دس لاکھ جو سانس سے بھی آزاد ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزادی کی جشن کی خوشیوں بھرا، اگست کا مہینہ، برصغیر کے باشندوں کے لئے تباہ کن تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں تقرہبا دس سے بیس لاکھ بے گناہ لوگ اپنے ہم وطنوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ اگر ایک مردے کی لمبائی ساڑھے پانچ فٹ مان لی جائے۔ اور یہ ساری لاشیں لمبائی میں زمین پر ایک دوسری کے اگے بچھائی جائیں۔ تو ان کی کل لمبائی تین ہزار ایک سو پچیس میل یا تقریباً پانچ ہزار انتیس کلومیٹر بنتی ہے۔ جبکہ پشاور سے افغانستان، وہاں سے ایران، وہاں سے عراق، اور پھر عراق سے سعودی عرب کا فاصلہ چار ہزار دو سو سوبارہ کلومیٹر بنتا ہے۔

یعنی پھر بھی اسلام آباد سے کراچی جتنا اور فاصلہ متذکرہ فاصلے کے ساتھ جمع کروگے تو پانچ ہزار انتیس کلومیٹر کا فاصلہ بنے گا۔ آزادی کی خوشی میں ہمارے آباؤاجداد نے اتنے لوگ مارے تھے کہ برصغیر لاشوں سے بھر گیا تھا۔ اور یہ دس لاکھ لاشیں ایک فگر نہیں، ان میں ہر ایک، الگ الگ، اپنی ذات میں ایک کائنات تھی۔ ان کے ماں باپ، بہن بھائی، بچے اور بیویاں تھیں۔ یہ لوگ کس نے کیوں مارے؟ اس کی عجیب و غریب توجیحات پیش کیجاتی ہیں۔

جن میں سب سے زیادہ بے بنیاد اور بودی دلیل قربانی والی ہے۔ یہ لوگ آزادی کی خاطر کوئی جنگ لڑنے میدان جنگ میں نہیں اترے تھے۔ یہ عام لوگ تھے۔ جن کو سیاسی نزاکتوں اور تقسیم کے بدلے میں نازل ہونے والی آفتوں کا اندازہ ہی نہیں تھے۔ جن کو ان خطرات کا اندازہ تھا وہ سپیشل ٹرینوں اور چارٹرڈ طیاروں میں بخیر وعافیت اپنے اپنے ممالک میں اتر کر وہاں کے حکومتی کرتا دھرتا بن گئے۔

برصغیر کے باشندوں یعنی ہم نے مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں نے اپنی ایک لاکھ سے زیادہ بہنوں، ماؤں بیٹیوں اور اپنی ہم وطن عورتوں کی عصمت دری کی، اغوا کیا اور انہیں چکلوں میں بیچا۔ اگر ایک عورت کو کھڑا ہونے کے لئے تین فٹ کی جگہ چاہیے تو ایک لاکھ عورتوں کو کھڑا ہونے کے لئے تقریبا دو سو پچھتر کلومیٹر لمبی جگہ ہونی چاہیے۔ جو پشاور سے کچھ کلومیٹر کے فرق سے جہلم تک کا فاصلہ بنتا ہے۔ تصور کریں اپنی وحشت کا۔ پشاور سے جہلم تک عصمت دریدہ، فروخت شدہ، اغوا شدہ بے گناہ عورتوں کی ایک قطار کھڑی ہے۔

کپڑے پھٹے ہوئے، سینے کٹے ہوئے، گلے نُچے ہوئے، چہرے کھرونچے ہوئے، جسم کھدیڑے ہوئے، رانوں پر خون بہتا ہوا، انکھیں پتھرائی ہوئیں، بال بکھرے ہوئے اور دوپٹوں کے بغیر، اور دوسری طرف برصغیر کے فاتح مرد۔ ہر ایک سورما، ہر ایک مجاہد، ہر ایک عورت پر ہاتھ نہ اٹھانے والا، ہر ایک اپنی مردانگی پر فخر کرنے والا اور عورت کو کمزور سمجھنے والا۔ یاد رکھیں اس سارے فساد میں کسی ایک ہندو سکھ یا مسلم عورت یا عورتوں نے مل کر کسی بھی مرد یا بچے کو ریپ نہیں کیا۔ جنسی جذبات اور وحشت کے ہیجان ان کے پاس بھی تھے۔ فسادات میں حصہ لینے والے ہمیشہ بزدل مرد ہوتے۔ جو منہ پر صافہ ڈال کر کمزور عورتوں پر اپنی مردانگی کا دھاک بٹھاتے ہوئے، اپنی مسلی ہوئی شخصیت کا اظہار کرتے ہیں۔ نامردوں کی مردانگی پر برصغیر کا یہ دور ایک انمٹ بڑا سا کالا بدصورت دھبا ہے۔

ڈیڑھ کروڑ ہندو سکھ مسلمان اور دوسرے لوگ، اپنے ملک میں بے گھر ہوکر پناہ کی تلاش میں، اپنے علاقوں سے دوسرے نامعلوم علاقوں میں، جان و عزت بچانے کی خاطر نکلے۔ اگر ایک بس میں چالیس سواریاں بیٹھ کر سفر کرسکتی ہیں۔ تو ڈیڑھ کروڑ مسافروں کے لئے سینتیس لاکھ پچاس ہزار بسیں درکار تھیں۔ یہ بسیں بیک وقت اکٹھی کرنا اور سڑکوں پر رکھنا ممکن ہی نہیں، نہ اتنی بسوں اور مسافروں کو سڑکوں پر سنبھالنا ممکن ہے۔ میں نے کوشش کی لیکن دنیا میں موجود ساری بسوں کی تعداد معلوم نہ ہوسکی۔

آج انڈیا میں گورنمنٹ اور نجی کمپنیوں کی بسوں کی کل تعداد تقریباً انیس لاکھ ہے۔ جبکہ پاکستان میں سن دوہزار سولہ کے ڈیٹا کے مطابق رجسٹرڈ بسوں کی کل تعداد دو لاکھ چھبیس ہزار تھی۔ یہ ڈیڑھ کروڑ لوگ چار مہینے کے دورانیہ میں اپنے اپنے گھروں سے نکلے۔ جن کا بڑا ریلا اگست کے گرم ترین اور سخت ترین حبس زدہ دنوں میں کھلے اسمان تلے تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ اوپر سے برسات دل کھول کر برس رہی تھی۔ راستے پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔

ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے صرف سڑک سفر کے قابل تھے۔ اکثریت پیدل محوسفر تھی۔ پینتالیس پینتالیس میل لمبی قطاریں، زندگی کا بوجھ کھینچتی، دہلتے دلوں کے ساتھ، نامعلوم سفر پر رواں تھیں۔ صرف پینتالیس میل لمبی ایک قطار کے، لٹے پٹے قافلے کو کتنے کھانے اور پانی کی ضرورت تھی؟ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ برسات کی وجہ سے شارٹ کٹ اور مقامی خفیہ راستے زیرآب تھے۔ جس کی بنا پر مجبوراً ہر کوئی سڑک پر تھا۔ اور سڑک وحشی مسلمانوں سکھوں اور ہندوؤں کے نشانے پر تھی۔

کسی کو بھی یاد نہیں تھا کہ وہ خود انسان ہے۔ اور جس کو وہ مارنے لوٹنے جارہا ہے وہ کمزور، بے سہارا، مسافر ہیں۔ جنہوں نے ان کو کبھی کوئی نقصان، کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ بلکہ وہ ان کو جانتے بھی نہیں تھے۔ بس مختلف مذہب کا مختلف ہونا سب سے بڑا جرم تھا اور اس جرم کی سزا دینا سب سے بڑا ثواب اور پُنّے کا کام تھا۔ اگرچہ نسلاً مرنے اور مارنے والے سب ایک نسل سے تھے۔ مجھے عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ جب کوئی ہندو، سکھ یا مسلمان دوسرے مذہب کی کسی بے گناہ لڑکی کو اٹھا کر گھر لے آتا تھا تو گھر میں موجود اپنی ماں ماں بہن یا بیٹی کا سامنے کس طرح کرتا  تھا؟ اس کی ماں، بہن، بیٹی اسے شاباش دیتی یا مزاحمت کرتی تھی؟ کسی ماں کو اپنے بیٹے کسی بیوی کو اپنے شوہر کسی بیٹی کو اپنے باپ اور کسی بہن کو اپنے بھائی کے ریپ کرنے کی کہانی معلوم ہوجاتی تو اس کا رویہ اپنے باپ بیٹے بھائی اور شوہر کے ساتھ کیسا ہوتا؟ اس کو تھپکی دیتی یا نفرت کرتی  تھی؟

کوشش کے باوجود تقسیم کے وقت کے فسادات میں مسیحیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں ڈیٹا یا معلومات نہیں مل سکی۔ جس سے لگتا ہے کہ ہندوستان میں موجود انگریزوں کی طرح مسیحی بھی فسادات کے دوران محفوظ رہے۔ انگریز تو شکل و شان سے ظاہر تھا۔ حفاظتی گارڈز کے ساتھ نکلتا اور حفاظتی گارڈز کے درمیان رہتا تھا۔ البتہ مسیحیوں کی زندگی کی تحفظ کے لئے تانگے اور کار پر نمایاں طور پر اویزاں صلیب کی ایک نشان کافی سمجھی جاتی تھی۔ جس سے اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ فسادی اتنے پاگل بھی نہیں تھے۔ جتنا سمجھا جاتا ہے۔ صلیب کی نشان زدہ سواریوں کی وجہ سے بہت سارے دوسرے مذاہب کے لوگ بھی صلیب کے سائے میں اہنی زندگیاں بچا گئے۔

تاریخ کی کتابیں کانگریس اور مسلم لیگ کی لیڈرشپ کو جتنا پوجیں۔ جتنا بڑا اور کامیاب ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی دربدری، دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی قتل عام اور لاکھوں بے گناہ عورتوں کی عصمت دری ان کے اصل مقام کا تعین کرتی ہے۔ ان کو اس کا اندازہ نہیں تھا، یا وہ تیار نہیں تھے، یا یہ سب کچھ ان کے توقعات اور منصوبے کے مطابق تھا۔ اس پر تاریخ کا فیصلہ ابھی وقت کی عدالت میں زیرسماعت ہے۔ اور وقت بڑا بے رحم اور غیرجانبدار منصف ہے۔

تقسیم ہندوستان میں تخلیق کردہ اس المئیے میں سب سے زیادہ نمایاں کردار انگریز کا ہے۔ جن کے ہاتھ میں تقسیم کے وقت پوری ریاستی طاقت، مشینری، فوج اور پولیس تھی۔ ہندوستانیوں کے دلوں میں اگر ایک دوسروں کے لئے صرف نفرت اور انتقام موجزن تھا۔ تو انگریزوں کے سینے میں دل ہی نہیں تھا۔ ورنہ ساری دنیا پر حکومت کی فخر کرنے والی قوم کی موجودگی میں، ان کی مرضی کے بغیر ایسے انسانیت سوز مظالم ہو ہی نہیں سکتے۔ ویسے بھی یہ عجیب آزادی اور تقسیم تھی، جس کا اعلان چودہ اگست کو ہونا تھا۔ لیکن سترہ اگست تک تقسیم ہونے والے ممالک اور باشندے جانتے ہی نہیں تھے۔ کہ ان کا ملک کہاں سے شروع ہوکر کہاں پر ختم ہوجاتا ہے؟ بلکہ وہ سترہ اگست تک جانتے ہی نہیں تھے کہ وہ کس ملک کے کے باشندے ہیں اور کس ملک میں ہیں؟ اس افراتفری کو، تخلیق کردہ تاریخ میں، عظیم جدوجہد اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے المئیے کو جشن آزادی کا دن سمجا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کا دن وں ممالک میں سرکاری طور پر ان لوگوں کی یاد میں گزارنا چاہیے۔ جو نامعلوم لوگوں کے ہاتھوں تاریک راہوں میں مارے گئے۔ مشترکہ خونی بارڈر کے دونوں طرف کے لوگوں کے اجتماعی توبہ اور معافی مانگنے کا دن ہے چودہ اگست۔ اس روز چالیس کروڑ آزاد ہوئے اور دس لاکھ سانس اور عزت ہی سے آزاد ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •