذاتی مفادات کی حریص اور ذات برادری کی تفریق میں اٹکی اس پیش رو قوم کے منہ پر کہ جس نے آلِ شریف، اولادِ بھٹو، زرداری اور فضل الرحمان جیسوں کی بے تکی عقیدت و چاپلوسی سے یہ نوبت پیدا کر دی ہے کہ اب ان حاکموں کی ”اگلی نسل“ ذہنی غلاموں کی ”اگلی نسل“ کو ”ٹیک اوور“ کرے گی۔ یہ الفاظ سن کر خیال آیا کہ آخرہم کب اس ”نسل در نسل“ بادشاہت سے سے جان چھڑائیں گے؟ کب تک ”اپنڑ ی قوم دا اے“ کی بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے ؟

Read more

مسئلہ کشمیر پہ ”ہماری منافقت“

چوہدری رحمت علی نے جب مستقبل کی اسلامی ریاست کے نام کے لیے لفظ ”پاکستان“ کا انتخاب کیا تو بتایا کہ ”ک“ کشمیر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ Uprising In Kashmir کے صفحہ سترہ پر لکھا ہے کہ چوہدری صاحب سے ایک مغربی صحافی نے سوال کیا کہ ”ک“ کی بنیاد پر آپ ریاست کا نام تجویز کر رہے ہیں، اگر کشمیر نے پاکستان میں شمولیت اختیار نہ کی تو کیا ہو گا۔ ؟ چوہدری صاحب نے مختصر جوا

Read more

ادیبوں اور شاعروں کے لطیفے

(شیطان غالب) رمضان کا مہینہ تھا، ”اسد اللہ غالب“ نوا ب حسین مرزا صاحب کے ہاں بیٹھے تھے۔ غالب نے پان منگوا کے کھایا۔ ایک فرشتہ سیرت، نہایت متقی وپرہیز گار صاحب اس وقت حاضر تھے۔ انہوں نے پوچھا، قبلہ آپ روزہ نہیں رکھتے؟ غالب بولے ”شیطان غالب ہے“۔ (سودائی) ایک مجلس میں غالب صاحب اور شیخ ابراہیم ذوق صاحب دونوں موجود تھے۔ مرزا غالب نے میر تقی میر کی تعریف کی، ابراہیم ذوق نے سودا کو میر تقی میر

Read more

پاکستانی شہری کو اسرائیل کے سفر کی اجازت دینے پر واویلا کیوں؟

25 جنوری 2019 روزنامہ ”جنگ“ میں معروف صحافی عمر چیمہ صاحب کی ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کی چیدہ چیدہ باتیں ملاحظہ فرمائیں : ”آپ چاہے اسے سفارتی نرم دلی یا بچگانہ اقدام کہیں، پاکستان نے اپنے یہودی شہریوں کو نہ صرف اسرائیل جانے کی اجازت دے دی بلکہ اس اجازت کی تشہیر کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ ایسا ایک اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کے تین ماہ کے اندر ہوا ہے۔ 31 سالہ فشل خالد لوگوں

Read more

(ہمارے حکمران اور ان کے روحانی مرشد (بقیہ حصہ

بھٹو کیس کے دوران جب بیگم بھٹو اور بے نظیر ہر طرف سے مایوس ہو گئیں تو مشیروں نے روحانی طاقتوں سے مدد کا مشورہ دیا۔ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو شاہ عبدا لطیف بھٹائی کے مزار پر گئیں جہاں ایک مجذوب نے ان سے کہا ”تمہارے سر کا سائیں نہ رہے تو بھی بادشاہت تمہارے گھر ہی رہے گی“ اس وقت ان کو یہ مذاق لگا مگر دس بارہ برس بعد بھٹو خاندان کی سیاست میں جگہ

Read more

ہمارے حکمران اور ان کے روحانی مرشد

گورنر جنرل غلام محمد سے ایک دن ان کی پرائیویٹ سیکرٹری مس روتھ بورل نے بے باکی سے پوچھا ”سر مجھے آپ میں حکمرانوں والی کوئی بات نظر نہیں آتی، آپ فالج سے چل پھر نہیں سکتے، کھانے کے لقمے آپ کے منہ سے گر جاتے ہیں۔ تو پھر آپ اتنے برسوں سے اس ملک کے حکمران کیسے چلے آ رہے ہیں۔ میں حیران ہوں“۔ غلام محمد مسکرائے اور اپنے تکیے کے نیچے سے ایک تصویر نکال کر مس بورل

Read more

نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔۔۔

 ”بابا جی“ نام کی چیز متعارف کروانے کی ضرورت تب پیش آئی جب قیامِ پاکستان کے چند برس بعد گورنرجنرل غلام محمد نے دستورساز اسمبلی تحلیل کر کے وزیراعظم کو رخصت کر دیا۔ مولوی تمیزالدین شکایت لے کر ”بابا جی“ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لگ تو یوں رہا تھا کہ گورنر جنرل کی خیر نہیں۔ مگر وہ تو بابا جی کے”جدی پشتی“ مرید تھے، اس لیے بابا جی نے اُن کے اِس کام کو عین حلال قرار دے دیا۔

Read more