ملی نغمے اور ملی اعمال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگست کے آغاز سے ہی ایک جشن کا سما ہوتا ہے۔ اسکولز میں فنکشن کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں، ملی نغمے گائے جاتے ہیں۔ ہمارے بچپن میں بھی چودہ اگست ایسے ہی جوش و خروش سے کسی تہوار کے طرح منایا جاتا۔ ٹی وی پہ یکم اگست سے ہی دن گنے جاتے اور مختلف ملی نغمے نشر کیے جاتے۔ چودہ اگست اور پچیس دسمبر یہ دو دن ہمارے صبح سے لے کر رات گئے تک کراچی پریس کلب میں گزرتے کیونکہ وہاں بھی پروگرامز فنکشن اور وہی ملی نغمے۔

یہ ملی نغمے خاص جذبے کے تحت لکھے اور گائے جائیں تو قلب کو سرشار کر جاتے ہیں۔ جشنِ آزادی کا لازمی حصہ بننے والے یہ ملی نغمے آج بھی لہو کو گرما دیتے ہیں اور روح کو تڑپا دیتے ہیں۔ ہم نے بھی بچپن سے ملی نغمے یاد کیے اور گائے۔ لیکن یہ مضمون لکھنے کے لیے جب دوبارہ وہ گیت سنے تو متن تبدیل کر دیا۔ صف اول کے شاعروں کا کلام، پر ترنم آواز اور بہترین موسیقی سے بھرپور یہ گیت آج کے دور میں مجھ سے کئی سوال کر رہے ہیں۔ بلا شبہ شاعر حضرات نے بہت عمدہ کلام لکھے مگر آج اس نفسانفسی کے دور میں ہمارا ملک پیچھے ہم بہت آگے نکل گئے۔ بات کسی شخص کی نہیں اکثریت کی ہے۔

سب سے پہلا سوال تو یہ کیا ”ہم زندہ قوم ہیں؟ “ یا بے حس، بے صبری، جذباتی اور مفاد پرست قوم۔
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں
لیکن آج تو اس کے بر عکس ہمیں دوسروں کی خوشی سے غم اور دوسروں کے دکھ میں راحت محسوس ہوتی ہے۔

”تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے“ میرے خیال سے تو تیرا پنجاب ہے اور میرا مہران ہے۔ اسی کشمکش میں میں نے کئی پرانے قومی گیت سن ڈالے اور تذبزب کا شکار ہوگئی کہ یہ وہ ترانے تھے جو سن کر ہم سب بڑے ہوئے۔ جس کو سن کر جذبہ حب الوطنی بڑھ جاتا تھا۔

جیسے جمیل الدین عالی صاحب جو خود ہجرت کر کے پاکستان آئے، ان کا لکھا سدا بہار گانے کے بول:

جھیل گئے دکھ جھیلنے والے۔ اب ہے کام ہمارا
ایک رکھیں گے۔ ایک رہے گا۔ ایک ہی نام ہمارا
جیوے جیوے پاکستان

اجتماعی سطح پر بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کیا آج ہم اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، ہم تو ایک نہیں ہیں۔ لسانی طور پہ ہم پنجابی سندھی پٹھان اور بلوچی ہیں۔ ہمارے نام ہماری پہچان بلکہ ہماری تو زبان بھی ایک نہیں۔ مسلکی طور پہ وہابی بریلوی دیوبندی ہیں۔ یہ خوبصورت نغمہ گانے والی کوئی اور نہیں شہناز بیگم تھیں، جن کا تعلق مشرق پاکستان سے تھا۔ افسوس وہ ”ایک نام“ بھی نہ رہا۔ ملک کا آدھا حصہ 1971 ء کی جنگ میں ہم نے نو مہینے طویل خون آلود جنگ میں گنوا دیا۔ تیس لاکھ بنگالیوں کے جانوں کا ضائع ہونے کا یہ اندوہناک المیہ کسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ مختلف زبان، تہذیب، نظریات اور نا انصافی کا معرکہ ہے۔ وہ بنگالی جنہیں ہم نا اہل، خفیف اور حقیر جانتے تھے، ترقی کی دوڑ میں ہم سے آگے نکل گئے۔ معاشی اعتبار سے بنگلہ دیش بہت جلد ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے۔

ایک اور خوبصورت کلام مسرور انور کے قلم سے لکھا گیا۔
ان ملوں، مشینوں کے سب پہئیے گھومیں گے،
مزدور بھی ہوں گے شاد، دہقان بھی جھومیں گے۔
سونا دیں گے کھلیاں۔ ہم زندہ قوم ہیں

آج کے اس دور میں غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور ازبس ناشاد۔ ہاں ہم زندہ قوم ہیں، جب بارش میں ننگی تاروں سے لپٹے بچے چپکے ہوتے ہیں اور ہم ویڈیو بناکر کر وائرل کردیتے ہیں، کیونکہ ہم ان کے لیے کچھ کر تو سکتے نہیں کیوں نا یہ دردناک نظارہ اپنے نوجوان دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ اور ہم زندہ قوم ہیں جو سوشل میڈیا کے ہیرو ہیں اور کسی غریب بچے کی ویڈیو کے نیچے بڑے بہترین تبصرے دیتے ہیں مگر عملاً سگنل پر کھڑے پھول بیچتے بچوں کو دھتکار دیتے ہیں۔ زندہ قوموں کی طرح جشن آزادی تو منا لیتے ہیں مگر اگلے دن قوم پھر سو جاتی ہے۔

بے شک پاکستان جن قربانیوں اور دعاؤں سے آزاد ہوا ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے اباؤ اجداد زمین جائیداد اپنی مرضی سے چھوڑ کر قائد کی قیادت میں پاکستان میں آباد ہوئے۔ اسی حوالے سے 90 کی دہائی میں عالمگیر کا گایا گیت بہت مشہور ہوا۔

ماؤں کی دعا پوری ہوئی۔
ہر ایک لمحہ اس کی خاطر کام کرنا ہے
دنیا میں اب روشن اِس کا نام کرنا ہے

بہت ہی افسوس کے ساتھ دنیا میں لوگ پاکستان کو زیادہ اچھے الفاظ میں نہیں جانتے۔ (بدنام گر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا) کے مطابق۔ ہم نے اپنی حرکتوں سے دنیا میں خود کو بدنام کیا ہے۔ آج لوگ ہم کو دہشت گرد، کرپٹ، جرائم میں ملوث سمجھتے ہیں۔

حکمران طبقہ بھی سرخی میں آنے کے لیے باقاعدگی سے یومِ آزادی پر قائد اعظم کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ وگرنہ ہمارے حاکموں سلطانوں کا محمد علی جناح جیسے عوامی لیڈر سے بھلا کیا تعلق۔ مگر پاکستان ٹیلیویژن پر تو ہر سال یہ گانا بجتا ہے،

اے روح قائد آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں۔
مٹی سے ہے سچا پیار ہمیں۔ اب پیار کے رنگ ابھاریں گے
اب خونِ رگِ جاں بھی دے کر۔ موسم کا قرض اتاریں گے
کردیں گے عمل سے بھی ثابت۔ باتیں تو ہمیشہ کرتے ہیں
عالمگیر کا ہی گایا ایک اور گیت
امیدِ صبحِ جمال رکھنا، خیال رکھنا

ہائے! کیا خوب خیال رکھا ہم نے اس مملکت اور اس کی املاک کا۔ ہم تو مسجد کے باہر کٹورا اور چپل کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم بجلی کے کھمبوں سے تار چرا لیتے ہیں۔ اور تو اور جب کسی مسئلہ پر احتجاج کرنا ہو تو اپنے دیس میں جلاؤ گھیراؤ کر کے اسلام اور وطن کا عظیم دفاع کرتے ہیں۔ بجلی چوری ٹیکس چوری درخت چوری قربانی کے جانور چوری موبائیل چوری حادثے کے وقت متاثرین کا بٹوہ چوری مسجد سے جوتے نلکے بلب چوری مینڈیٹ چوری معذرت کے ساتھ چوری کی فہرست بہت طویل ہو جائے گی تو جانے دیجیے۔ مگر زندہ قوم کی جگہ اگر لکھا جائے بے ایمان قوم تو جناب برا نہ مانیے گا۔

ایک اور گانا انور مقصود صاحب کا لکھا جسے بعد میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سیل نے ویڈیو کی شکل دی۔ ”میں تو دیکھوں گا، تم بھی دیکھو گے، جب روٹی سستی ہوگی اور مہنگی ہوگی جان۔ “ ایک سال کی مدت میں غریب کو اب دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، روٹی مہنگی ہوگئی ہے صاحب اور سیاستدان سے ڈیل ہوجانے پر یہ بھی جیل سے رہا ہو جائیں گے۔ اور انسانی جان کی تو پاک زمین پر کوئی قیمت نہیں۔ قصور اس زمین اس ریاست کا نہیں یہ تو نصیب سے ہمیں حاصل ہوئی مگر اس سوہنی دھرتی سے وفا ہم عوام نے نبھائی نہ حکمران نے۔

کیا ہم آزاد ہیں یا غلامی کی زنجیروں میں جکڑے گئے۔ ہم غلام آزاد نہیں ہوئے تھے۔ بابائے قوم نے بہت احسن طریقے سے ہمیں آزاد مملکت کا تحفہ دیا۔ مگر افسوس اس کے بعد ”پاک سر زمیں کا نظام، قوتِ اخوتِ عوام“ نہ رہا۔ بلکہ دوسری قوتیں وجود میں آگئی اور ہمارے حصہ میں آئی نہ ختم ہونے والی غلامی۔ جمہوریت کے نام پر حکمرانوں کی غلامی، مفاد کے نام پر امریکہ کی غلامی، آزادی صحافت کے نام پر میڈیا کی غلامی، ترقی کے نام پر آمریت کی غلامی۔ اس لیے یہ کہنا غلط تو نہ ہوگا کہ غلامی مبارک۔

روشنیوں کا شہر کراچی جسے منی پاکستان کہا جاتا تھا، پاکستان کی شہ رگ علم و دانش کا گہوارہ آج کن مصائب کا شکار ہے۔ پنجاب میں آئے دن بچوں کا اغوا ہونا بلوچستان میں بدامنی، پختونخوا میں قبائلی جھگڑے سندھ میں وڈیرے بازی نیز پورا ملک ہی نازک دور میں ہے۔ غربت، دہشت گردی، ناخواندگی، بجلی گیس بحران، معاشی بحران، سیاسی بدعنوانی، صحت کے مسائل۔ ہمیں اس طرح کے کئی گومگوں مسائل کا سامنا ہے اور اس کا حل نئے پاکستان میں بھی نظر نہیں آتا۔

غریب مزدور دہقان جس کی باتیں ان نغموں میں ہوتی ہیں انہیں کسی ترقی، کسی آمریت یا جمہوریت سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی چاہیے۔ ماؤں بیٹے بیٹیوں کو امن چاہیے۔ بغیر کسی لسانی امتیاز کے اپنی مرضی سے جینے کا حق، بغیر کسی کوٹے کے کام کرنے کا حق۔ ہمیں غلامی سے اس سسٹم سے آزادی چاہیے۔

دو روز قبل زرداری صاحب نے فرمایا پاکستان ہم نے بنایا اور مہاجرین کو ہم نے پناہ دی، رسی جل گئی مگر بل نہ گئے۔ مانا کہ قیام کے بعد سے آج تک ملک نازک صورتحال سے ہی گزر رہا ہے۔ مگر ابھی کشمیر کے حوالے سے ایک ہو کر سوچنا ہوگا، اس پہ بھی زرداری صاحب جو آج تک بی بی کے قاتل کو قاتل کے روپ میں تو سامنے لانے کے اہل نہیں۔ لیکن لوگون کر لڑوانے کا سلسلہ اور ان کا پرانا تعصب ابھی تک جاری ہے۔ ایمان اتحاد یقین محکم سے پاکستان معرض وجود میں آیا لیکن اب ایمان پہ ایمان نہیں رہا اور یقین بھی مستحکم نہیں۔ اتحاد ہم دیکھ سکتے ہیں تمام لیڈرز کی زہر اگلتی باتیں کہ ہم کتنے متحد ہیں۔

آخر میں بس ایک امید ایک دعا یومِ آزادی کے موقع پر کلیم عثمانی کا کلام ہمارے آنے والی نسلوں کے نام۔
نظم و ضبط کو اپنا۔ میرِ کارواں جانو

وقت کے اندھیاروں میں۔ اپنا آپ پہچانو
یہ زمیں مقدس ہے۔ ماں کے پیار کی صورت
دیکھنا گنوانا مت۔ دولتِ یقین لوگوں۔
نفرتوں کے دروازے۔ خود پہ بند ہی رکھنا
اِس وطن کے پرچم کو۔ سر بلند ہی رکھنا
یہ وطن تمہارا ہے۔ تم ہو پاسبان اِس کے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •