عورت جہنم سے کیوں ڈرے؟

گرتی معیشت اور سیاسی عدم استحکام کی اس صورتحال میں گزشتہ سالوں کی نسبت بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ساتھ عورت مارچ سے پیدا ہونے والے ”خوف“ میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کا عملی نمونہ اسلام آباد میں ہونے والے پر تشدد واقعات ہیں۔ اس خوف اور بد حواسی کی کجی کو چھپانے کے لئے اب جہنم اور آگ کا ذکر زور و شور سے جاری ہے کہ کیا ان عورتوں کو جہنم سے ڈر نہیں لگتا؟

Read more

جاوید غامدی سے پرویز ہودبھائی تک: سچ بولنا منع ہے

جاوید احمد غامدی صاحب کا شمار دنیا کے بہترین اسلامی اسکالرز میں ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں چونکہ دلیل سے بات سننے اور مدلل گفتگو کرنے کا رواج نہیں ہے اس لئے دوسرے کی رائے کو اس کے نظریات کو جانے بنا الزام تراشی کرنا بلکہ بہتان لگانا معمول کی بات ہے۔ آپ کے بارے میں تقریباً تمام ہی مکاتب فکر کی عام رائے یہ ہے کہ آپ شعائر اسلام سے روگردانی کرتے ہیں اور بنیادی اسلامی عقائد

Read more

سوال کا رشتہ

ارتقائی عمل میں جب کے بہت سے دیوہیکل جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے اور دیگر حشرات و مخلوقات جو فطرت میں ہونے والی جان لیوا تبدیلیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور وقت کے ساتھ ساتھ فنا ہو گئے مگر حضرت انسان نے تمام فطری خطرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا اور زندہ رہا۔

Read more

پکّی نوکری وِد میڈیکل

کراچی کے نسبتہََ گنجان آباد علاقے کیماڑی میں آنکھ کھلی، جہاں خواب اور خواہشات بھی وہاں کی گلیوں کے طرح چھوٹے اور تنگ تھے۔ زندگی کو ہمیشہ انتہائی مصروف مگر بیمار ہی پایا۔ بیمار اس لئے کہ بچپن سے بڑے بوڑھوں اور بزرگوں کو اپنی اولادوں کو جب سراہتے اور تعریف کرتے سنا تو ایک ہی جملہ سماعتوں سے ٹکرایا، ”ساڈا پتر پکا نوکر اے اور میڈیکل وی اے”۔ اور نا خلف اولاد کے حصے میں جو جملہ تواتر کے

Read more

پوری قوم مردانہ کمزوری کا علاج ڈھونڈ رہی ہے

گلی کُوچے، بازار، عمارتوں کی دیواروں پہ لکھی تحریریں، عبارتیں اور اخبارات میں چھپے اشتہارات قوموں کے ذوق، فن اور ترجیحات کا پتہ دیتے ہیں۔ آج پرانی کتابوں کی الماری سے کچھ اخبارات نظر سے گزرے یہ اخبارات لگ بھگ بیس سال پرانے بھی تھے اور کچھ چند ماہ پرانے جن پر سرسری نگاہ ڈالی تو محسوس ہوا کہ ارضِ پاک کے باسیوں کے حوالے سے مندرجہ بالا مشاہدہ سو فیصد درست ہے کیونکہ ان رسائل اور اخبارات میں چھپے

Read more

آخری غلطی

عالمی ادارہ برائے صحت کے سربراہ نے زور دیا ہے کہ جن ممالک نے لاک ڈاؤن کیا ہے وہ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتبہ مریضوں کو تلاش کریں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جائے مگر حکومتِ پاکستان ہمیشہ کی طرح اپنے فیصلوں میں کمزور اور کنفیوژن کا شکار نظر آرہی ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی یا کسی قسم کا کوآرڈینیشن اس کڑے وقت میں بھی نظر نہیں آیا کیونکہ ایک طرف وفاقی حکومت کے

Read more

” اختلاف "مگر احتیاط سے

اختلاف کو برداشت کرنا، تنقید جیسے کٹھن مرحلے کو سہنا، دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنا عمومی طور پرہمارے ہاں آپ کی شکست سمجھا جاتا ہے اس لئے بول کر اور بے جا بول کر دوسرے فریق پر اپنی فتح کی دھاک بٹھانا حاضر جوابی اور عقلمندی کی دلیل سمجھی جاتی ہے اور دوسرے فریق کی خاموشی ہمیں اس کی کمزوری اور شکست کا احساس دلاتی ہے بنیادی اخلاقی بانجھ پن کا شکار ہمارا معاشرہ ”سوری“

Read more

” کافر سوالات "

راجھستان کے ایک علاقے میں نچلی ذات کی ہندو عورتیں ایک مخصوص پیشے سے وابستہ ہیں جن کا کام امیر اور بڑی ذات کے لوگوں کے مرنے پر معاوضے کے عوض رونا ہے۔ جن کو مقامی زبان میں ”ردھالیاں“ کہا جاتا ہے یہ ردھالیاں اپنے کسی عزیز کے مرنے پربہت ہی کم روتی ہیں کیونکہ ان کو بلا معاوضہ رونے کی عادت نہیں۔ وطن عزیز کی تمام مذہبی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کا حال بھی اُن ردھالیوں جیسا ہی ہے

Read more

ہیں بہت تلخ بندہ مزدور کے اوقات

کسی ملک کی ترقی، خوش حالی اور معاشی استحکام میں اُس ملک کے سرمایہ دار اور تاجر طبقے کا کردار ہمیشہ اہم ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ممالک، سرمایہ دار اور تاجر طبقے کے لیے ہر ممکن آسانیاں پیدا کرنے کے لیے پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ ریاست سرمایہ داروں اور تاجروں کے سرمائے کی ضامن بھی ہوتی ہے اور یہی اہمیت پاکستان میں تقریباً تمام سرمایہ داروں بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی حاصل

Read more

اُمّہ کے ساہوکار

فصّیلیں جب اپنی ہی کمزور ہوں تو کب کس نے اور کیسے نقب لگائی یہ خیال دم توڑ جاتا ہے۔ مسلم امّہ کا چورن بیچ بیچ کر امّہ کے وڈیروں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر جب مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر مسلم ممالک کو تقسیم کیا تو یہ فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا کے دنیا میں ہونے والی تمام دہشتگردی اور افراتفری کا ذمہ دار کوئی ملک نہیں بلکہ ایک مذہب کے ماننے والے تمام افراد ہیں

Read more

ہم کیا چاہتے ہیں ؟

مردہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت بے اعترافی ہے اور زندہ انسان کے سامنے جب کوئی حقیقت آئے یا وہ کسی خوبی کا مشاہدہ کرے تو اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مگر بحیثیتِ قوم ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ہم زندہ ہیں اور مشاہدہ بھی کرتے ہیں دیکھتے بھی ہیں مگر اعتراف نہیں کرتے ہمیں دوسروں کے تجربات، مشاہدات اور تحقیقات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی اور نتاہج سے خوف آتا ہے اس خوف

Read more

شخصیت پرستی یا اندھیروں کی غلامی

جب امریکہ میں غلامی اپنے عروج پر تھی تو ہیرییٹ نامی خاتون نے اک خفیہ تنظیم بنائی جو غلاموں کو بھاگ جانے میں مدد کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس خاتون سے پوچھاگیا کہ کون سا مرحلہ آپ کے مشن میں کٹھن اور دشوار ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ ”غلام کو ترغیب دینا اور اس بات پہ آمادہ کرنا کہ تم غلام نہیں ہو اور آزاد ہو سکتے ہو۔ “ آج بحیثیت قوم آزادی کے ستّر سال بعد بھی

Read more