ہم کیا چاہتے ہیں ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مردہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت بے اعترافی ہے اور زندہ انسان کے سامنے جب کوئی حقیقت آئے یا وہ کسی خوبی کا مشاہدہ کرے تو اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مگر بحیثیتِ قوم ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ہم زندہ ہیں اور مشاہدہ بھی کرتے ہیں دیکھتے بھی ہیں مگر اعتراف نہیں کرتے ہمیں دوسروں کے تجربات، مشاہدات اور تحقیقات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی اور نتاہج سے خوف آتا ہے اس خوف نے ہمارے ازہام میں پیدا ہونے والے سوالات پر پابندی لگا رکھی ہے اب چونکہ فطرتِ انسانی کا تقاضا ہے کہ پیدا ہونے والے سوالات چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں اس لیے ان سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ الزام تراشی ہے اور یہ الزامات کبھی سماجی تو کبھی معاشی نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات ہم ان کو مذہبی رنگ دے کر اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا پبوت دیتے نظر آتے ہیں ہم اپنی ناکامیوں کو باآسانی یا تو یہود و نصارہ کے حصے میں ڈال دیتے ہیں یا ان کی کامیابیوں کو اپنے خلاف ہونے والی سازش کا حصہ سمجھ کر چپ سادہ لیتے ہیں۔

یہی مسئلہ زندگی کے ہر موڑ ہمیں درپیش رہا آج آزادی کے مہینے میں لگ بھگ بہتر سال بعد بھی ہم بین الاقوامی معاملات اور خاندانی تعلقات کے درمیان کے فرق کو سمجھ ہی نہیں پائے ہم اس بات کو قبول ہی نہیں پاہے کہ اقوام کے درمیان رشتے مفادات کی بنیاد پر ہی قاہم رہتے ہیں وہاں جذبات اور احسات کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور جب جذبات کی جگہ مفادات نے لے لی تو بھی ہم اپنی سمت درست نہ کر پائے اور مذہب کی بنیاد پر قومی معاملات کو چلانے کی کوشش کی ہم اس گمان میں رہتے ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب عمارات اور دوسرے مسلم ممالک اپنی پالیسی اور مفادات کو نظر انداز کر کے ہماری طرح جذبات کی عینک سے بین الاقوامی معاملات کا جاہزہ لیں گے لیکن ہمیشہ کی طرح یہ خوش فہمی بھی ہماری ناکامی کا سبب بنی۔

کشمیر کے معاملے میں بھی ہم نے جذبات کی بنیاد پر بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کرنا چاہی نتیجہ ناکامی اس کے بعد ہم نے یہ گمان کر لیا کہ اسلامی دنیا ہمارے مؤقف کی تائید میں صف باندھے کھڑی ہو گی یہ ایک اور ناکامی کیونکہ دنیا کوئی بھی ہو اُن کے فیصلے یقینی طور پر اپنے قومی مفادات کے گرد ہی گھومتے ہیں اسلامی دنیا کے بعد ہمیں لگا چاہنہ پڑوسی ہونے کا حق ادا کرے گا مگر وہاں سے بھی کوئی آواز نہیں نتیجہ منہ پھاڑے کھڑی ناکامی اور آخر میں ہم اپنے سب سے موزی ہتھیار (مشترکہ بددعاؤں ) کے استعمال کا فیصلہ کیا اس کا تعلق بھی چونکہ جذبات کی فیملی سے ہے تو نتیجہ یہاں بھی ناکامی ہی ٹھرا۔

اگر ہم جذبات کو پسِ پشت ڈال کر دنیا میں رائج سفارتی اصولوں کے مطابق آج سے یہ تہیہ کر لیں کے ہم کشمیری عوام کی ہر غیر مسلح جدوجہد میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور سفارتی آداب کو اور اس کے مطلوبہ معیارات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تمام بین الاقوامی اداروں، تنظیموں اور سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک تک کشمیریوں کی پر امن جدوجہد اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی جانب توجہ مبذول کروانے میں کامیاب ہو جاہیں تو وہ دن دور نہیں کہ دنیا ہمارے موقف کی تائید بھی کرے گی اور ہمارے شانہ بشانہ کھڑی بھی ہو گی

مگر اس سب سے پہلے ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہماری سمت درست نہیں ہمیں اس بات کو قبول کرنا پڑے گا کہ ہمارے پرکھوں کے بنائے ہوئے اصولوں کے پیمانے اگر اتنے ہی کار گر ہوتے تو آج ہم اپنی نسلوں کی بقاء کی جنگ نہ لڑ رہے ہوتے ہمیں اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ بڑے مقاصد کے حصول کی خاطر قیمتیں بھی بڑی ادا کرنا پڑتی ہیں ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ سازش کرنے والے ذہن ہم سے بہتر اور طاقتور ہیں ہمیں اپنے دماغ میں قید سوالوں کو آزاد کرنا ہوگا تاکہ تحقیق کا ایک نیا دور شروع ہو سکے ہمیں یہ دوہرا معیار بھی ترک کرنا ہوگا کہ دوسروں کی کامیابیوں سے مستفید بھی ہوں اور ان کو اپنی بربادی کا سامان بھی سمجھیں ہمیں یہ بھی قبول کرنا ہوگا کہ ہماری ناکامیاں ہمارے اعمال اور افقار کا نتیجہ ہیں نہ کہ کسی سازش کا پیش خیمہ ہیں

ہمیں آزادی کے اس مہینے میں اپنی آئندہ نسلوں کو نئی جہت اور نیا میدان دینا ہوگا ہمیں تاریخ کی کتابوں میں لکھی مبالغے سے بھرپور کامیابیوں جن سے اگرچہ بحیثیت پاکستانی ہمارا کوئی تعلق نہیں فراموش کر کے نئی منزلوں اور راستوں کا تعین کرنا ہوگا کیونکہ شوقِ پرواز رکھنے سے پہلے کھلے آسمان کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور پرواز کا زوق ہی انسانوں کو دنیا کے ہر شعبے میں کامیابیوں کی کہکشاں تک لے کر جاتا ہے اور ایک انقلاب قوموں کی زندگیوں میں برپا ہوتا ہے اور اگر ہم ایسا نہ کر پائے تو ہمیں اس بات کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ دنیا میں سیاسی تنہائی اور سفارتی میدان میں شکست سے دوچار ممالک میں بھوک پھیل جاتی ہے تو وہاں انقلاب نہیں آتا بلکہ گداگری اور جرائم آتے ہیں اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ”ہم کیا چاہتے ہیں“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وسیم نور کی دیگر تحریریں
وسیم نور کی دیگر تحریریں