کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کا بہترین طریقہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں ہفتے ہم نے آزادی کی سالگرہ منائی۔ جدید قومی ریاستوں کے دور کے آغاز کے بعد روئے زمین پر بے شمار قومیتوں، مذہب کے ماننے والوں اور نسلوں نے خود پر اور وسائل پر مسلط و متصرف طاقتوں سے آزادی حاصل کر کے مذہب، رنگ، نسل، زبان وغیرہ کی بنیاد پر جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تعین کر کے الگ مملکت کا قیام عمل میں لایا۔ غلام داری دور کہ جس میں انسانوں کی جانوروں کی طرح خرید و فروخت کی جاتی تھی، انہیں زنجیروں سے باندھ کر، بھوکا پیاسا رکھا جاتا اور جان توڑ مشقت کروائی جاتی، آج پوری دنیا میں کہیں بھی اس طرح کی غلامی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی موجودہ دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں چلنے والی آزادی کی تحاریک کا منطقی انداز میں جائزہ لیتا ہوں تو ان تحاریک کی جوازیت اور عدم جوازیت کے حوالے سے متذبذب ہو جاتا ہوں۔ میں نے کشمیر اور افغانستان میں بر سر پیکار نوجوانوں کے بے شمار حامیوں سے آزادی کا مطلب پوچھا جس کے لیے وہ دونوں طرف بہت سے سیکیورٹی اہلکاروں سمیت بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کو اتنی آسانی سے تہ تیغ کر دیتے ہیں کہ جیسے راہ چلتے چلتے کوئی چیونٹی پاٶں تلے آ کر کچلی جائے۔

میں مذہب اور آزادی کے نام پر اتنی ارزانی سے جان لینے اور دینے کو اس لیے دکھ اور افسوس سے دیکھتا ہوں کہ اسلام کے نزدیک انسانی جان کی حرمت کعبتہ اللہ سے بھی زیادہ ہے۔ میرے ایسے سوالوں کے جواب دینے والے ہوش کے بجائے جوش، منطق کے بجائے جذباتیت اور استدلالیت کے بجائے بے محل طولانی گفتگو کا مظاہرہ کرکے بات کو الجھا دیتے ہیں تو میں ان کی ذہنی کیفیت دیکھ کر متفکر ہو جاتا ہوں۔ اس فکر مندی میں اضافہ اس وقت ہوجاتا ہے جب یہ لوگ سیاق و سباق اور موقع محل سے ہٹ کر قرآن کی آیات، احادیث اور نبی صلعم کی سیرت پاک کے واقعات کا حوالہ دیتے ہیں۔ میری پریشانی اس وقت اوربھی بڑھ جاتی ہے کہ جب یہ نظم اجتماعی کے حامل ایک ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کے خلاف عسکری اور خفیہ کارروائیوں کے حق میں قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ حضرات سب سے بڑا ظلم یہ کرتے ہیں کہ قرآن کے انفرادی اور اجتماعی احکامات کو باہم گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔

اس صورت حال کے پیش نظر میں نے اپنی اور ان کی آسانی کے لیے موجودہ دور میں آزادی اورغلامی کے حوالے سے سوالوں کو نہایت عام فہم انداز میں پوچھنے کی کوشش کی مگرنتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ یہ جوشیلے نوجوان جو مذہبی رومانویت کا بری طرح شکار ہیں، میری بات سمجھنے سے بوجوہ قاصر ہیں اس لیے یہی سوالات میں آج ایک اور انداز سے قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ امید ہے کہ میری معروضات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا جائے گا۔

مثلاً میں نے پوچھا کہ وہ کون سے مذہبی، ثقافتی، معاشرتی اور سماجی امور ہیں جو ہم پاکستان اور آزاد کشمیر میں آزادانہ ادا کرتے ہیں اور بھارت و مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ادا نہیں کر سکتے؟ ظاہر ہے ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے اور وہاں انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہٕے۔ وہاں حج ہمارے مقابلے میں زیادہ سستا اور آسان ہے۔

جمعے کے اجتماعات میں مسلمان واعظین جس طرح حکومت کے خلاف شعلہ نوائی کرتے ہیں پاکستان میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا۔ جوشیلے مجاہدین اور ان کے ہمنوا بابری مسجد پر حملے کی مثال دیتے ہیں تو میں اسلام کے قلعے میں لال مسجد کے سانحے کا حوالہ دیتا ہوں۔ انہوں نے کشمیر میں عسکریت پسندوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا تو میں نے یہاں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف سیکڑوں آپریشنز کا حوالہ دے دیا۔

انہوں نے گجرات کے فسادات اور سانحہ ایکسپریس کا شکوہ کیا تو میں نے یہاں دہشت گردی کی جنگ میں ایک لاکھ سویلین کے مارے جانے کا جواب شکوہ کیا۔ انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے گائے کے ذبیحے پر پابندی کا ذکر کیا تو میں نے دست بستہ عرض کیا کہ جس دن آپ یہاں سرعام شراب نوشی کی اجازت دیں گے وہاں بھی گائے کا گوشت کھا لینا۔ میں نے عرض کیا کہ بھارت میں مسلمان صدر بن سکتا ہے۔ ہاکی، کرکٹ ٹیم کا کپتان بن سکتا ہے، شاہ رخ خان، سلمان خان اور یوسف خان بن سکتا ہے۔ فنون لطیفہ، حکومت، آرمی، بیوروکریسی، عدلیہ، انتظامیہ غرض ہر شعبہ ہائے زندگی میں مسلمانوں کی خاطر خواہ نمائندگی موجود ہے۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پر جس طرح غیر مسلموں کو زندہ جلایا گیا اور مشال خان کو یونیورسٹی میں اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ہی مذہبی جنونی گارڈ نے جس طرح گولیوں سے بھون ڈالا ویسا کوئی واقعہ بھارت میں ہوا ہو تو مجھے بھی بتا دیجیے۔

میری باتوں پر منہ بسورتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی فوج گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے، ان پر تشدد کرتی اور انہیں لاپتہ یا معذور کر دیتی ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے پاکستان میں دس ہزار سے زائد مسنگ پرسنز کے لواحقین کی طرف سے چلنے والی تحریک کا حوالہ دے کر کہا کہ بے شک مقبوضہ کشمیر میں بھی مسنگ پرسنز کے حوالے سے کوئی تحریک ضرور چل رہی ہو گی مگر جو عالمی شہرت پاکستان کی مذکورہ تحریک کو ملی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔

یہ مجاہدین کے حامیوں کی بہر حال مہربانی تھی کہ میرے پے در پے سوالوں کے جواب میں بھی ان میں سے کسی نے موقعے پر عدالت لگا کر فوری انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے ورنہ میں یہ تحریر لکھنے کے قابل نہ ہوتا۔ زچ ہو کر ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ جہاد سے انکار کر رہے ہیں جس کا حکم قرآن پاک کی سات سو سے زائد آیات میں دیا گیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں ہر گز جہاد کا منکر نہیں ہوں، مگر یہ حکم انفرادی نہیں، نظم اجتماعی کے سربراہ کے لیے ہے۔

سوال ہوا کہ نظم اجتماعی اگر غیر شرعی ہو اورمملکت کا سربراہ فسق و فجور میں ملوث ہو تو پھر آپ کیا کریں گے؟ میں نے نرمی سے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ کوئی فرد واحد یا ہتھیار بند جتھہ نہیں کرے گا اس کے لیے ادارے بنے ہیں۔ سوال آیا کہ سب ادارے ہی اگر کفر کے نظام پر قائم کیے گئے ہوں تو پھر بھی جہاد فرض نہیں ہو گا؟ میں نے کہا اول تو میں ایسا نہیں سمجھتا لیکن اگر کوئی ایسا خیال کرتا بھی ہے تو اسے ملک میں رائج الیکشن سسٹم کے ذریعے عوام میں جانا چاہیے اور اگر عوام انہیں ووٹ دیں تو وہ اپنے منشور کے مطابق آئین میں ترمیم کر کے ”خلافت“ قائم کر لیں۔

اس پر خائف ہو کر ایک نے ترنت جواب دیا کہ یہ تو آپ بہت طویل، مشکل اور وقت و وسائل طلب راستہ بتا رہے ہیں۔ ایسے تو نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔ میں نے عرض کیا کہ اسی لیے آپ ہتھیار اٹھا کر گروہوں کی شکل میں جہاد کے نام پر بے گناہ انسانوں کو تہ تیغ کر کے آسان راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی کام مٹھی بھر ”مجاہدین“ نوے کی دہائی سے کشمیر میں بھی کر رہے ہیں جس کانتیجہ یہ نکلا کہ آج وادی میں شاید ہی کوئی مسلم گھرانہ ایسا ہو جس کا نوجوان لاپتہ، معذور اور مارا نہ گیا ہو۔

وادی کشمیر کی 34 فیصد مائیں نفسیاتی مریض بن چکی ہیں۔ نوجوان نسل فکری اور عملی حوالے سے مفلوج ہو رہی ہے۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیری قائدین کی اپنی اولادیں بھی ان کے ہمراہ قید و بند کی مشقتیں برداشت کر رہی ہیں یا بیرون ملک اعلٰی تعلیم حاصل کر رہی ہیں؟ یاد رکھیے ریاست پاکستان کی ہو، امریکہ کی ہو، انڈیا کی ہو یا سری لنکا کی، جب بھی آپ اس کے خلاف مسلح اور خفیہ کارروائیاں شروع کریں گے اسے آپ کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کا جواز مل جائے گا۔

خدارا اس یوم آزادی پر جوش کے بجائے ہوش سے کام لیں۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ سے بندوق لے کر قلم دیجیے۔ وادی کے چند ہزار بندوق برداروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے فہم اسلام اور فہم آزادی کو بزور عملی جامہ پہنا نے کے لیے ڈیڑھ ارب انسانوں کے امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالیں۔ اگر آپ پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک جیسی آزادی کے حصول کے خواہشمند ہیں تو پر امن جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنائیے۔

جہاد و قتال سے کشمیر نے آزاد ہونا ہوتا تو اب تک ہمارے بہادر، جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار جانباز کشمیر کو آزاد کروا چکے ہوتے۔ نبی صلعم کے نام پر امن کو داٶ پر لگانے والو، نبی صلعم آزادی سمیت کسی بھی چیز سے زیادہ انسانی جان کی حرمت کو جانتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بتوں کے درمیان نمازیں پڑھیں مگر انفرادی طور پر تلوار نہیں اٹھائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •