کیا سارا الزام مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے سر ڈالنا درست ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب نے زحل کو دیکھ کر عید الفطر کر لی اور ہمارے ملک میں ایک طبقے نے سعودیہ کو دیکھ کر ہی اپنی عید کر لی۔ وہ مارا ماری جو چھوٹی عید کی خاصیت ہے بڑی عید پر نایاب ہی رہتی ہے۔ نہ خیبر والوں کو اس بار اپنے مسلمان اور پاکستانی ہونے کا سوال اٹھانا پڑتا اور نہ ہی شہادتوں کے لیے لوگ دور دراز کے علاقوں سے سفر کر کے اپنا اسلامی اختیار استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بڑی ہی خاموشی سے بڑی عید حکومت وقت کے ساتھ منا کر سب راضی خوشی اپنے معمولات زندگی میں لگ جاتے ہیں لیکن اب سوال یہ نہیں ہے کہ وہ تمام شہادتیں جو قرآن پاک پر حلف اٹھا کر عید الفطر کے لیے دی گئی تھیں ان کا کیا ہوا بلکہ خوشی اس بات کی ہے کہ اب اگلے رمضان تک کسی کو نہ تو سعودی عرب کے چاند سے کوئی غرض ہو گی اور نہ پاکستان کے اسلامی مہینوں سے، یوں کم و بیش دس ماہ ہم اتفاق و اتحاد کی عظیم مثال ثابت ہوں گے۔

چاند کے اختلاف کا یہ ڈرامہ نہ تو ابھی کا واقعہ ہے اور نہ اس کے سدباب کے لیے کبھی کوئی عملی قدم اٹھایا گیا۔ ہر سال کچھ سرکاری اعلانات اور کچھ غیر سرکاری خواہشات کا اظہار تو ہوتا ہے لیکن جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہو وہاں کسی سنجیدگی یا عملی قدم کا کیا کام۔ چھوٹی کے بعد بڑی عید گزارلینے کے بعد اب جب کہ زندگی معمول پر ہے اور جوش مسلمانی بھی ٹھنڈا پڑا ہوا ہے تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اختلاف چاند کے اس ڈرامے کے آوے میں کون کون سا آوا کتنا بگڑا ہوا ہے۔

رویت ہلال کمیٹی سے اختلاف پر اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا ہمیشہ سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب کا پسندیدہ کام رہا ہے لیکن معذرت کہ دوسروں کی طرح سارا الزام ان کے سر تھوپنے کی میں کبھی حمایت نہیں کروں گا۔ ہاں لیکن لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ چاند دیکھنے کے لیے مفتی صاحب کبھی تو مسجد کی چھت پر بھی تشریف لے جائیں لیکن ہم نے برسوں سے یہی دیکھا ہے کہ وہ مسجد کے اندر اپنے مصلیٰ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور ٹیلی فون پر ہی چاند دیکھنے کا عمل مکمل کر لیتے ہیں، یعنی انہیں بھی یہ یقین ہوتا ہے کہ چاند پشاور میں تو نظر آنا نہیں ہے اس لیے چھت پر جانے کی ضرورت ہی کیاہے لیکن پورا سال مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلانات کے مطابق چلنے والی عوام اگر ایک مہینے میں اپنا قبلہ بدل لیتی ہے تو سوال عوام سے ہونا چاہیے۔

یہی عوام مرکزی حکومت کے اعلانات کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری تعطیلات مناتی ہے لیکن یکم رمضان و شوال کے لیے انہیں اپنی گواہیاں یاد آ جاتی ہیں۔ مجھے اپنی یاداشت میں کبھی کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو مذکورہ گواہی والے علاقے سے تعلق رکھتا ہو اور کہے کہ ہاں میں نے بذات خود چاند دیکھا ہے، ہمیشہ یہی سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے کہ فلاں میرے دوست یا رشتہ دار نے چاند دیکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آسمان ایک پورے شہر کا مشترک نہ ہو لیکن ایک محلے کے پاس تو مشترک آسمان دستیاب ہو گا تو پھر اہل علاقہ مکمل طور پر چاند کے گواہ کیوں نہیں ہو تے۔

ہمیشہ ’فلاں‘ ہی گواہ کیوں ہوتا ہے؟ اور پھر یہ سارے گواہ آج کے جدید دور میں بھی موبائل فونز اور کیمروں سے اتنے دور ہیں کہ کبھی کوئی گواہی فورا نہیں دی گئی بلکہ تاویلیں دینے والے یہی کہتے ہیں کہ دور دراز کے علاقوں سے لوگ کسی ٹیلی فون لائن والے علاقے میں آتے ہیں اور پھر فون کر کے بتاتے ہیں۔ گویا یہ پاکستان کے چپے چپے پر کھمبے لگائے موبائل فون کمپنیاں شاید پرندوں کو سستانے کے لیے سہولت فراہم کر رہی ہیں۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا اس پورے علاقے میں کسی کے پاس کیمرہ بھی دستیاب نہیں کہ چاند کی تصویر بنا لے اور کوئی پکی گواہی کبھی تو دستیاب ہو سکے۔ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بارہویں صدی کے یہ سادہ عوام یقینا اس لائق ہیں کہ ان کی معصومیت پر قربان جانے کو دل کرتا ہے لیکن پھر یہی دل سوال کرتا ہے کہ آخر یہ سبھی لوگ اپنی زونل اور صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کو فون کیوں نہیں کرتے؟ یا پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو فون کرکے گواہی دینے میں کیا مسائل درپیش ہیں؟

کچھ لوگ یقینا کہیں گے کہ حکومتی لوگ ایسے لوگوں کی گواہیاں قبول نہیں کرتے لیکن وہ فہرست بھی تو دکھائیے جس میں کسی ایسے شخص کا ذکر ہو جس نے زونل، صوبائی یا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو فون کیا ہو۔ ہمیشہ یہ سارے فون مفتی شہاب الدین صاحب کو ہی کیوں ملائے جاتے ہیں؟ اور کیوں پہلے سے یہ یقین کر لیا جاتا ہے کہ ہماری گواہی حکومتی کمیٹی نے قبول نہیں کرنی؟

سادے اور معصوم لوگ سارے سوالات کا ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے علما کی بہت عزت کرتے ہیں اور ان کی بات مانتے ہیں لیکن یہ عزت اور احترام خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے، پڑوسیوں کو حقوق دینے اور حاکم وقت کے فرمان پر سر جھکا دینے جیسے اسلامی احکام پر عمل داری کے وقت کہاں چلا جاتا ہے۔ چائے اور قہوہ خانوں میں یہی سادے اور معصوم لوگ دلائل کے ساتھ بتا رہے ہوتے ہیں کہ فرقہ واریت کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے ہماری مولوی، جو خود حلوے کی پلیٹ پر اکٹھے ہوجاتے ہیں لیکن لوگوں کو تقیسم رکھتے ہیں۔

جب ان سادے اور معصوم عوام سے کہا جائے کہ آپ تفرقہ پھیلانے والے مولوی کی بات کیوں سنتے ہیں اور اس پر عمل کیوں کرتے ہیں تو ان کے چہرے اور انداز بتا رہے ہوتے ہیں کہ جناب ہم اپنے علما کی بہت عزت کرتے ہیں اور ان کی کوئی بات نہیں ٹالتے۔ الغرض یہی منافقت ہمارے پورے معاشرے کا ایک عمومی انداز بن چکی ہے اور ہم اپنے دین کو بھی دنیا کی طرح استعمال کرتے رہتے ہیں۔

یہاں اگر سیاست دانوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو نہایت زیادتی ہو گی کیونکہ جس عام آدمی کو یہ دو ٹکے کا بھی تصور نہیں کرتے، پانچ سال میں اس کے ایک ووٹ کی اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ سیاست دان دین اسلام اور ریاستی آئین سے انحراف کرتے ہوئے دو ٹکے کے عام آدمی کے ساتھ ایک ہی صف میں تکبیر کہنے کو کھڑا ہو جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کی مرکزی رویت ہلال کے اعلان سے یہ بغاوت یقینا دوسرے ملک دشمن عناصر کو طاقت پہنچاتی ہے اور یوں کسی دن کوئی اور شخص مرکزی حکومت کے خلاف کھڑا ہو جانے کی تیاری شروع کر سکتا ہے۔ اسلام کے نام پر حکومت سے ایسی ہی بغاوتیں کبھی تحریک طالبان پاکستان کے نام سے طاقتور رہی اور کبھی شریعت نفاذ محمدی کے نام سے اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہی اور ان کے طاقتور ہونے میں علاقائی سیاست دانوں کا بہت بڑا ہاتھ سمجھنا ہوگا۔

یہاں ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی نظر انداز کرنا نہ ممکن ہے جو ایسے اجتماعات منعقد ہونے دیتے ہیں۔ کوئی بھی شخص حکومتی اعلان کے خلاف اپنا اعلان کرتے ہوئے کوئی بھی جلسہ جلوس منعقد کرئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے تو پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بر خلاف اجتماعات منعقد کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جاتی۔ یہ سب نقص امن کا بہانہ بناتے ہیں لیکن جب پوچھا جائے کہ نقص امن کے پیش نظر اگر یہی اجتماع گورنر ہاؤس یا وزیر اعلیٰ ہاؤس پر قبضے کا خواہش مند ہو جائے تو پھر کیا قبضہ دے دیا جائے گا۔ ؟

یہاں صرف مفتی شہاب الدین صاحب پر سارا الزام ڈال دیا جاتا ہے لیکن ایک عام آدمی، علاقے کا سیاست دان اور ریاستی و قانون نافذ کرنے والے اداروں تک، کون ہے جو اس بگاڑ میں حصہ دار نہیں۔ اسی بگاڑ کی بگڑی ہوئی شکلوں نے ملک دشمن عناصر کو قوت فراہم کی اور ہم نے برسوں اس کی قیمت ادا کی لیکن اب بھی کوئی سمجھنے کو تیار نہیں۔ سب اپنی خواہشوں کی غلامی میں لگے ہوئے ہیں اور انجان ہیں کہ جب آوے کا آوا ہی بگڑ جائے تو سب کچھ ٹھپ بھی ہو جاتا ہے، دوسرے لفظوں میں کھیل ختم اور پیسہ ہضم۔ خدارا ایک بار سوچیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •